عثمان بزدار: اپنی خوشی سے آئے نہ اپنی خوشی چلے

0

(ایک اشتہاری کی باتیں)

دلی کے آخری ظلِ الہی، خلد آشیانی (لیکن اس سے پہلے رنگون مکانی) بہادر شاہ ظفر اپنے محل میں استاد ابراہیم ذوق کے ساتھ شعری گتھیاں سلجھانے میں مصروف ہیں۔ دوسری طرف سرکار انگلیشیہ ان کی دست برداری اور قیدوبند کے لئے پُرکارو ریا کار منصوبہ ترتیب دے رہی ہے۔ پوری سلطنت کے وجود کا قافیہ تنگ ہو رہا ہے مگر مغل شاہی کے آخری فرماں روا اور پہلے باضابطہ شاعر بہادر شاہ ظفر اپنے استاد کے ساتھ شعری اوزان تول رہے ہیں۔ اس دوران ایک شہزادہ کورنش بجاتے ہوئے داخل ہوتا ہے اور ایک رقعہ بہادر شاہ ظفر کو دے کر واپسی کی راہ لیتا ہے۔ اتنی جلدی آنے اور پھر جانے پر کچھ کہا جاتا ہے جس پر شہزادہ آداب شاہی اور مزاجِ ظفری کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے کہتا ہے:

اپنی خوشی سے آئے نہ اپنی خوشی چلے

بہادر شاہ ظفر شہزادہ کے جانے کے بعد استاد سے اس جملے پر جو کہ بھرپور مصرعہ ہے کلام کی فرمائش کرتے ہیں۔ اب بادشاہی چاھے دلی کے محل تک ہی محدود کیوں نہ رہ گئی ہو اور اس ابتلا کے دور میں بھی بادشاہ شعر وسخن سے غافل نہ ہو تو پھر اتنا تو حق بنتا ہے کہ بات ٹالی نہ جائے۔ ویسے بھی استاد ذوق کو کون سے لشکر کی سپہ سالاری دی گئی تھی جس کام پر رکھا گیا تھا وہ تو کرنا ہی تھا۔
استاد رواں ہوتے ہیں، غزل ہوتی ہے جو آج بھی ذوق سے پڑھی جاتی ہے۔

لائی حیات آئے، قضا لے چلی چلے
اپنی خوشی سے آئے نہ اپنی خوشی چلے

غزل کا یہ مطلع پہلے دلی اور اب وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی سیاسی زندگی کو وزارتِ اعلیٰ سے مائل بہ غروب کرنے کی سرخی بنتا جا رہا ہے۔

محسن بھوپالی کا یہ شعر پاکستانی سیاست میں ضرب المثل کی حیثیت اختیار کر چکا ہے:

نیرنگیِ سیاست ِ دوراں تو دیکھئے
منزل انہیں ملی جو شریک ِ سفر نہ تھے

2001 میں مسلم لیگ (ق) سے سیاسی زندگی کی اننگ کھیلنے والے عثمان بزدار ق والوں کے کاندھوں پر بیٹھ کر ڈسٹرکٹ ناظم تونسہ شریف بنے اور 2008 تک اس پر متمکن رہے۔ بعد ازاں سناہے وہ فارورڈ بلاک کا حصہ بن گئے لیکن کچھ واقفان ِحال کہتے ہیں کہ وہ 2011 تک مسلم لیگ (ق) میں رہے۔ یہاں ایک بات تو ثابت ہوتی ہے کہ مزاج وہی روایتی سیاست دانوں والا ہے کہ جب تک اقتدار ہے ہم ساتھ ہیں۔ 2013 میں ہوائوں کا رخ دیکھا تو مسلم لیگ (ن) کے ہولئے اور پہلی بار صوبائی اسمبلی کی ایک نشست پر جا بیٹھے۔

2018کے انتخابات قریب ہوئے تو عثمان بزدار مسلم لیگ (ن) سے دور ہونے کے لئے پر تولنے لگے۔ جنوبی پنجاب کے سیاسی طبقہ اشرافیہ نے پھر جنوبی پنجاب میں عوام کے ساتھ ناانصافیوں کا راگ الاپا اور جنوبی پنجاب صوبہ محاذ کھول دیا۔ عثمان بزدار فوراً اس گاڑی میں سوار گئے۔ تحریک انصاف نے عوام کے دکھ میں مبتلا ان سیاسی خانہ بدوشوں کو گلے لگایا اور ایک دن جنوبی پنجاب صوبہ محاذ تحریک انصاف میں ضم ہوگیا۔انتخابات ہوئے اورعثمان بزدار صوبائی اسمبلی کے دوبارہ رکن بن گئے۔

پنجاب کی وزارت ِ اعلیٰ کے لئے کون کون کب سے اور کس کس طرح کوششوں میں لگا تھا۔ کوئی پانی کی طرح پیسہ بہا رہاتھا۔ کوئی اپنی وفاداری کے لئے ہر جتن کر رہاتھا۔ جس کو دیکھو پارٹی سربراہ عمران خان سے ملنے دوڑا چلا جا رہا ہے اورآ تے ہی اقتدار کے مرض میں مبتلا ہونے کی خاطر اپنی مرضی کی خبریں اور ٹاک شوز میں پھلجڑیاں چھڑوا رہا ہے۔ عمران خان مل سب سے رہے تھے مگر دل میں کیا ہے۔ وہ کسی کو نہیں بتا رہے تھے۔ ایک دن عثمان بزدار کو بلایا۔ انٹرویو لیا اور واپس بھیج دیا۔ یہ بھی خاموشی سے آکر بیٹھ گئے۔

17اگست2018کو عمران خان نے وزارت اعلیٰ کا قرعہ عثمان بزدار کے نام نکال دیا۔اس خبر پر اپنے تو اپنے غیر بھی حیران تھے۔ شنید ہے کہ عثمان بزدار کو لانے میں عمران خان کو گھرسے بھی غیبی اشارے کا بتایا گیا تھا۔ اس لئے ہم بلا شک وشبہ کہہ سکتے ہیں کہ:

اپنی خوشی سے آئے نہ۔۔۔

بہت سمجھایا گیا کہ ابھی شہباز شریف وزارت کی جو لمبی اننگ کھیل کر گئے ہیں اور تمام تر تنقیدکے باوجود ان کے چوکے چھکے پنجاب خاص کر لاہور شہر میں نظر آتے ہیں۔ یہ ابھی بہت نئے کھلاڑی ہیں۔ ڈسٹرکٹ لیول سے آگے ان کی روڈ جاتی ہی نہیں ہے، انہیں پنجاب کا کپتان بنانا سیاسی خود کشی سے زیادہ کچھ نہیں۔ لاہور مسلم لیگ (ن) کا ہوم گرائونڈ ہے، یہاں قدم قدم پر ان کے چاھنے والے موجود ہیں۔ سیاست میں اپنے کام کے لوگوں کو نواز کر وہ ہر جگہ، ہر مقام پر قدم جمائے اور دانت گاڑے بیٹھے ہیں۔ سب نیک و بد سمجھا یا گیا مگر عمران خان نے ایک قدم آگے بڑھ کر عثمان بزدار کو وسیم اکرم پلس کہہ کر بات ہی ختم کردی لیکن یہ عمران خان کا خیال تھا۔ کھیل اب شروع ہوا تھا۔ یہ پنجاب کی سیاست کے واحد وزیر اعلیٰ ہیں کہ جن کو اپنی پارٹی لے لوگ روزِ اول سے لاہور بدر کرنے کے چکر میں لگے ہیں اور مخالفین چاھتے ہیں کہ وہ وزارت پر رہیں۔ کپتان اور اوپننگ بیٹسمین ہی جب ہلکا ہوگا تو ٹیم کا مورال کیا رہے گا، اسکور بورڈ پر کیا لکھا ہوگا اور ہوا بھی یہی۔

وزیر اعظم عمران خان ڈٹے رہے مگر اب صورتِ حال تبدیل ہو رہی ہے. ایک جلسہ میں انہوں نے پنجاب اورکے پی کے میں بیٹنگ آرڈر تبدیل کرنے کی خبر سنا دی ہے۔

صورت ِ حال تو شروع دن سے مسلم لیگ(ق) کے رحم و کرم پر ہے۔ سب جانتے ہیں کہ پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کی 166 جبکہ تحریک انصاف کی 181 نشستیں ہیں۔ حکومت بنانے کے لئے 185ووٹوں کی ضرورت تھی۔ اگر مسلم لیگ(ق) 10 کی گنتی پوری نہ کرتی تو تحریک انصاف پنجاب کی وزارت اعلیٰ کا منہ دیکھتی رہ جاتی۔ پچھلے دنوں مولانافضل الرحمن کے دھرنے کو لپیٹنے میں اہم کردار چوہدری پرویز الہی کا رہا ہے۔ مولانا فضل الرحمن اتنی آسانی سے ماننے والے نہیں تھے۔ وہ تو کچھ کئے بنا محنتانہ وصول کر لیتے ہیں۔ اس بار تووہ زندگی میں پہلی بار 73″کے آئین کے تناظرمیں” میں تن تنہا باہر نکلے تھے جس کی وہ آنے والے وقتوں میں اچھی خاصی قیمت وصول کریں گے جس کی پہلے قسط کے BENEFICIARY میں پرویز الہی کا نام ِ نامی بھی سننے میں آرہاہے۔

سیاسی تجزیہ نگار تو یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ عثمان بزدار کی روانگی کے بعد قرعہ فال چوہدری پرویز الہی کے نام نکل سکتا ہے۔ وجوہات کوئی ایک نہیں۔پنجاب کے وزیر اعلیٰ رہ چکے ہیں۔ بیورکریسی کے حربوں کو جانتے ہیں۔ سیاست میں کہاں سونے کا نوالہ کھلانا ہے اور کہاں شیر کی نظر سے دیکھنا ہے۔ ان کے سیاسی اوصاف حمیدہ میں شامل ہیں۔ حکومتی جماعت کے لئے یہ سب قبول کرنا اتنا آسان نہیں۔ اسمبلی میں 181 نشستوں اور اپنے لوگوں کی طویل فہرست ہوتے ہوئے پوری پلیٹ کسی اور کو دے دینا کہاں کی سیاست ہے؟ پارٹی سے اس وقت علیم خان مضبوط امیدوار ہیں۔ نام تو ڈاکٹر یاسمین راشد کا بھی سننے میں آرہا تھا۔ عمران خان دوسری بار بھی جنوبی پنجاب کی طرف دیکھ رہے ہیں اور نظر انتخاب پڑ رہی ہے پنجاب کے وزیر ہاشم جواں بخت پر جو کہ وفاقی وزیر خسرو بختیار کے بھائی ہیں۔

وزیر اعلیٰ کی تبدیلی کا یہ عمل ہو جانے پر یہی کہا جاسکتا ہے کہ دوسروں کے تجربہ سے فائدہ اٹھانے کے لئے بھی تجربہ کی ضرورت ہوتی ہے جو سیاست میں بہت ضروی ہے۔عثمان بزدار کو نہ تو وزارت میں لاتے وقت پوچھا گیا اور جب ان کی روانگی کی بوگی پلیٹ فارم پر آلگی ہے تو کوئی ان کی طرف پلٹ کے بھی نہیں دیکھ رہا ہے۔ جب یہ بے دست و پائی ہوگی تو یہی کہا جائے گا:

اپنی خوشی سے آئے نہ اپنی خوشی چلے

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: