متبادل مطالعہِ پاکستان : کراچی، ملتان، پشاور اور میانوالی (1) — شوکت نواز نیازی

0

متبادل مطالعہِ پاکستان : معاشرتی جغرافیہ
(یہ مضمون جدید انسٹاگرام نسل کی ضروریات کو مدّنظر رکھتے ہوئے مرتب کیا گیا ہے)

اگرچہ ملک میں ملکی جغرافیہ کی متعدد حوالہ جاتی کتب دستیاب ہیں لیکن موجودہ حالات میں فیس بک، وہاٹس ایپ اور ٹک ٹاک کی عادی نوجوان نسل کو ایسی ضخیم اور پیچیدہ کتابوں کی جانب متوجہ کرنا مشکل ہے۔ اس لئے شدید تحقیق کے نتیجے میں پاکستان کا پہلا معاشرتی جغرافیہ ترتیب کے بعد پیش ہے ۔ بنیادی وجہ اس تحقیقی مقالے کی یوں ہے کہ انسٹا گرام نسل کو ان کی توجہ کے دورانئے کے مطابق چند سطروں اور سہل پیرائے میں یہ ضروری معلومات فراہم کی جائیں تاکہ وہ اپنے وطن اور اس کے اہم شہروں سے متعلق کسی غلط فہمی کا شکار نہ ہو پائیں۔

کراچی
ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ مطالعہ پاکستان کے مستند حوالہ جات کے مطابق قیام پاکستان سے سینکڑوں سال پہلے ہی قیام پاکستان کا پہلا سنگ میل یہی شہر قرار پایا جب محمد بن قاسم ایک مسلمان خاتون کی پکار پر کراچی میں اترا۔ حالانکہ لوٹے گئے مسلمانوں کے قافلے میں متعدد مرد بھی آہ و بکا کرتے رہے۔ مقامی راجہ کو شکست دینے اور کراچی میں اسلامی حکومت کے قیام کے بعد سترہ سالہ کماندار محمد بن قاسم کو خصوصی خلعت میں لپیٹ کر واپس دارالحکومت بلوایا گیا۔ یہ روایت بعد ازاں کراچی یا کرِانچی کے دیگر حکمران بھی اپناتے رہے۔ فرق صرف اتنا تھا ملکی ٹیکسٹائل صنعت میں ترقی کی بنیاد پر چرمی خلعت کی جگہ ٹاٹ کی بوریوں نے لے لی۔ تمام محقق اس امر پر متفق ہیں کہ محمد بن قاسم پہلا سعودی شہزادہ تھا جس کی توجہ پاکستان کی جانب مبذول ہوئی جس کے بعد چل سو چل رہا۔ کراچی کے باسی وسیع القلب لوگ ہیں۔ راہ چلتے موٹر سائیکل پر سوار سرخ دانتوں والے مدقوق غریبوں کو دیکھ کر اپنا بٹوہ، موبائل اور کبھی کبھار تو اپنی گاڑی بھی خیرات کر دیتے ہیں۔ عرصہ دراز تک بھائیوں اور بہنوں کے جھگڑے کے بعد اب کراچی امن و سکون کا گہوارہ بن چکا ہے۔ اب لوگ ہر شام سکون اور اطمینان کے ساتھ اپنے بچوں کو تفریح کے لئے باہر لے جاتے ہیں۔ غریب غربا کے ساتھ ایک سیاہ ویگو ڈبل کیبن میں نصف درجن مسلح گارڈ بھی ہوتے ہیں۔ شہر میں امن و امان اور احساس تحفظ کا یہ عالم ہے کہ ڈیفنس کے تمام فیزوں میں واقع چھ چھ کنال کے بنگلوں کے باہر محض اپنی جمالیاتی حِس کی تسکین کے واسطے بیس فٹ اونچی دیواریں بنا رکھی ہیں۔ کراچی والے عموماً قناعت پسند ہیں۔

شہریوں کی نسلوں کی نسلیں شہر کے ایک علاقے میں پیدا ہوتے ہیں اور وہیں مر جاتے ہیں لیکن دوسرے علاقے میں قدم نہیں رکھتے۔ سادہ لوحی کا یہ عالم ہے کہ کراچی کی شہری حدود سے باہر باقی سارے ملک کو ‘پنجاب’ کہہ کر پکارتے ہیں۔ مساوات کے قائل ہیں اور کچرہ پٹیاں اور غلاظت کے ڈھیر پورے شہر کے ہر محّلے میں برابری کے اصولوں پر بانٹ رکھتے ہیں۔ بناوٹ اور ریاکاری سے دور بھاگتے ہیں اسی لئے ساتھ سمندر موجود ہونے کے باوجود ہمیشہ پانی کی قلتّ کا شکار رہتے ہیں۔ سمندر کنارے واقع ہونے کے باعث شہر کا موسم سال میں کم از کم ایک ہفتہ ضرور خوشگوار اور خشک رہتا ہے۔ شام کو سمندر کی ٹھنڈی ہوائیں شہر کی جانب چلتی ہیں اور مچھلی اور ڈیزل کی سرانڈ سارے شہر میں پھیل جاتی ہے۔ شہری فوراً گھروں سے نکلتے ہیں اور ساحل سمندر، سی ویو، کلفٹن، دو دریا یا پورٹ گرانڈ کا رخ کرتے ہیں۔ واپسی پر منوں ٹنوں کچرا سمندر میں پھینک آتے ہیں اور اپنی انتقامی کارروائی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہیں۔ دوسرے دن سمندر کی آلودگی سے متعلق آگہی بڑھانے کے لئے واک میں شرکت کرتے ہیں۔ کراچی میں ملک کی دو بڑی بندرگاہیں موجود ہیں جہاں سے دنیا بھرسے درآمد شدہ مال واسباب دیگر صوبوں کو روانہ کیا جاتا ہے۔ کراچی سے وزیر اعظم بھی بقیہ ملک میں ارسال کئے جاتے ہیں جو اکثر واپس نہیں لوٹائے جاتے۔ کراچی شہر کی حدود کے باہر صوبہ سندھ میں کھجوروں اور آموں کے باغات کے علاوہ کچھ نہیں پایا جاتا۔

ملتان
ملتان کے بارے میں بزرگوں کا فرمان ہے، “چہار چیز است تحفۂ ملتان، گرد، گرما، گدا و گورستان” یہی وہ غیر حقیقی ادب ہے جس کی بنا پر ملک ترقی نہیں کر سکا۔ درحقیقت ملتان کی بڑی سوغاتوں میں سوہن حلوہ اور کوزہ گری شامل ہیں۔ ملتان کے باسی ان دونوں اشیاء کا ذکر نہیں کرتے کہ مبادہ لوگ بھیجنے کا مطالبہ نہ کر دیں۔ گاہے بگاہے ملتان میں وزیر بھی پیدا ہوتے ہیں لیکن عوام الناس میں مقبولیت حاصل نہیں کر پائے۔ ملتان میں زیادہ بارش نہیں ہوتی اس لئے ملتانی سیاستدان چند چھینٹوں پر بھی پھسل کر دوسری سیاسی جماعت میں جا گرتے ہیں۔ ملتان کا ملکی سیاست و معیشت میں وہی کردار ہے جو کسی زمانے میں راولپنڈی سے مری کے سفر میں چھرہ پانی کا ہوا کرتا تھا جہاں بسوں ویگنوں کو چند منٹ رک کر گاڑی کے ریڈئیٹر میں پانی ڈالنا پڑتا تھا۔

پشاور
پشاور ایک تاریخی شہر ہے جو افغانستان سے آنے والے حملہ آوروں اورمہاجرین کوخندہ پیشانی سے خوش آمدید کہتا ہے۔ شہر کے عین بیچوں بیچ چرسی تکہّ ہاؤس اور مغل بادشاہوں کے دور سے تعلق رکھنے والا ایک عظیم الشان منصوبہ موجود ہے جسے بی آر ٹی کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ یہ منصوبہ اقوام متحدہ کے ادارے یونیسکو کے عالمی ورثہ کی فہرست میں شامل ہے۔ پشاور میں افغان مہاجر بستے ہیں۔ کچھ محلّوں میں قلیل تعداد میں پشتون پٹھان بھی رہتے ہیں۔ پٹھان ہوائی فائرنگ کے شیدائی ہیں۔ کشش ثقل پر یقین نہیں رکھتے۔ پشاور میں سیٹھی محلہّ میں سیٹھی حویلی بھی واقع ہے۔ روایت ہے کہ یہاں ملکہ ماحرہ خان اپنے ڈراموں کی عکس بندی کیا کرتی تھی۔ کارخانو بازار کے بعد پشاور کی دوسری بڑی صنعت سکواش کے کھلاڑی ہیں۔ تاہم اب یہ صنعت روبہ زوال ہے کیونکہ یہ کھلاڑی اب اداکاراؤں سے پے در پے شکست کھا رہے ہیں۔

میانوالی
خاندانی دشمنیوں اور ڈکیتیوں کے باعث شمال مغرب میں واقع اس معروف شہر کی ایک وجہ شہرت یہ بھی ہے کہ اس کے سپوتوں نے ملکی معیشت کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ان میں ایک متواتر افسردہ گائیک اورایک وجیہہ و شکیل وزیر اعظم شامل ہیں۔ میانوالی کا ایک جنرل تو بھارت کے مشرق میں نیا ملک بنانے کا سہرا بھی اپنےسر باندھ چکا ہے۔ میانوالی سے تعلق رکھنے والے لاتعداد افراد نے متعدد شعبہ ہائے زندگی میں نام کمایا ہے۔ تاہم کسی نے میانوالی شہر کے لئے کچھ کیا ہو تو تاریخ کے اوراق اس بارے میں خاموش ہیں۔

جاری ہے

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20