سرخ سرخ یا سبز سبز؟ حقیقی انقلاب کی مظہریات — اعجاز الحق اعجاز

0

سرخ سرخ کے نعرے لگیں یا سبز سبز کے قوم کو اس وقت ایک حقیقی انقلاب کی اشد ضرورت ہے جو سماج، سیاست، مذہب، تہذیب اور معاش سب پر محیط ہو۔ ہمیں اس امنگوں بھری نوجوان نسل کے جذبات کا فہم حاصل کرکے ان کے انقلاب کی خواہش کو درست سمت میں منقلب کرناہوگا اور ان کو حقیقی انقلاب کی مظہریات اور حرکیات سے آشنا کرناہوگا۔ یہ انقلاب ہماری اپنی زمین اور ہماری اپنی تہذیب ہی سے طلوع ہو گا۔ یہ سویرا ہمارے اپنے آسمانوں کا سویرا ہوگا۔ یہ وہی سویرا ہوگا جو جس کا خواب قائد اور اقبال نے دیکھا تھا۔ پورے کا پورا قائد اعظم اس انقلاب کی علامت ہے۔ پورے کا پورا اقبال اس انقلاب کی قوت محرکہ ہے۔ وہی اقبال جو تہذیب، مذہب، سیاست اور معاش پہ دسترس رکھتا ہے اور نئی صبحوں کا خواب دیکھتا ہے اور مشرق و مغرب میں نئے دور کا آغاز چاہتا ہے۔ جو کچلے ہوئے، استحصال زدہ طبقوں کا کس قدر درد اپنے دل میں سموئے ہوئے ہے اور کتنا بڑا پروگریسو اور انقلابی ہے اور اس کی شاعری میں نوجوان نسلوں کے آتش فشاں جذبوں کا کتنا زیادہ ساماں ہے۔

ان نعرہ لگانے والوں میں ایک نمایاں آواز میرے دوست فرخ سہیل گوئندی کی بھی ہے۔ گوئندی اور گویرا کے جذبوں میں کچھ مماثلت تو ہے۔ وہ اسلام اور اقبال کے بارے میں قابل احترام گوشہ اپنے دل میں رکھتا ہے، اس نے اقبال کو پڑھا ہے۔ وہ ایک جہاندیدہ انقلابی ہے۔ وہ خود یہ سمجھتا ہے کہ مارکسزم اس زمین پہ ایک اجنبی پودا ہے جس کی جتنی بھی آبیاری کی جائے پھل نہ دے گا۔ ہمیں اس حقیقت تک پہنچنا ہو گا کہ سرخ اور سبز کو مل کر اسے کالے عفریت کا مقابلہ کرنا ہوگا جس کا دوسرا نام کیپٹلزم ہے۔ جو امیر کو امیر تر اور غریب کو غریب تر کرتا چلا جارہا ہے۔ یہ نیوامپیریلزم کا آسیب ہی ہے جو اس وقت دنیا کے مہلک دکھوں کی اصل جڑ ہے۔

ہمیں اس حقیقت کا ادراک کرنا ہوگا کہ نئی نسل میں زبردست فرسٹریشن موجود ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ ہماری قومی سائیکی کو مسلسل ژولیدگی کا شکار رکھا گیا ہے۔ وہ اس لیے کہ ہم نے خود ہی اپنے آپ کو اپنے آدرش تک پہنچنے نہیں دیا۔ ہماری سیاسی اور مذہبی جماعتوں نے اس نسل کو مایوس ہی کیا ہے۔ یہ فطرت کا اصول ہے جب خلا پیدا ہوتا ہے تو ہر خوب و ناخوب شے اسے پُر کرنے لپکتی ہے۔ یہ مذہبی انتہا پسندی، یہ گھٹن، یہ فرقہ واریت اور مسائل نظری میں الجھا ہو ا خطیب اور اپنے مسلک کو ایک کاروبار بنائے ہوئے یہ ذاکر اور پیراوریہ مذہب کے نام پہ سیاست کرنے والے علما۔ یہ طبقہ قرآن کی اصل انقلابی روح کو سمجھ ہی نہیں پایا اس کی بنیاد پہ انقلاب کیا اٹھائے گا؟ اقبال سمجھا تھا مگر ہم اقبال کو کتنا سمجھے ہیں؟ ایک انقلاب کی ضرورت تو ہے۔ ایک جینوئن انقلاب کی ضرورت۔ کاش ہم اقبال اور قائداعظم کے تصورِ پاکستان کی مبادیات ہی کو سمجھ لیتے تو آج رنگوں کی بحث میں نہ پڑتے۔ ان بانیان نے ایک جدیدتر، روشن تر اسلامی فلاحی ریاست کا خواب دیکھا تھا۔ جہاں نہ معاشی استحصال کا گزر ہوناتھا اور نہ فکری استحصال کا چلن۔

ہمیں ایسا انقلا ب نہیں چاہیے جو ہمارے جسم کو تو آزاد کردے مگر روح کو قید کرلے۔ ہمیں ایک پنجرے سے نکل کر دوسرے پنجرے میں نہیں جانا بلکہ ایک ایسا انقلاب چاہیے جو مادیت اور روحانیت کو ساتھ ساتھ لے کر چلے۔ اس شاعر فردا اقبال نے روحانیت اور مادیت، مثالیت اور واقعیت اور روایت اور جدت کے متوازن امتزاج کا ایک سہانا خواب دیکھاتھا جسے ہم نے مٹی میں ملا دیا۔ اقبال سرمایہ داری اور استعماریت کے خلاف سب سے مضبوط اور دور رس فلسفہ لے کر آیا۔ اس کی تعریفوں کے پل تو فیض، ملک راج آنند اور ایم ڈی تاثیر جیسے ترقی پسندوں نے بھی باندھے تھے۔ اس کی مذہبی تعبیر انتہائی پروگریسو تھی مگر آہ ہم اسے نہ سمجھ سکے اور اسے زبردستی رجعت پسندوں کے کیمپ میں دھکیلتے رہے۔ وہ مذہب میں بھی ڈویلپمنٹ کا ایک اصول رکھتا تھا۔ حقیقت کو وہ سیل ِ رواں قرار دیتے دیتے تھک گیا مگر ہم نے اس کے ہر خریطہ جواہر کو خذف ریزوں کی نذر کرنے کی قسم کھا رکھی ہے۔ قلب و نگاہ کے اصل انقلاب کی روح کو کون سمجھے گا؟ رنگوں اور نعروں سے آگے کی چیزوں کو کون دیکھے گا؟

مارکسزم میں کیا کمی تھی جس کی وجہ سے وہ اپنے قدموں پہ زیادہ دیر کھڑا نہ رہ سکا؟ دنیا کے آئندہ انقلاب ترکیب (Synthesis) سے پیدا ہوں گے اکہرے پن سے نہیں۔ آج دنیا سرمایہ داروں کا بازیچہ اطفال بنی ہوئی ہے تو اس کے سامنے اسلام کی اصل اور ترقی پذیر روح کو بحال کرکے ہی بند باندھا جا سکتا ہے۔ ہمیں کون سا رنگ چاہیے۔ افسوس ہے کہ یہ سمجھا جائے کہ اس کا فیصلہ ہونا باقی ہے۔ ہمیں تو وہی رنگ چاہیے جو قائداعظم اور اقبال ہمیں دے گئے یعنی وہی ہمارے قومی پرچم کا رنگ۔ مگر اس پرچم پہ ایک سفید رنگ بھی ہے جسے ہم بھول جاتے ہیں۔ یہ اقلیتوں اور دوسرے مذاہب و مسالک کے ساتھ پر امن بقائے باہمی کا رنگ ہے۔ دوسرے رنگوں کی بات اسی لیے ہورہی ہے کہ ہم نے اس پرچم کے رنگوں کی معنویت کو اسٹیبلش کرنے کے بجائے اسے اسٹیبلشمنٹ کی خواہشات کی نذر کردیا۔ یہ رنگ اس بات کی ضمانت کیوں نہ بن سکے جس کے لیے اسے بانیان پاکستان نے منتخب کیا تھا یعنی یہاں طبقاتی اور معاشی تفریق نہ ہوگی، شدت پسندی اور تنگ نظری نہ ہوگی۔ مگر آہ آج ایک ڈیفنس اور بحریہ ٹائون کا پاکستان ہے اور ایک جھگیوں کا پاکستان۔ اول الذکر کے مکین کسی اور ہی پاکستان کے مکین ہیں اوردوسرے پاکستان کے مکینوں کو پہچاننے ہی سے گریزاں ہیں۔ یہاں ایک فرقہ دوسرے فرقے کا دشمن ہے۔ یہاں مذہبی تنگ نظری اور شدت پسندی نے اسلام کے اصل چہرے کو گہنا کے رکھ دیا ہے اور یہ قوم متواتر کشتہ سلطانی و ملائی و پیری بنی ہوئی ہے۔ کیا شریعت کیا تصوف سب اپنی اصل روح سے محروم ہیں۔ پھر تو طوفان برپا ہونا ہی چاہیے جو ہر نقش فرسودہ کو مٹا دے، ہرخوشہ گندم کو جلا دے۔ ایک جینوئین انقلاب آنا ہی چاہیے۔ باطن کا انقلاب، سوچ کا انقلاب۔ ظاہر کا انقلاب نہیں چاہیے جو آئے اور بھد اڑاتا ہوا گزر جائے۔

ایک طرف کیپٹلزم کا عفریت ہے تو دوسری انتہا پر مارکسزم اور سوشلزم، ہمیں ان کے درمیان میں سے رستہ نکالنا ہے اور وہ رستہ اسلام کی تعبیر و تشکیل ِ جدید ہی ہے۔ ہمیں مذہب کے نام پہ فرسودگی اور استحصال کو روکنا ہو گا۔ اقلیتوں کا تحفظ کرنا ہوگا۔ تنگ نظری اور شدت پسندی کا قلع قمع کرنا ہوگا۔ علاقائی نیشنلزم اور لسانیت کی تنگنائوں سے بھی نکلنا ہو گا۔ امن اور بقائے باہمی کو فروغ دینا ہوگا۔ یہ ماننا ہو گا کہ حقیقت ایک ارتقا پذیر شے ہے۔ مگر سوڈو انقلاب کے ذریعے اپنے مذموم مقاصد کی آبیاری کرنے والوں کو بھی پہچاننا ہوگا۔

آج دنیا نیوامپیرلزم کے پنجرے میں قید ہے۔ طائران ِ بے بال و پرکو اس نکلنے کا کچھ نہ کچھ ساماں توکرنا چاہیے اور کسی نئے دام میں پھنسنے سے بھی گریز کرنا چاہیے۔  ہم نے تو اب تک یہی دیکھا ہے کہ جب بھی انقلاب کا گجر بجتا ہے، ہم ایک بار پھر خود کوبھیانک تیرگی میں پاتے ہیں۔ جب بھی ہم منزل کا رخ کرتے ہیں تو کچھ اجنبی چہرے آتے ہیں اور منزل کے قریب آئنوں کی چادریں پھیلا دیتے ہیں اور قوم کو ان سرابوں پہ منزلوں کا گماں ہونے لگتا ہے۔ ہمارے یہ سبھی سیاسی و مذہبی راہنما ہمیں کسی منزل تک کیا پہنچائیں گے ان کا کام تو بس کسی تجلی کا فریب دے کر ہمیں کسی گھٹا ٹوپ دھندلکے تک پہنچا دینا ہی ہے۔

چنانچہ اب اس میں کوئی شک وشبہ نہیں رہا کہ جس منظر نامے سے ہم نبرد آزما ہیں یہ انقلاب کی موت کے بعد کا منظرنامہ ہے۔ خوابوں کی سسکیاں بہت بھیانک ہوتی ہیں۔ وہ صبح آتے آتے کہاں رہ گئی ہے جس کی تلاش میں ہم نکلے تھے۔ قافلے جو آنے والے تھے وہ کن راستوں کا رزق ہوئے؟ اب تو انقلاب کے نام سے ڈر لگنے لگا ہے۔ جب بھی ہماری قومی تاریخ میں کوئی فیصلہ کن موڑ آتا ہے، ہماری سیاسی و سماجی حرکیات میں نہ جانے خرابی کی کیا صورت مضمر ہے کہ اس موڑ سے آگے سرابوں کے لامتناہی منطقے تو پھیلے نظر آتے ہیں کوئی منزل دکھائی نہیں دیتی۔ جب ہم اپنے سیاسی، سماجی اور تہذیبی منظرنامے کا جائزہ لیتے تو ہم دیکھتے ہیں کہ آسیب نے ہم پہ ایک اور سایہ ڈال دیا ہے جس میں ہماری حرکت تو تیز تر ہے مگر سفر جو پہلے آ ہستہ تھا اب الٹے پائوں شروع ہو گیا ہے۔ جب کوئی انقلاب ہائی جیک ہو جائے تو قوموں کو دوبارہ اس پہ مائل ہوتے ہوتے صدیاں لگتی ہیں۔ شاید یہ خطہ کسی انقلاب کی فصل کے لیے بہت بنجر واقع ہوا ہے۔ ہم آخری حدوں کوچھوتے ہوئے قومی انتشارکا شکار ہیں اسے کامل یکسوئی میں بدل دے۔ مگر افسوس کہ ہمارے قومی منظر نامے میں کوئی ایک بھی چہرہ ایسا نہیں جو اس حقیقی انقلاب کی صلاحیت کا حامل ہو، جس کی سیرت، جس کا کردار ہر سوال سے بالا تر ہو، جو معاملہ فہم ہو اور عمیق سیاسی بصیرت رکھتا ہو۔ قوم کا ایک ہی مطالبہ ہے کہ اسٹیٹس کو کے کارپردازان کو منظر نامے سے ہٹایا جائے۔ ہم ایک بڑی تبدیلی چاہتے ہیں، حقیقی اور جوہری تبدیلی۔ اصلی اور ہمہ جہت انقلاب۔ جو چہرے بھی بدل دے اور نظام بھی۔

یہ بھی پڑھیں: طلبہ تنظیموں کے سحر انگیز نعرے اور حقیقت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لالہ صحرائی

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: