تصوف کے بارے میں کچھ بنیادی باتیں —- احمد جاوید

2

ہمارا تصورا انسان یہ ہوا کہ ہم بندگی کی حقیقت کو ریالائز کر کے بندگی کی حقیقت کو اپنے ذہن طبیعت اور ارادے کا واحد سبسٹنس بنا کر آخرت میں نجات یعنی اللہ کی خوشنودی کو حاصل کرنے کی کاوشوں میں زندگی گزارتے ہیں۔ یہ ہمارا پورا تصورِ انسان ہے جس کی تجزیاتی تائید دیگر علوم سے حاصل ہے اور جس میں حقیقت کا علم اور مقصود کا فہم دین کے علاوہ میسر نہیں آ سکتا۔ تو یہ چیز عقیدے کی طرح ہے ہمارے یہاں یہ بندگی ہماری حقیقت ہے نجات ہماری منزل ہے۔ تو اس میں فرق پیدا ہو جاتا ہے، تناظر بدلنے سے مزاج بدلنے سے۔ یعنی اسے ہم اگر ایک تناظر سے دیکھیں تو بندگی کا مطلب ہے اللہ کے احکام پر چلنا اور اس کی خلاف ورزی سے بچنا۔ یہ ایک سادہ سا مطلب ہے۔ لیکن ہم اس سادگی میں موجود دوسرے پرسپیکٹیو سے دیکھیں تو اس کا مطلب صرف اتنا نہیں رہ جائے گا کہ اس ڈوز اور ڈونٹس تک محدود نہیں رہ جائیں گے، اس کا انکار نہیں کریں گے لیکن اس میں اضافہ کریں گے یا اسے زیادہ مکمل اور بامعنی کریں گے۔ تو دوسری تعریف یہ ہو گی کہ اللہ کے ساتھ تعلق کے آداب کو نبھانا اُن آداب کو اپنی کسی عمل، خیال یا کسی جذبے سے مجروح نہ ہونے دینا۔ پہلی تعریف میں اوبجیکٹیو زیادہ ہے یہ دوسری تعریف میں سبجیکٹی وٹی بھی داخل ہو گئی کیونکہ انسان صرف عمل نہیں ہے تو وہ ایک سبجیکٹی ویٹی بھی رکھتا ہے۔

اب اس کی اس سبجیکٹی ویٹی کا اس میں لحاظ ہے کہ انسان اسے کہتے ہیں جو اپنی بندگی کی حقیقت کا موجبِ عمل شعور رکھتا ہو اللہ کے احکام کی خلاف ورزی سے بچتا ہو اور اس کی فرماں برداری میں محنت کرتا ہو اور یہاں تک کہ اس میں مضبوطی حاصل کر لینے کے بعد وہ یہاں تک پہنچ جائیں کہ وہ اللہ کے ساتھ تعلق کا ذوق اور شعور حاصل کر لے اور اس تعلق کے متعین آداب کی خلاف ورزی اپنے عمل سے بھی نہ ہونے دے، اپنے خیال سے بھی نہ ہونے دے حتیٰ کہ اپنی خواہشات سے بھی نہ ہونے دے۔ تو یہ دوسرے پرسپیکٹو ہے۔ تیسرا پرسپیکٹیو جو ہے جس کو ہمیں کہیں کہ اس دو کو ایک نیا کُل فراہم کرتے ہیں یعنی یہ دو تعریفیں ہیں ان کو جمع کر کے ایک نیا کُل فراہم کر دیتے ہیں۔ وہ یہ ہے کہ بندگی کا تقاضا یہ ہے کہ انسان کا کوئی تشخص اللہ کے حوالے کے بغیر قائم نہ ہو، خود اس کے لیے بھی اور اسے دیکھنے والوں کے لیے بھی۔ یعنی اس کی تعارف کی تمام تفصیلات کا ایک ایک جز اللہ کی نسبت سے قائم ہو اللہ کی نسبت سے خارج ہو کر وہ معدومِ محض ہو وہ موجودگی نہ ہو۔ تو اللہ کی نسبت مجھے موجود کرتی ہے اللہ کی نسبت کا نہ ہونا مجھے معدوم کرتا ہے۔ تو اس سٹیٹ آف دی ریالائزیشن پر کھڑے ہو کر اللہ والا بن کے رہنا اپنی تمام حیثیتوں کو اپنے اللہ والے ہونے میں صرف کر دینا یہ بندگی حقیقت کو جان لینے کا آخری تقاضا ہے۔ جسے پورا کرنا پڑتا ہے۔ اب یہ ہے کہ انسان کی حقیقت بندگی ہے اور بندگی کا لازمی یعنی لازمی کا مطلب یہ ہے کہ اللہ نے کچھ احکام مجھے دیے ہیں کہ کرو اور کچھ کام ایسے دیے ہیں کہ یہ نہ کرو تو ان اللہ کے بنائے ہوئے ڈوز اور ڈونز کی خلاف ورزی عمل سے نہ ہونے دینا یہ بندگی کی حقیقت کو ریالائز کرتے ہی یہ تقاضا سب پر مسلط ہو جاتا ہے کہ سب سے یہ تقاضا ہے۔ اب اس تقاضے میں جتنی سچائی اور گہرائی اور وفاداری استعمال ہوتی چلی جائے گی میں جس قدر صداقت اور وفاداری کے ساتھ اللہ کے احکام کی پابندی کو اپنا طرزِ زندگی بنانے میں کامیاب ہوتا جائوں گا۔ اُس کے پھل کے طور پر مجھے یہ بات نصیب ہو گی کہ اب میرا اندرونی نظام بھی اللہ کی مرضی کے تابع ہو گیا۔ تو بندگی اپنی پہلی سٹیج میں حکم کی اتباع ہے اپنی دوسری سٹیج میں مرضی کی تقلید ہے۔ بندہ فرماں برداری کی سطح سے عروج کر کے جیسے وہ فرماں برداری سے اتباع کی ایک سبجیکٹیو دائرے میں داخل ہو جاتا ہے۔ فرماں برداری کے ابجیکٹیو دائرے سے عروج کر کے وہ اللہ کے ساتھ تعلق کے ایک سبجیکٹیو دائرے میں بھی داخل ہو جاتا ہے اور وہ سبجیکٹیو دائرہ یہ ہے کہ وہ یہ ریا لائز کرے کہ اللہ سے تعلق کا نام بندگی ہے اور بندگی کا سب سے بڑا وظیفہ اور ذمہ داری یہ ہے کہ وہ اس تعلق کے آداب کی خلاف ورزی نہ ہونے دے اپنے احساسات و جذبات میں بھی اپنے خیالات و تصورات میں بھی۔ گویا اب ہم نے بندگی کے اوریجنل تقاضے کو سبجیکٹی وائز کر دیا یا انٹر نالائز کر دیا۔ انسان کسی بھی چیز کو قبول کرنے کے دعوے میں سچا نہیں ہے جب تک قبولیت کا عمل انٹرنالائز نہ ہو جائے۔ میرا صرف یہ کہہ دینا کافی نہیں ہے کہ آسمان ہے بلکہ آسمان کے ہونے پر جیسا تیقُن مجھے ہے اور آسمان کے ساتھ تعلق کی جیسی اہمیت میرے شعور میں ہے وہ اندازِ تعلق اور وہ اہمیت انٹرنالائز ہو کر میرے اندر آسمان کے سلسلے میں کچھ تخیلات اور احساسات پیدا کرتی ہے۔ اب آسمان گویا دو ہو جاتی ہے۔ ایک فیزیکل آسمان اور ایک وہ آسمان جس کو میرے باطن نے اپنے سر پہ تان رکھا ہے۔ اب جس چیز کو بھی میں ایک حقیقت کے طور پر مانوں گا وہ چیز میرے اعمال سے لیکر میرے خیالات تک اور میرے خیالات سے لیکر میرے جذبات و احساسات تک میرے کُل شخصیت کی کنڈیشنر اگر نہیں بنتی تو اس کا مطلب ہے کہ اُسے جاننے یا اُسے ماننے میں میری طرف سے کوئی کمی و کوتاہی ہو رہی ہے کیونکہ وہ انٹرنالائز تو ہوئی نہیں۔ جیسے شیرینی کا اتنا علم کہ شہد میٹھا ہوتا ہے یہ بہت صحیح ہے۔ مطلب اس فقرے میں کوئی غلطی نہیں ہے کہ شہد میٹھا ہوتا ہے اور مرچ تلخ ہوتا ہے۔ لیکن میں فطری اور نفسیاتی طور پر اس سمائی علم پر قانع نہیں رہ سکتا۔ میرے پاس شہد موجود ہو اور میں اس شہد کے بارے میں صرف اتنے علم پر قناعت کر لوں کہ یہ میٹھا ہے وہ بوتل کبھی کھول کر چکنے کی کوشش نہ کروں تو اس کا مطلب ہے کہ میرا شہد کے ساتھ تعلق سنجیدہ اور سچا نہیں ہے۔ تو انسان شعور میں مرکزیت حاصل کر لینے والے حقائق کو بھی ان کی ابجیکٹیو صورت میں تصدیق کرتے ہوئے بھی ان کو انٹرنالائز کر لیتا ہے انہیں ایکسپیرینس کا موضوع بنا کر۔ یہی ظاہر ہے انسان اپنی بناوٹ میں ایسا ہے اپنی فطرت میں ایسا ہے کہ وہ مسلمات کو تصورات کو یقینی حقائق کو انٹرنالائز کرتا ہے تا کہ وہ حقائق اس کے اندر بھی فنکشنل ہو جائے۔ باہر حقیقتیں بائنڈنگ ہوتی ہیں باہر کی دنیا میں حقیقت بائنڈنگ ہوتی ہے اور اندر کی دنیا میں بھی حقیقت ایک پریسنز ہوتی ہے یہ ایک کنڈیشنر ہوتی ہے یہ ایک ایکسپیرینس ہوتی ہے۔ تو یہ ممکن نہیں ہے کہ میں نے اپنی باہر کی دنیا کو ڈفائن کر دینے والی حقیقت کو دریافت کر لیا یا مان لیا لیکن اس حقیقت کو اپنے باطن میں موجود دنیا سے لاتعلق رکھا، یہ ممکن نہیں ہے یہ غیر فطری ہے۔

تو احکام کی فرماں برداری کو انٹرنالائز کر کے اللہ کی مرضیات کے ساتھ باطنی خواہشات کی مناسبت کا مرحلہ ضرور آتا ہے۔ یعنی یہ مرحلہ ضرور آتا ہے کہ میں یہ کہہ سکوں کہ اللہ کے حکم سے ہی اتباع میں صداقت کے نتیجے میں مجھے یہ درجہ مل گیا ہے کہ میری خواہشات بھی اللہ کی مرضی کے تابع ہے۔ یعنی اللہ کی دو طرح طرح کی کوریسپورینڈنس بندوں کے ساتھ اپنے۔ ایک یہ کہ بصورتِ احکام ہے اور ایک بشرطِ مرضیات ہے۔ اللہ مجھ سے جو چاہتا ہے وہ دو چینل سے کنوے کرتا ہے۔ ایک چینل ہے نقصان سے بچانے والا دوسرا چینل ہے فائدہ پہنچانے والا۔ ایک چینل ہے نقص سے نکالنے والا اور دوسرا چینل ہے کمال تک پہنچانے والا۔ ایک چینل ہے گناہ سے بچانے یا روکنے والا اور دوسرا چینل ہے نیکی کی رغبت پیدا کرنے والا۔ اس کو طرح طرح سے ہم کہہ سکتے ہیں۔ وہ دو چینل ہے احکام اور مرضیات۔ اللہ یہ کہہ رہا ہے اللہ کا یہ حکم ہے یہ ایک چینل ہے اور دوسرا چینل ہے اللہ یہ چاہتا ہے۔ تو بندگی کو اللہ ان دونوں چینلز سے ایڈریس کرتا ہے۔ دیکھو کہ تم اس پر بھی نظر رکھو کہ میرا حکم کیا ہے اور اس کو بھی نظر انداز نہ ہونے دو کہ میری مرضی کیا ہے۔ دوسرا درجہ اس سے حاصل ہوتا ہے پھر میں کہہ سکوں کہ میں نے احکام کو اپنے مدارِ اعمال بنا کر گویا یہ تجربہ حاصل کر دیا لیا ہے کہ میری حقیقت اللہ سے تعلق کا شعور اور اس تعلق کے آداب کو نبھانے کی پوری احتیاطیں اور کوششیں۔ اب ان دونوں میں، میں نے اللہ سے تعلق کو ایکسٹرنالائز کر لیا اور اللہ سے تعلق کو انٹرنالائز بھی کر لیا۔

اب اللہ سے تعلق کو اپنی جگہ ایک مستقل حقیقت بنانے کا عمل رہ جاتا ہے کہ میں خود اللہ سے تعلق کا ایک قابلِ یقین مظہر اور نمونہ بن کے دکھائوں یہ تیسرا مرحلہ ہے۔ یعنی یہ وہ مرحلہ ہے کہ مجھے دیکھ کو لوگوں کو اللہ یاد آجائے یہ تیسرا مرحلہ ہے۔ یہ مرتبۂ کمال ہے۔ یہاں حکم بھی اپنی پابندی کے ساتھ کمال کو پہنچا اور خواہشات بھی مرضیِ حق سے مناسبت پیدا کر لینے کے نتیجے میں اپنی تکمیل کو جا پہنچے۔ یہ درجہ یہ ہے کہ میں اس بات پر پوری طرح اپنی شعور سے بھی اور اپنی وجودی کنڈیشننگ سے بھی۔ ان میں فرق ہے۔ کہ میں اپنے ذہنی قوت سے بھی اور اپنے ذوقِ حیات سے بھی میں اس نتیجے پر پہنچ چکا ہوں عین الیقین کے ساتھ حق الیقین کے ساتھ کہ میں اُسی حد تک موجود ہوں جس حد تک اللہ والا ہوں اور جہاں میں بدقسمتی سے اللہ والا نہیں ہوں یعنی جہاں میں نے شخصیت کے کچھ عناصر ایسے ہیں جو اللہ کے حوالے کے بغیر ہیں۔ اللہ کے ساتھ تعلق کی سند کے بغیر ہیں۔ اُن اجزاء و عناصر میں، میں معدوم ہوں۔ تو موجود ہونے کے لیے اللہ والا ہونا ضروری ہے اور معدوم ہونے کے لیے بس یہی قانون لاگو ہے کہ اس نے اس حصے میں خود کو اللہ سے لا تعلق رکھا ہوا ہے۔ اللہ سے تعلق شرطِ وجود ہے اور اللہ سے لا تعلقی باعثِ عدم ہے۔ یہ تیسرا درجہ ہے۔ اب ان تینوں کو بندگی کے ان تینوں مراتب کو اگر ہم ایک ہی نگاہ میں ایک کُل کی حیثیت سے فوکس کر کے دیکھیں تو اُس نگاہ کے حاصل کا نام تصوف ہے۔ تصوف ایسا نہیں ہے کہ فلاں حضرت نے ایجاد کر لیا تصوف جو ہے قرآن کے سبسٹنس، سنت میں مینی فیسٹڈ سبسٹنس کی روایت کے تسلسل کا ایک نام ہے۔ یعنی رسول اللہﷺ کے شعورِ بندگی اور ذوقِ بندگی کے تسلسل کے لیے جو روایت چل رہی ہے اس روایت کا ایک عنوان تصوف ہی ہے چاہے اسے تصوف کہو یا نہ کہو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ کیونکہ تصوف کا لفظ قرآن و سنت سے ثابت نہیں ہے تو یہ لفظ بائنڈنگ نہیں ہے۔ تو صوفیا نے اس ماخذِ دین کو اس ٹوٹل پرسپیکٹو کے ساتھ اختیار کیا اور اسے مسلسل رکھنے کا سامان کیا۔ اس کے تسلسل کا اہتمام کیا۔

چونکہ تمہیدی گفتگو چل رہی ہے۔ تو اب ہمیں دیکھنا یہ چاہیے کہ یہ سہگانہ مراتبِ بندگی جب تک تصوف کی روایت میں اپنی پوری اُٹھان، پوری وضاحت، پوری قطعیت کے ساتھ محفوظ رہیں گے اُس وقت تک اس روایت کو دین میں چلنے کا جواز حاصل ہے۔ اور اگر یہ تین مراتبِ بندگی کسی مرحلے پر خود تصوف کے ڈسپلن میں نظر انداز یا کمپرومائز ہو جائیں گے تو اُن کے بارے میں کہا جائے گا کہ یہ تصوف کی بنیاد کے خلاف ہیں ان کو تصوف نہ ماننا ضروری ہے چاہے یہ تصوف کے کتنے بھی مراسم اور شعائر اور نشانیاں رکھتے ہوں۔ تو تصوف نے گویا خود اپنے اوپر ایک چیک لگا رکھا ہے کہ وہ حقیقتِ بندگی کی اور مقاصدِ بندگی کو عملی، فعلی اور زندہ حالت میں رکھنے والی روایت ہے۔ تو جہاں تک وہ اپنی اس ذمہ داری کو ادا کرے گا وہاں تک وہ ہماری اصطلاح کے مطابق تصوف ہونا کوالیفائی کرتا ہے۔ لیکن جہاں وہ اپنی اس بیسک اور پرنسپل اور فنڈامینٹل ذمہ داری سے روگردانی کر رہا ہے ان کی طرف نظر ڈالنے میں کوتاہی کا مظاہرہ کر رہا ہے اس کو اپنی نظام کی واحد آپریٹو بنیاد بنانے میں ناکامی کا شکار ہے تو ہم اُس فیض کو یا اُس حصے کو یا اُس دائرے کو نہایت آسانی کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ تصوف نہیں ہے، یہ تصوف میں بگاڑ پیدا کر دینے والی کچھ صورتیں ہیں۔ تو تصوف کا عروج بھی اسی معیار سے پرکھا جائے گا جو معیار صوفیوں نے خود بنایا نہیں ہے قرآن اور قرآن لانے والے نے اُن پر امپوز کیا ہے تو تصوف اسی بنیاد پر اپنا جواز رکھتا ہے اور اس بنیاد میں سے جتنا وہ ہٹتا جائے گا اتنا وہ اپنے آپ کو ڈسکوالیفائی اور ریجیکٹبل بناتا چلا جائے گا۔

اب اس معیار پہ ہم انشااللہ تصوف کی پوری روایت کا جائزہ لیں گے اور اُس میں ہم دیکھیں گے کہ یہ اصول یہ بنیاد کس زمانے تک محفوظ رہی اور کن زمانوں میں آکر یہ بنیاد یا تو کمپرومائز ہو گئی یا اس بنیاد میں ایک شیطانی زلزلہ پیدا ہو گیا۔ وہ ہم بعد میں دیکھیں گے۔ اب ہم سوال جواب کر لیں تا کہ بات واضح ہو جائے۔

سوال: انسان کی بندگی کی جو حقیقت ہے اس کی جو معراج ہے وہ تصوف ہے؟

Image result for ‫تصوف‬‎جواب: یہ نہیں کہیں گے بلکہ کہیں گے کہ اس حقیقت کو اس کی کُلّیت کے ساتھ امت میں پیدا ہوانے والے جن ڈسپلنز نے قبول کیا ہے اُن میں تصوف میں جامعیت زیادہ ہے۔ اس کی معراج تو ظاہر ہے قرآن و سنت ہی ہے۔ تو تصوف کوئی خدا نہیں ہے کہ وہ جس سر پہ رکھی ہو اُسے مانا جائے گا جس سر پہ نہیں ہے اُسے نہیں مانا جائے گا یہ کوئی مستقل عنوان نہیں ہے۔ اگر کوئی آدمی اس میں سہولت محسوس کرتا ہے کہ وہ تصوف کا نام ترک کر کے مقاصد کی طرف متوجہ رہے تو وہ بھی صوفی ہے وہ بھی کامل ہے۔ کوئی اگر تصوف کی مخالفت کرتے ہوئے ان مقاصد کو اختیار کرتا ہے تو اُس کا بھی کوئی نقصان نہیں ہوا۔ کوئی آدمی کسی بھی سلسلے میں داخل ہوئے بغیر ان مقاصد کو قرآن و سنت کے دیئے ہوئے مقاصد کی حیثیت سے اختیار کرتا ہے تو وہ بھی کسی نقصان یا کسی خلل کا شکار نہیں ہے۔ تو تصوف کوئی بائنڈنگ ترکیب نہیں ہے تو مطلب ہم اپنی بات کو کہیں تو ہم کہیں کہ مقصودِ دین یہ ہے کہ حقیقتِ بندگی کو اُس کے تمام مدارج کے ساتھ پہچانو اور اُسے اپنے اندر کے نظام الاعمال کی بنیاد بنائو اور اپنے باہر کے ضابطۂ اعمال کی بھی اساس بنا کے دکھائو۔ ابھی میں نے مقاصد کی طرف رخ نہیں کیا۔ جیسے ہم نے کہا کہ بندگی کی حقیقت ایک سمپل ٹرم ہے اس میں یہ تین حصے ہیں جس کا صوفیوں کو ادراک زیادہ ہے دوسروں کے مقابلے میں۔ اسی طرح مقصود تو یہ ہے کہ زندگی اپنی بندگی کی حقیقت پر کھڑے ہو کر اُس سے وفادار رہ کر اُس میں استقامت پیدا کر کے اس طرح گزارو کہ آخرت میں تمہیں نجات اور مغفرت حاصل ہو جائے۔ یہ مقصود ہے۔ تو اب آخرت میں نجات کا جو تصور ہے اُس کی بھی لیئرز ہیں۔ ایک نجات ہے مغفرت کے معنی میں کہ اللہ نے میرے گناہ بخش دیئے میرے عُذر معاف فرما دیئے۔ اور ایک نجات ہے خوشنودی کے معنی میں کہ اللہ آخرت میں مجھے دیکھ کے خوش ہوا اُس نے کہا کہ بھئی اس کو جنت کے اعلیٰ درجے میں پہنچا دو۔ یعنی کچھ سچے بندے ہیں جو جنت کے مشتاق تھے، کچھ کامل بندے ہیں کہ جنت جن کی مشتاق ہے۔ جیسے یہ دو زاویے ہیں۔ جیسے یہاں حکم اور مرضی کا خیال رکھا وہاں اللہ تعالیٰ نجات میں درجات رکھتا ہے کہ کچھ کو وہ بخش دے گا اور کچھ کو وہ خوشی سے فرمائے گا کہ ان کو تو اعلیٰ العین میں لے جائو ان کو جنت الفردوس میں لے جائو ان کے رسول پاکﷺ کے پڑوس میں لے جائو۔

سوال:۔ سلاسل کو یا جس کا جو ڈسپلن ہے جو راستہ ہے اُس کو ہی تصوف کہہ لینا جو جہاں جیسے بھی چلنے والے ہیں وہ صوفی کہہ لیں یا جو روایت جس طرح رائج ہو چلا ہے۔ یہ ذرا واضح کیجئے کہ تو یہ تو پھر بڑا ناقص سا ہے؟

جواب: ہاں بالکل ناقص ہے۔ دیکھیں میں تفصیل ہم آئندہ کریں گے۔ میں ایک عملی بات کریں گے۔ جو کسی بھی روایت یا سلسلے کے برحق یا غلط ہونے کی پہچان دیتا ہے کہ حُبِّ دنیا اور حُبِّ جاہ سے مکمل آزادی ہے۔ یہ تصوف کی وہ شرط ہے جو آپ کو ایک شیخ سے بیعت ہونے سے پہلے پوری کرنی پڑے گی۔ یہ بیعت ہونے کے بعد وہ نہیں کروائے گا۔ یعنی آپ سمجھیں کہ حضرت جنید کا زمانہ ہو تو حضرت جنید یہ فرمائیں گے کہ مجھ سے بیعت ہونے وہ شخص آئے جس کا دل حب دنیا اور حب جاہ سے پاک ہو۔ یہ پری کوالیفکیشن ہے۔ یہ نتیجۂ سلوک نہیں ہے یہ سببِ سلوک ہے۔ تو اگر کہیں مجھے حب دنیا اور حب جاہ سے پاک ہونے کے شواہد نظر نہیں آتے تو وہ تو گویا تصوف کے دروازے پر دستک دینے کے بھی قابل نہیں رہا۔ دروازہ کھلے گا پھر آپ تصوف میں جائیں گے۔ تو کوئی شیخ آپ دیکھیں پرانے زمانے کے لوگوں کا نظامِ تربیت وہ ان جھنجھٹوں میں تھوڑی الجھے ہوتے تھے کہ مرید کہہ رہا ہے کہ مجھے دنیا کی محبت ہے وہ اُسے ترکیبیں بتا رہا ہوں یہ سب کام وہ مرید ہونے سے پہلے کر کے آتا تھا۔ پھر وہ اُسے عروج کرواتے تھے۔ وہ یہ سب تھوڑی دیکھتے کہ نماز ٹھیک سے نہیں پڑھی جا رہی اور دنیا کی چیزوں کی کشش ہے میرے اندر خود پسندی ہے اب پرانا جس کورس سے تصوف تھا وہ سارا تربیتی جو کورس دیکھ لیں وہاں یہ مسائل ہی نہیں تھے۔ وہاں تو یہ تھے کہ قرُبِ حق کی لا متناہی منازل کو کیسے میں طے کرتا رہوں ہر سانس میں۔ اس میں شیخ ہوتا تھا۔ یہاں قربِ حق کیا یہاں تو مقصود قرب خلق ہے۔

سوال:۔ انسانوں کی اساسیات کی بات کریں تو اس میں بھی اللہ کی طرف سے احکامات و مرضیات کی بات تو وہ جو انسان کی احساسیات ہیں کیا وہی بیسک ٹھری جو آپ نے فرمایا تو وہی ریسپونڈنس ہیں دونوں کے لیے احکامات کے لیے بھی اور مرضیات کے لیے بھی؟

جواب: ہاں، بالکل ہے۔ کیونکہ انسان ایک ارادی وجود ہے اسے ہدایت اور فلاح کے لیے احکام کی ضرورت ہے۔ انسان ایک قلبی اور طبعی وجود بھی ہے۔ طبعیت اور قلب رکھنے والا وجود بھی ہے تو اسے اللہ کی خوشی اور ناخوشی کے پولز کی ضرورت ہے کہ کن کاموں سے اللہ خوش ہوتا ہے اور کن سے ناراض ہوتا ہے۔ تو اللہ کی ناراضگی کا تصور جہنم کی آگ کی تصور سے زیادہ ہولناک ہے۔ اللہ کی خوشنودی کا خیال جنت کی نعمتوں کے خیال سے کہیں زیادہ تسکین دینے والا ہے۔ مطلب ہمارے سامنے چوائس رکھ دی جائے کہ تمہیں آخر میں صحرا میں رکھا جائے گا لیکن اس حال میں کہ اللہ اُن سے خوش ہے۔ تو اُس صحرا پر ہزاروں جنتیں نثار۔ تو اسی وجہ سے جنت کا جو انچا درجہ قرآن میں ہے جو جنت کی آخری منقبت ہے۔ وہ یہ ہے کہ اللہ کی رضا سب سے بڑی ہے۔ یعنی اللہ کی خوشنودی سب سے بڑی ہے جنتیو تمہیں ان چیزوں کی طرف نہیں میں نے تمہیں ان نعمتوں تک محدود نہیں رکھا ہوا کہ دودھ کی نہریں اور شہد کی نہریں بہہ رہی ہیں تم یہ سمجھو کہ جنت مقامِ رضا ہے جنت مقامِ خوشنود ہے اب خوش ہو جائو۔ یہ ہو سکتا ہے کہ حوروں کا تصور مجھے خوش نہ کرے اور یہ عیب نہیں ہے یہ دینی عیب بھی نہیں ہے۔ یعنی حوروں کی کشش سے میں گناہوں سے بچوں تو میرے اندر یہ سسٹم نہیں ہے میں اللہ کی ناراضگی سے بچنے کے لیے گناہ سے پرہیز کر رہا ہوں اللہ کو خوش کرنے کے لیے نیکیاں انجام دے رہا ہوں۔ جنت میرے لیے منزل کے طور پر پُرکشش نہیں ہے زیادہ کشش اللہ کی رضا میں ہے۔ تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے اس میں کوئی شرعی حرج نہیں ہے۔ لیکن یہ ہے کہ اللہ اپنی وہ بشارت دے رہا ہے جنتیوں کو کہ میری خوشنودی سب سے بڑی ہے۔ حور و قصود، جنت اور ان سے سب سے بڑی ہے۔ تو اس کی کشش محسوس کرنا لازم ہے۔ یہ تو ہم چھوڑ دیں گے کہ حوروں کی طرف کشش نہیں ہے۔ لیکن اس ناقدری اور ناشکری کو نہیں مانیں گے کہ میری خوشی کی طرف بھی تمہاری کشش نہیں ہے۔ تو اب یہ ایک بات ہو جاتی ہے کہ اللہ کی خوشنودی کا لوکیل جنت ہے وہ اس لیے کہ جو جنت کی ناقدری کرے گا وہ بھی اللہ کی خوشنودی کا ناشکری کرے گا۔

سوال:۔ یہ کیفیت کا جو چینل ہے یہ طبیعت میں آتا ہے؟

Related imageجواب: ہاں، طبیعت میں۔ طبیعت اصولِ پسند نا پسند کا رغبت و کراہت۔ طبیعت کا نظام چلتا ہے رغبت و کراہت کے دائرے میں۔ ارادے کا نظام چلتا ہے مفید اور مضر کے دائرے میں۔ اور ذہن کا نظام چلتا ہے حق اور باطل یا صحیح اور غلط کے دائرے میں۔ تو بندگی اگر میری پسند ناپسند کی سطح تک اُتری ہوئی نہیں ہے وہ ناقص ہے۔ مجھے اللہ کا قُرب سب سے محبوب ہونا چاہیے اور اللہ سے دوری سب سے زیادہ ناگوار ہونی چاہیے یہی دینی مطالبہ ہے۔ اس مطالبے کی تکمیل کے لیے تصوف کے ادارے نے جنم لیا تھا کہ اللہ سے تعلق پسند و ناپسند کی سطحِ ہستی تک حاکم ہو جائے۔ کہ مجھے وہی اچھا لگتا ہے یا اللہ جو تجھے اچھا لگتا ہے۔ مجھے ہر وہ چیز طبعاً ناگوار گزرتی ہے جسے تو ناپسند فرماتا ہے۔ یہ منزل بندگی ہے۔

سوال:۔ طبیعت کا جو کنڈیشنر ہے یا جو وائٹل کنڈیشنر ہے وہ تصوف ہے؟

جواب: ہاں، تصوف کی روایت اسی کنڈیشنر کے احیا کی روایت ہے۔ جو بھی دین سے تعلق رکھنے والے انسٹی ٹیوشنز ہیں وہ سارے اسی تک و دو میں ہے لیکن اُس میں نفسِ انسانی کی پہچان صوفیوں کو دیگر ڈسپلنز کے علماء سے زیادہ ہے۔ تو کامیاب یہ زیادہ ہے۔ مقصد ظاہر ہے مقصدِ دین ہے تو جو دین کا مقصد ہے وہ کسی ایک ڈسپلن میں محدود نہیں ہو گا وہ سارے ڈسپلنز کی بنیاد ہو گا۔ تو کبھی اس وہم میں نہیں رہنا چاہیے کہ تصوف کی روایت میں آنے کا مطلب ہرگز یہ نہیں ہے کہ آپ فقہ کی روایت میں شامل لوگوں سے افضل ہو گئے ہیں۔ ہرگز یہ نہیں ہے۔ کیونکہ تاریخ بتاتی ہے کہ تصوف کے مخالفین گزرے ہیں جو زیادہ صوفی تھے۔ تصوف والوں کے مقابلے میں۔ لیکن تصوف کے مخالف تھے۔ مطلب اس کو غیر اسلامی تک کہتے تھے لیکن وہ مقاصدِ تصوف کو عام صوفیوں سے کہیں زیادہ انہوں نے حاصل کر کے دکھایا تھا۔ اب کوئی کہہ سکتا ہے کہ ابنِ تیمیہ کو اللہ کی حضوری حاصل نہیں تھی۔ ابنِ تیمیہ تو کہتے تھے کہ تصوف عجمی سازش ہے وہ مانتے ہی نہیں تھے۔ تو وہ ایک نیچے کا اختلاف ہوتا ہے کہ انسانوں کے بنائے ہوئے ڈسپلنز میں اختلاف اور تصادم ہونے کے باوجود اگر وہ دین سے اپنی نسبت رکھتے ہیں تو اُن میں کمالات مشترک ہوں گے۔ کیونکہ سب کا مادر سورس تو دین ہے نا۔ ایک چیز ظاہری شریعت کے خلاف ہے اُس کو آپ کتنی بڑی معرفت قرار دیں اُس کو ڈسبن میں پھینکا جائے گا۔ تو اس پہ صوفی بھی متفق ہیں اور وہ لوگ بھی متفق ہیں جو صوفی کو مانتے ہی نہیں ہیں۔ ہر قیمت پر دفاع نہیں ہو سکتا یہ صرف نبیﷺ کا قول و فعل ہے جس کا دفاع ہر قیمت پر کرنا ہے۔ نبی کے بعد کسی بھی شخصیت چاہے وہ صحابہ ہوں اہلِ بیت ہوں، تابعین ہوں، تبعہ تابعین ہوں کسی کے قول و فعل کا غیر مشروط دفاع نہیں ہے۔ یہ صرف نبیﷺ کا حق ہے۔

سوال:۔ یہ جو شیخ کا کنسپٹ ہے وہ انسان کے افعال و درجات میں کس طرح سے پلیس کرتا ہے انسان سیکٹ ایکسپلوریشن سے بھی بندگی کا مقام حاصل کر سکتا ہے یا اُس کو شیخ کی ضرورت پڑتی ہے؟

جواب: ہاں، شیخ کی ضرورت اسی طرح کی فطری ضرورت ہے جیسے کسی بھی علم میں یا فن میں استاد کی ضرورت ہوتی ہے۔ انسان جو ہے نا وہ اَدَر ڈائریکٹڈ ہے انسان سیلف ڈائریکٹڈ نہیں ہے۔ تو اس وجہ سے اُسے شیخ یا استاد یا رہنما کی ضرورت رہتی ہے لیکن درست تصور و اعتقاد کے ساتھ۔ جیسے مثال کے طور پہ ہمیں نبی کی ضرورت ہے۔ تو نبی کے بارے میں درست اعتقاد یہ ہے کہ یہ فوالیبُل ہے ہی نہیں۔ یہ نہ فوالیبل ہے نہ فولسفائبل ہے۔ اس کی ہر بات میں مطلق تقلید کرنی ہے بے چوں و چرا۔ لیکن فرض کیا کہ میں امام ابو حنیفہ کو اپنا مقتداء یا شیخ یا استاد بناتا ہوں۔ جنیدِ بغدادی کو بناتا ہوں۔ تو اُس میں پہلے سے تصور یہ ہے کہ ان سے غلطی ہو سکتی ہے۔ لیکن یہ بھی نیک نیتی کے ساتھ کر رہے ہیں اور میں بھی نیک نیتی کے ساتھ ان کی پیروی کر رہا ہوں جو غلطی ہو گئی اللہ اُسے معاف کرے گا۔ غلطی کا یقینی امکان غیرِ نبی میں ماننا شرط ہے، ضروری ہے۔ چاہے میں اُس کی غلطی دریافت نہ کر سکوں۔ یہ درست تصور ہے۔ آپ نے کبھی دیکھا ہے کہ جس کو حدیث شریف میں خیر القرون کہا گیا ہے۔ میرا دور، میرے بعد والوں کا دور پھر اُن کے بعد والوں کا دور اس کو کہا ہے خیرالقرون ۔ یعنی صحابہ کا دور، تابعین کا دور تبع تابعین کا دور۔ اس خیر القرون میں کبھی لوگ ایک دوسرے کی تعریفیں کرتے ہیں نا یہ اتنا عظیم یہ اتنا کامل، ظاہر ہے انسانوں میں رہتے ہیں تو اپنے بڑوں کی تعریفیں کرتے ہیں۔ تو صحابہ سے لیکر تبع تابعین تک شخصیات کی تعریف میں یہ کبھی نہیں کہا جاتا تھا کہ ان سے غلطی نہیں ہو سکتی۔ کبھی نہیں یا یہ فوالیبل نہیں ہے۔ کبھی نہیں۔ اور تعریف کرتے ہوئے بھی یہ کہا جاتا تھا کہ اللہ انہیں اپنے خاتمے تک ان اوصاف پہ رکھے۔ یعنی دعا کے ساتھ تعریف کی جاتی تھی۔ کل کا پتا نہیں۔ تو یہ سب احتیاطیں بہت ضروری ہیں یعنی صحابہ اپنے بڑے صحابہ کی تعریف کہیں بھی کرتے ہیں تو اُس میں یہ تھوڑی کہتے ہیں کہ انہیں اللہ نے غلطیوں سے محفوظ رکھا ہوا ہے۔ یہ کوئی فقرا ہی نہیں ہے تعریف کا۔

سوال:۔ جاوید صاحب یہ جو کنٹیم پوری تصوف کو کہتے ہیں کہ شاید یہ محفوظ ہے ڈیوائن ہے؟

جواب: نہیں، بے سند بات ہے۔ محفوظ علیٰ الاطلاق صرف نبی ہوتے ہیں انبیاءؑ۔ یہ ٹھیک ہے کہ میں ایک گناہ سے محفوظ ہوں تو اُسے میں کہوں کہ اللہ کی توفیق سے محفوظ ہوں۔ لیکن اگر میں یہ کہوں کہ میری زندگی ہی میں گناہ و غلطی کا صدور ممکن نہیں ہے کیونکہ میں مطلقاً محفوظ ہوں اللہ نے مجھے حفاظت میں لے رکھا ہے تو یہ عظمتِ انبیاؑ اور اس میں فرق کیا رہا۔ اس سب اصطلاحوں سے ہمیں نکلنا پڑے گا۔ کیونکہ تصوف کے زوال کی سب سے بڑی وجہوں میں سے ایک وجہ شخصیت پرستی ہے۔ اور اس کو فلسفے میں اینکروپوما آرفیزم جسے کہتے ہیں وہاں تک پہنچی ہوئی شخصیت پرستی۔ اینکروپوما آرفیزم کا مطلب ہے تجزسیم۔ اینکروپوما آرفیزم کا سٹینڈرڈ یا قریبی ترجمہ جو ہے وہ تجزسیم ہے۔ یعنی اللہ کے لیے جسم ماننا۔

سوال:۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ حنابلہ میں کہ اینکرو مافیٹک ہوتے ہیں کیا یہ صحیح ہیں؟

Related imageجواب: مطلب پرانے حنابلہ میں کئی لوگوں میں ابن خزیمہ وغیرہ یا اب بھی سعودی عرب میں وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے ہاتھ ہیں۔ ہاتھ کا مطلب ہاتھ ہے۔ اللہ کا چہرہ ہے مطلب چہرہ ہوتا ہے ہمیں یہ نہیں معلوم کیسا ہے لیکن اس کی تعویل نہیں کریں گے۔ تو اینتوموارفک ہونے کا مطلب ہے کہ شیخ میں اپنے یا اپنے سلسلے کے بزرگوں میں یا کسی بھی غیرِ نبی میں ربّانی اوصاف دیکھنا۔ ربانی کا مطلب ہے کہ یہ ہمارا مشکل کشا ہے یہ ہمارا دستگیر ہے یہ ہمارے باطن میں ہونے والی سب کارروائیوں سے واقف ہے۔ یعنی یہ ہمارا داتا ہے تو یہ سب اینکروموارفیزم ہے۔ آپ دیکھیں حضرت جنید اپنے شیخ سری سکتی کا ذکر اُن کا نام لیکر کرتے ہیں القابات سے نہیں کرتے۔ مطلب اس طرح کہتے ہیں کہ سری نے مجھ سے کہا۔ ابو الحسن حرقانی نے دریافت کیا ہے بایزید بسطامیؒ کو اویسی طریقے سے ساٹھ ستر سال بعد۔ تو وہ جہاں بھی ہے بایزید نے کہا۔ یہ القابات کہ غوثِ اعظم، قطبِ زماں اور فردِ جہاں، زُفطَتُ الاولیاء اور محفوظ عن الخطا یہ سب بعد کی باتیں ہیں۔ یعنی رسول اللہﷺ کے ساتھ القابات استعمال کرنے کا سلسلہ بعد کا ہے بہت بعد کا ہے۔ صحابہ کس طرح کہتے تھے یعنی صحابہ کہتے تھے رسول اللہﷺ نے فرمایا یا نبیﷺ نے فرمایا۔ تابعین کیسے کہتے تھے۔ یہ بعد میں ہوا جب تعلق میں سچائی کم ہوئی تو اُس خلا کو پاٹنے کے لیے سرورِ کونین، فخرِ دو عالم اور اس طرح کے القابات اختیار کیا گیا۔ جن کے معنی سب صحیح ہیں ظاہر ہے لیکن اُن معنی کی کوئی تصدیق بھی ہم سے نہیں ہوتی۔ تو پرانے لوگ بالکل وہ جوہر پہ نظر رکھتے تھے اور بس اُس میں سچائی اور گہرائی ہوتی تھی۔ رسول اللہﷺ کے لقب سے بڑا لقب کیا ہو سکتا ہے۔ یا خاتم المرسلین سے بڑا لقب کیا ہو سکتا ہے۔

سوال:۔ جاوید صاحب فارم ڈسپینسبلر تصوف ہے اور مقاصد پہ یعنی کہ نظریں رکھتی ہیں؟

جواب: زوال ہوتا ہے دینی روایتوں میں کہ فارمز پر اصرار کرنا اُن کی اوریجنل پیوریٹی کو چھوڑ کر اور معنی کو نظر انداز کر دینا بس سارا سٹرکچر گر جاتا ہے۔ تو اب جیسے تصوف کا زوال ہے کہ فارم پر انحصار ہے اشغال پر۔ اور اُن کا مطلوب کیا ہے مقصود کیا ہے اُن کی حقیقت کیا ہے اُس سے مکمل بے خبری ہے۔ اور پھر فارمز کو بھی اُن کی پیوریٹی اور آتھین سیٹیٹی کے ساتھ نہیں اختیار کیا گیا۔ آپ سے پوچھے جائیں مراتبے کی سند لائو۔ آپ سے پوچھا جائے حبسِ دم کی سند لائو۔ سند کا مطلب ہے کہ جیسے حضرتِ جنید بغدادی فرماتے ہیں کہ ہم اپنے ہر وارد کو اپنی ہر بات کو اپنے ہر حال کو اپنے ہر مکاشفے کو دو گواہوں کے سامنے پیش کرتے ہیں وہ دونوں تصدیق کرتے ہیں تو اُسے قبول کرتے ہیں ورنہ رد کر دیتے ہیں۔ وہ دو گواہیں قرآن و سنت ہے۔ قرآن ایسینس ہے سنت اُس کی سٹینڈرڈ فارم ہے۔ تو اگر فارم پہ ہو تو اپنی فارم کو سنت سے جوڑ کے دکھائو کہاں ہے۔ مطلب یہ لاالہٰ الا اللہ یہ ضربیں کہاں ہے۔ یا یہ مراد بے حبی اور دائرۂ ذات اور یہ سب کہاں ہے یہ بتانا پڑے گا۔ یا تو تم کہو کہ یہ صرف ڈاکٹر کے نسخے کی حیثیت رکھتی ہیں سائیکیٹرسٹ کے نسخے ہیں ان کو چاہے رد کر دو غلط بھی ہو سکتے ہیں تو اس کا جواز ہے۔ لیکن تم کہو گے کہ مراقبۂ ذاتِ محض کرنے کا مطلب اللہ کے آخری معرفت حاصل کر لینا ہے تو یہ تو سمپل عبادتوں سے بھی بڑی عبادت ہو گئی۔ تو اس کی سند لائو۔ بھئی جب ہم نماز پڑھتے ہوئے یہ سندیں رکھتے ہیں نا کہ ہاتھ باندھنے کی یہ سند ہاتھ کھول کے پڑھنے کی یہ سند وغیرہ وغیرہ۔ ہر ایک کے پاس سند ہے نا ورنہ کوئی بھی نماز ایسی نہیں ہے جس نے اپنے آپ کو سنت سے نہ جوڑا ہو۔ کوئی روزہ ایسا نہیں ہے جس نے اپنے آپ کو سنت سے نہ جوڑا ہو۔ کوئی ذکر ایسا نہیں ہے جس نے اپنی اصل سنت و قرآن میں نہ بتائی ہو۔ نہ کوئی فارم ہے۔ تو آپ اتنے بڑے کلیم کے ساتھ کہہ رہے ہیں کہ ذاتِ حق کی معرفت مراقبۂ ذاتِ محض سے حاصل ہوتی ہے یعنی جو نہ نماز سے ہو سکتی ہے نہ روزے سے ہو سکتی ہے وہ اس سے ہو گی۔ تو اس فارم کی سند لائو اور اس مقصد کو اتھینٹک بنائو کہ کیا یہ مقصد بھی ہے ذاتِ حق کی معرفت حاصل کرنا۔ یہ تو کرنا پڑے گا نا۔ اور پھر اُس میں یہ سب نہیں چلے گا کہ فلاں حضرت نے یہ فرمایا تھا فلاں حضرت خود غلام ہیں آنحضرتﷺ کا۔ وہ لیکر آئو۔ حضرت عبد اللہ ابنِ مسعودؓ جو صحابہ میں سب سے زیادہ علم اور تقوے میں ممتاز لوگ تھے اُن میں سے ایک تھے تو جن کو رسول اللہﷺ نے بشارت دی تو وہ ایک مرتبہ آئے تابعین کا زمانہ تھا یا مطلب صحابہ اور تابعین ملا جلا زمانہ تھا آپﷺ کے وصال کے بعد۔ تو ایک جگہ لوگ اجتماعی ذکر کر رہے تھے کوئی ایک کلمہ ذکر کا سا مل کے پڑھ لیتے۔ تو انہوں نے کہا کیا کر رہے ہو تو انہوں نے کہا ہم ذکر کر رہے ہیں۔ کہا کہ ابھی اصحابِ محمدؑ زندہ ہیں اور یہ بدعتیں شروع ہو گئی ہیں۔ اب عبد اللہ ابنِ مسعود کے سامنے آپ جنید و بایزید کو تھوڑی لا سکتے ہیں۔ تو یہ سب اب خیال کرنا ہے کہ ان سب پابندیوں کو اولین صوفیا کی طرح قبول کر کے اب تصوف کی بازیابی کی کوشش کرنی ہے۔

سوال:۔ اسلام میں اگر سائنٹیفک یا سائیکلوجیکل کچھ اگر ہسٹری ملتی ہیں تو استعمال کیا جا سکتا ہےیا نہیں؟
جواب: جنرل لائز نہیں کیا جا سکتا۔ اور لازمی نہیں قرار دیا جا سکتا۔ اور جس کو آپ بتائیں اُسے آپ بتائیں کہ یہ غلط بھی ہو سکتا ہے۔

سوال:۔ جاوید صاحب حقیقت میں فارم بھی انٹریکٹ رہے گی اور مقاصد بھی تو تصوف میں ایسی کوئی شرط نہیں ہے کہ فارم جو ہے وہ سٹیٹک ریوول نہیں ہو سکتی لیکن وحی جو ہے وحی رہے گی؟

جواب: جی وحی جو ہے وحی ہی رہے گی۔ نہیں، فارمز جیسے نکل سکتی ہے اب مثال کے طور پہ روح افزا پینے سے میری نماز اچھی ہو جاتی ہے میرا تجربہ اگر یہ ہو فرض کیا نہیں ہے نہیں میں فرض کر رہا ہوں۔ تو روح افزا پینے کا بھی ثواب ملے گا نماز سے پہلے کیونکہ اُس سے نماز کی مطلوبہ یکسوئی ہے تجربہ میرا یہ ہے مدد مل جاتی ہے تو ٹھیک ہے لیکن میں یہ تھوڑی کہوں گا کہ روح افزا رسول اللہﷺ نے بھی پیا اور روح افزا پیئے بغیر نماز اچھی ہو ہی نہیں سکتی۔ اور یہ بھی نہیں کہوں گا کہ اب تک تو اچھی ہے روح افزا کی بنیاد پہ کل اچھی ہو گی یا نہیں یہ میں نہیں جانتا۔ تو بھئی سید الطّائفہ سیدنا جنید بغدادیؒ اُن کا اور اُن جیسے کئی صوفیا کا یہ قول ہے اس کی پابندی کرو یہ پابندی گویا تصوف کا شعار ہے دیگر تمام ڈسپلنز کی طرح کہ قرآن و سنت کے دیئے ہوئے میننگ اور فارم اسٹرکچر کی خلاف ورزی نہیں کرنی ہے۔ اب اس پہ جو کچھ اس دائرے میں رہ کے حاصل کر سکتے ہو تو کر کے دکھائو۔ مراقبہ کرتے تھے پرانے لوگ اللہ سے تعلق کے احساس میں ترقی کرنے کے لیے اور کیفیتِ احسان کو حاصل کرنے کے لیے۔ وہ کوئی فلسفہ وغیرہ لکھنے کے لیے تھوڑی کرتے تھے۔ کہ مراقبہ کرنے سے اللہ کی طرف ایک یکسوئی پیدا ہو جاتی ہے اور اُس یکسوئی کو اللہ طلب کرتا ہے احسان کے عنوان سے۔ بہت اچھا ہے کیجئے مراقبہ۔ لیکن آپ جب مراقبہ کے کنٹنٹس بتانا شروع کر دیں گے کہ میں نے مرتبۂ تنزیح و تشبیح کے درمیان برزخِ خفیح کو اُس کی تفصیلات کے ساتھ پا لیا تو اب آپ سے پوچھتے ہیں یہ سب خیالی باتیں ہیں اس کی اصل دکھائو۔ کہ اس طرح کی اصطلاحیں اُن کو پانے کا کوئی مطلب ہے یہ تم دکھائو ورنہ جو تمہاری دعوت تو ایسی ہے کہ نبیؑ کی دعوت تم سے کم لگنے لگی ہے۔ پرانے متوسقین میں بھی یہ احتیاط تھی کہ وہ معارف کو اعتبارات کہتے تھے معارف کا دوسرا نام ہے اعتبارات۔ اعتبار کا مطلب یہ ہے کہ یہ خیالی ہے۔ یہ صحیح بھی ہو سکتا ہے یہ غلط بھی ہو سکتا ہے۔ اور یہ دوسرے کے لیے حجت نہیں ہے۔ میں تصوف کی تردید میں بننے والے ڈسکورس کے اکثر حصوں کو غلط سمجھتا ہوں لیکن اُن لوگوں کی نیت وغیرہ پہ کوئی شبہ نہیں کرتا اور نہ تصوف پہ اعتراضات ہے۔ وہ ممکن ہے وہ صوفیوں سے زیادہ اللہ والے ہوں۔ تو ان چکروں میں نہیں پڑنا چاہئے کہ اس بات کے پیچھے میں کچھ اور دریافت کروں۔ بس یہ بات اس کا یہ ہے مطلب اور اس کا اگر کوئی جواب ہے تو یہ ہے جواب نہیں ہے تو ہم نے مان لیا۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

2 تبصرے

  1. میر امتیاز آفریں on

    میں ایک مضمون احمد جاوید اور تصوف بھیجنا چاہتا ہوں۔ مہربانی کرکے اپنا ای میل emailID سینڈ کریں۔

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20