ایک احمق کے خیالات —– اویس حیدر

1

ہم بھی کیا لوگ ہیں۔ ہم خدا اور اس کے دین کے ماننے والے ہیں۔ ہم انسانیت کے پرچارک ہیں۔ ہم ذہیں ہیں، فطین ہیں، دانشمند ہیں، محبِ وطن ہیں اور جانے کیا کیا کچھ ہیں۔۔۔ لیکن ہمارے کردار کی حقیقت کیا ہے۔۔۔ کبھی ہم نے غور کیا؟

دہائیاں بیت جاتی ہیں ہمیں گاوں کی بستیوں اور شہر کے محلوں میں اکٹھے رہتے رہتے۔ مگر ہمارے دل ہمارے ہمسایوں کی محبت سے نہیں بھیگتے۔۔۔ کیونکہ ہم موازنے کرتے ہیں۔۔۔ اپنی خوشحالی اور دوسرے کی بدحالی کے درمیان، اپنی اونچی اور دوسرے کی نیچی چھت کے درمیان۔

دہائیاں بیت جاتی ہیں ہمیں اپنے اپنے گھروں کے اندر ایک چھت تلے اکٹھے رہتے۔۔۔ مگر ہمارے دل ایک دوسرے کی محبت میں نہیں بھیگتے۔ کیونکہ ہم موازنے کرتے ہیں اپنی اپنی اولاد کا۔۔۔ اپنے اپنے احساس کا۔۔۔ اپنی اپنی محرومی کا۔۔۔ کیونکہ ہمارا سب کچھ۔۔۔ اپنا، اپنا ہوتا ہے۔۔۔ مگر ہم ایک دوسرے کے لیے اپنے نہیں ہوتے۔۔۔ صرف ایک زمہ داری بن کر رہتے ہیں۔۔۔ اور رشتے نہیں بلکہ ذمہ دارایاں نبھاتے ہیں۔

برسوں بیت جاتے ہیں ایک بازار یا ایک مارکیٹ کے دوکانداروں کو ایک دوسرے کی سانجھی دیواروں کی ساتھ ساتھ بیٹھ کر دوکانداری کرتے۔ مگر ہمارے دل نہیں بھیگتے۔ کیونکہ ہم موازنہ کرتے ہیں روزانہ کے منافعے اور خسارے کا۔۔۔ ایک دوسرے کی آمدن کے ساتھ۔ ہمیں اپنی دوکان پر خریداروں کی بہتات اور پاس والے کی دکان پر ہوتا جھگڑا ہی اچھا لگتا ہے۔

عمریں بیت جاتی ہیں ہمیں دفاتر میں ایک دوسرے کے ساتھ کام کرتے کرتے۔۔۔ مگر ہمارے دل ایک دوسرے کے ساتھ نہیں بھیگتے۔ ہمیں دوسرے کی بے عزتی اور اپنے لیے شاباش ۔۔۔ اچھی لگتی ہے۔ کبھی ہم اپنے کولیگز کو بچھاڑ کر آگے نکلنا چاہتے ہیں۔۔۔ تو کبھی ہم آگے بھاگنے والے ساتھی کو پیچھے کھینچنا چاہتے ہیں۔ کیونکہ ہم نے اپنی تعلیم سے یہی سیکھا ہے کہ دنیا ایک ریس ہے لہذا ہم سب ریس کے گھوڑے ٹھہرے۔ تبھی تو آنکھوں پر کھوپے چڑھائے اپنے دائیں بائیں سے غافل ہو کر پورا دن بس بھاگتے رہتے ہیں۔

ایک افسر۔۔۔ اور اس کے ماتحت کام کرنے والے بیسیوں ورکرز۔۔۔ کئی کئی سال بیت جانے کے بعد بھی۔۔۔ ایک دوسرے کو بے وقوف ہی سمجھتے ہیں۔ افسر کو لگتا ہے کہ یہ صرف میری قابلیت ہے جو میں ان گدھوں سے کام لے رہا ہوں اور زیرِ حکم کام کرنے اس بات پر تلملاتے رہتے ہیں کہ کس کم ظرف اور کم عقل کو ہم پر مسلط کر دیا گیا ہے۔ دہائیاں بیت جاتی ہیں مگر ہمارے دل نہیں بھیگتے۔۔۔ کیونکہ ہم ایک دوسرے کی قابلیت کے معترف نہیں ہوتے ۔۔۔ ہونا بھی نہیں چاہتے۔

ہماری خوشیاں سانجھی نہیں رہیں۔۔۔ بلکہ صرف غم سانجھے رہ گئے ہیں۔ شائد اسی لیے ہمیں اب دوسروں کی خوشی میں خوش ہونا بھی نہیں آتا۔۔۔ بلکہ صرف خوشیوں کی رسمیں نبھانا آتا ہے۔ ہم اپنے اقربا پر بھی نظریں جمائے رہتے ہیں۔ جب ہمارے ساتھ کچھ اچھا نہ ہو تو ہمیں سب کی خوشی بُری لگنے لگتی ہے۔۔۔ ہم چاہتے ہیں اب اس کو بھی اسی طرح غم ملے۔۔۔ تاکہ ہمارے دل کا بوجھ بھی کچھ کم ہو سکے۔۔۔ آخر ہمارے غم سانجھے جو ہوئے۔

معلوم ہوتا ہے کہ ہم نے صرف قد دراز کیے ہیں مگر دل اور احساسات نہیں۔ عورت اگر بانجھ ہو تو عموماََ اسے یہ کہہ کر قبول نہیں کیا جاتا کہ یہ ہمارے گھر کو خوشی نہیں دے سکتی۔۔۔ تو جب احساسات بھی بانجھ ہونے لگیں۔۔۔ تو آنے والا وقت اسے کیسے قبول کرے گا۔۔۔ غور کرنے کی بات ہے۔۔۔ کیا ہم نے اپنی زندگیوں کو بانجھ بنا کر خود غرضی کو تو گود نہیں لے رکھا؟ یا ہم اس وسیع دنیا میں اپنی سوچ کی طرح محض بونے بن کر رہ گئے ہیں۔۔۔ چھوٹی سوچ کے دراز قد بونے۔

یہ بھی پڑھیں: ’’ کم سے کم’’ والا طرز زندگی: Minimalism یا تقلیل پسندی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ندا اسحاق

(Visited 1 times, 5 visits today)

Leave a Reply

1 تبصرہ

  1. واہ کیا عمدہ عکاسی کی ہے اس بے حس معاشرے کی آپ نے،
    تحریر کو پڑھ کرایسے ہی لگ رہا ہے جیسےہم سب کی زندگیاں بلکل اسی ڈگر ر چل رہی ہیں۔
    الفاظ کا چناؤ زبردست اور انداز بیاں قابل تعریف ہے۔

Leave A Reply

%d bloggers like this: