بُحرانوں میں گھری حکومت ——– ڈاکٹر رئیس احمد صمدانی

0

عمران خان کو اگر بحران خان کہا جائے تو غلط نہ ہو گا۔ عمران خان کی حکومت کو پورے ایک سال چار ماہ ہو گئے حکومت سبنھالے ہوئے ۔ 16 ماہ میں ایک بحران ختم ہوا تو دوسرا بحرں شروع ہو جاتا ہے۔ ویسے تو ماضی کی تمام جمہوری حکوتیں بحرانوں کا شکار رہی ہیں، یہاں تک کہ انہی بحرانوں نے ان کے اقتدار کا سورج بھی غروب کر دیا۔ لیکن کپتان کے 16 ماہ میں اتنے بحرن آئے، اگر کسی بھی طرح کپتان کی حکومت نے اپنی آئینی مدت پوری کر بھی لی تو بحرانوں، دھرنوں، جلسوں، جلوسوں، احتجاجوں، آزادی مارچ نہ جانے کس کس قسم کے بحرانوں سے بھرپور دور کہلائے گا۔ معاشی بحران کے سمندر میں غوطہ لگا کر عمران خان کی حکومت نے اپنی حکمرانی کا آغاز کیا تھا۔ اس بات میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ معاشی بد حالی موجودہ حکومت کو ورثہ میں ملی تھی۔ بد قسمتی کہا جائے یا عمران خان کی کمزوری کہ جتنے ابتر معاشی حالات اسے ملے اس سے کہیں زیادہ نہ اہل معاشی ٹیم اُسے ملی۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ معاشی طور پر حالات ابتر سے ابتر ہوتے چلے گئے۔ ملک میں مہنگائی کا طوفان کھڑا ہو گیا۔ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں ہر پندرہ دن بعد بڑھنے لگیں، ڈالر آسمان سے باتیں کر گیا، روپے کی قدر کم ہو گئی، وزیر خزانہ اسد عمر کو وزارت چلانے اور معیشت کو مستحکم رکھنے کا تجربہ نہیں تھا، اعلیٰ تعلی یافتہ، سیاست داں ہونا اپنی جگہ لیکن حکومتی معاملات اور وہ بھی معیشت کے حالات کو قابو میں رکھنا بالکل الگ چیز یںہیں چنانچہ وزیر خزانہ جو کہ عمران خان کے بہت بہ اعتماد ساتھی تھے، وزارت سے سبکدوش کرنا پڑا مجبوراً باہر سے تجربہ کار ماہرین کی خدمات حاصل کی گئیں۔ آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک کی تلوار الگ لٹک رہی تھی، ملک کا خزانہ خالی تھا، کشکول توڑنے کے دعوے کرنے والوں کو گرتی ہوئی معیشت کے پیش نظر کشکول ہاتھ میں لیناپڑجاتا ہے، عمران حکومت نے وہی کیا آئی ایم ایف کو قائل کیا جس میں وہ کامیاب ہوئے، فوری حل کے لیے آس پڑوس ممالک سے امداد کا حصول ممکن بنانا پڑا۔ عمران خان کی شخصیت میں کشش ہے، اسے دنیا میں اچھی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ سعودی عرب، چین، قطر اور دیگر ممالک نے ساتھ دیا ، معیشت میں بہتری کے آثار دکھائی دینے لگے۔ ماہر سے درآمد کیے گئے ماہرین نے یہ ضرور کیا کہ ملک کی معیشت کو سہارا دے کر ، بہتر ی جانب روں دواں کردیا۔ عمراں خان کے لیے یہ لمحہ فکریہ ہے۔

ایسی صورت حال عمران کے ساتھ ہی پیش نہیں آئی سابقہ حکوتیں بھی عالمی مالی اداروں کے سامنے امداد کی جھولی پھیلاتی رہی ہیں، غلام اسحاق خان ، سرتاج عزیز، شوکت عزیز، سلیم مانڈوی والا، نوید قمر، عبدالحفیظ شیخ ، شوکت ترین ،اسحاق ڈار، مفتاح اسماعیل، ماہر حصول امداد رہے ہیں۔ انہی کی ماہرانہ پالیسیاں ہی تو ہیں جن کے باعث پاکستان معاشی طور پر اس بد حالی پر پہنچ گیا ہے۔بات آئینی بُحران کی کرنا چاہتا تھا بات معیشت کی جانب نکل پڑی۔ یہ بُحران عسکری چیف کے حوالے سے عدلیہ کے چیف کے اقدام سے پیدا ہوا جس نے شدت اختیار کر لی، نظاہر نظر یہ آرہا تھا کہ ملک میں شدید بحرانی کیفیت پیدا ہوجائے گی۔ اس کیفیت کو پیدا کرنے میں بھی حکومت کی نااہلی کا ہی دخل رہا۔ عمران سے محبت اور عقیدت رکھنے والے ، تحریک انصاف کی حکومت کے حامی بھی حیران و پریشان اور ان حکومتی کارندوں کی نہ اہلی پر اش اش کر اٹھے کہ بظاہر ماہر سیاست، ماہر تعلیم و تجربہ اعلیٰ منصب پر فائز ، بیوروکریسی ایسی شدید غلطیاں کررہی ہے جس کی نشاندھی چیف جسٹس نے کی۔ معاملہ آرمی چیف کی مدت ملازمت کی ریٹائرمنٹ کے بعد تین سال کے لیے جاری رکھنا تھا۔ یہ کوئی خاص بات نہ تھی سابقہ ادوار میں ایسی مثالیں ملتی ہیں آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع دی گئی ، بہ وجود اس کے کہ آئین اس حوالے سے خاموش ہے، آج بھی خاموش اور جب پاکستان کے آئین 1973ء نے جنم لیا تھا تب بھی وہ اس حوالے سے خاموش تھا ، لیکن یارانِ اختیار نے جب بھی ایسا کیا کسی بندہ خدا کی جرت نہیں ہوئی کہ وہ عدالت جانا تو دور کی بات معمولی سے آواز بھی بلند کرتا۔ بعض بعض فوجی حکمرانوں نے از خود اپنے آپ کو مدت اقتدار میں توسیع دی، خلق خدا خاموش رہی، یہ سیاست ،عدالت، کے میدان کے کھلاڑی اس وقت بھی موجود تھے، لیکن ان کے سامنے ان کی گھگی بندھی رہی، جی حضوری سے فرصت نہیں ملتی تھی۔ اب جب موجودہ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کا مرحلہ آیا، کپتان نے سوچے سمجھے بغیر باؤنس مادیا چارماہ قبل ہی فرمان جاری کردیااور متعین طریقہ کار پر عمل نہ کیا۔ جب توسیع کا وقت قریب آیا تو معاملہ عدالت چلا گیا، باوجود اس کے کہ درخواست دائر کرنے والا بھاگ کھڑا ہوا، لیکن چیف صاحب نے بھگوڑے کی درخواست کنندہ کی درخواست پر حکومت کو بلوا بھیجا ، حالات خطرناک حد تک پہنچتے دکھائی دے رہے تھے، حکومت غلطی پر غلطی کرتی چلی جارہی تھی، جیسے جیسے فیصلے کی گھڑی قریب آرہی تھی ، عجیب و غریب خدشات اور جمہوریت کی گاڑی پٹری سے اترتی بھی دکھائی دی ۔ لیکن چیف جسٹس اور ان کے ساتھیوں نے ایک ایسی راہ کا تعین کیا جس سے سب کی عزت بچ گئی اور خود فیصلہ کرنے کے بجائے منتخب نمائندہ کو از خود فیصلہ کرنے کی راہ دکھائی، ساتھ ہی آرمی چیف کی مدت ملازمت میں چھ ماہ کی توسیع دیتے ہوئے قومی اسمبلی کو اس مسئلہ کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے حل کرنے کی ہدیت کی۔ یہ ایک اچھا فیصلہ ہے، اب اگر حکومت اور حزب مخالف چاہیں تو مسئلہ کے لیے قانون سازی کریںتاکہ آئندہ اگر یہ صورت حال پیدا ہو تو آئین راہ دکھائے۔ مستقبل میں جو غیر قانونی فیصلے ہوئے ، ان پر ماتم کرنے کے سوا کچھ حاصل نہیں۔حکومت مخالفین کے ساتھ لچک پیدا کرے، مخالفین بھی اس مسئلہ کو اہمیت دیں ،دونوں فریق اسے قومی مفاد سمجھتے ہوئے قانون سازی میں بھر پور حصہ لیں۔

اب ایک اور آئینی بُحران اٹھ رہا ہے وہ ہے چیف الیکشن کمیشن اور اس کے دو نمائندوں کا انتخاب ہے۔ اس انتخاب میں بھی حکومت کو حزب اختلاف سے مشاورت درکار ہوگی، یہ آئینی ضرورت ہے۔حکومت تنہا فیصلہ نہیں کرسکتی، یعنی اپوزیشن لیڈر چیف الیکشن کمیشن کے لیے تین نام اور وزیر اعظم تین نام سامنے لائیں گے ، ان میں سے اگر کسی ایک پر دونوں رضامند ہوجاتے ہیں تو مسئلہ حل ہوجائے گا ورنہ بات آئینی طور پر عدالت تک جاپہنچے گی۔ اب تک جو تین تین نام دونوں کی جانب سے سامنے آئے ہیں ان میں سے ایک نام ایسا ہے جس کے بارے تحریک انصاف کے رہنما ء بابر اعوان کا کہنا ہے کہ ’’شہباز شریف اور اپوزیشن نے جسٹس نورالحق این قریشی کا نام بھجا ، جسٹس نورالحق قریشی کے نام پر حکومت اور اپوزیشن میں اتفاق رائے موجود ہے ‘‘۔ (روزنامہ جنگ۔6 دسمبر2019)،ایک خبر یہ بھی ہے کہ حکومت نے جو نام تجویز کیے ہیں وہ تینوں ریٹائرڈ بیورو کریٹس ہیں۔اگر بابر اعوان کی خبر درست ہے اور ایسا ہوجاتا ہے تو یہ ملک کی سیاسی صورت حال میں خوشگوار اضافہ ہوگا ورنہ یہ معاملہ بھی آئینی بحران اختیار کر جائے گا۔ اسے آئینی بحران کہا جائے یا آئینی خلا پیدا ہونا کہا جائے۔ لیکن خان صاحب عام طور پر بحرانی کیفت کے سمندر میں کودنے کے عادی ہیں۔ بہتریہی ہے کہ حکومت اس طرح کے بحرانوں میں خود کو شامل کرنے کے بجائے انہیں افہام وتفہیم سے حل کرکے ملک کو ترقی کی جانب لے جائے۔ ملک کا سب بڑا بحران مہنگائی ہے ، حکومت کو اس بحران کو ترجیحی بنیادوں پرحل کرنے کی جانب توجہ دینی چا ہیے۔ اگر ایسا نہ کیا گیا تو حکومت کے خلاف مہنگائی کا اٹم بم استعمال کیا جائے گا اور حکومت اس ایٹم بم سے بچ نہیں سکے گی۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20