ارشد رضوی کی ’کچھ بے ترتیب کہانیاں‘ ——- خالد معین

0

ارشد رضوی بڑا داخلیت پسند کہانی کار ہے،اُس کے فن پر کافکا کی سفاک داخلیت کے ساتھ عبداللہ حیسن کی بے زار کُن سماجیات کے اثرات واضح طور پر کہیں ہلکے اور گہرے رنگوں میں محسوس کیے جا سکتے ہیں، تاہم بے پناہ تخلیقی وفور کے حامل ارشد رضوی نے اپنے فن پر کہیں بھی کسی اور کو حاوی نہیں ہونے دیا ہے، اُس کا بیانیہ اُس کا اپنا ہے، وہ اپنی ہر کہانی کو اپنے وجود کے رنگا رنگ نگار خانے کے اندر اتر کر اور اپنی حیرتوں، وحشتوں، اذیتوں، بے زاریوں، بے کیفیوں، مدہوشیوں، شعوری فرار، لاشعوری بغاوتوں اور شدید درجے کے اندرونی و بیرونی کرب ناک بہائو کے ساتھ بیان کرتا ہے۔ اُس کی تمام کہانیاں ایک مجموعی کہانی کا عکس نظر آتی ہیں۔

یہ تمام کہانیوں واقعی بے ترتیب ہیں مگر اس بے ترتیبی میں بلا کا حسن بھی ہے اور تخلیقی کشش بھی ہے۔ اُس کی کہانیاں ممکن ہیں عام قاری کے لیے سخت تکلیف کا باعث ہوں اور عام قاری ان کہانیوں کی شدید لاتعلقی، شدید وحشت، شدید یکسانیت، شدید منفی رویوں اور شدید ذہنی جھٹکوں کو نہ سہار سکے مگر نفی اور رد کے شدید دھندلکوں کے بیچ بار بار جسمانی اختلاط کے بے لذت بیانیے سے گزرتے ہوئے، تاریخ، معاشرت، انسانی نفسیات، عمومی خواہشات اور ان خواہشات کی بے زار کُن مشق، روایتی حسن، روایتی محبت، روایتی رومانس اور روایتی اخلاقایات سے انکاری ارشد رضوی اپنے اندر کی صداقت سے نا انصافی نہیں کر سکتا۔ وہ اپنے تخلیقی بیانیے کو اس لیے نہیں بدل سکتا کہ معاشرہ اُس کی کہانیوں کو کس نظر سے دیکھے گا اور نہ ہی وہ مصنوعی رجائیت اور بے ہنگم اثبات کے لیے اپنے آپ اور اپنے قاری سے جھوٹ بول سکتا ہے۔ اس لحاظ سے ارشد رضوی کی کہانیاں ایسی کہانیاں ہیں،جو اپنے کردار، اپنے بیانیے، اپنے اسلوب، اپنی انفرادیت اور اپنی فطری آب و ہوا خود اپنے اندر سے لاتی ہیں اور وہ اُنہیں انتہائی اذیت اور بے پناہ سرشاری کے عالم میں ایک نامعلوم تحیر انگیزی میں ڈوبے تخلیقی بہائو کے ساتھ ہمیں سنا دیتا ہے۔ یہی جدید کہانی کا اختصاص بھی ہے،جو نام نہاد ترقی پسندافسانہ نگاروں کی طرح پہلے سے طے اصولوں پر بھوک، افلاس، جنس، انقلاب، سرمایہ داری کے خلاف موچہ بند ہونے سے کوسوں دور ہے۔ ارشد رضوی ترقی پسند ضرور ہے لیکن وہ اپنے خوابوں، خیالوں، عشق، آوارگی، آدرش، زندگی کرنے کے کھلے پن، نفسیاتی رویوں اور اپنی ذات کی گہری پیچدگیوں کو کسی سستے فارمولے کی نذر یقیناََ نہیں کرسکتا۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20