عمران خان کے کالم: کچھ جملوں کا انتخاب —- عائشہ مسعود

0

Image result for عائشہ مسعود"وزیراعظم عمران خان کے روزنامہ پاکستان میں شایع ہونے والے، ماضی کے کچھ کالمز جو معروف صحافی ایس کے نیازی کی تازہ شائع ہونے والی کتاب ’حلقہ احباب‘ میں شامل ہیں۔ یہ کالم وزیر اعظم عمران خان نے مسند اقتدار پر براجمان ہونے سے پہلے لکھے تھے۔ وزیر اعظم کے ان کالموں میں سے کلیدی جملوں کا ایک انتخاب پیش خدمت ہے جو بحیثیت وزیر اعظم عمران خان کو راستہ دکھا سکتے ہیں۔

1۔ چند سال قبل شکاگو کے میئر کی اس لئے چھٹی کروادی گئی تھی کہ سڑکوں پر جمی برف اٹھوانے میں ایک گھنٹہ کی تاخیر ہو گئی تھی۔

2۔ وزیراعظم باصلاحیت لوگوں کو اہم ترین عہدوں پر فائز کرنے کے متحمل نہیں ہو سکتے کیونکہ وہ ان کے اقتدار کیلئے خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔

3۔ بدقسمتی سمجھئے کہ ایک فاشسٹ حکومت کا وطیرہ ہوتا ہے اور موجودہ حکومت نے بھی آزادی فکر کو قابل اعتناء نہ سمجھا۔

4۔ برطانیہ کے زمانہ طالب علمی میں میں نے شیکسپئر کو تو پڑھا تھا مگر فکر اقبال سے محروم رہا۔

5۔ مغرب میں موجود اولڈ ہومز کا تصور ہی روح فرسا ہے۔

6۔ روحانیت اور مادیت کے درمیان ٹامک ٹوئیاں مارتے ہوئے کلچر میں نفسیاتی عوارض کا جنم فطری امر ہے کیونکہ روح اور بدن کے درمیان عدم توازن کا یہی نتیجہ نکلتا ہے۔

7۔ جس نظام تعلیم کا مارچ1995 میں اعلان کرنے والا ہوں وہ کینسر ہسپتال سے زیادہ دوررس نتائج کا حامل ہو گا۔

8۔ ہندوستان کی سول سروس میں شامل عام مقامی اور اعلیٰ اور ادنیٰ افسروں نے اپنے آقائوں کا لباس پہننا شروع کر دیا تھا۔

9۔ پاکستان کی سرکاری زبان آج انگریزی ہے جسے ہم ماضی کی علامت سمجھ کر صرف نظر کر جاتے ہیں۔

10۔ ریاست مدینہ کے قیام کے بعد مسلمان عظیم ترین تہذیب کی پہچان بنے لیکن کیا یہ غیر ملکی سرمایہ کاری کا کمال تھا؟ کیا یہ بیرونی قرضوں کا اعجاز تھا؟ یا تیل کے ذخائر نکل آئے تھے؟ مندرجہ بالا عوامل میں کسی ایک کا بھی وجود نہیں تھا۔

11۔ کچھ لوگوں کے خیال میں غیر ملکی امداد ایک ایسا بت ہے جس کے سامنے سجدہ ریز ہونے سے ہمارے حالات سنور جائیں گے۔

12۔ عوام کے ملازموں اور عوام کے نمائندوں کو عوام سے دور رکھنے یا ان کے دسترس سے دور رکھنے کا کیا جواز ہے؟

13۔ بزدل جب بڑھک مارتا ہے تو اپنے اندر کی کمزوری کو چھپاتا ہے۔

14۔ آزادی سے لیکر آج تک خود اپنے پائوں پر کھڑا ہونے کی بجائے ہم نے ہمیشہ غیرملکی امداد اور قرضوں پر انحصار کیا اور نتیجے کے طور پر اپنی آزادی اور خودمختاری کو خطرے سے دوچار کیا۔

15۔ قومی نظام تعلیم کو نظر انداز کرنے کے نتیجے میں ملک بہت جلد عدم استحکام کا شکار ہو جائے گا اور یاد رہے طوائف الموکی، افراتفری اور انتشار امیر غریب میں کوئی فرق نہیں رکھتے۔

16۔ ہم رضاکاروں کی بھرتی کے لئے اشتہار دینگے جو اساتذہ کی تربیت کے لئے وقت نکال سکیں۔ ہمیں ماہرین تعلیم کی بھی ضرورت ہے جو ہمارے تدبر اور تفکر یعنی تھنک ٹینک کے شعبے کا حصہ ہوں۔

17۔ ضروری گھریلو استعمال کی اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ کے ساتھ بجلی،تیل اور قدرتی گیس کے نرخوں میں اضافہ قیامت صغریٰ سے کم نہیں۔

18۔ حکومت (نواز) نئے اقتصادی مواقع پیدا کرنے میں ناکام ہو چکی ہے اور اس کیساتھ بے روزگاری میں اضافہ کی پالیسی پر گامزن ہے۔

19۔ قبائلی علاقے کی پوری تاریخ میں عورت کے ساتھ زیادتی کا کوئی واقعہ نہیں ملتا۔

20۔ ہم نے 1947 میں غیر ملکی ماڈل اختیار کیا تھا وہ ہمارے ان برائون صاحبوںکی وجہ تھا جو ہمارے پالیسی ساز تھے۔

21۔ ہم پاکستانی خوش قسمت ہیں کہ جہاں دیگر ادارے تباہی کا شکار ہیں وہاں خاندانی نظام ابھی تک قائم ہے مگر ہمارے خاندانی نظام کوچھوٹے مگر با رسوخ مغرب کے دلدادہ گروہ سے خطرہ لاحق ہے۔

22۔ ماضی میں نواز شریف اور بینظیر دونوں نے اپنے سیاسی مخالفین کو پھنسانے کی کوششیں کیں اور یہ کوششیں ناکام ثابت ہوئیں۔

23۔ جمہوریت کے فروغ کیلئے ایک مضبوط اور آزادعدلیہ بنیادی ضرورت ہوتی کیونکہ یہ شہریوں کو ریاست کے ظلم و ستم سے محفوظ رکھتی ہے۔

24۔ ہمارے پیش نظر رہنا چاہیے کہ زیادہ سے زیادہ قرضے حاصل کرنا پاکستان کے مسائل کا حل نہیں ہے۔

25۔ مساویانہ ٹیکس سے مراد ہے کہ ٹیکسوں کا بوجھ ان طبقوں پر پڑے جو انہیں ادا کرنے اور برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔


Image may contain: 1 personکتاب حلقہ احباب حاصل کرنے کے لئے درج ذیل پہ رابطہ کیا جاسکتا ہے۔
-To order: Whatsapp, call or msg at 0342-55-48-690
یا
https://www.facebook.com/www.emel.com.pk/
یا
https://www.emel.com.pk/product/halqa-e-ahbab-%D8%AD%D9%84%D9%82%DB%81-%D8%A7%D8%AD%D8%A8%D8%A7%D8%A8/

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20