۳۸ ارب کی ’خاموش‘ واپسی —- سید مظفر الحق

0

ہاتھی کے پاؤں میں سب کا پاؤں، بات بحری قزاقوں کے قبضے سے یرغمال بنائے ہوئے پاکستانیوں کو چھڑانے کی ہو، عبدالستار ایدھی کے آفس سے چرائے گئے سونے کانقصان پورا کرنے کا مسئلہ ہو، افتخار چوہدری کے بحالی کی دلّالی کا ذکر ہو، شہباز شریف کے وعدوں کی تکمیل کے لئے مکانات تعمیر کرنے کی مثال ہو یا زرداری کے لئے محل نما قصر بلاول بنا کر ہدیہ کردینے کی خبر ہو، ہر ایک معاملے میں ایک ہی شخص کا نام آتا ہے، وہی شخص جو اپنی کامیابی کا راز فائلوں کے نیچے نوٍٹوں کے پہئے لگانے کو بتاتا ہے اور جس کے عطا کردہ گرانقدر اشتہارات میڈیا کے منہ کو مقفل کئے رکھتے ہیں، جس کے دان کیئے ہوئے مکانات پلاٹ اور کاریں صحافیوں کی زبانوں کو مفلوج اور ان کے قلم کو مفعول بنادیتے ہیں،

یہ پاکستان کی تاریخ کا وہ عجیب و غریب اور پراسرار شخص ہے جو فرش سے اٹھ کر عرش پہ پہنچا اور ہر پاکستان کا ہر صاحب اقتدار اس کے زیرِ سایہ نظر آتا ہے، پتہ نہیں چوہدری نثار علی خان کیسے بچ نکلا اور اسے پوٹھوار کی شکار گاہ چھوڑ کر سندھ کے ریگزاروں میں تگ و تاز کے لئے مجبور کردیا، یہ شخص زرداری کا بھی دوست ہے شریف خاندان کا بھی ہم نفس و دمساز ہے خاکیوں کا بھی دلدار اور کارساز ہے اور کسی کو اس کے خلاف لب کشائی کا یارا نہیں ہوتا،

پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار الٹی گنگا بہہ رہی ہے ملک کی دولت لوٹ کر بیرون ملک جانے کے بجائے ملک میں واپس آرہی ہے، حکومتِ برطانیہ نے الطاف حسین، اسحاق ڈار، حسن اور حسین نواز تو پاکستان کے حوالے نہیں کئے لیکن پاکستان سے لوٹی ہوئی دولت میں سے ۳۸ ارب کی خطیر رقم ضرور واپس کردی، وہاں کی کرائم ایجنسی نے تحقیقات کے بعد لندن کی ایک جائیداد اور بینک اکاؤنٹ میں موجود پاکستانی ٹائکون یا طلسماتی شخص ملک ریاض کی جانب سے خاطر خواہ یا اطمینان بخش تفاصیل فراہم نہ کرنے پہ اس رقم کو پاکستان سے غیر قانونی طور پہ پاکستان سے وہاں بھیجنے کا یقین کرتے ہوئے یہ رقم حکومت پاکستان کو واپس کردی ہے،

جس جائیداد کا ذکر ہے وہ ملک ریاض کی ملکیت تھی جو اس نے حسن نواز سے اس وقت خریدی تھی جب پناما لیکس کے منظر عام پہ آنے کے بعد مزید رسوائی اور انکشافات سے بچنے کے لئے شریف خاندان عجلت میں اپنے نام پہ موجود جائیدادوں کو ادِھر ادُھر کر رہا تھا، کیونکہ ملک ریاض مبینہ طور پہ شریف خاندان کا بھی فرنٹ مین یا کارندہ ہے اس لئے گمان ہے کہ جائیداد کی خرید وفروخت میں استعمال ہونے والی رقم بھی درحقیقت شریف خاندان ہی کی تھی۔

یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سن انیس سو نوے کے عشرے میں حسن نواز کے پاس یہ جائیداد خریدنے کے لئے رقم کن ذرائع سے فراہم ہوئی تھی اور جب سن دوہزار سولہ میں ملک ریاض کے پاس لندن میں یہ دولت کہاں سے آئی، اس کی کوئی منی ٹریل نہیں ہے اگر یہ رقم پاکستان سے وہاں منتقل کی گئی تھی تو یقیناً غیر قانونی ذرائع استعمال ہوئے ہوں گے اور یہ منی لانڈرنگ کے ضمن میں آتا ہے اور اس کے خلاف کاروائی ہونی چاہئے جس پہ حکومت اور ذرائع ابلاغ چپ سادھے ہوئے ہیں اس سے زیادہ حیران کن اور معنی خیز امر یہ ہے کہ عمران خان نے اپنے وزراء اور ترجمانوں کو اس موضوع پہ لب کشائی سے روک دیا ہے آخر کیوں؟ کیا وزیر اعظم بھی ملک ریاض کے زیر اثر یا زیر بار احسان ہیں یا پھر رقم کی یہ واپسی کسی سمجھوتے کے تحت پہلی قسط ہے جو ملک ریاض کے ذریعے عمل میں لائی گئی ہے اور میڈیا کیوں خاموش ہے یا خاموش کردیا گیا ہے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: