بھٹو صاحب نے کہا : نورا ! انہیں بتاو پہاڑ روتے نہیں ہیں — اظہر عزمی

0

ذوالفقار علی بھٹو کے ذاتی ملازم نور محمد عرف نورا کے حالات و واقعات

ضیاء الحق کو جنرل کے رینک پر پروموٹ کر کے چیف آف دی آرمی اسٹاف بنانے کے اعلان کے چند دنوں بعد اسلام آباد میں مقیم ایک امریکی سفارت کار نے جو کہ اردو جانتا تھا، صحافیوں کے ایک گروپ کو بتایا تھا کہ بھٹو کو ایک اور “نورا” مل گیا ہے۔ (حوالہ انگریزی کتاب، پاکستان ضیا اینڈ آفٹر۔۔۔)

نورا کون تھا؟ کیا تھا؟
بھٹو صاحب سے اس کا کیا تعلق تھا؟
وہ وفاداری، جاں نثاری، اطاعت پسندی اور وطن پرستی کے کس منصب پر فائز تھا کہ ضیاء الحق کو یہ کہا گیا؟
کیا وہ کابینہ کا کوئی بہت یی با اثر وزیر تھا جس کا Nick Name نورا رکھ دیا گیا تھا جو بعد ازاں Generic بن گیا؟
کیا وہ بھٹو خاندان کے کسی خدمت گار کا بیٹا تھا کہ جس کا بچپن بھٹو صاحب کے ساتھ گذرا ہو؟

یہ سب سوال نورا کی شخصیت تک نہیں پہنچ سکتے۔ کسی اور کو تو کیا خود نورا ان تک نہیں پہنچ سکتا تھا اگر وہ حیدرآباد سندھ کے میر احمد علی خان اور میر رسول بخش تالپور کا خاندانی ملازم نہ ہوتا۔ نورا کا اصل نام نور محمد مغل تھا لیکن اسے سب نورا ہی کہا کرتے تھے۔ ایک مرتبہ ذوالفقار علی بھٹو حیدرآباد گئے اور تالپور برادران کے مہمان ہوئے۔ اس کے بعد ان کو جلسہ سے خطاب کرنے سانگھڑ جانا تھا۔ جہاں مخالفین کی جانب سے مزاحمت کا خطرہ تھا۔ تالپور برادران نے اپنے ایک ملازم نورا کو بھٹو صاحب کے ساتھ روانہ کردیا۔ سانگھڑ میں ذوالفقار علی بھٹو پر فائرنگ ہو گئی۔ نورا کمال بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان پر لیٹ گیا اور ان کی جان بچائی۔ ذوالفقار علی بھٹو جہاندیدہ سیاستدان ہونے کے ساتھ ساتھ نظر شناس زمیندار بھی تھے۔ ان میں وفادار و جانثار ملازم کی پرکھ تھی۔ بھٹو صاحب نے تالپور برادران سے نورا کو مانگ لیا اور ان فیاض مزاجوں نے نورا کو ہمیشہ کے لئے ان کے حوالے کردیا۔ بعد میں بھٹو صاحب کی تالپور برادران سے خاصی مخاصمت رہی لیکن نہ تو کبھی تالپور برادران نے نورا کو واپس مانگا اور نہ ہی کبھی نورا نے واپس جانے کی درخواست کی۔

آج کی نئی نسل شاید تالپور برادران سے واقف نہ ہو۔ میر احمد علی خان تالپور بڑے جبکہ میر رسول بخش تالپور چھوٹے بھائی تھے۔ رسول بخش تالپور بھٹو دور میں گورنر سندھ اور سینئر وزیر بھی رہے۔ ان سے متعلق مشہور ہے کہ جس روز وہ گورنر کے عہدے سے مستعفی ہونے تو یہ کہتے ہوئے گئے کہ میں آج کوفہ چھوڑ کر جارہا ہوں۔ بڑے بھائی میر احمد علی خان تالپور ضیا دور میں وزیر دفاع تھے۔ کسی نے پوچھا کہ آپ کو وزیر دفاع کیوں بنایا تو بولے کیونکہ پوری کابینہ میں سب بڑی مونچھوں میری ہیں۔ ابتدا میں یہ پیپلز پارٹی میں تھے۔ رسول بخش تالپور سندھ میں پارٹی چیئرمین تھے۔ بعد ازاں اختلافات ہوگئے جو ہمارے ہاں جمہوریت کا حسن ہیں۔

تالپور برادران کی پیپلز پارٹی سے وابستگی اور نور محمد نورا کی ذوالفقار علی بھٹو کو حوالگی سے متعلق جناب حسن مجتبی اپنے مضمون پی پی پی کے 45 سال، بھٹو سے زرداری میں لکھتے ہیں:

” اگرچہ پاکستان پیپلزپارٹی کی بنیاد لاہور میں رکھی گئی تھی لیکن بہت کم لوگوں کو یاد ہوگا کہ اس کا اصل جنم حیدرآباد سندھ میں ٹنڈو میر محمود میں المعروف میر برادران میر رسول بخش تالپور اور میر علی احمد تالپور کی رہائش گاہ پر ہوا تھا جب 16 ستمبر1967ء کو ذوالفقار علی بھٹو نے ایک پریس کانفرنس کے دوران اعلان کیا تھا کہ وہ نئی پارٹی بنانے جا رہے ہیں جس کا اعلان لاہور کنونشن میں کیا جائے گا۔ میر برادران نے ہی اپنے دیرینہ اور بااعتماد ملازم نور محمد مغل جو کہ نورا کے نام سے مشہور ہے کی خدمات ذوالفقار علی بھٹو کے حوالے کی تھیں، نورا اس دن کے بعد اپنے آخری دنوں تک بھٹو کا ہی وفادار کہلایا۔ یہ نورا تھا جس نے پاکستان پیپلزپارٹی کے منشور کی کاپیاں بوریاں بھر کر بذریعہ خیبر میل ملک کے کونے کونے میں جاکر پہنچائی تھیں۔ بھٹو کا یہ انتہائی قریبی اور معتمد ملازم خاص جنرل ضیاء کی آمریت کے ابتدائی سالوں میں کراچی میں مردہ پایا گیا۔”

نور محمد نورا کی اہمیت و حیثیت کا اندازہ صرف اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اگر ذولفقار علی بھٹو سو رہے ہوں تو ماسوائے نورا کسی کو اجازت نہ تھی کہ وہ ان کو نیند سے بیدار کرے۔ نور محمد نورا کی میڈیائی شہرت کا آغاز کراچی کے ایک جلسہ سے ہوا۔ واقعہ کچھ یوں ہے جس روز بھٹو صاحب کو کراچی میں ایک جلسہ عام سے خطاب کرنا تھا۔ اس روز ایک اخبار میں یہ خبر شائع ہوئی کہ رات وزیر اعظم کسی بات پر آبدیدہ ہوگئے یا رو پڑے۔ بھٹو صاحب نے جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے اس خبر کا حساب نورا کو مخاطب کرتے ہوئے چکتا کیا اور کہا:
نورا ! انہیں بتاو پہاڑ روتے نہیں ہیں۔

جلسہ تو ختم ہو گیا مگر اتنے بڑے جلسہ میں نورا کا یہ تعارف سب کو چونکا گیا۔ اب نور محمد نورا کا مرتبہ پیپلز پارٹی کے بڑے بڑے رہنماوں کے برابر ہوچکا تھا۔

نورا محض وفادار و جانثار ہی نہیں تھا۔ وہ زہین، حاضر دماغ اور زمانہ آگاہ تھا۔ وہ اپنے صاحب کے آبرو کے اشاروں کو سمجھنے کے ساتھ ساتھ وہ ان کے ذہن کو بھی پڑھ لیتا تھا۔ بڑے بڑے بیوروکریٹس ذوالفقار علی بھٹو سے ملنے سے قبل نورا سے ملتے اور متعلقہ مسئلہ بتانے کے بعد پوچھتے کہ اس بات کے لئے وزیر اعظم کا موڈ اس وقت کیسا ہے؟ نورا بھٹو صاحب کا تو مزاج داں و نبض شناس تھا ہی اس کے ساتھ ملاقاتیوں سے متعلق بھٹو صاحب کیا رائے رکھتے ہیں۔ اس سے بھی اچھی طرح واقف تھا۔ وہ جانتا تھا کہ صاحب کی تیوریاں کسے دیکھ کر چڑ جاتی ہیں اور کسے دیکھ کر خوشگواری آجاتی ہے۔ نورا یہ بھی جانتا تھا کہ سیاست میں کوئی چیز حرف آخر نہیں ہوتی۔ صاحب آج جس سے ناخوش ہیں کل اس سے خوش بھی ہوسکتے ہیں۔اس لئے وہ موجودہ معاملات و حالات اور مستقبل بینی کے ساتھ متعلقہ شخص کے حفظ مراتب کا بھی  خیال رکھتا تھا۔ اور وہ ایسا کیوں نہ کرتا؟ بھٹو صاحب جیسا شخص اگر کسی عام سے آدمی کو اتنا اختیار دے رہا ہے تو اس میں کوئی خاص بات تو ہوگی۔

نور محمد نورا ذوالفقار علی بھٹو کے ساتھ ہی رہتا حتی کہ غیر ملکی دوروں تک میں ان کے ہمراہ ہوتا اور جہاز کی اکنامی کلاس میں سفر کرتا۔ ہر کوئی اس کے ساتھ عزت و احترام سے پیش آتا۔ ہر کوئی اسے نورا صاحب کہہ کر مخاطب کرتا۔ بھٹو صاحب کو اگر دورے میں کسی شخص کو خاص اہمیت دینا یوتی تو نورا سے ان کا خیال رکھنے کو کہہ دیتے۔

مشہور صحافی اور کالم نگار جناب عبدالقادر حسن اپنے ایک کالم ’’بیش قیمت دوست اور بیش قیمت زیورات‘‘ میں رقم طراز ہیں:

“بھٹو خاندان کے بارے میں جب بھی ناگوار خبریں ملیں مجھے بہت دکھ ہوا کیونکہ بھٹو صاحب میرے مہربان تھے وہ جب حزب اقتدار میں آئے تو انھوں نے بڑی عجلت میں کوئی نو ملکوں کے دورے کیے۔ صبح کہیں دوپہر کہیں اور رات کہیں۔ میں اپنے اخبار کی طرف سے اس یاد گار دورے میں شامل تھا۔ بھٹو صاحب سے آمنا سامنا ہوتا رہتا تھا۔ کالے رنگ کی ایک صندوقچی ہر وقت اٹھائے ہوئے ان کا خاص ملازم نور محمد عرف نورا جو ہر وقت ان کے آس پاس رہتا تھا اسے بھٹو صاحب نے ہدایت کی تھی کہ وہ میرا خیال رکھے۔”

بھٹو کابینہ کے قدآور وزراء جو ناک پر مکھی نہیں بیٹھنے دیتے تھے جب بھٹو صاحب کے پاس آتے تو نورا کے پاس بیٹھتے، حال احوال لیتے اور اگر یہ سمجھتے کہ وزیر اعظم اس وقت نہ سہی کسی اور وقت ان کے مسئلے کو مثبت انداز سے دیکھیں گے تو مسئلہ نورا کے گوش گذار کر جاتے یا فائل ہی وہیں رکھ کر چلے جاتے۔اب یہ نورا پر منحصر ہوتا کہ وہ فائل یا مسئلہ کب صاحب تک پہنچائے۔

نور محمد نورا کا تذکرہ اس کے نام کے ساتھ سیاست دانوں کی کتابوں میں مل جاتا ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے عہد عروج میں کتنا قابل ذکر رہا ہے۔ ملک حاکمین خان اپنی کتاب ’خار زار سیاست کے شب و روز‘‘میں ذوالفقارعلی بھٹو کے حوالے سے لکھتے ہیں:

“ذوالفقار علی بھٹو سے ان کی پہلی ملاقات 1970ء کے انتخابات میں ایم پی اے منتخب ہونے کے بعد انٹر کانٹی نینٹل ہوٹل راولپنڈی میں اپنی پہلی ملاقات کا احوال بتاتے ہیں کہ بھٹو صاحب سے ملاقات کے بعد جب میں واپس جانے کے لیے ہوٹل کی لابی میں ڈرائیور کا انتظار کر رہا تھا کہ اس دوران بھٹو صاحب کا ملازم خاص نور محمد عرف نورا مغل دوڑتا ہوا آیا اور مسکراتے ہوئے مجھے مبارکباد دی اور بتایا کہ بھٹو صاحب نے غلام مصطفی کھر سے کہا کہ دنیا کا ہر انسان بے وفا ہو سکتا ہے لیکن یہ نوجوان کبھی بے وفائی نہیں کرے گا۔ میں اس نوجوان کی آنکھوں میں وفا دیکھ رہا ہوں۔ یہ بات وقت اور تاریخ ثابت کرے گی”۔ یہ بات بعدازاں فوٹو گرافر اور مصطفی کھر نے بھی بتائی۔”

وقت سدا ایک سا نہیں رہتا۔ بھٹو صاحب اقتدار سے ہٹا دیئے گئے اور ملک میں مارشل لاء نافذ ہوا تو اس وقت کی حکومت نے احتساب کا آغاز کر دیا اور غیر ملکی دوروں میں ملنے والے تحائف تک پر مقدمات قائم کر دیئے گئے۔ ایک قیمتی فانوس کو اپنے ذاتی گھر میں سجانے پر بھی مقدمہ بنا دیا گیا۔ یہاں بھی نور محمد نورا سمیت ذاتی ملازموں کو وعدہ معاف گواہ بنانے کی حتی المقدور کوشش کی گئی مگر کامیابی نہ ملی۔

4 اپریل 1979 کو ڈوالفقار علی بھٹو کو ٹختہ دار کے حوالے کر دیا گیا۔ جس کی آنکھوں کے آبرو کے اشارے نورا کے لئے لفظوں کا کام دیا کرتے تھے۔اب وہ دنیا سے آنکھیں موند کر منوں مٹی تلے جا سویا تھا۔ اس کے بعد نورا کی کوئی خبر نہ آئی۔ میڈیا بھی بھلا بیٹھا۔ پھر ایک دن نورا خبر بن گیا۔ ایک ایسی خبر جو وہ خود نہیں دے سکتا تھا۔اس کے اپنے مرنے کی خبر۔ خبر کے مطابق فیڈرل بی ایریا کراچی میں نصیر آباد پر واقع ایک فلیٹ میں نورا کی پر اسرار موت واقع ہوگی۔ کسی نے کچھ کہا تو کسی نے کچھ۔ اچھا ہوا وہ بھٹو صاحب کا ذاتی ملازم تھا، پڑھا لکھا نہیں تھا، پارٹی لیڈر نہیں تھا ورنہ جو کچھ اس کے سینے میں تھا اگر وہ اپنی سوانح عمری میں لکھ دیتا تو کتنے راز طشت از بام ہو جاتے، کتنے چہرے بے نقاب ہوجاتے۔

ذوالفقار علی بھٹو صحیح کہا تھا:

“نورا ! انہیں بتاو پہاڑ روتے نہیں ہیں۔”

کوئی لاکھ اختلاف رکھے لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ تاریخ کے صفحات پر ذوالفقار علی بھٹو کے خون کے چھینٹے تو ملیں گے مگر ندامت یا معافی کے لئے آنسو تو دور بات آنکھوں میں نمی نہ ملے گی۔

پہاڑ واقعی نہیں روتے مگر پہاڑ کے ساتھ کھڑے لوگ پھوٹ پھوٹ کر روتے ہیں۔ کوئی نور محمد نورا سے پوچھتا اگر وہ زندہ ہوتا۔

یہ بھی پڑھیں: بھٹو: غریب وڈیرا، بنیاد پرست سیکولر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ڈاکٹر غلام شبیر

مصنف کا تعلق ایڈورٹائزنگ کے شعبہ تخلیق سے ہے ۔ 30 سال پر محیط کیریئر میں متعدد ٹی وی کمرشلز اور جنگلز آپ کے کریڈٹ پر ہیں۔ 90 کی دھائی میں اخبارات میں مختلف موضوعات پر آرٹیکلز لکھے ۔ ٹی وی کے لئے ڈرامہ بھی لکھتے رہے ہیں۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: