خواتین کے لئے جائیداد کی وراثت کا بل: مسائل-تنقید-تجاویز —— گل ساج

0

خواتین کے حقوق خاص طورپر جائیداد میں انکے حصے کے متعلق موجودہ حکومت بھی نئی ترامیم لے کے آئی ہے جسے “انفورسمنٹ آف وومن پراپرٹی رائٹس بِل” کا نام دیا گیا ہے۔

یہ سابقہ قوانین میں بہتری لائی گئی ہے زیادہ تفصیلات تو سامنے نہیں آئیں مگر کہا جا رہا ہے کہ خواتین محتسب کو زیادہ اختیار دے دئیے گئیے ہیں کوئی بھی خاتون وراثتی جائداد کی منتقلی میں جسکی حق تلفی ہوئی ہو وہ محتسب کو درخواست دے گی۔ ۔ محتسب جلد از جلد اس پہ ایکشن لے کے عورت کی دادرسی کرے گی یہ شکایت متاثرہ عورت خود یا اسکا کوئی عزیز یا کوئی بھی شہری کر سکتا ہے ہر صورت میں محتسب کاروائی کرنے کا پابند ہوگا۔۔

اسی طرح جانشینی سرٹیفکیٹ کا اجراء 15 دن کے اندر اندر نادرہ کرے گا قبل ازیں یہ سرٹیفکیٹ سیشن کورٹ جاری کرتی تھی جسکے لئیے طویل قانونی پراسس تھا اور وکلاء کی مد میں آمد و رفت لمبی لمبی پیشیوں کی صورت حال اچھے خاصے اخراجات آتے تھے خواتین کے لئیے یہ دشوار گزار مراحل تھے جو اب آسان ہوگئیے ہیں۔
اچھا ہے مگر پرنالہ تو وہیں ہے اونٹ کے گلے میں گھنٹی باندھے کون؟
خاتون خود شکایت کرے یا کسی سے کرائے تب ہی محتسب کاروائی کرے گا۔۔۔


“وراثت کی تقسیم” میں خواتین کی حصہ داری اِسلامی شریعہ و قوانین کا اہم باب ہے۔
اسلامی فِقہ میں جہاں ہر شعبہ ِزندگی کے لئیے اصُول و ضوابط وضع کئیے گئے وہیں حقوقِ نسواں کے ضِمن میں بھی گرانقدر اِصلاحات کیں۔
وراثت میں خواتین کا حصہ بنیادی حقوق میں سے اہم ترین حق ہے۔
جائیداد میں شرکت میسر ہونے سے عورت مُعاشی طور پہ طاقتور اور توانا ہوتی ہے، مالی تو نگری خودمختاری و خوداِنحصاری کی منزل کو قریب تر لاتی ہے۔
مشرقی سماج میں میں عورت کے مسائل کا بڑا سبب مُعاشی خودکفالت کا فُقدان ہے۔
80 فیصد خواتین صرف خود کفیل نہ ہونے کے باوصف مرد کے ظلم و جبر استحصال اور جذباتی بلیک میلنگ کا شکار پائی گئی ہیں۔۔
اگر عورت کو مُعاشی تُحفظ میسر ہوتب وہ زندگی کے فیصلے آذانہ طور پہ اعتماد کے ساتھ اپنے حالات و مزاج سے موزوں تر اور بہتر انداز میں کرنے کی پوزیشن میں آجاتی ہے۔۔
مُعاشی خود اعتمادی و خود انحصاری نہ صرف خواتین کے اپنی طرزِحیات بلکہ اولاد کی تعلیم و تربیت اور بہتر مُستقبل کی تعمیر میں ممد و مُعاون ثابت ہوتی ہے بلکہ شریکِ حیات کی سہولت کا مُوجب بھی بنتی ہے۔
حقیقت ہے کہ عورت کو ہر زمانے میں گرچہ کمتر گردانا گیا اسکے باوجود نسبتاً قلیل ہی سہی مگر اُسے کچھ نہ کچھ بُنیادی حقوق ضرور حاصل رہے ہیں۔
یہانتک کہ قبل از مسیح بھی اُس زمانے کے ترقی یافتہ مُعاشروں میں خواتین کو کئی امُور میں اہمیت دی جاتی رہی ہے۔
ہم اگر بہت پیچھے جائیں تو پانچویں اور آٹھویں صدی قبل از مسیح خواتین کے حقوق کے باب کے کچھ نہ کچھ قوانين نظر آتے ہیں۔
اُس زمانے میں بھی خواتین کو کافی حد تک آزادی حاصل تھی۔

سماجی علوم کی تاریخ پہ طائرانہ نگاہ ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یونان کے قدیم ترین شہروں ڈیلفی، گورٹن، تھیسلے، میگارا اور سپارٹا میں خواتین کو زمین و جائداد میں وراثت و ملکیت کے حقوق مُیسر تھے۔
تاہم اُس دور کے مابعد خُواتین کا سماجی مقام و مرتبہ بدرجہ اُتم تنزلی کی طرف گامزن ہوا۔
عرصہ دراز تک عورت معاشرے کا غیر اہم بےوقعت جُزو بن کے رہ گئی اور صِنفی لحاظ سے خواتین کو کم ترین درجے پہ پہنچا دیا گیا۔

مشرقی معاشروں کے ساتھ ساتھ مغربی سوسائٹی میں بھی باپ یا بھائی ہی قانونی سربراہ ہوتا تھا جسے مُکمل اختیارات و قوت حاصل ہوتی تھی اور عورت کی حیثیت ثانوی تھی۔
حقوقِ نسواں کے مُعاملے میں اُس تاریک دور میں اِسلام کا ظہور عورت کی مُعاشرتی حالت سُدھارنے کا داعی بنا۔
اِسلام نے خواتین کو ماقبل کے مذاہب اور معاشروں کی نسبت بہتر حقوق اور اختیارات دئیے۔
اسلام میں خواتین کو وارثت سے لیکر عائلی اور خانگی زندگی تک ایک مُکمل و مربوط دائرہِ اختیار دیا ہے۔
پاکستان کی بات کریں تو قیام کی منازل طے کرنے کے وقت سے آئین کی تشکیل تک خواتین نے کا اہم کردار رہا۔
مُحترمہ فاطمہ جناح، بیگم رعنا لیاقت علی خان، محترمہ شائستہ اکرام اللہ اور بیگم جہاں آرا شاہنواز جیسی قدآور خواتین تحریکِ پاکستان میں مردوں کے شانہ بشانہ تھیں۔
شائستہ اِکرام اللہ اور بیگم شاہنواز تو پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی کا حصہ بھی تھیں۔
اِنہی مُتحرک خواتین کی کاوشوں سے اسلامی شرعی پرسنل لاء کا بِل منظور ہوا۔
اُسوقت بھی خواتین کے جائداد میں حصے کو نہ صرف تسلیم کیا گیا بلکہ اُسے بِل کا حصہ بنایا گیا۔

خواتین کے حقوق سے متعلق پہلا بِل 1948 میں منظور ہو جسے 1951میں باقاعدہ نافذالعمل کر دیا گیا۔۔
بعد ازاں مُشرف دور میں اس پر مزید پیشرفت ہوئی اور قانون برائے تحفظِ نسواں ایکٹ 2004 منظور ہوا جس میں حدودآرڈیننس، خواتین کے استحصال، جبری یا قرآن سے شادی، ونی کے قوانین میں اصلاحات کے علاوہ حقِ وراثت سے محرومی کے بارے میں جرائم کا تعین کیا گیا اور باقاعدہ سزائیں تجویز کی گئیں۔
مزید 2012 میں بھی خواتین کو اِیمپاور کرانے کے متعلق اہم اِصلاحات کی گئیں۔
متعلقہ قوانین میں زمین کے مالک کی وفات کے بعد ریونیو آفیسر کو ورثاءکی جانب سے درخواست کا انتظار کئے بغیر وراثت کی مُنتقلی کے عمل کا آغاز کرنے کا پابند کیا گیا۔
طے ہوا کہ ریونیو آفیسر اس عمل کا آغاز نادر ب فارم کے ریکارڈ مطابق کرے گا۔
خیال تھا کہ اسطرح وہ تاخیری حربہ ختم ہوجائے گا جس کی بُنیاد پر خواتین کو ان کے حق سےمحروم کر دیا جاتا تھا۔
اس کے علاوہ وراثتی انتقال کے لئے ورثاءکے شناختی کارڈ اور ب فارم لازمی قرار دیئے گئے ہیں جن سے جعلی وراثتی دستاویزات بنانے کا سدِ باب کیا گیا۔

ترمیمی قوانین میں زیرالتواء درخواستوں کو چھ ماہ کے اندر نِمٹانے کا وقت مقرر کر دیا گیا۔ وُرثاء کی تصدیق کے عمل کو زیادہ سے زیادہ شفاف بنانے کی کوشش کی گئی نیزحکومت نے وراثتی انتقال پر سٹیمپ ڈیوٹی بھی ختم کردی۔
مالکِ جائداد کی وفات کے بعد ورثاءکی طرف سے درخواست دینے کے بعد زمین کی منتقلی کے عمل کا آغاز کیا جانا تھا جس میں نادرا کی دستاویزات کی بجائے درخواست میں شامل ورثاءکو بذریعہ سمن طلب کیا جاتا تھا جس میں کئی ماہ کے بعد اس عمل کا آغاز ہوتا تھا۔
یوں خواتین کی ایک بڑی تعداد اس پیچیدہ طریقہ کار کے پیشِ نظر اپنے حق سے دستبردار ہو جاتی تھیں۔
بعد ازاں وقتاً فوقتاً ان قوانین میں بہتری لائی جاتی رہی اور بنیادی پروسیجر کو کافی حد تک آسان بنایا گیا۔
دفعہ 498/A قانون حقِ وراثت کے تحت قانونی اور شرعی لحاظ سے بعداز مرگ پہلا کام اسکےطذمہ اگر کوئی قرض تھا تو فوتیدہ کی جائیداد میں سے سب سے پہلے وہ قرض ادا کیا جائے اور مرنے والے کی بیوہ (اگر ایک سے زیادہ بیویاں تھیں تو تمام بیوگان) کا حقِ مہر ادا کیا جائے۔
اگر مرنے والے کی کوئی اولاد نہیں تو بیوہ کو کل جائیداد کا چوتھا حصہ اگر اولاد ہے تو بیوی کو کل جائیداد کا آٹھواں حصہ ملے گا۔
اگر وہ شوہر کی وفات کے بعد ُسُسرال میں نہیں رہتی تو بھی جائیداد میں اس کا حصہ پہ فرق نہیں پڑے گا۔
اسی طرح اگر وہ شوہر کے مرنے کے بعد دوسری شادی کرلیتی ہے تب بھی وہ اپنے پہلے شوہر کی جائیداد میں ناقابلِ واپسی حصہ کی بدستور حقدار رہے گی۔
بیوہ خاتون وراثت میں ملنے والی اپنے حصے کی جائیداد کو فروخت کرسکتی ہے یا جس طرح چاہے استعمال کرسکتی ہے اس پہ کسی طرح کی قدغن نہیں لگائی گئی۔
اگر مرنے والے کا کوئی بیٹا بھی ہے تو ہربیٹی کو بیٹے کے ملنے والے حصے کا کم از کم آدھا حصہ ضرور ملے گا یعنی اگر بیٹے کو زمین میں سے دس کنال کا حصہ ملتا ہے تو ہر بیٹی کا حصہ پانچ کنال ہوگا۔
اسی طرح اگر بیٹے کو نقد رقم ایک لاکھ ملتی ہے تو ہر بیٹی کو پچاس ہزار ملیں گے اور دونوں کا جائیداد میں اسی تناسب سے حصہ مقرر ہے۔
اس قانون کے تحت ہر وہ شخص جرم کا مُرتکب قرار دیا جائے گا جو کسی جائداد کے مالک کی بعد ازوفات حصہ دار عورت کو دھوکہ دہی یا کسی بھی صورت میں جائداد سے محروم کرنے کی کوشش کرے گا۔
عورت حق نہ ملنے کی صورت میں مقدمہ درج کروا سکتی ہے اور قانون کے تحت مُجرم کو 10 سال قید اور 10 لاکھ جرمانے کی سزا ہو گی جو کسی بھی صورت 5 سال سے کم نہی ہو گی۔

اِن سب قوانین کی موجودگی کے باوجود عورت کے استحصال میں سرمُو کمی واقع نہ ہو سکی۔
وہ بدستور زمین جائیداد و وراثت سے محرومی کا شکار ہیں۔
اِسکی بنیادی وجہ قانون سازوں کا سماج میں عورت کے مقام و مرتبے، باہم رشتوں کی نزاکت سے متعلق زمینی حقائق سے نابلد ہونا یا دانستہ اِسے نظر انداز کرنا ہے۔
چونکہ پارلیمنٹ میں زیادہ تعداد زمینداروں جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کی ہے وہ کب چاہیں گے کہ خواتین کو برابری حیثیت میں سامنے لائیں اِسطرح انانیت کے ساتھ ساتھ اُنکے مال جائیداد کے کثیر مقدار میں بٹوارہ کا سو فیصد اِمکان بھی موجود ہے۔
اسلئیے قانون سازی کرتے وقت دانستہ ایسا رخنہ چھوڑ دیا جاتا ہے جس سے وہ قانون عملی طور پہ عضوِ معطل بن کے رہ جاتا ہے۔
وراثت کی عدم منتقلی میں خاص کر بہن بیٹیاں اس ظلم کا خاص ہدف بنتی ہیں۔
والدین کی وفات کے بعد بھائی اپنی بہنوں کی وراثتی جائیداد حِیلے بہانے سے ہڑپ کر لیتے ہیں۔
ہمارے معاشرے کا المیہ ہے کہ یہاں رشتے ناطے انتہائی درجے کی منافقت پہ مبنی درپردہ لالچ اور مُفاد پرستی پہ اُستوار ہیں۔
بچپن سے ہی بچی کی ذہنی تربیت کی جاتی ہے کہ والدین کا گھر اسکے لئیے پرایا ہے شادی کے بعد اسکا جنازہ سُسرال سے ہی نکلے۔

اِسی طرح بہنوں کو کہا جاتا ہے کہ اگر انہوں نے جائیداد میں حصہ مانگ لیا تو وہ کس مُنہ سے بھائی کے گھر آئیں گی اسکے لئیے بھائیوں کے گھر کے دروازے ہمیشہ ہمیشہ کے لئیے بند ہوجاتے ہیں۔
جائیداد میں حصہ مانگنے والی عورت کو معاشرے میں بری نگاہ سے دیکھا جاتا ہے ایسی عورت خاندان خاص کر میکے میں اچھوت بن کے رہ جاتی ہے، بھائیوں سے اسکا رشتہ ختم سمجھا جاتا ہے۔

“کس قدر سِتم ظریفی ہے کہ عورت اپنے خونی رِشتے اپنا حق ترک کر کے قائم رکھ پاتی ہے”

“وراثت میں خواتین کاحصہ” کے قوانین سازی کے ضِمن میں چند نُکات شامل کر لئیے جائیں تو عین مُمکن ہے کہ ان تمام کمی کوتاہیوں کا سدِ باب ہوسکے جنکی وجہ سے خواتین اپنے شرعی و قانونی حق سے محروم رہتی ہیں۔
اِن تمام قوانین میں بُنیادی سَقم یہ ہے کہ عورت کو اپنا حق لینے کے لئیے عدالت میں درخواست دینی پڑتی ہے تب تمام قانونی عمل متحرک ہوتا ہے یہی بنیادی نکتہ ہے کہ عورت درخواست تو در کنار اندرونِ خاندان اپنے حصے کے مطالبے کے لئیے منہ کھولنے کا تصور بھی نہیں کرسکتی یہ اسکےلئیے معاشرتی طور پہ اپنے منہ پہ کالک ملنے کے مترادف ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ خاتون کی طرف سے بِنا درخواست دئیے بِنا کسی قانونی کاروائی کے اُسے اُسکا حصہ مل جائے۔
اسکے لئیے خصوصی اتھارٹی کا قیام عمل میں لایا جائے جو صرف ایسی خواتین کی دادرسیِ وراثت کے لئیے کام کرے۔
ہر یونین کونسل میں ایک نمائیندہ انہی معاملات کو نِمٹانے کے لئیے تعیبات کیا جائے، وہ نمائیندہ یونین کونسل و نادرہ سے اموات کی دستاویزات حاصل کرے۔ ۔
اس نمائندے کو ایف بی آر محکمہ مال اور متعلقہ محکموں جو جائداد اور اثاثہ جات کی تفصیلات رکھتے ہیں تک رسائی حاصل ہو۔
جونہی کسی شخص کی وفات کا اندراج ہو وہ نمائندہ فوری طور پہ اس شخص کے اثاثہ جات اور ورثاء کی تفصیل مجاز اتھارٹی کو مہیا کرے۔
اور ایک قانونی اتھارٹی ہو جو خود کار طریقے سے وراثت کی تقسیم کا عمل بروئے کار لائے۔
یہ تمام پروسیجر چنداں مشکل نہیں جب موجودہ حکومت تمام افراد کے اثاثہ جات کو، دستاویزی شکل دے رہی ہے۔

اسطرح عورت گھر بیٹھے باعزت طریقے سے وراثت وجائیداد میں اپنا جائز اور قانونی حق حاصل کرسکے گی اور معاشرے میں اسکا احترام بھی قائم رہے گا۔
بجا طور پہ یہ اِقدام عورت کو معاشی طور پہ خود کفالت کی منزل سے ہمکنار کرنے کا سبب بنے گا۔

(Visited 1 times, 11 visits today)

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: