طلبہ تنظیموں کے سحر انگیز نعرے اور حقیقت —- لالہ صحرائی

0

تعلیمی اداروں میں سیاسی سرگرمیوں کی اجازت ہونی چاہئے یا نہیں، یہ سوال جس قدر اہم ہے، اس سے کہیں زیادہ حساسیت رکھتا ہے۔

اہم اسلئے ہے کہ دنیا کے باضابطہ معاشروں میں جہاں ہر قسم کی نافع افرادی قوت پیدا کرنے کیلئے متعدد نصابوں پر خاطرخواہ توجہ دی جاتی ہے وہاں سیاسی سرگرمیوں کو بھی نرسری سمجھ کے پروان چڑھایا جاتا ہے تاکہ مستقبل میں حسب ضرورت سیاسی قیادت بھی میسر آسکے۔

اور حساس اسلئے ہے کہ ہمارے لوگ جو بیرونی ممالک میں جا کے ٹریفک سگنل سمیت ہر ضابطے کی مکمل پاسداری کرتے ہیں وہی لوگ یہاں واپس آکے قانون شکنی کو اپنا حق اور سٹیٹس سمبل سمجھ کے انجام دیتے ہیں، یہاں تک کہ ہماری بیشتر سیاسی قیادت باہر سے ہی تعلیم حاصل کرکے آتی ہے مگر یہاں آکے اپنی سیاست میں ان اصولوں سے یکسر پھر جاتی ہے جو وہاں کی سیاسی اقدار کا طرہ امتیاز ہیں۔

درسگاہوں میں سیاست ہونی چاہئے یا نہیں، اس سوال کو حل کرنے کیلئے جبر و قدر کے ان اثرات کا جائزہ لینا بہت ضروری ہے جو یہاں وہاں کے ماحول میں ایکدوسرے کے بالکل الٹ رویہ اختیار کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔

اس ذیل کے پہلے حصے میں جو کہانی ہے وہ ایک ایسے سوال تک لیکر جائے گی جس کا جواب دوسری کہانی میں تلاش کیا جا سکتا ہے اور وہی جواب رویوں میں تبدل کی اصل وجہ ہے۔


میں ان دنوں فرسٹ ائیر میں تھا اور میرا کزن پنجاب میڈیکل کالج کے چوتھے سال میں تھا، میں اکثر اس سے ملنے سرگودھا روڈ پر واقع ابن سینا ہاسٹل جایا کرتا تھا۔

ایک دن کسی نے دروازہ بجا کے کھولا، اندر جھانکا اور بکری کو ڈالنے والی ایک زنجیر میرے کزن کی طرف اچھال دی۔

اس کے کاندھے پر کافی زنجیریں رکھی ہوئی تھی اور ایک زنجیر پر وہ ٹیپ لپیٹ رہا تھا، جو زنجیر اس نے پھینکی تھی اس پر بھی ٹیپ لپٹی ہوئی تھی۔

پھر دو منٹ بعد وہ دوبارہ آیا اور مجھے مخاطب کرکے کہا، ڈاکٹر صاحب یہ لو اور ایک زنجیر میری طرف بھی پھینک دی، میرے کزن نے کہا رہنے دو یہ مہمان ہے، اس نے سوری کہا اور چلا گیا، اس ڈاکٹر کا نام میں بھول گیا ہوں لیکن اس کے نام میں رانا آتا تھا، میڈیکل کے چوتھے سال میں تھا اور کہیں گجرات کی طرف کا رہنے والا تھا۔

وہاں پر دو تنظیموں کے درمیان اینٹ کتے والا بیر چل رہا تھا، جب کزن نے مجھے صورتحال بتائی تو میرا پہلا سوال یہ تھا کہ تم اس جہنم میں کیسے رہ رہے ہو، اس سے اچھا ہے ہماری طرف آجاؤ یا کہیں باہر مکان لے لو، تم کونسا غریب ہو جو یہاں رہنے پہ مجبور ہو؟

خیر اس نے مجھے سمجھا بجھا دیا کہ جہاں چار سال اسی ماحول میں نکال لئے ہیں وہاں باقی ایک سال بھی نکل ہی جائے گا اسلئے یہ بات گھر پہ نہیں جانی چاہئے ورنہ ابا جی مجھے واپس بلوا لیں گے اور میرا ڈاکٹر بننا سخت خطرے میں پڑ جائے گا۔

اس کے بعد چھٹیوں کی وجہ سے کوئی ایک ماہ بعد جب میں وہاں گیا تو ابن سینا ہال کی دیواروں پر ڈاکٹر رانا کے پوسٹر لگے ہوئے تھے، جس پر خون کے چھینٹے اور تمہارا خون رائیگاں نہیں جائے گا، شائد انقلاب آئے گا بھی لکھا ہوا تھا۔

میں نے اپنے کزن سے پہلا سوال یہی کیا کہ ڈاکٹر رانا کیساتھ کیا ہوا، اس نے بتایا کہ جس جھڑپ کی تیاری ہو رہی تھی اس میں شہید ہو گیا، میں تو اس دن موقع پا کے نکل گیا تھا لیکن اس دن کافی خونریز تصادم ہوا تھا۔

اس بات کے چند ماہ بعد زرعی یونیورسٹی ٹیپو ہال کے کچھ عہدیداروں نے مجھے بھی سیاسی ذمہ داریاں اٹھانے کا کہا، میرے تایا صاحب نے ان کی جماعت کے ٹکٹ پر الیکشن لڑا تھا اسلئے وہ چاہتے تھے میں بھی اپنا کردار ادا کروں اور ان کے جانے سے پہلے پہلے ضلعی یا ڈویژنل سطح تک پہنچ جاؤں۔

یہ شوشہ چھوڑنے والوں میں ایک ڈویژنل اور دوسرا ضلعی ذمہ دار تھا، ان دونوں کا جو پروٹوکول تھا اسے دیکھتے ہوئے لالچ تو آرہا تھا کہ ہاں کر دی جائے، اس سطح پر پہنچنے کے بعد الیکشن لڑنے کی نوبت بھی آسکتی ہے یعنی وہ خواب جو ایک نوجوان کو مسحور کر سکتے ہیں وہ سبھی آرہے تھے لیکن ڈاکٹر رانا جو اسی جماعت کا تھا اس کا انجام بھی میرے سامنے تھا پھر بھی عین ممکن تھا میں ہاں کر دیتا لیکن میں نے پوچھ لیا کہ تم نے آخر جانا کہاں ہے جو بار بار جانے کا ذکر کرتے ہو تو انہوں نے بتایا کہ یونیورسٹی کے بعد ہائر سٹڈیز کیلئے امریکہ جانا ہے۔

یہ بات سن کے میرے لئے دوٹوک انکار کرنے کی راہ یکسر ہموار ہوگئی کہ ہمیں یہاں امریکہ مردہ باد پڑھا کے خود آپ نے امریکہ جانا ہے، یہ بڑی عجیب بات ہے۔

اس کے کچھ عرصہ بعد ساہیوال کے ضلعی عہدیدار سے ملاقات ہوئی جو وہیں کا پڑھا ہوا تھا، میرے استفسار پر اس نے بتایا کہ وہ دونوں عہدیدار ٹیکساس میں ہیں، پھر میرے بارے میں جاننے کے بعد بتایا کہ انہوں نے تمہارا ذکر کئی بار کیا تھا کہ میجر صاحب کا بھتیجا بہت اچھا میزبان تھا، ہمیں کھلائے پلائے بغیر نہیں جانے دیتا تھا مگر ذمہ داری اٹھانے پر قطعی راضی نہیں ہوا ورنہ ہم اسے ایک نمایاں پوزیشن پر پہنچا کے ہی جاتے۔

میرا کزن آجکل لندن میں ہے، مجھے ورغلانے والے دو عہدیدار اور ان کے دس بارہ ساتھیوں میں سے بیشتر باہر ہی ہوتے ہیں، مگر اپنے خاندان کی امنگوں کے مرکز ڈاکٹر رانا جیسے سینکڑوں قابل لڑکے لڑ مر کے رزقِ خاک ہو گئے۔

ڈاکٹر رانا کے بارے میں ایک بات اور کہوں گا کہ وہ اس قدر خوبصورت اور سمارٹ نوجوان تھا کہ میں اس کا نام بھول گیا ہوں مگر چہرہ آج تک نہیں بُھولا تو آپ حساب لگا سکتے ہیں کہ جن کا بیٹا تھا جن کا بھائی تھا انہیں کیسے بُھولا ہوگا؟

یہ کسی ایک تنظیم کا حال نہیں، ہر طلبہ تنظیم کی یہی کہانی ہے اور کہانی بھی ایک نہیں، ہزاروں ہیں جو نظام بدلنے، انقلاب لانے، چہرے بدلنے، قوم کو شعور اور ترقی کی راہ پر ڈالنے کیلئے جان سے گئے مگر جن چیزوں کیلئے جانیں گنوائیں وہ کہاں ہیں؟

اس سوال کا کوئی جواب دستیاب نہیں۔

ڈاکٹر رانا تو شہید ہوگئے، قصہ ختم ہوا….
بالفرض وہ بچ جاتے تو کیا ہوتا؟

یا یوں کہہ لیجئے کہ جو ایکٹوسٹ اب تک بقید حیات ہیں وہ کس حال میں جیتے ہیں؟

یہ بات سمجھنے کیلئے پڑوسی ملک کے ایک سروائیور کی داستانِ حیات پیش کرنا چاہتا ہوں جو صحیح معنوں میں طلبہ تنظیموں کے بچ جانے والے ایکٹیوسٹوں کی زندگی سے متعارف کرائے گی۔


لکھبیر سنگھ نام کا یہ بندہ ضلع بٹھنڈہ کے ایک گاؤں سدھانہ کا رہائشی ہے جو پڑھنے کیلئے نکلا تو ڈبل ایم اے تک تعلیم حاصل کی، ایک ایم اے اس نے اردو میں کیا ہے، کبڈی کا بہت اچھا کھلاڑی تھا۔

لکھبیر سنگھ نے جب درسگاہ کی سیاست میں قدم رکھا تو اس کے بول چال کا آہنگ دیکھ کے اکالی دل کے لیڈر سکندر سنگھ ملوکا نے اس کو تھپکی دے دی، پھر اپنی الیکشن کمپین اس کے سپرد کر دی، پھر چھوٹے بڑے الیکشنوں میں مخالف پارٹیوں کو زیر کرنے کیلئے استعمال کرنا شروع کر دیا تاکہ ہر جگہ اس کے ہی بندے جیتیں۔

ہمارے برعکس وہاں گاؤں کی سرپنچی سے لیکر یونین کونسل، ضلع کونسل، کارپوریشن، جتھیدار، ایم ایل اے اور ایم پی تک ہر قسم کے الیکشن متواتر ہوتے ہیں جس میں غنڈہ گردی کے بغیر جیت ممکن نہیں، کوئی بئیمانی کیلئے کرتا ہے تو کوئی اپنی حفاظت کیلئے بلکہ یوں کہیئے کہ یہ عناصر گینگسٹر پالتے ہیں جو کسی سے مارپیٹ کے، کسی سے پیسے دیکر اور کسی پر احسان کرکے ووٹ توڑ لاتے ہیں یا دوسرے کے ووٹ بھگا دیتے ہیں۔

اس طرح ایک سیاستدان کیلئے الیکشنوں میں غنڈی گردی کرتے کرتے یہ پڑھا لکھا نوجوان لکھبیر سنگھ سے لکھا گینگسٹر بن گیا۔

لکھبیر سنگھ کا کہنا ہے کہ ایک دن نیا تھانیدار آیا تو اس نے مجھے فون کیا کہ علاقے میں صرف ایک ہی گینگسٹر رہ سکتا ہے، یا تم رہو گے یا میں رہوں گا، پھر اس تھانیدار کیساتھ میرا اٹ۔کھڑکا شروع ہو گیا، ایک دن ہم نے تھانیدار کو دھو دیا، ارادہ تھا اسے قتل کردیں مگر چھوڑ دیا کیونکہ میری بدمعاشی صرف مار پیٹ تک ہی محدود تھی میں نے کبھی کسی کو قتل نہیں کیا تھا۔

غنڈہ گردی کا شوق اسلئے تھا کہ دھونس اور دھمکی کے بغیر یہاں کوئی کام نہیں ہوتا، میں نے بہت اچھے کام بھی کئے، گھروں سے نکالی گئی سینکڑوں غریب لڑکیاں ڈنڈے کے زور پہ آباد کیں، سینکڑوں مجبوروں کو ان کا حق دلوایا لیکن جس کے کام آؤ ایک وہی دل سے عزت کرتا ہے باقی سب ڈرتے ہیں اور گینگسٹر ہی کہتے ہیں۔

لکھبیر سنگھ کا خیال تھا کہ اس کی پشت پر ایک سیاستدان کا ہاتھ دیکھ کے تھانیدار کچھ نہیں کر پائے گا لیکن یہ ممکن ہے کہ تھانیدار کے پیچھے بھی دوسری پارٹی کا ہاتھ ہو، اس نے اسے گینگ سمیت اٹھوا لیا اور تھانے میں رکھ کے خوب ادھیڑا۔

پھر ایس۔پی کے سامنے پیش کیا تو افسر نے کہا کہ جس کے بل پر تم نے بدمعاشی کی تھی وہ تو کہتا ہے کہ اس کا تم سے کوئی تعلق نہیں، اب بتاؤ کیا سلوک کیا جائے، اگر تم نے سدھرنا ہے تو سدھر جاؤ میں ایک موقع دے دیتا ہوں ورنہ جیل بھیج دیتا ہوں لیکن سکندر سنگھ ملوکا تمہارے کسی کام آئے گا یہ تمہاری بھول ہے، وہ نہیں چاہتا کہ اخباروں میں اس پر ایک گینگسٹر کی پشت پناہی کا ذکر آئے اور مخالف پارٹی اس بات کو اچھالے۔

اپنے سرپرست کی طوطا چشمی دیکھ کر اس نے سوچا کہ لیڈر کے بل پر ابھی پولیس کیساتھ صرف پنگا ہی لیا تھا تو یہ حال ہوا ہے، اگر لیڈر کے زعم میں تھانیدار کا قتل کر دیتا تو کون پرسانِ حال ہوتا، اسلئے لکھبیر نے سدھرنے کا فیصلہ تو کر لیا مگر غنڈہ گردی کی دنیا ون وے ٹریفک کی طرح سے ہے، اس گیم میں آنا آسان ہے، واپس جانا ممکن نہیں، کیونکہ جن لوگوں کا نقصان کیا ہوتا ہے وہ کبھی چین سے نہیں جینے دیتے لہذا مکافات کے پہلے مرحلے میں اکالی لیڈر اپنے پول کھلنے کے ڈر سے اسے مروانے کے درپے ہو گیا۔

اس مصیبت پر قابو پانے کیلئے لکھبیر سنگھ کو خود بھی سیاست میں اترنا پڑا اور مقامی سطح کے ایک الیکشن میں جیت بھی گیا، پھر چند سال قبل اس نے بادل خاندان کی پیپلز پارٹی سے پنجاب اسمبلی کا الیکشن بھی لڑا جس میں اسے دس ہزار ووٹ پڑے، لیکن ایک نیا موڑ یہ آیا کہ ملوکا نے اس کی کمی پوری کرنے کیلئے اس کے دوست گولڈی کو توڑ لیا اور اپنے الیکشنوں کا پردھان بنا دیا۔

پھر ایک الیکشن میں یہ لوگ آمنے سامنے آگئے، اور اس گینگ وار میں گولڈی مارا گیا، اس قتل کے الزام میں اسے دو سال تک جیل میں رہنا پڑا۔

لکھبیر سنگھ کا کہنا ہے کہ مجھے گولڈی کی موت کا بہت افسوس ہے اور اس بات کی شرمندگی بھی ہے کہ میرا دوست میرے ساتھی کے ہاتھوں مارا گیا لیکن میں نے اسے بہت سمجھایا تھا کہ یہ سیاستدان قابل اعتبار نہیں ہوتے یہ ٹشو پیپر کی طرح استعمال کرکے پھینک دیا کرتے ہیں۔

پھر ملوکا نے اپنے کارکن کی موت کا سیاسی ایڈوانٹیج تو خوب لیا، لیکن عملی طور پر اس کی فیملی کیلئے کچھ نہیں کیا، اس کی بیوی کیلئے نوکری اور بچوں کیلئے پانچ لاکھ نقد امداد کا اعلان تو کیا مگر یہ دونوں چیزیں آج تک نہیں دی گئیں۔

لکھبیر سنگھ کا کہنا ہے کہ اس کیس میں قید کے دوران میں نے بہت سی کتابیں پڑھیں اور بہت سوچ بچار کی کہ جب میں عام آدمی کی طرح زندگی گزار نہیں سکتا اور گینگسٹر رہنا نہیں چاہتا تو پھر کیا کروں؟

کیونکہ محافظوں کے بغیر چل نہیں سکتا، پولیس، سیاستدان اور گینگسٹرز جن کیساتھ دشمنیاں رہی ہیں وہ کوئی بھی کہیں بھی حملہ کر دیتا ہے، دو بار شدید زخمی بھی ہوا، لیکن کتابوں کی بدولت مجھے ایک نئی راہ ملی کہ جب تک میری زندگی ہے میں کچھ ایسے کام کر جاؤں جن کی اس سماج کو ضرورت ہے۔

لکھبیر سنگھ آجکل اپنی سماج سیوا میں پنجابی زبان و کلچر کی حفاظت، زرعی پانیوں کی چوری، نشے کی سپلائیز، ڈاکٹروں کی من مانی فیسوں، دلتوں پر ظلم اور دیگر معاملات میں غنڈہ گردی کی بجائے بڑی دانشمندی، معاملہ فہمی، نفاست اور دلیل کیساتھ کام کر رہا ہے، اسی وجہ سے لاکھوں نوجوان اس سے متاثر ہیں، اسے فالو کرتے ہیں بلکہ اس کی کال پر بڑے بڑے پرامن لاک ڈاؤن بھی ہو چکے ہیں۔

ابھی حال ہی میں اس نے غریبوں کی شکایت پر کچھ ہسپتال مافیاز کو بے نقاب کیا ہے جہاں آپریشن کا منہ مانگا معاوضہ اور دواؤں کی مارکیٹ سے ڈبل قیمت وصول کی جاتی تھی، ڈاکٹروں کیساتھ اس کے ڈائیلاگز کی ویڈیوز یوٹیوب پر دستیاب ہیں جس میں ہسپتالوں کی زیادتی اور مفاد پرستی ثابت ہو جاتی ہے مگر ڈاکٹروں نے شرمندہ ہونے کی بجائے الٹا ہڑتالیں کیں، مظاہرے کئے تاکہ اس کے خلاف ہراسانی کی ایف۔آئی۔آر درج ہو جائے اور وہ آئیندہ کسی ہسپتال میں نہ جا سکے۔

اسی طرح پنجاب کے سکولوں میں بچوں کے پنجابی بولنے پر پابندی کے خلاف اس نے مہم شروع کی جس کی نہایت مدلل ویڈیوز موجود ہیں مگر استاد بھی اس کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے۔

یہ بھی ایک عجب تماشا ہے کہ پنجابی کو گالیوں کی زبان بتایا جاتا ہے اور اس کی جگہ جو انگریزی بُلوائی جاتی ہے اس کے ہر جملے میں وٹ دا فک کہنا کوئی معیوب بات نہیں سمجھی جاتی، اس کا اردو میں ترجمہ کرکے دیکھ لیں، کتنی شرم کی بات ہے، مگر ایٹیکیٹس کو اس سے کوئی مسئلہ نہیں ہوتا، نوجوان لڑکے لڑکیاں والدین یا بڑوں کے سامنے وٹ دا فک کہنے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتے، فلم اور لٹریچر میں جابجا فکنگ ایڈیٹ کا استعمال ہو سکتا ہے، رن۔یور۔ایس۔آؤٹ کہا جا سکتا ہے لیکن پنجابی بولنا بہت بڑا عار قرار دیا جاتا ہے، وٹ دا فک از دس؟

پھر وہاں یہ قانون موجود ہے کہ ہر صوبے میں سرکاری احکامات پہلے مقامی زبان میں ہوں گے، پھر قومی زبان میں، پھر انگریزی میں لکھے جائیں گے، اس لحاظ سے ہر صوبے کی شاہراہوں پر مائل سٹون یا نیویگیشن سائین بورڈ حسب ترتیب اوپر پنجابی، درمیان میں ہندی اور نیچے انگریزی میں ہونے چاہئیں لیکن یہ ترتیب اس کے برعکس تھی جسے سیدھا کرانے کیلئے چھبیس اضلاع کے ڈپٹی کمشنر سے ملاقات کرکے درخواستیں دی گئیں مگر کچھ نہ ہوا تو اس نے پنجاب میں ہر سائن بورڈ پر کالی سیاہی لیپنے کی کال دے دی، نوجوانوں نے صوبے بھر میں عمل کر دکھایا اور نتیجے میں سرکار نے نوے فیصد بورڈ قانونی ترتیب سے لکھوا دئے ہیں۔

مگر ان تینوں آپریشنز میں اس کے خلاف کل ملا کے دو درجن سے زائد ایف۔آئی۔آرز کٹ چکی ہیں۔

اب آپ یہ اندازہ لگا لیں کہ جہاں ایک پڑھا لکھا گینگسٹر پڑھے لکھے ڈاکٹروں کو مدلل انداز میں بھی یہ کہہ دے کہ غریبوں کو اس بے رحمی سے نہ لُوٹو تو جواب میں ایف۔آئی۔آر۔

جہاں ایک پڑھا لکھا گینگسٹر زبان و ادب کے سیمینار میں پنجاب یونیورسٹی چندی گڑھ کے وائس چانسلر کے سامنے اپنی مادری زبان کے ہتھیاچار پر سوال اٹھاتے ہوئے یہ گزارش کرے کہ آپ لوگ میرے گلے پڑنے کی بجائے میرے سوالوں کا جواب دلیل سے دے دیں تو ہراسمنٹ۔

جہاں ایک پڑھا لکھا گینگسٹر چھبیس ڈپٹی کمشنرز کو سیدھے طریقے سے قانون کے مطابق سائن بورڈ لکھنے پر مائل کرے تو بیکار، کالک تھوپ دے تو متعدد ایف۔آئی۔آر۔

تو اس ماحول میں کوئی عام آدمی یا سٹوڈنٹ کسی کو کیا سمجھا لے گا؟

مجھے انصاف کا ترازو دیا جائے تو میں ان چھبیس اضلاع کے ڈپٹی کمشنروں سے یہ پوچھنے کا حق رکھتا ہوں کہ جب تمہیں قانون کا حوالے دیکر تحریری درخواست کے ساتھ منہ سے بھی ریکویسٹ کی گئی تو کیا وجہ ہے کہ چھ ماہ میں بھی کام نہ ہوا، پھر جب انہوں نے کالک تھوپ دی تو تم نے صوبے بھر کے سینکڑوں بورڈ صرف پندرہ دن میں ری۔رائیٹ کروا دئے، اس بندے نے قانون ہاتھ میں لینے پہلے چھ ماہ تک انتظار کیا اگر تم تین ماہ میں بھی یہ کام کرا دیتے جو پندرہ دن میں کرایا ہے تو یقیناً یہ قانون ہاتھ میں نہ لیتے، پھر تم ان کیخلاف جگہ جگہ ایف۔آئی۔آر کیوں کاٹ رہے ہو جبکہ یہ بندہ ہر جگہ موجود بھی نہیں تھا؟

یہ ڈبل۔ایم۔اے پاس نوجوان طلبہ سیاست میں پڑ کے یہاں تک آنے کی بجائے اگر ایک طرف رہ کے آئی۔سی۔ایس کر لیتا تو آج خود کہیں ڈی۔سی لگا ہوتا اور پرسکون زندگی گزارتا مگر اس کام میں اپنے عزتدار نام سے بھی ہاتھ دھو بیٹھا ہے، لوگ اسے لکھبیر سنگھ کی بجائے لکھا سدھانا گینگسٹر ہی کہتے ہیں جس کا حاصل وصول متعدد کیسز اور پیشیاں ہیں۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان چیزوں سے ڈر کے سب لوگ کنارہ کر جائیں یا خود غرض ہو جائیں تو یہ استحصالی نظام بدلے گا کیسے؟

اس کا جواب لکھبیر سنگھ نے یہ دیا ہے کہ مجھے صوبے بھر سے روزانہ پانچ سات سو کالیں آتی ہے، اتنی کالیں سن سن کر میرے کان بھی متاثر ہونے لگے ہیں، ان میں نوجوان یہی کہتے ہیں کہ تمہاری قیادت میں ہم سب کچھ کر گزرنے کو تیار ہیں، ہمیں اس فرسودہ نظام سے ایک بار لڑ مرنا چاہئے، یہاں تک کہ لڑکیاں بھی گینگسٹر ازم کو پسند کرتی ہیں مگر یہ صحیح راستہ نہیں ہے کیونکہ جس آزار سے میں گزرا ہوں وہ میں ہی جانتا ہوں اور جس سولی پر میری فیملی لٹکی رہتی ہے وہ میری فیملی ہی جانتی ہے۔

موجودہ اندازِ سیاست اور گینگسٹر ازم آپ کو ذاتی اور سماجی خلفشار کے علاوہ کچھ نہیں دے سکتے، اس رستے کی بجائے صحیح رستہ عوامی اتحاد کا ہے، اسلئے میں گاؤں گاؤں، شہر شہر جا کے لوگوں کی کمیٹیاں بنوا رہا ہوں جو عوامی استحصال کرنے والے عناصر کو عوامی یکجہتی کا دباؤ بنا کے روکیں تاکہ انتشار بھی نہ ہو اور کوئی ایک فرد گینگسٹر بھی نہ بنے۔

یہ ایک طریقہ ہو سکتا ہے مگر متعصب ماحول میں قابل عمل نہیں، ایک پارٹی کا کارکن اگر دلتوں کو لتاڑ رہا ہے تو اس پارٹی کے لوگ کہاں مزاحمت کریں گے، بعد از وقوعہ بھی نہیں مانیں گے کہ ہماری پارٹی نے یہ ظلم کیا ہے اور اگر ماننا پڑ بھی جائے تو دلتوں کا ہی قصور نکالیں گے کہ انہوں نے مجبور کیا تھا۔

یہی حالات ہمارے سماج کے ہیں، ہم قصور سے پہلے قصور وار کی پارٹی دیکھتے ہیں پھر حمایت یا مخالفت کا فیصلہ کرتے ہیں۔

ان حالات میں ایک ہی رستہ بچتا ہے کہ جہاں ضرورت ہو وہاں انگلی ٹیڑھی کرلی جائے اور جواب میں ایف۔آئی۔آر بھگت لی جائے، اس صورت میں کسی سے گلہ کیسا جب جانتے بوجھتے ہوئے بھی فیصلہ اپنا تھا، یہ رستہ گینگسٹرشپ اختیار کرنے کی طرف ہی جاتا ہے جس کا انجام یہاں واضح ہو گیا ہے۔

ایک انٹرویو میں لکھبیر سنگھ سے یہ سوال بھی کیا گیا کہ نوجوان گینگسٹر کیوں بنتا ہے؟

اس کا جواب اس نے یہ دیا کہ نوجوانوں میں کچھ کرنے کا جذبہ ہوتا ہے، یا یوں کہہ لیں کہ اپنی بلے بلے کرانے اور سننے کا عنصر بہت زیادہ ہوتا ہے، وہ اپنی چڑھائی چاہتا ہے اسلئے نوجوانوں کی اکثریت اپنے ٹؤر ٹپے اور دبدبے کیلئے سیاست میں آتی ہے، پھر استعمال کرنے والوں کے ہاتھوں استعمال ہو کے مجرم بن جاتی ہے، رہی سہی کسر پولیس پوری کر دیتی ہے، باقی کی ترتیب جیل میں جا کے ہو جاتی ہے پھر بندہ اس کام کے علاوہ کسی اور کام کا بالکل نہیں رہتا۔


ان دو کہانیوں میں ہم صاف طور پر یہ دیکھ سکتے ہیں کہ اس نظام کو بدلنے میں بندہ جان سے جائے تو پسماندگان کیلئے ایک المیہ چھوڑ جاتا ہے اور بچ جائے تو پسماندگان کیساتھ خود بھی ذلیل ہوتا ہے لیکن اس نظام کو رتی بھر بھی فرق نہیں پڑتا کیونکہ قانون کی طاقت صرف مفاد پرستوں کی جیب میں رہتی ہے۔

ان حالات میں طلبہ تنظیمیں کوئی مثبت سیاسی سرگرمیاں انجام نہیں دے سکتیں جس سے مستقبل کی نافع سیاسی قوت یا قیادت پیدا ہو کیونکہ یہ اپنے استعمال کرنے والوں کے ہاتھوں میں ہی کھیلنے پر مجبور ہوں گی جو کبھی مخالف کو دبانے اور کبھی حکومت وقت کو دبانے کیلئے شانتی پیدا کریں گی اور ان کے قائدین جب اپنا مفاد حاصل کرلیں گے تو سب کو مصلحت کے تحت شانت رہنے کا حکم جاری کرکے چپ بھی کروا لیں گے۔

بارڈر کے دونوں طرف یہ مسئلہ جنیاتی نہیں تو نفسیاتی رویوں پر مبنی ضرور ہے، جو طاقت کو اپنے ہاتھ میں رکھ کے دوسروں کو رنگ برنگے نعرے دیکر اپنے مقاصد کیلئے استعمال کرتا ہے، ناسمجھوں کا استحصال کرتا ہے اور کھلی قانون شکنی کا مرتکب ہوتا ہے لیکن جب یہ باہر جاتے ہیں تو وہاں قانون شکنی کا سوچ بھی نہیں سکتے۔

اس جبر کی وجہ بیرونی دنیا میں قانون کی حکمرانی ہے جو اپنے نفاذ کے آگے کوئی چھوٹا بڑا نہیں دیکھتا، اور قدر کی وجہ صرف یہ ہے کہ یہاں پر قانون کو اپنی مرضی کے مطابق پھیر لیا جاتا ہے، جب تک یہاں قانون کے جبر کا لیول بیرونی دنیا کے برابر نہیں آجاتا تب تک درسگاہوں میں سیاست کی اجازت دینا مفاد پرست عناصر کیلئے مفت میں لڑنے مرنے والی افرادی قوت مہیا کرنے کے سوا کچھ معنی نہیں رکھتا۔

اس ساری بحث کے بعد یہ بات مخفی نہیں رہتی کہ طلبہ تنظیموں کے نعروں میں ایک سحر ہوتا ہے جو نوجوانوں میں خواب اور جنون باآسانی پیدا کر دیتا ہے، پھر یہ بچے نظام بدلنے کیلئے اٹھتے ہیں لیکن پہلے مرحلے میں مجرم بنائے جاتے ہیں تاکہ بلیک میل ہوکے استعمال کرنے والوں کے کام آتے رہیں، پھر تخت یا تختہ کے مصداق قیدی یا شہید اور بچ جائیں تو گینگسٹر بنتے ہیں البتہ ان میں سے ایک آدھ سیاستدان بھی بن جاتا ہے جو اندر خانے گینگسٹر ہی ہوتا ہے یعنی جس نظام کو بدلنے کیلئے آتا ہے بلآخر اسی نظام کا حصہ بن جاتا ہے یا لکھبیر سنگھ کی طرح واپس پلٹنا چاہے تو بھی اسے پلصراط پر چلتے رہنا پڑتا ہے۔

ان حالات میں میری گزارش ہے کہ طالبعلموں کو سب سے پہلے اپنے ذاتی حالات دیکھ کر ہوش میں رہنا چاہئے اور اپنی پہلی و آخری ذمہ داری اپنی تعلیم اور اپنا مستقبل بنانے تک محدود رکھنی چاہئے بصورت دیگر آپ اس نظام کی کایا تو کبھی نہیں پلٹ سکیں گے البتہ اس ڈرامے میں قیدی، مردہ یا گینگسٹر بننے کا کردار بڑی آسانی سے نبھا سکتے ہیں، طلبہ تنظیموں کے تمام نعروں کی یہی اصل حقیقت ہے باقی سب لولی پوپس ہیں، پھر بھی کسی نے اس راہ پہ چلنا ہو تو اپنے انجام کو مدنظر رکھ کے قدم اٹھائے۔

یہ بھی پڑھیں: یہودیوں کی یونیورسٹیوں میں انقلاب انقلاب ۔۔۔۔۔۔۔۔ آصف محمود
(Visited 1 times, 8 visits today)

About Author

لالہ صحرائی: ایک مدھم آنچ سی آواز، ایک حرفِ دلگداز لفظوں کے لشکر میں اکیلا۔ "افسانوی ادب، سماجی فلسفے اور تحقیقی موضوعات پر لیفٹ، رائٹ کی بجائے شستہ پیرائے میں دانش کی بات کہنے کا مکلف ہوں، بجز ادبی و تفریحی شذرات لکھنے کے اور کوئی منشور ہے نہ سنگت"۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: