قائمہ کمیٹی اجلاس: پی آئی اے، ہراسمنٹ اور نواز کھوکھر — سعدیہ کیانی

0

ایوان بالا کی قائمہ کمیٹی برائے ایوی ایشن کے اجلاس میں پی آئی اے ملازمین کی جعلی ڈگریوں کے حوالے سے (جائزہ کمیٹی سے) پروگریس رپورٹ طلب کی گئی تھی (چیئرمین کمیٹی سینیٹر مشاہد اللہ خان اور ممبر کمیٹی کی جانب سے) لیکن مجھے کمیٹی ممبران ( پی آئی اے حکام) جواب کی مکمل تیاری کے ساتھ نظر نہ آئے جب سینٹر مشاہد اللہ خان ان سے کوئی سوال کرتے یا کوئی اور سینٹر کچھ پوچھتا تو جواب میں پی آئی اے حکام بات کہیں اور لے جاتے اور بجائے یہ ذمہ داری خود لینے کے کہ ملازمین سے متعلق فیصلے کرنا ان کا حق ہے وہ کبھی ہائی کورٹ اور کبھی سپریم کورٹ کا حوالہ دیتے نظر آئے۔

اجلاس کے ایجنڈا پر تیسرا (اور پانچواں) مسئلہ خواتین کی طرف سے سینیٹ چئیرمین کو حراسگی سے متعلق خط لکھ کر داد رسی کا بھی تھا، ثناء وحید سینئر آرٹی او، فرزانہ یاسمین اور نوشابہ طلعت کو حراساں کیا گیا اور ان کی شکایت میں کہیں نہ کہیں ونگ کمانڈر کامران انجم کا نام آرہا تھا۔

چیئرمین کمیٹی سینیٹر مشاہد اللہ خان نے کہا کہ آخر ایسا کیا ہے کہ سبھی خواتین ایک ہی افسر کے خلاف شکایت کررہی ہیں؟ ان کا خیال تھا کہ ضرور موصوف کچھ ایسا کرتے ہیں کہ خواتین ان کے ساتھ کام کرنے میں اطمینان محسوس نہیں کرتیں۔

چیئرمین کمیٹی سینیٹر مشاہد اللہ خان نے پوچھا کہ گزشتہ اجلاس میں فیصلہ ہوا تھا کہ ثناء وحید اور مسٹر کامران انجم، جو اسپیشل اسسٹنٹ سی ای او ہیں) کمیٹی کو تفصیلات فراہم کریں گے مگر نہ دونوں حاضر ہوئے اور نہ کوئی پیش رفت نظر آرہی ہے۔ اُن کی عدم شرکت کی وجہ سے آئندہ اجلاس تک معاملہ مؤخر کرتے ہیں کمیٹی نے انھیں نوٹس جاری کرنے کا فیصلہ کیا اگر آئندہ اجلاس میں شریک نہیں ہوئے تو دونوں کے خلاف ایکشن لیا جائے گا۔ سینٹرز (کمیٹی ممبران) کی جانب سے ونگ کمانڈر کامران انجم کے رویے کی بابت جب بھی سوال ہوتا ان کے ساتھی (پی آئی اے حکام) اپنے ساتھی کا دفاع کرتے نظر آتے۔ چئیرمین صاحب نے پوچھا کہ کیا کامران انجم کو بھی کوئی شوکاز نوٹس کیا گیا؟ جس کے جواب میں پی آئی اے ایگزیٹو نے ان خواتین (جنہوں حراسگی کی درخواست دی) کے متعلق مختلف (خواتین کے ذاتی مفادات سے متعلق) باتیں سنانی شروع کردیں کہ فلاں کو ملتان پوسٹنگ چاہیے تھی تو اس نے حراسگی کی درخواست دی اور جب پوسٹ ہوگئی تو معاملہ رفع دفع ہوگیا یا کسی نے کسی اور رنجش میں درخواست دی اور پھر واپس لے لی وغیرہ۔ ان وردی میں ڈیوٹی کرنے والے افسران نے ائیر فورس کا سر فخر سے بلند کردیا جب سینیٹر مشاہد اللہ خان اور سینٹر نعمان وزیر خٹک نے ان کے اس بھونڈے دفاع پر شدید تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ ایک شخص کا نام بار بار خواتین کو حراساں کرنے کے حوالے سے سامنے آرہا ہے لیکن آپ خواتین کو ہی قصوروار ٹھہرا رہے ہیں۔ کچھ خیال کریں ۔ ا ن کا مزید کہنا تھا کہ اس معاملے کی شفاف انکوائری ہونی چاہئےتاکہ ادارے کا نام بدنام نہ ہو اور ان خواتین کی داد رسی ہو۔

بعد از میٹنگ جب میں پی آئی اے حکام پر تنقید کی کہ آپ لوگ اجلاس میں مکمل تیاری کے ساتھ نہیں آئے اور مجھے ایسا لگا کہ جیسے آپ لوگ خودمختار نہیں پی آئی اے کے معاملات پر تو سیکرٹری صاحب نے صرف اتنا کہا کہ ایسا نہیں ہم مکمل بااختیار ہیں اور مسکرا دئیے۔ پھر میں نے سینیٹرمشاہد اللہ خان سے پوچھا کہ آخر کامران انجم کون ہے جس کو اس طرح بچایاجارہا ہے جبکہ واضح طور پر تمام خواتین ایک انہیں کا نام درخواست میں لکھ رہی ہیں؟ سینیٹر صاحب نے کہا آپ خود تحقیق کریں گی تو آپ کو پتا چل جائے گا۔

اس کے علاوہ اجلاس میں نیو اسلام آباد انٹرنیشنل ائیر پورٹ منصوبے میں کرپشن کے حوالے سے سینیٹر بہرہ مند خان تنگی نے کہا کہ گزشتہ اجلاس میں کمیٹی نے واضح ہدایت کی تھی کہ جے آئی ٹی بنا کر رپورٹ فراہم کی جائے مگر ابھی تک اس پر عملدرآمد نہیں کیا گیا۔

سینیٹر مصطفی نواز کھوکھر نے مختلف ائیر پورٹس کو بند کئے جانے کے حوالے سے سوال اٹھایا اور آئندہ اجلاس میں اس کی تفصیلات کمیٹی کو فراہم کرنے کی ہدایت کی۔ سینیٹر کھوکھر کی خوبی ہے کہ یہ ساتھ ساتھ ساری فائلیں پڑھے رہتے ہیں اور بہت عمدہ نکات سامنے لاتے ہیں۔ میں نے بعد میں سینیٹر مصطفی نواز کھوکھر کو ان کی اس توجہ اور پبلک اکاونٹس میں دلچسپی پر سراہا بھی کہ اگر آپ کی طرح دیگر بھی تیاری کرکے آئیں تو ان کمیٹیوں کے اجلاس سالوں سال بے نتیجہ چلتے رہنے کی بجائے محض چند دنوں میں کسی نتیجہ پر پہنچ کر حل نکال لیں۔

میرے نزدیک کسی سیاستدان کی پارٹی سے زیادہ اس کے کام کی اہمیت ہونی چاہیے اسی لئے جب بھی لکھتی ہوں تو آپ کے سامنے ان لوگوں کے کام اور عوامی نمائندہ کی حیثیت سے کردار پر بات کرتی ہوں۔ ہمارا مقصد صرف عقابی نگاہ سے جائزہ لے کر کمزوریوں کی نشاندہی کرنا ہے۔

ایک معاملہ اے ایس ایف کا بھی تھا جس کے لئے ڈی جی اے ایس ایف کو کمیٹی میں بلوایا گیا تھا یہ معاملہ وہی ہے جس پر میڈیا رپورٹس میں اہلکار کی جانب سے مسافر سے بدتمیزی اور کپڑے پھاڑنے کا معاملہ تھا۔ بتایا گیا کہ ملوث لوگوں کے خلاف انکوائری اور ایکشن لیا جا رہا ہے۔ چونکہ اے ایس ایف آرمی ایکٹ کے تحت کام کرتی ہے اس لئے زمہ داران کا کورٹ مارشل کیا جارہا ہے۔

پی آئی اے کو (1990) سندھ حکومت نے ایک زمین تحفے میں دی جس پر پی آئی اے نے کچھ تعمیرات کیں بعدازاں پی آئی اے حکام نے یہ زمین پھر سندھ گورنمنٹ کو لوٹادی اور اب معاملہ میری اور تیری پر کھڑا ہے۔ ایسا مضحکہ خیز کیس کہ سننے والے بھی پریشان ہوئے اور سنانے والے بھی سر کھجاتے نظر آئے۔ بس یہی سوچا کہ الہی یہ ملک شاید فرشتے چلا رہے ہیں جو اب تک بچا ہوا ہے ورنہ ہم جنہیں ووٹ دے کر لائے ان کا تو صرف ایک ہی کام ہے کہ اپنی دھن دولت میں مسلسل اضافہ کرو اور ملک کے لئے مسلسل مسائل بناتے جاو۔ کسی ایک نے بھی شاید کوئی فیصلہ قومی مفاد کو مد نظر رکھتے ہوئے نہ کیا کبھی۔

مزید کیا لکھوں؟ دل ہی جل جاتا ہے ایسی صورتحال دیکھ کر۔ ان کمیٹیوں میں بیٹھنے کا فائدہ یہ ضرور ہوتا ہے کہ امور سلطنت میں ہونے والے کام اور انتصرام کی سمجھ آجاتی ہے۔ ہمارے مسائل اور وسائل کیا ہیں اور کس طرح ان کا غلط استعمال ہوتا ہے یہ سب سمجھ آجاتی ہے۔

مزید بہت کچھ لکھا جاسکتا ہے لیکن ابھی یہیں اختتام کروں گی۔ آئیندہ کسی میٹنگ کا حال بھی اسی انداز سے لکھوں گی کہ عام قاری کو بھی سمجھ آجائے کہ سینٹ اور پارلیمنٹ کا اصل کام کیا ہے اور ان پارلیمانی ممبران اور سینٹرز کی زمد داریاں کیا ہیں۔

آپ سب کا شکریہ جنہوں نے اس تحریر (پہلا حصہ) کو بے حد پسند کیا۔ مجھے بیشمار پیغام ملے جن میں میری سادہ انداز سے بات سمجھانے کو پسند کیا گیا اور اصرار ملا کہ آئیندہ بھی اسی طرح لکھیں۔ دوسری بات میری بیباک تحریر پر داد دی گئی تو سچی بات یہی ہے کہ اللہ تعالی کی ذات نے خوف جیسی شے میرے دل میں ڈالی ہی نہیں۔ اس لئے آپ بے فکر رہیے ان شاء اللہ میں یونہی لکھتی رہوں۔

اس تحریر کا پہلا حصہ اس لنک پہ ملاحظہ کریں۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: