دوسرا کبوتر —— حمید قیصر کا افسانہ

0

انعام ابھی نیند سے پوری طرح بیدار نہیں ہوا تھا۔ سکون کا نرم و گرم احساس لیے ابھی رضائی اس کے اوپر تھی کہ سرکنڈوں والی جھاڑو کی سرڑ… سر، سرڑ…سر، کی سر سراہٹیں صبح دم مُشکی کے آنے کا اعلان کرنے لگی تھیں۔

انعام کو عابد اور خسرو کے ساتھ چھڑوں کے اس چوبارے میں آئے چند مہینے ہی گزرے تھے۔ عابد ایک مل میں سٹور کیپر تھا جبکہ خسرو نے ایک عدد معشُوق پال رکھی تھی۔ عابد کی مِل رہائش سے بہت دور تھی اس لیے وُہ صبح جلدی نکل جاتا اور خسرو نے تانیہ کو کالج چھوڑنا ہوتا تھا۔ وہ ایک ماہ پہلے بی اے کے امتحان سے فارغ ہو کر آج کل عشق کے امتحان کی تیاری میں مگن تھا۔ دونوں علیٰ الصبح ناشتہ کئے بغیر چوبارہ چھوڑ دیتے۔ انعام ایک انگریزی روزنامہ میں آخری شفٹ کا صحافی ہونے کی وجہ سے رات دو بجے اخبار کی آخری کاپی پریس بھیج کے واپس لوٹتا۔ ایسے میں اس کے ساتھی دوستوں کے ساتھ تاش کھیل رہے ہوتے یا تھک ہار کر سونے کی تیاری کر رہے ہوتے۔ انعام تھکا ہوتا تو وہ بھی پڑ کر سوتا رہتا اور اگر موڈ میں ہوتا تو سوتوں کو جگا کر نئے سرے سے بازی سجاتا۔ یوں شب کے آخری پہر کی بجھتی شمع پھر سے لو دے اُٹھتی۔ نئے دور چلتے، لمبی لمبی بازیاں جمتیں، یوں قہقہوں اور خوش گپیوں کے درمیان رات دم توڑ دیتی۔ ایسے میں جو وہ گھوڑے بیچ کر سوتے تو اگلے دن سورج کو سہ پہر کی سر حد پر چھوڑ کر لوٹتے۔ ایسی صورت میں عابد اور خسرو کی دیہاڑی تو ماری جاتی مگر انعام کو کوئی فرق نہ پڑتا۔ اس کی ڈیوٹی ویسے ہی شام سات بجے شروع ہوتی تھی۔ دونوں ساتھیوں سے ڈیڑھ دو سال بڑا ہونے کی وجہ سے انعام کا سبھی احترام کرتے، اس کے بغیر ہر محفل نامکمل سمجھی جاتی۔ وہ اپنی خاموش طبیعت اور عینک کے عقب سے سوچتی آنکھوں کی وجہ سے دانش ور مشہور تھا۔

چُوبارے پر مُشکی آپہنچی تھی۔نام تو اس کا بِلو تھا مگر پکے سانولے رنگ کی نسبت سے چوبارے پر اسے مُشکی کے نام سے پکارا جاتا تھا۔ وہ تیکھے نین نقش والی بائیس سالہ پُر کشش جمعدارنی تھی۔ جس کی جوانی کے کچے پکے سُر چھڑوں کی بیٹھّکوں، چُوباروں کی اڑتی دھول مٹی اور جھاڑو کی سرڑ… سر، سرڑ…سر میں مدھم پڑتے جارہے تھے۔ کبھی کبھی بِلو کو غور سے دیکھ کر یوں بھی محسوس ہوتا جیسے جوانی اس پر آئی تو تھی مگر ساون بدلی کی مانند جلد لوٹ گئی۔ پھر بھی اس کا رنگ رُوپ پھول دار ریشمی اور چست سوتی کپڑوں میں چھپائے نہ چھپتا تھا۔ وہ اُٹھتے بیٹھتے قمیض کھینچ تان کر یوں درست کرتی جیسے مورنی کو ناچتے ہوئے اچانک اپنے پاؤں یاد آجائیں۔ جب جھاڑو دینے میں مصروف ہوتی تو چھّڑے اسے ایک دوسرے سے نظریں بچا کر تکا کرتے۔ وہ اِٹھلا کر چلتی تو بڑے بڑوں کی سٹی گم ہوجاتی۔

شروع شروع میں چوبارے کی صفائی کے لیے بِلو کی ماں آیا کرتی۔ ساتویں بچے کی پیدائش کے بعد وہ بیمار پڑ گئی تو بلو کے ساتھ اس کا چھوٹا بھائی آنے لگا۔ دس بیس روز میں جب گھر والوں کو تشفی ہوئی تو انسانوں کے جنگل میں بلو کو کھلا چھوڑ دیا گیا۔ وہ زیادہ تر چوبارے پر صبح سویرے آجاتی کیونکہ اسے اور بھی کئی جگہ جانا ہوتا تھا۔ کبھی کبھی شام کو ہی جھاڑو پھیر جاتی۔ بڑا ہونے کے سبب انعام چُوبارے پر سب کا رازداں بھی تھا۔ اسی لیے خسرو اسے ملاقاتوں میں حائل اپنے مسائل اور تانیہ سے ہونے والی گفتگو کا ایک ایک لفظ بتا دیتا۔

’’انعام بھائی ! کیا بات ہے آج کل کچھ پھّیکا پھّیکا نہیں چل رہا…؟؟‘‘
’’کیا مطلب…؟؟‘‘
’’مطلب یہ کہ زندگانی سے رنگینیاں ہی ختم ہو چلی ہیں… اول تو ہم تینوں چوبارے پر اکٹھے ہی نہیں ہوتے…؟
اگر خوش قسمتی سے ہوجائیں تو تب تلک رنگینیوں کے سارے دَر بند ہوچکے ہوتے ہیں…‘‘

انعام وقفے وقفے سے لمبا کش لگا کر خُسرو کو یوں دیکھتا جیسے اس کی باتوں میں شامل لذّت ِبے گناہ کی چاشنی اس تک بھی پہنچ رہی ہو۔

’’یار انعام بھائی ! اپنی اس مُشکی گھوڑی کے بارے میں کیا خیال ہے آپ کا، سواری کے قابل ہے کہ نہیں؟‘‘ اب کے خسرو شارٹ کٹ پہ آگیا۔
’’کبھی سواری کو جی نہیں چاہا…؟‘‘
’’ایمان سے بہت سادہ ہیں آپ بھی، باہر خوار ہوتے پھرتے ہیں ادھر شکار روز خود چل کر آتا ہے اور بچ کر صاف نکل جاتا ہے…‘‘ اس سے نِچلا نہ رہا گیا۔
’’اُو ئے خُسر ے کیا بکواس کیے جاتے ہو اتنی دیر سے…؟‘‘ وہ خسرو کو مصنوعی ڈانٹ پلاتے ہوئے بولا۔
’’یہ بکواس نہیں انعام بھائی، آپ کو کیا پتہ ہم دونوں تو سواری بھی کرچکے ایمان سے، بڑا مزہ آیاتھا!‘‘
اب انعام حجاب میں آکر لاتعلق سادِکھنے لگا۔

’’بس ذراسی توجہ چاہیے آپ کی …مشکی گھوڑی کی طرح ایک تو اتھّری بہت ہے، اوپر سے سالی ہے بے لگام… ذرا گردن سے ہاتھ نیچے کھسکا نہیں کہ تن کر کھڑی ہوجاتی ہے…پاس نہیں پھٹکنے دیتی کسی کو…اللہ جانے گردن سے نیچے کونسی شے چھپا رکھی ہے اس نے؟‘‘
’’کیا بتائوں کہ ہم دونوں نے آپ سے چوری چھپے کتنے پاپڑ بیلے ہیں اس بھنگن کی بچی کے لیے…‘‘
’’ایمان سے بڑی خواری کی ہے…تب کہیں جاکر سواری نصیب ہوئی‘‘۔
’’واہ! کیا سواری تھی …کاٹھی کے بغیر ہوتی تو اور ہی لطف آتا مگر یہ سالی کاٹھی پہ ہاتھ دھرنے دے تو تب ہے ناں!‘‘

انعام کو رضائی کے اندر رہ رہ کر خسر و کی تمام بکواس، اس کی بنتی بگڑتی شکلوں سمیت یاد آرہی تھی… اوپر سے بِلوکی بچی کے ’’ سَرڑ… سر… سَرڑ … سرکے بے تکے الاپ دماغ چاٹ رہے تھے، اب نیند کیا خاک آتی؟

تھوڑی دیر بعد بلو کے جھاڑو کی سر سراہٹ بہت قریب سے آنے لگی۔ معاً اسے خیال آیا کہ مُشکی منع کرنے کے باوجود کچی نیند سے بیدار کرنے کمرے میں گھسی چلی آئی تھی، انعام یہ سب سوچتے ہوئے رضائی کے اندر ہی اندر پیچ و تاب کھانے لگا تھا۔

ابھی سورج نکلنے میں خاصا وقت تھا۔ عابد اور خسر و حسبِ معمول اسے سوتا چھوڑ کر نکل گئے تھے اور اب چوبارے پر بلو جمعدارنی کا راج تھا۔ بے خوابی، بے زاری، تنہائی، خسرو کی بکواسیات اور ایسے میں مُشکی گھوڑی کی موجودگی کے احساس نے انعام کے غصے کو ٹھنڈا مگر جذبات میں انگارے بھرنے شروع کردئیے۔

اتھری اور منہ زور گھوڑی …بلو بھّنگن…‘‘ اسے بار بار خسرو منہ چڑاتا نظر آنے لگا۔ انعام نے اس سے پہلے کبھی مُشکی کی طرف توجہ ہی ناں دی تھی… مگر اس روز نہایت غیر محسوس انداز میں بِلو اس کے اعصاب پر چھانے لگی تھی۔

’’ارے او بلی! تجھ سے کتنی بار کہہ چکا ہوں، جب میں سو رہا ہوتا ہوں تو کمرے میں جھاڑو مت لگایا کر، نیند خراب ہوتی ہے… مگر تو سنتی کہاں ہے؟ سیدھی اندر گھسی چلی آتی ہے‘‘ انعام نے پہلی بار مصنوعی رعب جھاڑ تے ہوئے سر رضائی سے باہر نکال لیا، تب بلو کا ردھّم سے چلتا ہوا ہاتھ تھم گیا۔

’’اے ہے صاحب جی ! آپ تو بڑے گسّے والے ہیں… کبھی تو پیارسے بھی بول لیا کریں ہم گریبوں سے …‘‘

بلو جھاڑو کی ہتھی دیوار سے ٹھونکتے ہوئے اک ادا سے مسکرائے جارہی تھی۔ اس کے سانولے سلونے چہرے پر لاٹیں مارتا کو کا، جُھٹ پُٹے کا ستارہ معلوم ہوتا تھا۔ کام کرتے ہوئے لمبے بالوں کو سنبھالنے کے لیے دو پٹہ کمر پے کَس لیتی تو اس کا سراپا اور بھی قیامت ڈھانے لگتا۔

’’آج تو میں نے آپڑیں صاب جی سے پورے مہینے کی تنکھا وصولنی ہے۔۔‘‘ وہ جھاڑو پھینک کر ہاتھ نچاتی اور اٹھلاتی ہوئی چار پائی کی پائنتی کے قریب پہنچ گئی، جیسے انعام کی نگاہوں کی جادوئی کش اسے اپنی طرف کھینچے چلی جاتی ہو… بلو اچانک آگے بڑھی اور رضائی کا کونہ پکڑ کر ایک ہی جھٹکے سے پرے اچھال دی۔ انعام ہکا بکارہ گیا۔ اس کے بدن کے بیچ اِک لہر سی اٹھی اور اس کا رُواں رُواں کھڑا ہوگیا، وہ سمٹنے لگا مگر بلو نے پھیلنا شروع کردیا۔ تھوڑی ہی دیر میں انعام کے جسم کی ٹکور اینٹھن میں بدلنے لگی۔ اس کے اندر میٹھّے میٹھّے جذبوں نے خواہش کا رُوپ دھار لیا۔

’’کیوں ناں پہلے اس انار کلی کے ڈربے میں بند کبوتروں کو ہی آزاد کردیا جائے…‘‘ انعام نے ڈربے میں سے جھانکتے، غٹرغُوں غٹرغُوں کرتے کبوتروں کی طرف ہاتھ بڑھایا ہی تھا کہ مُشکی بِدک کر پَرے جاکر کھڑی ہوئی۔ انعام اٹھ کر لپکا تو بلونے کُونے میں سمٹ کر بانہوں کے پَٹ مضبوطی سے بھّیڑ لیے۔ انعام نے ایک ہی جھپٹے میں بانہوں کے نازک پٹ توڑ کر الگ کردیئے۔ دوسرے لمحے بلوکا چاک گریبان انعام کے ہاتھ میں تھا۔ وہ یکدم سکتے میں آگیا۔ اس کی خواہش کی موم بتی پل بھر میں پگھل کر پانی ہوگئی۔ تب اس نے دیکھا کہ بِلو راج کماری کا جسم کٹھالی میں پگلتے سونے کی ماند دہک رہا تھا۔ اس کی بانہوں کے اَدھ کُھلے دروازے میں سے پھڑکتا ہوا کبوتر باہر جھانکنے لگا اور روئی کے گالے جیسا دوسرا کبوتر، بے بس بلوکی طرح فرش پر مُردہ پڑا انعام کا منہ چڑا رہا تھا۔ بلوکم مائیگی کے کرب میں اپنی بانہوں کے شکنجے کو یوں بھینچ رہی تھی جیسے دوسرے زندہ کبوتر کو بھی مَسل دینا چاہتی ہو۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20