متبادل مطالعہِ پاکستان : لاہور، گجرانوالہ، رالپنڈی، اسلام آباد (2) — شوکت نواز نیازی

0

متبادل مطالعہِ پاکستان : معاشرتی جغرافیہ
(یہ مضمون جدید انسٹاگرام نسل کی ضروریات کو مدّنظر رکھتے ہوئے مرتب کیا گیا ہے)


لاہور
چونکہ لاہور ملک کا دل قرار پایا ہے اس لئے اسے وقتاً فوقتاً دل کے دورے بھی پڑتے ہیں۔ دو دوروں کے درمیان اس کے باسیوں کو زندہ دلانِ لاہور کہہ کر پکارا جاتا ہے ۔ لاہور کے شہری اپنے شہر پر بہت فخر محسوس کرتے ہیں۔ دھند اور سموگ کے چھ ماہ بعد جب ساتویں ماہ اپنے شہر کو دوبارہ دیکھتے ہیں تو چہرے سے سرجنوں والا ماسک اتار کر خوش ہوتے ہیں۔ حتی المقدور کوشش کرتے ہیں کہ زیادہ سے زیادہ لوگ لاہور کی سیر کر سکیں۔

ماڈل ٹاؤن کے ایک بلاک سے دوسرے بلاک کا راستہ دریافت کریں تو آپ کو وہ راستہ بتائیں گے جو انارکلی، شاہدرہ، واہگہ بارڈر، ٹھوکر نیاز بیگ سے ہو کر جاتا ہے۔ اس شہر کی وجہ شہرت مغل بادشاہوں کے دور میں باغات، انگریزکے راج میں سکول کالج ہسپتال اور موجودہ دور میں شادی ہال اور شاپنگ مال ہیں۔ لاہور کا قلعہ، شاہی مسجد، ان سے ملحقہ فوڈ سٹریٹ قابل دید ہیں۔ کچھ سال قبل بغلی گلیاں بھی قابل دید اور قابلِ سماعت ہوا کرتی تھیں لیکن ایک امیر المومنین کی یلغار کے بعد ان گلیوں میں رہنے والی اعضاء کی یہ شاعرائیں اب ماڈل ٹاؤن اور گارڈن ٹاؤن میں جا بسی ہیں۔ پہلے گھنٹوں پر محیط محافل برپا ہوا کرتی تھیں۔ اب دو تین منٹ کے ٹک ٹاک کلپ بنتے ہیں۔ لاہور کی خواتین اپنے سرخ وسپید رنگ و روپ اور اپنی شدید صحت کی وجہ سے ملک بھر میں جانی مانی جاتی ہیں۔ تاہم یہ سرخ و سفیدرنگ بھی انہیں شادی کی تقریبات کے دوران سفید اور گلابی پینٹ کا پورا کنستر چہرے پر انڈیلنے سے نہیں روکتا۔

لاہور کے رہائشی جب تک خاموش بیٹھے رہیں تو انتہائی شائستہ اور مہذّب دکھائی دیتے ہیں۔ لاہور کے اصلی باسی اچھرہ مسلم ٹاؤن راوی روڈ اور شاہدرہ میں پائے جاتے ہیں۔ نئی اور جدید آبادیوں میں رہائشیوں کی اکثریت فیصل آباد گوجرانوالہ گجرات سیالکوٹ اور شیخوپورہ کے صنعتکاروں اور ملک بھر کے عسکری اداروں کے ملازمین پر مشتمل ہے۔ لاہور کے جنوب مغرب میں راولپنڈی کے نالہ لئی سے قدرے وسیع اور اتنا ہی تعّفن زدہ راوی واقع ہے جسے کچھ تاریخی کتابوں میں دریا کہہ کر بیان کیا گیا ہے۔ اس کی موجودگی میں لاہور شہر کا پھیلاؤ اب مشرق کی جانب پایا جاتا ہے۔ امید کی جاتی ہے کہ جلد ہی ڈی ایچ اے اور بحریہ ٹاؤن کے امرتسر فیز بھی عوام کو پیش کئے جائیں گے۔ شہر کے باسی روزانہ ہزاروں کی تعداد میں واہگہ بارڈر پر لاتیں اٹھانے کے مقابلے میں بھارت کی شکست دیکھنے جاتے ہیں۔ لاہورئیے کھانے پینے کے شیدائی ہیں۔ لیکن بھینسوں گائیوں بکریوں کے سینگ کھرُ اور مرغیوں کے پَر نہیں کھاتے۔ چند سالوں سے شہر میں گدھوں کی شدید قلتّ دیکھنے میں آئی ہے لیکن اس کا باربی کیو کی دکانوں کی تعداد میں اضافے سے کوئی تعلق ثابت نہیں ہوا۔

فنون لطیفہ اور ملک کے ادبی منظرنامے میں لاہور کا اہم کردار ہے۔ کسی زمانے میں لاہور مشاعروں، محافل موسیقی و سماع اور دیگر ادبی تقاریب کا مرکز ہوا کرتا تھا۔ اب ان تقاریب میں شرکت کے لئے لاہور کے شاعر ادیب مصّور مصنّف اسلام آباد میں واقع کنوشن سنٹر یا پی این سی اے کا رُخ کرتے ہیں۔

گوجرانوالہ
یہ شہر اپنے تنوّع کی وسعت کی بنا پر مشہور ہے۔ بیک وقت اپنے پَلے ہوئے پہلوانوں اور تلے ہوئے چِڑوں اور ان دونوں کے درمیان موجود مٹی اور گردوغبار کے باعث یہ شہر اپنی مثال آپ ہے۔ یہ واحد شہر ہے جس کے گرد بنائے گئے بائی پاس پر سفر کرنے میں شہر کے عین بیچوں بیچ بازار میں گزرنے کی نسبت زیادہ وقت لگتا ہے۔ مستقل مزاجی کا یہ عالم ہے اڑھائی سو سالوں سے گدھا گاڑی سے لیکر برق رفتار لینڈکروزر تک لاہور سے گوجرانوالہ کا اسّی کلومیٹر فاصلہ آج بھی دو گھنٹوں میں طے ہوتا ہے۔ ہر سال اس سڑک کی مرمّت کے بعد انتہائی محنت اور دلجمعی کے ساتھ ہر ایک گڑھا اور کھڈّا عین اسی جگہ پر فوراً دوبارہ بنادیا جاتا ہے ۔

گوجرانوالہ وزیر آباد روڈ پر ایک کنٹونمنٹ بھی آباد ہے لیکن اس کا گوجرانوالہ کی عمومی صحت پر کوئی فرق نہیں پڑا۔ اسی سڑک کو گینس بک آف ورلڈ ریکارڈ میں یہ منفرد مقام حاصل ہے کہ ڈیڑھ کلومیٹر طویل ایک ٹکڑے پر ساڑھے تین سو قلفی فروشوں کے کھوکھے پائے جاتے ہیں جن میں ہر ایک کے اشتہار پر ایک ہی باریش بزرگ کی تصویر نمایاں ہے اور ہر اشتہار پر “اصلی” جلی حروف میں درج ہے۔ یہ شہر سوِل سپریمسی میں اہم کردار کا حامل ہے۔ لاہور سے چلنے والے احتجاجی مارچ اکثر گوجرانوالہ سے واپس لوٹتے ہیں۔

راولپنڈی
برطانوی راج میں انگریز فوج کی شمالی کمان کے صدر مقام اس فوجی شہر کو آج بھی فوج سے خصوصی انسیت ہے۔ تاہم بدّو کے اونٹ کی مانند اس کا جڑواں شہر بتدریج پھیلتا ہوا اب راولپنڈی کو تینوں اطراف سے اپنے نرغے میں لے چکا ہے۔ چوتھی جانب بحریہ ٹاؤن ہے۔ اسے بھی نرغہ ہی کہہ سکتے ہیں۔

اسلام آباد کے باسی راولپنڈی والوں کو اپنا غریب رشتہ دار سمجھتے ہیں اور ان کے ساتھ ایسا ہی سلوک کرتے ہیں۔ تاہم وقت پڑنے پر گدھے کو باپ بنانے والے نظرئیے پر عمل پیرا ہوتے ہوئے ائرپورٹ، ڈائیوو، ریلوے سٹیشن، چاہ سلطان کباڑی بازار، بحریہ فیز فور اور گیگا مال آتے ہوئے چند لمحوں کے لئے راولپنڈی والوں کی جانب بادل نخواستہ مسکرا دیتے ہیں۔ راولپنڈی کے باسی اسلام آباد والوں کو برگر کہتے ہیں اور پھر برگر کھانے اسلام آباد کا رخ کرتے ہیں۔ ان کی بڑی تفریح میٹرو پر سوار ہو کر سینٹارس مال جانا اور اندر داخلے کی اجازت نہ ملنے پر باہر پارکنگ میں بیٹھ کر پکنک منانا ہے۔ راولپنڈی کے نوجوان موٹر سائیکل پر بیٹھنے کے بجائے لیٹنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ البتہ ہسپتال یا قبرستان جو بھی قریب ہو قبول کر لیتے ہیں۔

راولپنڈی کا واحد فائدہ یہ ہے کہ یہاں سے گوجرخان اور جہلم قریب پڑتے ہیں۔ اسلام آباد والوں نے لاری اڈّہ، ٹرک اڈّہ اور پیرودھائی وغیرہ جیسی شور شرابا اور گردوغبار پھیلانے والی اشیاء کمال مہربانی اور شفقت سے راولپنڈی کو دے رکھی ہیں۔ اسلام آباد کی بڑی بڑی کمپنیاں اپنی افرادی قوت کا بڑا حصّہ راولپنڈی سے حاصل کرتی ہیں۔ تاہم دفتری اوقات کے بعد انہیں اسلام آباد میں داخلے کی اجازت نہیں ہوتی۔ اسی لئے راولپنڈی کے باسی صرف شادی بیاہ کی تقریبات میں شرکت کے لئے اسلام آباد جاتے ہیں۔

اسلام آباد
ملک کا دارالخلافہ ہے۔ یوں بنیادی طور پر ایک سرکاری دفتر کی سی ساخت کا حامل ہے جس کے ارد گرد چائے کا ڈھابہ، روٹی کا تندور اور فوٹو کاپی کا کھوکھا اور درخت پر شیشہ لٹکائے ایک نائی کی کرسی رکھی ہوتی ہے۔ کسی بھی تاریخی اور ثقافتی ورثے سے عاری اسلام آباد میں سرکاری سرپرستی میں تاریخ اور ثقافت ایجاد کی گئی ہے۔ راول ڈیم کے قریب فائبرگلاس کے آثار قدیمہ کے مطابق اسلام آباد کی تاریخ کے تانے بانے ڈائنوسار وں کے زمانے سے جا ملتے ہیں۔

جمعہ یا سوموار کو تعطیل کی صورت میں شہر ویران پڑ جاتا ہے۔ شہر کے اصل پرانے اور مستقل باسی جو چودہ پندرہ خاندانوں پر مشتمل ہیں گھروں سے باہر نکل آتے ہیں اور گلیوں سڑکوں میں مسّرت و شادمانی میں بھاگتے ہیں۔ اسلام آباد کے شہریوں کی مصروفیات میں نت نئے ہوٹل ریستوران اور کافی ہاؤس دریافت کرنا اور ان میں اپنی تصاویر اتارنا شامل ہے ۔ کتب میلوں کے شیدائی ہیں۔ پاک چائنہ فرینڈشپ سنٹر میں منعقدہ کتب میلے کو بری امام یا گولڑہ شریف سے زیادہ مقدّس میلہ جانتے ہیں۔ کتابیں خریدتے ہیں، چومتے ہیں، عقیدت میں پیشانی سے لگاتے ہیں اور ایک دوسرے سے پوچھتے ہیں، “پڑھوں یا نہ پڑھوں؟”

اسلام آباد میں جناح ایونیو کے سرے پر ایک بڑا چڑیا گھر موجود ہے جس میں انواع واقسام کے جنگلی وحشی خونخوار جانور پائے جاتے ہیں۔ ایک چھوٹا چڑیا گھر پیرسوہاوہ جانے والی سڑک پر بھی ہے۔ وہاں بھی جانور پائے جاتے ہیں۔ داخلے پر ٹکٹ ہے تاکہ جانور اطمینان سے اسلام آباد والوں کو دیکھ سکیں۔ یہاں موسم مناسب رہتا ہے تاہم سردیوں میں درجہ حرارت صفر تک گرجاتا ہے۔ خواتین شادی بیاہ کی تقاریب میں بغیر آستین لباس پہنتی ہیں، مہنگی پشمینہ شال کلائی پر ڈالے رکھتی ہیں اور نمونیا کا شکار ہوتی ہیں۔ ان کے شوہر اللہ کا شکر بجا لاتے ہیں اور اپنی خوشی چھپانے کی کوشش کرتے ہیں۔ مرد بنکوں میں کام کرتے ہیں اور ایک دوسرے کو “باس باس” کہہ کر پکارتے ہیں۔

دیگر بڑے شہر
پاکستان کے دیگر اہم شہروں میں فیصل آباد اور سیالکوٹ شامل ہیں۔

فیصل آباد کسی زمانے میں پاکستان کا مانچسٹر کہلاتا تھا۔ آج کل اس شہر میں سٹیج ڈراموں پر ذومعنی جگتیں لگانے والے اداکاروں کی پیداوار روز افزوں ترقی کی جانب مائل ہے۔ فیصل آباد کی کامیاب اور بھاری ترین صنعت نصرت فتح علی خان ہے۔

سیالکوٹ کی کھیلوں کے سازوسامان اور سرجری کے آلات کی صنعت دنیا بھر میں اپنا مقام رکھتی ہے۔ ان اشیاء کی برآمد سے سیالکوٹ کے صنعتکار بھاری زرمبادلہ کماتے ہیں اور لاہور میں کوٹھیاں اور بنگلے بناتے ہیں۔ اپنی فیکٹریوں اور گاڑیوں پر لاکھوں کروڑوں روپے لگاتے ہیں لیکن کارخانوں میں کام کرنے والے محنت کشوں کو مناسب تنخواہیں اور سہولیات نہیں دیتے۔ چھوٹے کم سن بچوں سے فٹبال سلواتے ہیں اور ان سے حاصل کردہ زرمبادلہ سے ہسپتالوں سکولوں کے بجائے ائرپورٹ بناتے ہیں۔

دیگر اہم شہروں میں لاڑکانہ اور کاکول شامل ہیں۔ لاڑکانہ کی صنعتیں اندرون سندھ میں بھوک افلاس اور بیماریوں کو مٹانے میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ کاکول کی برانچیں ملک کے ہر کونے میں خدمات فراہم کر ہی ہیں۔

اس سلسلہ کی پہلی تحریر اس لنک پہ پڑھیئے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20