لال لال کنفیوزن ——- نعمان خان

0

انسان اپنے اوائل سے کئی ایک سوالات اور ان کے جوابات کے گورکھ دھندے میں پھنسا ہوا ہے۔ ابھی تک یہ نہیں جانا جا سکا کہ انسان کا پہلا سوال کیا تھا اور اس جواب کے لیے اس نے کیا کشٹ کیے اور جواب سے کس قدر مطمئن ہوا۔ بہرحال یہ امر واضح ہو گیا کہ سوال بہت اہم ہیں اتنے ہی اہم جتنا اس کا جواب ہے۔ بسا اوقات سوال کی اہمیت جواب سے بھی زیادہ ہوتی ہے۔ بنا بر ایں سوال کو آدھا علم قرار دیا گیا ہے۔ اس تحریر کا مقصد بھی چند ایک سوال ہیں۔ جن کا ہم باری باری جائزہ لینے کی کوشش کریں گے۔ پس منظر میں ایک واقعہ ہے جس نے ان سوالات کو جنم دیا ہے اور واقعہ چند ایک طلباء کا اکھٹے ہو کر “سرخ ہوگا سرخ ہوگا ایشاء سرخ ہوگا” اور جب لال لال لہرائے گا اور ہم کیا چاہتے؟ آزادی ۔۔۔۔۔ لے کے رہیں گے آزادی ــ ــ ـــ ہوا یوں کہ فیض احمد فیض فیسٹیول میں چند طلباء نے مل کر نعرے لگائے۔۔۔۔ سرخ ہوگا سرخ ہوگا ایشاء سرخ ہوگا ـــ اور جب لال لال لہرائے گا ــــ پھر انہیں طلباء کی جانب سے طلباء یونینز پر عائد پابندی کے خلاف نعرے بازی بھی کی گئی۔ انہی کی جانب سے آزادی کے نعرے بھی لگائے گئے ــ وہیں پر فیمینسٹ کلچر کے چند نمونے پیش کیے گئے ڈرامہ یا ٹیبلو کے ذریعے ـــ ہم باری باری ان کا جائزہ لیتے ہیں:

1) سرخ ہوگا سرخ ہوگا ایشاء سرخ ہوگاـــــــ اس سے مراد اگر ان کی کمینوزم کی ہے تو دیکھا گیا کہ کیمینوز ازم اپنی تمام تر توانائیوں کے باوجود بھی رخصت ہو چکا ہے یا رخصتی کے دہانے پر کھڑاہے – جب کہ پاکستان میں بھی سرخ تحریک کے لوگ ابھی آرام سے این جی اوز کی گود میں بیٹھے ہوئے دیکھے جا سکتے ہیں۔ اس ضمن میں زیادہ تفصیل کی ضرورت نہیں ہے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ سوشل ازم کی تو سوشل ازم اپنے اندر اس قدر ترامیم کر چکا ہے کہ سوال پوچھنے والا پوچھ سکتا ہے کہ کونسا سوشل ازم درکار ہے ان طلباء کو۔ لاطینی امریکہ کا؟ چائنہ کا ؟یا روس کا؟ دوسری بات اس وقت سوشل ازم اپنے استحکام کے لیے سرمایہ دارانہ علمیت کا محتاج نظر آتا ہے۔ چاہے وہ نظام حکومت ہو یا نظام معیشت۔ سوشل ازم نے سرمایہ داریت سے غیر اعلانیہ شکست تسلیم کر لی ہے اور اپنے اندر اتنی لچک پیدا کر لی ہے وہ قریب قریب کیپیٹل ازم ہی کا پروردہ نظر آتا ہے۔ ورنہ کیپیٹل ازم کے مبلغ میڈیا پر سوشلسٹ تحریکوں کو اتنی کوریج نہ ملتی۔

2) دوسرا نعرہ جو طلباء کی جانب سے لگایا گیا وہ تھا “جب لال لال لہرائے گا، تب ہوش ٹھکانے آئے گا” بالکل ہوش ٹھکانے آئے گا، لیکن سوال یہ ہے کس کے ہوش ٹھکانے آئیں گے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ مزدور اور پسے ہوئے طبقے کو سوشلسٹ نعرے بہت فیسینیٹ کرتے ہیں، لیکن سوچنے کی بات ہے کہ مزدور یونینز نے آج تک مزدوروں کے لیے کس قدر خدمات انجام دی ہیں۔ ان تحریکوں نے کیا سرمایہ دارانہ نظام کو ہی مضبوط نہیں کیا؟ جواب یہ ہے کہ بالکل کیا ہے۔

3) تیسرا نعرہ ان طلباء کی جانب سے یہ لگایا کہ ہم کیا چاہتے آزادی ـــاور دیگرفیمنسٹ نعرے تھےـــ تو جان لیجیے کہ یہ لبرل ازم کے نمائندہ ہیں۔ ان طلباء کو پہلے یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ وہ لبرل ازم چاہتے ہیں یا سوشل ازم؟ کیوں کہ یہ دونوں دو الگ جہان اور الگ انتہاؤں کے نام ہے۔ اطلاعاً یہ بھی عرض کردوں کہ فیمینسٹ مائنڈ اور ایٹی ٹیوڈ کو جن ممالک سے یہ تحاریک چلی ہیں وہ بھی ان سین ایٹی ٹیوڈ قرار دے چکے ہیں۔ آزادی سے لبرٹی یا فریڈم ہے تو اس کا کہیں بھی کوئی ثبوت نہیں ہے کیوں کہ مجرد absolute آزادی کا کہیں وجود ممکن نہیں ہے۔ ساتھ ساتھ یہ بھی کہنا چاہتا ہوں کہ چائنہ یا رشیا میں سٹوڈنٹ یونینز کی اجازت نہیں ہے۔۔ وجہ یہ ہیکہ ان ممالک میں پلولرازم نہیں بلکہ یک جماعتی نظام کار فرما ہے۔ ان تمام باتوں کے باجود طلباء کی جانب سے جو یونینزسے پابندی اٹھانے کا مطالبہ تھا وہ بالکل درست ہے۔ لیکن ان طلباء سے ایک بار پوچھنے کی ضرورت ہے کہ “بھئی چاہتے کیا ہو؟”

عزیزان….
یہ طلباء ہمارے ہیں ہم سے ہیں یہ ہماری طرح ہی کنفیوزڈ ہیں۔ ان کی کنفیوزن کا ایک پہلو دیکھ لیجیے کہ ان کو بیک وقت سگمنڈ فرائڈ اور کارل مارکس متاثر کر رہا ہے۔ ہمارے ہاں اس کے علاوہ بھی چند ایک سٹیریو ٹائپس موجود ہیں۔ ہمارے ملک کے مسائل کی وجہ یہ ہیکہ یہاں جمہوری نظام نہیں ہے پنپ سکا۔ سوال یہ ہیکہ بھارت میں تو جمہوریت رہی ہے کبھی مارشل لاء نہیں لگا تو وہاں کیوں مسائل ہیں؟ اس کا کاونٹر کیا جائے گا کہ وہاں آئی ٹی انجنئیرز پیدا ہو رہے ہیں۔ شرح خواندگی ہم سے زیادہ ہے۔ اس کا سادہ سا جواب ہے کہ سری لنکا میں شرح خواندگی 98 فیصد ہے تو وہاں مسائل کیوں ہیں؟ ہم اپنے کنفیوزڈ ذہنوں کی الجھن دور کرنی ہوگی ہمیں ان سٹیریوٹائپس کو ختم کرنا ہوگا۔ رہے نام اللہ کا ــــــ

نوٹ: ادارہ کا مصنف کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

یہ بھی پڑھیں: جمہوری ارتقاء میں سوشلزم کا کردار؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ احمد الیاس 

(Visited 1 times, 2 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: