’’تاریخِ گُم گَشتہ‘‘ مائیکل ہیملٹن مورگن ۔۔ باب چہارم حصہ دوم —- ترجمہ: ناصر فاروق

0

ڈھونڈنے والے ستاروں کی گزرگاہوں کے

یورپ کی بیداری Renaissance سے بہت پہلے، تیر ہویں صدی کے اطالوی شاعردانتے الیگیری، جوکہ لاطینی میں نہیں بلکہ روزمرہ کی اطالوی زبان میں لکھتا تھا، وہ اپنی کلاسیک ’ڈیوائن کامیڈی‘ میں دائروں کی صورت فلک پربلند ہوتا چلا گیا ہے۔ یہ آسمانی سانچہ اُسے لاطینی ترجمہ سے میسر آیا، یہ ترجمہ عربی Almagest کا تھا، جو اُسے یونیورسٹی میں پڑھائی گئی تھی، اور اُن عربی ذرائع سے حاصل ہوئی تھی جو محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کاآسمانی سفرمعراج بیان کرتے تھے۔

دسویں صدی کی ابتدا میں، دارالحکمۃ کے ریاضی دان محمد بن جابر بن سنان البتانی، جسے بعد میں یورپیوں نے Albategnius کا نام دیا، نے اپنا ’زیج‘ بنایا۔ یہ نظرثانی شدہ فلکیاتی جدوال بارہویں اور تیرہویں صدی میں لاطینی اورہسپانوی میں ترجمہ کیے گئے۔ اگرچہ چند نامعلوم وجوہات کے سبب مسلم دنیا میں البتانی کی اس کامیابی کی گونج کم رہی۔تاہم اس کے یورپی ورژن بہت مقبول ہوئے۔ سات سو سال بعد کاپرینکس نے On the Revolutions of theHeavenly Spheres میں البتانی کے ان جدوال کا تئیس بارحوالہ دیا۔

گیارہویں صدی میں جب بغداد میں عباسیوں کا زوال ہوا، اور قاہرہ میں فاطمیوں نے عروج حاصل کیا،علم فلکیات پرمسلم تحقیق قاہرہ منتقل ہوئی۔ بہت سوں نے اس تبدیلی کو اچھا نہیں بُرا خیال کیا۔ سال 1006 میں ، ابھی جب کہ فاطمی حکمران حاکم بی امراللہ کی عمر صرف اکیس برس تھی، ابھی کہ جب اُس کے دارالعلم کو قائم ہوئے سال ہی گزرا تھا، ایک جگمگاتا ستارہ جنوب کی جانب آسمان پر ظاہر ہوا، عین جامعہ ازہر کی دیواروں اور مسجد الحاکم کے میناروں کے عقب میں ٹمٹمارہا تھا، دریائے نیل کی سرخی مائل لہروں میں جھلک رہا تھااوراہرام مصر کے اُفق پر چار چاند لگارہا تھا۔ سنو، کہ کس طرح ماہر فلکیات ابن رضوان یہ منظر بیان کررہا ہے:’’ اُس دن کا سورج پندرہ ڈگری برج ثور میں تھا، اور یہ منظربرج عقرب کی پندرہویں ڈگری پر تھا۔ یہ نظارہ ایک بڑے دائرے کی طرح تھا، وہ زہرہ سے بھی تین گنا بڑا تھا۔ اُس کی روشنی سے پورا آسمان جگمگارہا تھا۔ اس روشنی کی شدت چاند کی روشنی سے ایک چوتھائی زائد تھی۔ یہ ستارہ جہاں تھا وہیں رہا، یومیہ اپنے بُرجی دائرے میں دھیرے دھیرے حرکت کرتا رہا، یہاں تک کہ سورج اس سے ساٹھ درجے پرآگیا، پھر اچانک وہ ستارہ یکایک غائب ہوگیا۔ یہ انوکھا واقعہ سوئٹزرلینڈ سے چین تک دیکھا گیا، مگر کوئی بھی اسے سمجھ نہ پایا ۔ یہاں تک کہ ہزار سال بعد ماہرین فلکیات نے، کہ جب وہ خلاء کے سفر کررہے تھے، محسوس کیا کہ ابولحسن علی بن رضوان نے جو ستارہ دیکھا تھا وہ دراصل ’عظیم نوتارہ‘ supernovaتھا، یعنی ستارے کی تباہی کا دھماکا تھا۔ اگرچہ کئی دیگر لوگوں نے بھی اس نظارے کا مشاہدہ کیا تھا، مگر صرف ابن رضوان نے اس مشاہدے کواعداد اور علامتوں میں تحریر کیا، ’عظیم نوتارے‘ کے مقام اور دورانیہ کا تعین اور شمار کیا، یہ علامات نویسی ایک ہزاریے بعد ماہرین فلکیات کے کام آرہی تھیں۔ ابن رضوان کی تحقیق کی بنیاد پر امریکا نے دھماکے کی جگہ پرستارے کی باقیات کاتعین کیا۔ انھوں نے ان باقیات کا نام Supernova 1006 رکھا۔ یہ زمین سے سات ہزار نوری سال فاصلہ پرپائی گئی تھیں، اس کے داخلی پلازمے اب تک (۲۰۰۷)دس لاکھ ملین ڈگری سیلسئیس پرجل رہے ہیں۔انھوں نے اس کی روشنی کی پیمائش کی، جو سال 1006 میں -7.5 رہی تھی، یعنی یہ معلوم تاریخ کا روشن ترین سپرنووا تھا، یہ مشتری سے دس گنا زیادہ روشن تھا۔ مگرمزے کی بات یہ ہے کہ ابن رضوان ستاروں کے پیچھے چلنے کے بجائے علم طب کی جانب نکل گیا، وہ ایک اچھا طبیب بن گیا(غالبا انسانوں کوطبیب کی ضرورت زیادہ تھی۔ مترجم)۔وہ صرف اٹھارہ سال کا تھا جب اُس نے سپر نووا کا مشاہدہ کیا۔

فاطمی قاہرہ نے دنیا سے اور کئی عظیم حکماء کا تعارف کروایا۔ ابن الہیثم، کتاب بصریات کا خالق، بھی اسی قاہرہ کے چند نابغہ روزگار افراد میں شامل تھا۔یہ گلیلیو اور کاپرینکس کے دور تک عالم طبیعات پر سب سے زیادہ درست نظریات پیش کرنے والا شخص تھا۔ قاہرہ کا ایک اور ستارہ شناس ابوالحسن علی ابن یونس تھا۔ اُس نے حاکم بی امر اللہ کی سرپرستی میں ستاروں کے نقشے تیار کیے، جنھیں ’حاکم زیج‘ پکارا گیا۔ آٹھ صدیوں تک، وقت کے صحیح تعین کے لیے اُس کی جامع ترین جدول مسلم دنیا میں رائج رہی۔ اگرچہ یورپی دنیا انیسویں صدی تک اس سے بے خبر ہی رہی۔ ابن یونس کی ’زیج‘ نہ صرف اپنی دُرستی میں بے مثال تھی بلکہ علم فلکیات پر سو سے زائدعمدہ توضیحات کا شاہکارتھی، یہ حواشی اور تبصرے خود اپنی جگہ علمی نوادرات تھے، جو سیاروں کے مابین تعلقات کی ہیئتی تفصیلات، اور چاند سورج گرہنوں کی بابت وضاحتوں سے بھرپور تھے۔

دسویں صدی میں عباسی بغداد میں زوال پذیر ہوئے، آل بویہ نے حکومت سنبھالی۔ آل بویہ بحر قزوین کے قریب فارسی صوبہ دیلم سے تعلق رکھتے تھے۔ انھوں نے علم فلکیات اور دیگر علوم کی ترویج جاری رکھی۔ ایک بویہ حکمران نے ابو محمود خجندی کی سرپرستی کی، جوجدید تاجکستان کے علاقہ میں پیدا ہوا تھا، ایک معزز قبیلہ سے اُس کا تعلق تھا۔ خجندی کا اہم ترین کارنامہ اجرام فلکی کے مشاہدے کے لیے ایک بڑی مشین کی ایجاد تھی، جسے فارسی شہر ری کی ایک پہاڑی پرنصب کیا گیاتھا۔ اس عظیم مسلم ایجادکا کام sextant (زاویہ پیما آلہ) سے ُمشابہ تھا۔ خجندی کا یہ علمی کام،اُس کا ایمان جس کا محرک بھی تھا، کہ جتنی بڑی تجرباتی ساخت ہوگی ، اُتنی درستی سے فلکیاتی پیمائشیں اور نتائج سامنے آئیں گے۔ اُس کی یہ ایجاد ایک بڑے camera obscura کی مانند تھی، جس کی وضاحت ابن الہیثم نے کی تھی۔ خجندی کی اس مشین کے بالائی حصہ میں ایک عدسہ لگا ہوا تھا جو سورج کی روشنی جذب کرتا تھا اورپھر اسے دھاری دار دیوار سے گزارتا تھا، اس عمل سے روشنی کی پیمائش ہوتی تھی۔ سردیوں اور گرمیوں میں سورج کی روشنی کے مختلف زاویوں کی پیمائش کرکے، خجندی شعاع کی شدت اور پھیلاؤ شمارکرتا تھا اور گرہن کے زاویہ کاپتا لگاتا تھا۔

ٖؒبغداد سے اموی قرطبہ تک فلکیاتی اور تحقیقی علوم کاایک سیل رواں تھا، جو گیارہویں صدی میں مغرب کوسیراب کررہا تھا۔ غیر ملکی ماہرین فلکیات اپنی دانش سے مغرب کو فیضیاب کررہے تھے۔ ان میں ایک اہم نام بغداد کے ابن تیمیہ کا بھی تھا۔ اندلس سے جس پہلے ماہر فلکیات کا شہرہ ہوا وہ مسلمہ المجریطی تھا، نہ صرف وہ قرطبہ کا اہم حوالہ تھا بلکہ ایک اور قابل فخر ہسپانوی شہراُس کی پہچان بننے والا تھا، یہ مستقبل کے کیتھولک بادشاہوں کا دارالحکومت بھی بنا: یہ تھا شہر’ مجریط‘، جسے دنیا آج میڈرڈ کے نام سے جانتی ہے۔

یہ ہسپانیہ کے شمال وسط میں اونچے خشک میدانوں پر پھیلا ہوا تھا، کوہ پائرینیس سے گھرا ہوا تھا۔ شہر مجریط کی بنیاد نویں اموی امیر محمد اول نے رکھی تھی۔ اُس نے دریائے مانزاناریس کے کنارے ایک محل اور ایک مسجد کی تعمیر کا حکم دیا، یہ دریاگواڈاراما پہاڑی سلسلہ سے نشیب میں بہتا تھا۔ ’المجریط ‘کا عربی معنی ’پانی والی جگہ‘ ہے، یہ شہر ترقی کرتا رہا یہاں تک کہ 1065 میں عیسائیوں نے الفانسو ششم کی قیادت میں اسے دوبارہ فتح کیا۔ عیسائیوں نے یہاں کی مسجد کوکیتھڈرل سانتا ماریا المدینا میں بدل دیا، اور امیر کا محل ایک دن ’رائل پیلس‘ کی دیواروں کے عقب میں غائب کردیا گیا۔ یوں جدید میڈرڈ میں المجریط کی فنی وتہذیبی تاریخ گُم گَشتہ ہوگئی۔ تاہم ازابیلا کی آمد تک، مسلم اور کیتھولک حکومتوں کے تحت لوگ میڈرڈ میں ہم آہنگی سے زندگی گزارتے رہے۔ دسویں صدی کے میڈرڈ میں رومی اور گاتھ نسل کے لوگ عربی ثقافت میں رنگ چکے تھے۔ یہاں عربی بولنے والے یہودی عام تھے، اور ہرنسل ورنگ کے مسلمان یہاں بستے تھے۔ Inquisition (چرچ کی عقائدی تفتیش) تک، یہ سارے گروہ امن وامان کے ماحول میں کام کررہے تھے۔

المجریطی ، جب وہ چھوٹا لڑکا تھا، دور مشرقی آسمان پرکاستیلا کی خشک اورصاف فضا میں ستاروں اور سیاروں کوبڑے غور سے دیکھا کرتا تھا، یہ اُس کے دوردراز مغربی مقام سے کافی مختلف جگہ تھی۔ یہاں زیتون ، لیموں، اور کینو کے بے ہنگم جھنڈ تھے۔ المجریطی زمین اور آسمان دونوں سلسلہ مناظر میں بھرپور دلچسپی رکھتا تھا۔ کُھلے میدانوں اور مہکتے باغات، اور صاف ستھری شاہراہوں پرزندگی کا سفر ہموار اور خوشگوار محسوس ہوتا تھا۔ وہ اکثر اس زمین کی جیومیٹری پرغور کرتا تھا، وہ دیکھ رہا تھا کہ مجریط کے میدان مربعوں، دائروں اور مستطیل میں تقسیم در تقسیم ہوتے چلے جاتے تھے۔ اُس کی نظریںبے ترتیب زمینی ٹکڑوں سے سفر کرتی ہوئی متوازی الاضلاع اورمعین چوکور شکلوں تک پہنچتی تھی، وہاں سے پنج زاویہ شکل تک اورپھردریا کے کٹاؤ سے بننے والے حصوں تک جاتی تھی۔ وہ ان سب صورتوں کی ریاضیاتی نوعیتوںکے بارے میں غور کر رہا تھا۔

بعد میں، اموی خلفاء کی سرپرستی میں المجریطی نے الخوارزمی کا مطالعہ اور تجزیہ کیا، Almagest کا عربی متن اور اُس پرشرح پڑھی۔ اُس نے ڈیڑھ صدی بعد الخوارزمی کے فلکیاتی جداول کی مزید تصحیح کی۔ اسلام کے اس دور دراز مغربی مقام پر، اُس نے قدیم فارسی کیلنڈر کو اسلامی تاریخوں کے مطابق ڈھالنے کی سعی کی۔ پہلی بارقبل از اسلام کی فارسی تاریخ اور واقعات کا درست تعین کرنے کی کوشش کی گئی۔

مگرشاید ان ذاتی کارناموں سے زیادہ اہم وہ بین الثقافتی فکری ابلاغ تھا، جومجریطی کوانسانی تاریخ میں منفرد مقام عطا کرتا ہے۔ اس کا آغاز معمولی انداز میں ہوا، مجریطی نے اپنے کام کا لاطینی میں خود ترجمہ کیا۔ اس ترجمہ سے گویایورپ میں مشرقی اساتذہ اور حکماء کے علمی نوادرات کی ترسیل باقاعدہ شروع ہوئی۔ بطلیموس سے الخوارزمی اور البتانی تک ، لاطینی تراجم کا مستقبل سلسلہ بندھ گیا۔ 1006 میں المجریطی کی موت کے سو سال بعد، کیتھولک پادری اور مفکرین باقاعدگی سے مسلم اسپین کا سفر کررہے تھے۔ المجریطی کے علمی کام ہی ان میں سے اکثرکے لیے تحقیقی کام کا نقطہ آغاز بنے، مسلم علم فلکیات، ریاضی، اور فلسفہ کی ایک کائنات اُن پر وا ہورہی تھی۔

نہ صرف سلویسٹردوئم، پہلے فرانسیسی پوپ، نے مسلم اسپین سے تحصیل علم کیا بلکہ المجریطی سے کافی کچھ سیکھا۔ Abelard of Bath، Gerard of Cremona، Robert of Chester، Plato of Tivoli، اور دیگر بہت سے نامور یورپی دانشور مسلم اندلس کی علمی دنیا میں المجریطی کے دروازے سے داخل ہوئے۔ علوم کی منتقلی کے لیے تاریخ ساز کردارکے علاوہ، المجریطی کے نظریات نے براہ راست زمینی صورتحال پراثرڈالا ۔ اُس نے Astrolabe آلہ استارہ یاب کوارضی خطوں کی پیمائش کے لیے استعمال کیا، وہی زمینی ٹکڑے جن کی جیومیٹری کے بارے میں اُس کا بچپن متجسس تھا۔

المجریطی اورشریک کارابو القاسم احمد بن عبد اللہ بن عمرالقرطبی نے استارہ یاب کے ذریعہ پہلی باریورپی ارضیاتی جائزوں کے طریقے بہتربنائے۔ نہ صرف استارہ یاب کی مدد سے زیتون اورکینو کے باغات میں خط تنسیخ کھینچی جارہی تھی بلکہ شامی نہری نظام کی طرزپریورپی نہری نظام تشکیل دے رہے تھے، جواندلس کے خشک میدانوں کو سیراب کررہی تھیں۔ مجریطی، ایک موجد روح اور دوررس نگاہ کا حامل تھا، وہ اس جزیرہ نما کے مستقبل کو محسوس کررہا تھا۔ اُس کے اثرات اُس دن تک قائم رہے جب کتب خانے جلادیے گئے، اور1492 کوجب مسلمانوںاور یہودیوں کا جبری انخلاء ہوا۔

میڈرڈ کے اس بطل جلیل کی وفات کے بیس سال بعد، ایک نیا لڑکا ستاروں پرنئے سوالوں کے ساتھ پیدا ہوا۔ اس لڑکے کا نام ابو اسحاق ابراہیم بن یٰحی ابن الزرقالی تھا، جسے یورپیوں نے لاطینی میںArzachel کا نام دیا۔ ابن زرقالی نے دریائے تاگوس کنارے آباد اندلسی شہر ٹولیڈو میں نشوونما پائی۔یہ شہر مسلمانوں سے بہت پرانا تھا، اس کی بنیاد یہودی نوآبادکاروں کے ایک گروہ نے چھٹی صدی قبل مسیح میں رکھی تھی۔ ان آبادکاروں کا تعلق دور لبنان کے فونیقی سلسلہ سے تھا۔ ابتدا میں انھوں نے اس شہر کو Toledochکا نام دیا، جس کا مطلب ’’مادر قوم ‘‘ تھا۔ رومیوں کے عہد سے ہی یہ شہر اپنی خوبصورتی اور اسلحہ سازی کے لیے معروف تھا۔ یہ کنگ راڈرک کے دور 709میں دارالحکومت تھا۔ مسلم دور میں ٹولیڈو خوب پھلا پھولا۔ انھوں نے اُسے طلیطلہ پکارا۔ طلیطلہ اندلس کی روحانی وتہذیبی سرگرمیوں کا قلب سمجھا گیا۔ مستقبل میں اسے الفانسو، میگوئیل ڈی سروانتس، اورال گریشوکی سرگرمیوں کا مرکز بننا تھا۔

یہ تھی وہ دنیا جہاں الزرقالی 1029 میں پیدا ہوا۔ اُس کا تعلق کاریگروں کے خاندان سے تھا۔ یہ لوگ حکماء کی ہدایات پر تحقیقی آلات بنایا کرتے تھے۔ الزرقالی کسی دارالحکمۃ نہیں گیا تھا۔ اُس نے والد اور دیگر رشتے داروں کی شاگردی میں دھات سازی کا کام سیکھا تھا۔ اُس کے عرفی نام کا معنی ’’دھات کا کندہ کار‘‘ تھا۔

تقدیر نے جب فیصلہ کیا، الزرقالی کے ایک سرپرست نے اُسے فلکیاتی آلہ بنانے کا کام سونپا۔ اُس نے اس قدر عمدہ آلہ بناکر دیاکہ ماہرین فلکیات کی توجہ حاصل کرلی، انھوں نے زرقالی سے اُس کی تعلیم کے بارے میں استفسارکیا، تووہ ہنسا اور بتایا کہ وہ کوئی ’عالم‘ نہیں بلکہ محض ایک ’کاریگر‘ ہے۔ اُس نے بتایا کہ کبھی کوئی کتاب تک کھول کر نہیں دیکھی۔ ماہرین کا خیال تھا کہ زرقالی ذہین ہے اور اُس کی تکینکی مہارتیں کمال ہیں۔ انھوں نے اُسے ترغیب دی کہ باقاعدہ تعلیم حاصل کرے۔ یوں زرقالی نے اکتیس سال کی عمرمیں پڑھائی شروع کی۔ جب دوسال بعدوہ لوٹا تووہ یہ لوگ اُس کی قابلیت سے بہت متاثرہوئے۔ یہاں تک کہ وہ اُن کے تحقیقی مرکزکا رکن بن گیا، اور بعد میں معلم کی سطح تک پہنچا۔ الزرقالی نے نیااورمزید معیاری استارہ یاب ڈیزائن کیا۔ اس سے زیادہ اہم بات وہ طویل اورجامع مضمون ہے، جو اُس نے استارہ یاب کے عمومی استعمال اورطریقوں پرلکھا۔ الزرقالی کی وفات کے دوسو سال بعدبھی، کاستیلین عیسائی بادشاہ الفانسودہم خود اُس کے مضامین ترجمہ کررہا تھا۔

اب زرقالی نے خود کومکمل طورپر’ٹائم مشین’ بنانے پر لگا دیا۔ 1062 کے سال، جب تعلیم مکمل ہوئی اورماہرین فلکیات کے گروہ میں شامل ہوا،اُس نے ایک حیرت انگیز’پانی کی گھڑی’ بنائی۔ یہ گھڑی نہ صرف دن رات کے گھنٹے بتاتی تھی بلکہ قُمری سال کے اہم اسلامی ایام کی نشاندہی بھی کرتی تھی۔ ایک مؤرخ نے اسے یوں بیان کیا: یہ گھڑی دو طشت پرمشتمل تھی، یہ پانی سے بھری یا خالی ہوتی تھیں، ان کا بھرنا اور خالی ہونا چاند کے بڑھنے گھٹنے کے ساتھ ساتھ تھا۔ جب نئے چاند کی رویت ہوتی تھی، پانی طشت میں بہنا شروع کردیتا تھا اور نالیوں کے ذریعہ نچلی طشت میں پہنچتا تھا، وقت فجر اس کا چوتھائی حصہ پانی سے بھرجاتا تھا جبکہ دن ڈھلے یہ مقدار نصف ہوجاتی تھی۔اسی طرح یہ پانی مسلسل سات روز بہتا تھا، اور کم زیادہ ہوتا رہتا تھا۔ جب چاند پورا ہوتا تھا توطشت بھی پانی سے بھرجاتے تھے۔ تاہم، جب پندرہویں کے بعد جب چاندگھٹنے لگتا تھا تب پانی بھی کم ہوتاجاتا تھا، یہاں تک کہ مہینے کے آخر تک طشت میں ایک قطرہ پانی باقی نہ بچتا تھا۔ اس گھڑی میں پانی بھرنے اوردیکھ بھال کا کام باقاعدگی سے کیا جاتا تھا۔

اس سپر اسرار گھڑی نے بارہویں صدی تک کام کیا، اُس کے بعد ٹولیڈو کے عیسائی بادشاہ الفانسو کی اجازت پر ایک نااہل مسلم محقق نے گھڑی کے پرزے الگ کیے تاکہ اُس کی کار گزاری سمجھ سکے، مگر وہ نہ سمجھ سکا اور نہ ہی پھر سے جوڑ سکا۔ الزرقالی نے علم شماریات میں بھی کارہائے نمایاں انجام دیے۔ ٹولیدن جدول تیار کیا، یہ فلکیاتی ڈیٹا کا بالکل درست شمار تھا۔ وہ دنیا کے پہلے almanac لکھنے والوں میں تھا، یہ اصطلاح انگریزی لفظ “climate” کی عربی بنیاد بنی تھی، اسے جدوال کی کتاب کا نام دیا گیا تھا۔ یہ پڑھنے والے کو مسلم، فارسی، رومی،اور قبطی مہینوں کی معلومات مہیاکرتی تھی۔ یہ جدوال گرہنوں کے اشارے بھی دیتے تھے، اور مطالعہ کرنے والے کو اس قابل بناتے تھے کہ خود مخصوص دنوں میں سیاروں کے مقامات کا تعین کرسکے۔

یہاں تک کہ جب الزرقالی عظمت کی بلندی پر پہنچا، حالات نے اُسے محبوب شہر سے نکال باہر کیا۔ عیسائیوں کی دوبارہ فتح نے خون خرابہ اور عدم استحکام پیدا کردیا تھا۔ 1085 میں یہ شہر الفانسو ششم کے ہاتھوں میں چلا گیا۔ یوں یہ علم دوست دور المناک صورتحال سے دوچار ہوگیا۔

(جاری ہے)

باب چہارم حصہ اول اس لنک پر کلک کیجیے۔

باب چہارم حصہ سوم اس لنک پر کلک کیجیے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20