خود تصویریت یا سیلفی کا جنون —- اسما ظفر

0

انسان نے اپنی سہولت کے لیئے کئی چھوٹی بڑی اور حیرت انگیز ایجادات کی جن میں سے ایک موبائل یا سیل فون بھی ہے اس چھوٹے سے آلے میں بہت سی دوسری سہولیات کے ساتھ ایک ننھا سا کیمرہ بھی ہوتا ہے جو لمحوں میں تصویر کشی کرکے تصویر آپکے روبرو کر دیتا ہے فرنٹ کیمرے کی بدولت اب تو خودتصویریت یا سیلفی بھی ممکن ہے اسکے لیئے کسی دوسرے کی مدد کی ضرورت نہیں آپ خود کو لمحوں میں تصویر کرسکتے ہیں جو نا صرف یہ کہ ایک دلچسپ تجربہ ہے بلکہ فی زمانہ بہت سے لوگوں کے لیئے ایک آزار بھی بن گیا ہے۔

خود تصویریت یا سیلفی کا جنون بھی دراصل نرگسیت کی ایک قسم ہے بندہ پرانے وقتوں میں آئینہ دیکھ کر خود پر واری نثار ہوتا تھا تھا اب اسمارٹ فون کی بدولت سیلفی نے اسکی جگہ لے لی ہے۔
یہ سیلفی کا جنون اب اتنا عام ہے کہ اقوام متحدہ نے بھی 2013 کو ورلڈ سیلفی ائیر قرار دیا تھا۔

ماہر نفسیات کے مطابق اس خود تصویریت یا سیلفی کے جنون کے تین مدارج ہیں۔
پہلے درجے میں بندہ اپنی دو تین تصاویر روز لیتا ہے۔
پھر دوسرے درجے میں روز دس بارہ کے قریب۔
آخر میں مرض شدت اختیار کر لیتا ہے اور انسان کو خود پر قابو پانا مشکل ہوتا ہے وہ نا صرف مختلف زاویوں سے اپنی ڈھیروں تصاویر لیتا ہے بلکہ انہیں مسلسل سوشل میڈیا پر شئیر بھی کرتا رہتا ہے یہ رجحان صرف سیلفی تک محدود نہیں رہتا بلکہ اسمیں خودستائی کا پہلو اپنی انتہاء کو پہنچ جاتا ہے اور وہ دوسروں سے بھی اسی بات کی توقع کرتا ہے کہ وہ اسکی جھوٹی سچی تعریفیں کریں اور ایسا نا ہونے یا کم ہونے پر ڈیپ ڈپریشن میں چلا جاتا ہے یہ ایک انتہائی صورتحال ہوتی ہے لہذا خود کو روک لیں اس سے پہلے کہ شوق ذہنی بیماری بن جائے۔

حیرانگی تو جب ہوئی جب ایک شادی میں دلہن دولہا کو اپنی سیلفیاں بناتے دیکھا یعنی ہزاروں روپیہ خرچ کرکے ایک فوٹو گرافر ارینج کرکے بھی تسلی نہیں ہوتی لوگوں کی یہ کیسی بے کلی ہے؟ ریسٹورینٹس میں چلے جائیں، شاپنگ پلازہ میں، کسی پارک میں ہر جگہ چار چھ لوگ ہاتھ لمبا کیئے سیلفیاں بنارہے ہوتے ہیں۔

ایک آرٹیکل نظر سے گزرا کچھ دن پہلے جس میں ایک یورپین زو یعنی چڑیا گھر کا تذکرہ تھا کہ وہاں کے گوریلے خودتصویریت کے بڑے شوقین ہیں اور اپنے رکھوالوں کے ساتھ نا صرف یہ کہ خوشی خوشی سیلفی بنواتے ہیں بلکہ پوز بھی دیتے ہیں آخر کو ہیں تو ہمارے ہی اجداد۔

اگر حد میں رہا جائے تو یہ اتنی بری چیز بھی نہیں جب ہمارے پاس ایک جدید سیل فون میں ایک سہولت ہے تو کیوں نہیں ضرور بنائیں سیلفی لیکن یہ صرف شوق ہے تو ٹھیک ہے اگر آپ کو اسکی لت لگ جائے تو یقین جانیں اپنا تجزیہ کرنے کی اشد ضرورت ہے ضرور کسی ماہر نفسیات سے رجوع کرلیں کیونکہ خود پرستی اور خود ستائش دونوں ہی ذہنی بیماریاں ہیں اور انکا علاج بھی مناسب وقت میں ہو جائے تو بہتر ہے۔

یہ لت اتنی بری ہے کہ لوگ نا جگہ دیکھتے ہیں نا موقع محل ہر جگہ ہر موقع پر آپ کو خود تصویریت کے شکار لوگ نظر آئیں گے حد یہ کہ کسی بیمار کی مزاج پرسی کے لیئے جائیں گے تو وہاں بھی سیلفی لینے سے باز نہیں آتے یہ سوچے بغیر کہ مریض کی حالت اسوقت کسطرح کی ہے وہ کیا محسوس کررہا ہے اب تو لوگ میت کے ساتھ بھی سیلفی لینے سے نہیں چوکتے کیا بری لت ہے بھئی انسان ہر چیز سے بے پرواہ بس اپنی ذات کے اردگرد ہی طواف کرتا رہتا ہے یہ بیماری نہیں تو اور کیا ہے؟

کچھ لوگ اپنی اس سیلفی کی عادت کے ہاتھوں اتنے مجبور ہوجاتے ہیں کہ وہ ایک دن میں سینکڑوں سیلفیاں بنا کر بھی مطمئن نہیں ہوتے اور آہستہ آہستہ انہیں یہ لگنے لگتا ہے کہ ان میں بہت سی خامیاں اور کمیاں ہیں اور یہ سوچ انہیں بلآخر شدید ذہنی دباؤ کا شکار کردیتی ہے کئی لوگوں اسی سوچ کی وجہ سے خودکشی تک کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

نئے نئے فلٹرز لگا کر اپنے آپ کو بہتر دکھانے کا رجہان بھی نرگسیت کی انتہاء ہے یعنی آپ خود سے مطمئن نہیں اور سمجھتے ہیں کہ آپ میں بہت سی خامیاں ہیں جنہیں فلٹر لگا کر دور کرتے ہیں ایسے لوگ ایک وقت میں اتنی احساس کمتری کا شکار ہوجاتے ہیں کہ وہ لوگوں کا عام زندگی میں سامنا کرتے ہوئے کتراتے ہیں وہ ڈرتے ہیں کہ وہ جیسا دنیا میں اپنے آپ کو دکھا رہے ہیں اگر کسی نے اصلیت میں انہیں روبرو دیکھا تو وہ شاید انہیں تمسخر کا نشانہ بنائیں یہ سوچ ان پر اتنی حاوی ہوجاتی ہے کہ وہ اپنے خول میں بند ہوکر رہ جاتے ہیں اور یہ چیز انہیں آہستہ آہستہ لوگوں سے معاشرے سے کاٹ دیتی ہے تنہائی انکی مدد کرنے کے بجائے انہیں مذید ذہنی دباؤ کا شکار کردیتی ہے یہ ساری علامات اگر خود میں پیدا ہوتے دیکھیں تو ابتداء میں ہی رک جائیں اور خود کو اس انتہاء تک جانے سے روک لیں یہی بہتر طریقہ ہے۔

جدید ٹیکنالوجی سے دل ضرور بہلائیں یہ آپکا حق ہے کہ ایک سہولت ہے تو لطف اندوز ہوں مگر کسی بھی چیز کی لت میں مبتلا نا ہوں ایک اندازے کے مطابق اب دنیا میں دس فیصد اموات نت نئے طریقوں سے سیلفی لینے کے چکر میں ہورہی ہیں لوگ ریلوے ٹریک، پہاڑی چوٹیوں اور بلند عمارات پر سیلفی لینے کے شوق میں ہر سال سینکڑوں کی تعداد میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں منفرد کے چکر میں اپنی زندگی سے نا کھیلیں منفرد دکھائی دینا برا نہیں ہے مگر اس کے لیئے احمقانہ طریقے اختیار نا کریں ہر شخص میں کچھ خوبیاں کچھ خامیاں ہوتی ہیں انہیں خوش دلی سے قبول کریں یقین مانیں دل مطمئن ہوجائے گا۔ اچھے لمحوں کو قید کریں اپنے سیل فون میں اچھی جگہیں، اچھے مناظر، اچھے لوگ اس میں کوئی مضائقہ نہیں خود تصویریت بھی میانہ روی کے ساتھ اچھی ہے بلکہ ہر شے میں میانہ روی ہی اچھی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ٹک ٹک دیدم سیلفی کشیدم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لالہ صحرائی کا انشائیہ

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20