سوچ کی عبادت اور رب کی سنت

0

 رب کائنات کی سنت ہمیں اپنے اردگرد نشانیاں دکھا دکھا کر اپنا آپ ظاہر کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ گھومتے سیارے، پھیلتی کہکشائیں، لرزتے ایٹمی زرات، بہتی ندیاں، سمندری جوار بھاٹے، مقناطیسی میدان کی بدلتی کونجتی لہریں، غرضیکہ کہ اس معلوم و مشہود کائنات کی کوئی چیز جامد نہیں۔ ہر لحظہ بدلتی کائنات، گذرتے وقت، اور پل پل تبدیل ہوتے دلوں کی دنیا میں ہم ایک ساکت و جامد نظریے کو علم سمجھ بیٹھتے ہیں۔

جو لوگ سائنس میں کسی بات کو حرف آخر سمجھے بیٹھے ہیں، اور جو لوگ مذہب کی ایک ہی تشریح پر مصر ہیں، دونوں ایک جامد اور متروک علم پر بضد ہیں۔

سائنس کے اصلی شناور ہر پل مان رہے ہیں کہ اس کائنات کا ہر اصول اپنے ساتھ ایک تحیر ، ایک راز، ایک استثنا لیکر چلتا ہے۔ تو ایک ایسے دین، جو سب زمانوں کے لیے ہو، کے شارح محض ایک زمانے تک محدود کیسے رہ سکتے ہیں۔ ایک ایسا نبی ﷺ جو علم کی معراج تک پہنچا ہو، اسکے پیروکار کائناتی اصولوں کی طرف منہ موڑ کر تختہ حقیقت پر لکھی عبارت کیسے پڑھ سکتے ہیں؟

انسانی جسم میں موجود خلیے صرف سات سال کے عرصے میں مکمل نئے خلیوں کے ساتھ تبدیل ہو جاتے ہیں۔ بڑے کینوس پر دیکھیں تو انسانوں کی نسلیںاور حیوانات و نباتات بھی اپنا دور مکمل کر کے نئے زمانوں کے لیے جگہ خالی چھوڑ جاتے ہیں۔ اس سے زرا وسیع تناظر میں سوچنے چلے جائیں تو سیارے، ستارے، بنتے اور معدوم ہوتے نظر پڑتے ہیں۔ ابھی تک انسانی مشاہدے میں آنے والی کائناتوں پر نظر دوڑائیں تو وہ ہر آن سانس لیتی، گھٹتی بڑھتی اور کسی اگلے پڑاؤ کو جاتی معلوم ہوتی ہیں۔ 

تو کیا انسانی سوچ ہی وہ واحد مقام ہے کہ رب تخلیق اسکو روک لگانا چاہتا ہے؟ اگر ایسا ہوتا تو اپنے کلام میں جہاں وہ اپنے بندے سے مخاطب ہوتا ہے، وہ بار بار تفکر کی دعوت کیوں دیتا۔ اپنی تخلیقات کے نام لے لے کر انسانی سوچ کو اس جانب متوجہ کیوں کرتا؟ 

سوچتے اور غوروفکر کرتے جائیے کہ آپ کو اور اس کائنات کو بنانے والا رب زبان تخلیق سے آپ کو سوچنے کی دعوت دے رہا ہے۔ سوچنے، غوروفکر کرنے، اور سوچ کے بہتے رہنے سے علم ملتا ہے۔ اور ساکت و جامد ہونے سے محض موت۔ 

 

About Author

محمودفیاض بلاگر اور ناول نگار ہیں۔ انکے موضوعات محبت ، زندگی اور نوجوانوں کے مسائل کا احاطہ کرتے ہیں۔ آجکل ایک ناول اور نوجوانوں کے لیے ایک کتاب پر کام کر رہے ہیں۔ اپنی تحریروں میں میں محبت، اعتدال، اور تفکر کی تبلیغ کرتے ہیں۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: