خشونت سنگھ کی باتیں‎ ——– سلیم عاصمی

0

خشونت سنگھ کا مطالعہ اور پھر ترجمہ کرنے کی وجہ ان کی تحریروں کا خلوص ہے جس نے خشونت کو اپنے دور بلکہ آنے والے دور کا بھی مقبول ترین مصنف بنایا ہے۔
خشونت برصغیر کی موجودہ تاریخ کے اہم ترین واقعات بشمول تقسیم ہند اور قیامِ پاکستان کے عینی شاہد ہیں۔ وہ واشگاف انداز میں پاکستان کے ہمدرد ہیں، لیکن ایک نادان دوست کہلانے کو تیار نہیں۔ وہ ان الجھے ہوئے مسائل کو موضوع بناتے ہیں جو ہمارے ہاں شجرِ ممنوعہ قرار پا چکے ہیں۔ خشونت انسان دوست ہیں، انسانوں سے محبت کرتے ہیں اور ان پر شوق سے لکھتے ہیں۔۔۔ اور اس بات کو کم تر درجے کی چیز نہیں سمجھتے۔
ہم نے ایک سیریز کی شکل میں ’خشونت سنگھ کا پاکستان‘ کے عنوان سے انکے کچھ مضامین کا ترجمہ کیا ہے۔ سلیم عاصمی کے خشونت سنگھ پر لکھے گئے اس مضمون کا ترجمہ و تلخیص دانش کے قارئین کے لئے پیش خدمت ہے۔  شریف اعوان


خشونت سنگھ کے اپنے وطن بھارت میں اسے پاکستانی ایجنٹ کہا گیا۔ ۱۹۷۱ء کی پاک بھارت جنگ میں اس کے گھر پر حملہ ہوا اور کھڑکی دروازے توڑ دیئے گئے۔ جنگ کے آخر میں جب خشونت سنگھ نے پاکستانی قیدیوں کی رہائی کے لیے دستخطی مہم شروع کی تو اس کے خلاف ایک ہنگامہ کھڑا ہو گیا۔ اسے حکومت اور مختلف گروہوں کی تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کے بعد آج تک خشونت سنگھ راشٹریہ سیوک سنگھ، جن سنگھ اور مہا سبھائی گروہوں کی نفرت اور تنقید کا شکار ہے۔

ساتھ ہی ساتھ پورے ہندوستان میں اس کی عزت ہے اس کے دوست معترف ہیں۔ دشمن دار ہے، اس کے دشمن اس سے خائف رہتے ہیں۔ اُسے وہ تیسری دنیا کے ان چند ادیبوں میں سے ہے جو پوری دنیا میں جانے جاتے ہیں۔ پوری دنیا میں اس کی کتابیں چھپ چکی ہیں۔ ایک صاحبِ طرز ادیب کی حیثیت سے اُس نے جو پوری دنیا میں جانے جاتے ہیں۔ پوری دنیا میں اس کی کتابیں چھپ چکی ہیں۔ ایک صاحبِ طرز ادیب کی حیثیت سے اُس نے جنوبی ایشیا کے نوجوان کہانی کاروں کی ایک پوری نسل کو متاثر کیا ہے۔ اُسے ادب و فنون لطیفہ کی خدمات کے اعتراف کے طور پدما بھوشن بھی ملا جو کہ بھارت کا سب سے بڑا سول ایوارڈ ہے۔ یہ انڈیا پاک فرینڈ شپ سوسائٹی کا صدر ہے۔ یہ ہے ہمارا سب کا محبوب دوست سردار خشونت سنگھ۔ مدیر السٹریٹ ویکلی۔

خشونت سنگھ مرد ہزار شیوہ ہے۔ قائد اعظم محمد علی جناح کی شخصیت پر ہونے والی بین الاقوامی کانگریس میں شرکت کے لیے وہ ایک ہفتے کے لیے راولپنڈی میں تھا۔ اس موقع پر وہ پسندیدہ ترین مندوب تھا۔ ہر وقت اپنے پاکستانی مداحوں میں گھرا رہتا تھا۔ کبھی کبھی وہ ایسے جذباتی پاکستانیوں میں بھی گھر جاتا جو اسے طبقاتی منافرت میں کھینچنا چاہتے تھے۔ خشونت سنگھ نے کانگریس کے دوران قائد اعظم محمد علی جناح کی شخصیت پر ایک مبسوط مضمون پڑھا۔ وہ بانیٔ پاکستان کا بڑا مداح ہے۔ یہاں آنے سے پہلے اس نے اپنے میگزین میں بانیٔ پاکستان کی زندگی اور خدمات پر ایک خصوصی شمارہ بھی ترتیب دیا۔ جس کی کور سٹوری اُس نے خود لکھی۔ اس مضمون کو اس موقع پر ملی جلی پذیرائی ملی۔ شریک مہمانوں نے اسے گھیر لیا اور ایسے عمدہ مضمون پر مبارک باد پیش کی۔ لیکن خشونت سنگھ کی بات ہی کچھ اور ہے اس نے اپنے والد کا جملہ بولا۔

’’ربا سکھاں نوں جناح کیوں نئیں دتا؟‘‘

یہ جملہ اُنہوں نے کانگریس اور مسلم لیگ کے تنازعے پر کہا تھا۔ قائد اعظم کے لیے اس سے بڑا خراج تحسین کیا ہو سکتا تھا۔

پھر بھی کچھ جذباتی پاکستانیوں کی تشفی نہ ہوئی۔ اُنہوں نے خشونت سنگھ پر اعتراض کر ڈالا کہ اُس نے Two Nation Theory کو تسلیم کیوں نہیں کیا۔ اس نے سنجیدگی سے کہا، ہاں میں یہ تو کر سکتا تھا مگر یہ بددیانتی ہوتی۔ یہ خود میرے لیے اور بھارت کے دس کروڑ مسلمانوں کے لیے بھی پریشانی کا باعث ہوتی۔

اس قسم کے گھیرائو سے آپ کو مسئلہ تو ہوتا ہو گا؟ میں نے پوچھا، تو خشونت سنگھ کا کہنا تھا: نہیں میں اس سے بڑی تکلیف دہ باتوں کا عادی ہو چکا ہوں۔ مہاسبھائی اور جن سنگھی وہاں پر بھی میرے پیچھے پڑے رہتے ہیں۔

پاکستانی جنگی قیدیوں کی رہائی کے لیے آپ نے مہم چلائی۔ ہم پاکستانی آپ کے احساس مند ہیں لیکن یہ بتائیے کہ اس ساری مہم کا کوئی نتیجہ بھی نکلا؟

’’یہ ایک فرد واحد کی کوشش تھی جس نے ہزاروں لوگوں کے دستخط لیے جن میں دانشور، عوام الناس اور سیاسی لوگ بھی شامل تھے۔ حکومت کو بہت غصہ آیا۔ ہماری وزیر اعظم نے مجھے بُلا بھیجا میرے ساتھ خواجہ غلام عباس اور کرشن چندر کے علاوہ کئی افراد بھی تھے۔ وزیر اعظم بہت طیش میں تھیں وہ روکھے انداز سے کہنے لگیں۔ خشونت سنگھ جی آپ ایک ایڈیٹر تو ہوں گے لیکن آپ کو سیاست کی ذرا بھی خبر نہیں ہے۔۔۔ میں بول پڑا: میڈم پرائم منسٹر، آپ درست فرماتی ہیں مجھے سیاست کا علم تو نہیں ہے لیکن میں اخلاقیات کو بہت خوب سمجھتا ہوں۔۔۔ مسز گاندھی باقاعدہ غصے میں تھیں کہنے لگیں: ’’اچھا ٹھیک ہے حضرات میں نے عزت و احترام کے ساتھ آپ کی بات سن لی ہے‘‘۔۔۔ ملاقات وہیں پر ختم ہو گئی۔

لیکن اس کے ساتھ ساتھ مجھے لاتعداد پڑھے لکھے اور بااثر بھارتیوں کی حمایت حاصل تھی۔ حتیٰ کہ جگجیت سنگھ اروڑا نے بھی میری حمایت میں لکھا۔ میں نے لا تعداد خطوط لکھائے جو کہ بھارت کے تمام طبقات سے آئے تھے۔ یہ بڑی حوصلہ افزا بات تھی۔ دستخطی مہم کے علاوہ بھی میں نے جنگی قیدیوں کے معاملے میں انسانی پہلوئوں کو ہر طرح سے اُٹھایا۔ مضامین لکھنے کے علاوہ میں نے قیدیوں کے اہلِ خانہ کے فوٹو اور تاثرات بھی چھاپے جس کا عوامی رائے سازی پر بہت اچھا اثر پڑا۔

آپ کے خیال میں دونوں ملکوں میں موجودہ مفاہمت کی رفتار مناسب ہے؟

’’یہ بہت افسوس ناک حد تک کم ہے۔ پھر بھی میں یہ سمجھتا ہوں کہ دونوں ملکوں کے بیچ بہت کچھ ہو سکتا ہے۔ مثلاً اخبارات و جرائد کا تبادلہ میں خود تو ہمیشہ سے پاک بھارت دوستی کا حامی ہوں۔ اور مجھے یہ یقین ہے کہ ہر کسی کے حق میں اچھا ہے۔ دوستی کا یہ رشتہ جتنا جلدی ہو سکے اسی قدر بہتر ہے۔‘‘

یہ بھی کہا جاتا ہے کہ آپ نے پاکستان کی اس وقت حمایت کی تھی جبکہ اس کا قیام بھی عمل میں نہ آیا تھا۔ تو پھر آپ دو قومی نظریے کی مخالف کیوں کرتے ہیں۔

’’ہاں یہ درست ہے کہ میں نے ۱۹۴۶ء کے اوائل میں پاکستان کی حمایت کی تھی لیکن، میرے لیے تو یہ سدھا برصغیر کے مسلمانوں کے حق خود ارادیت کا مسئلہ تھا۔ میں دنیا کے کسی بھی عوام کا حامی ہوں جو ایک وطن کے طالب ہوں۔

ہماری گفتگو ختم ہونے کو تھی کہ ڈاکٹر عالیہ امام پہنچی اُس نے خشونت سے ہاتھ ملایا اور کہنے لگی ’’آپ نے مجھے پہچانا؟

خشونت نے اپنی یادداشت پر زور دیتے ہوئے کھسیانے انداز میں کہا ’’میرا خیال ہے میں بوڑھا ہو گیا ہوں کہ آپ جیسی عمدہ خاتون کو بھی پہچان نہ پایا۔‘‘ ڈرامہ نویسی اور کالم نگار منو بھائی بھی موجود تھے، اُنہوں نے مداخلت کرتے ہوئے عالیہ امام کا تعارف کروایا۔ عالیہ امام نے اپنے مخصوص انداز میں سیاست پر بات کرنا شروع کر دی۔ خشونت سنگھ بحث کے موڈ میں نہ تھا۔

عالیہ پوچھنے لگی ’’آج شام آپ کی کیا مصروفیت ہے؟‘‘ خشونت سنگھ بولا ’’کچھ نہیں‘‘

عالیہ کہنے لگی ’’چلو میں آپ کو کھانے پر لے چلتی ہوں۔‘‘ پلک جھپکتے میں خشونت سنگھ کی ساری بشاشت اور چہچہاہٹ لوٹ آئی۔

یہ تھا میرا دوست۔۔۔۔۔۔۔ پرانا پاپی۔۔۔۔۔ خشونت سنگھ۔

اس سلسلہ کا پہلا مضمون فیض احمد فیض‎ ——– خشونت سنگھ ملاحظہ کریں۔

(Visited 1 times, 3 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: