سمارٹ فون کا انتخاب کیسے کریں —— طلحہ سہیل فاروقی

0

آج کل جہاں آئے دن کوئی نہ کوئی کمپنی اپنی دانست میں ایک بہترین سمارٹ فون متعارف کروا رہی ہے تو وہاں  عام صارف کے لئے یہ فیصلہ کرنا بھی مشکل سے مشکل تر ہوتا چلا جا رہا ہے کہ وہ کس فون کا انتخاب کرے؟ سمارٹ فونز کے اس سیلابی دور میں سب سے ذیادہ پوچھا جانے والا سوال یہی ہے کہ کون سا موبائل فون خریدنا چاہیئے اور اس ضمن میں کن باتوں کو مدنظر رکھنا ضروری ہے؟

اس  مضمون میں انہی سوالات کو زیر بحث لایا گیا ہے کہ ایک مخصوص رینج میں رہتے ہو ئے اگر موبائل کے انتخاب کا مرحلہ درپیش ہو تو کن فیچرز کو ترجیح دینی چاہیے اور کن کو نظرانداز کیا جا سکتا ہے۔

سب سے پہلے جس بات کا خیال رکھنا ضروری ہے وہ یہ ہے کہ جہاں تک ممکن ہو سکے کسی بھی کمپنی کی فلیگ شپ سیریز کو ہی ترجیح دیں۔ فلیگ شپ سیریز کسی بھی کمپنی کی پریمیئم  لائن اپ کو کہتے ہیں جیسا کہ سامسنگ کی ایس سیریز اور نوٹ سیریز، واوے (ہواوے) کی میٹ سیریز، ون پلس کی ٹی سیریز اور سونی کی ایکسپیریا وغیرہ۔ ایسی سیریز میں ہر کمپنی اپنی حد تک سب سے بہترین ہارڈوئیر اور سافٹ وئیر کا کمبینیشن دیتی ہے۔

بنیادی طور پہ کسی بھی سمارٹ فون کے سات  اہم  فیچرز ہو سکتے ہیں ۔ اس کے علاوہ باقی کمپونینٹس یا فیچرز ثانوی درجے میں آتے ہیں۔

ان میں سب سے پہلا نمبر سمارٹ فون کے سافٹ وئیر یعنی آپریٹنگ سسٹم کا ہے۔ دنیا میں اس وقت دو آپریٹنگ سسٹم اینڈورائیڈ (گوگل) اور آئی او ایس (ایپل) کے فونز دستیاب ہیں ۔ آئی فون کے علاوہ تمام سمارٹ فونز اینڈورائیڈ آپریٹنگ سسٹم کو استعمال کرتے ہیں۔ لہذا اس سلسلے میں صارف کو سب سے پہلے اس بات کا فیصلہ کرنا ہے کہ وہ کس ایکو سسٹم کو استعمال کرنا چاہتا ہے۔ اگر تو صارف کو آپریٹنگ سسٹم سے کوئی سروکار نہیں ہے تو آئی او ایس (ایپل) سمارٹ فون  پھر ایک ہی صورت میں قابل موازنہ ٹھہرے گا جب صارف کی قوت خرید اسے اجازت دے۔ اس حوالے سے عام طور پہ کم قوت خرید کے حامل صارفین  کے لئے آئی فون مناسب آپشن نہیں ہے چاہے پرانا ماڈل نسبتا سستا ہی کیوں نہ مل رہا ہو۔اسے کسی بھی کمپنی کا اینڈورائیڈ موبائل فون خریدنا چاہئے  مگر یہاں بھی اسے فلیگ شپ سیریز کو ہی فوقیت دینی چاہیے۔

دوسرے نمبر پر کسی بھی موبائل کا سب سے اہم کمپونینٹ اس کا پراسیسر ہوتا ہے۔ بنیادی طور پہ کسی بھی موبائل کی پرفارمنس کا انحصار اس کے پراسیسنگ یونٹ پر ہوتا ہے۔ اس وقت دنیا میں سب سے ذیادہ استعمال ہونے والے پراسیسرز کوالکم نام کی امریکی  کمپنی کے ہیں۔ ایپل کے علاوہ دنیا کی ہر کمپنی کوالکم کے پراسیسرز کو استعمال کرتی ہے۔ گو کہ سام سنگ، واوے سمیت چند اور کمپنیز اپنے پراسیسرز بھی بناتی ہے اور ہر گزرتے دن کے ساتھ ساتھ وہ ان کا استعمال بھی اپنے نئے آنے والے فونز میں بڑھاتی چلی جا رہی ہیں۔ تادم تحریر ایک عام یوزر کو کم رینج میں رہتے ہوئے کوالکم سنیپ ڈریگن 835 اور درمیانی رینج میں رہتے ہوئے کم از کم سنیپ ڈریگن 845  کےبرابر یا اس سے بہتر پرفارمنس کا حامل پراسیسر والا فون خریدنا چاہیے۔ جبکہ اس کے مقابلے میں اس سال متعارف کروائے گئے تقریبا تمام کمپنیوں کی فلیگ شپ سیریز کے سمارٹ فونز میں کوالکم 755، واوے990 Kirin، سام سنگ 9825 Exynos یا ان کے برابر پرفارمنس دینے والے پراسیسرز کا ستعمال کیا گیا ہے۔دوسری طرف  ایپل نے اپنے آئی فون میں اے 13 بائینک چپ کا استعمال کیا ہے ۔ یاد رہے کہ ان تمام پراسیسنگ یونٹس کے حامل سمارٹ فونز تھوڑے بہت فرق کے ساتھ بہترین پرفارمنس دینے کے قابل ہوتے ہیں۔

تیسرا اہم فیچر فون میموری ہے ۔سمارٹ فونز میں دو طرح کی میموری جسے بالترتیب ریمRAM اور سٹوریج کہتے ہیں۔ یہاں ریم پراسیسنگ یونٹ کا ایک طرح سے حصہ  ہوتی ہے۔ فون کی پرفارمنس ریم کی کیپسٹی کے راست متناسب ہوتی ہے لیکن یہاں  پھر ایک مرتبہ کمپنی کے سافٹ وئیر کی پرفارمنس کا بہت ذیادہ دخل ہوتا ہےکہ وہ ریم کو کس طرح استعمال کرتا ہے۔ عام طور پر تمام اینڈورائیڈ فونز میں چار جی بی GB1 سے  بارہ جی بی12 GB  تک کی ریم دستیاب ہوتی ہے۔ عام صارف کے لئے کم اور درمیانی رینج میں رہتے ہوئے تین سے چھ  جی بی ریم والے فون کا انتخاب کرنا چاہئے۔

دوسری طرف سٹوریج میموری چونکہ چند موبائل فونز کے علاوہ تمام اینڈرائیڈ فونز میں میموری کارڈز کے ذریعے بآسانی بڑھائی جاسکتی ہے اس لئے اچھا موبائل کم سٹوریج کے ساتھ سستا خریدنا بنسبت زیادہ سٹوریج کے ساتھ کم کوالٹی والے سے زیادہ بہتر ہے۔

تیسرا اہم فیچر کسی بھی موبائل میں اس کا ڈسپلے ہے۔ OLED کے آنے سے پہلے تمام کمپنیز ایل سی ڈی ڈسپلے کا ہی استعمال کرتی تھیں۔ یہ ڈسپلے ابھی تک بہت سے موبائل فونز بشمول آئی فون 11 میں استعمال ہورہا ہے۔ یہ آئی پی ایس -ایل سی ڈی ڈسپلے ہے جو ایل سی ڈی ٹیکنالوجی کا سب سے پریمئم ورژن ہے۔ لیکن OLED کے آنے کے بعد ہر بڑی کمپنی نے اپنے فونز بالخصوص فلیگ شپ سیریز میں اس کا استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔ OLED سکرین والے فونز، ایل سی ڈی ڈسپلے والے فونزسے نسبتا مہنگے ہوتے ہیں۔ لیکن اگر آپ اچھی ریزولیوشن کے ساتھ آئی پی ایس -ایل سی ڈی والا فون لیتے ہیں تو آپ کو OLED کے مقابلے میں زیادہ فرق محسوس نہیں ہوگا۔ اس لحاظ سے یہ کہنا درست ہو گا کہ اگر کم قیمت کا فون خریدنا مقصود ہو تو ڈسپلے کو نظرانداز کیا جاسکتا ہے۔ ایک 720 ایچ ڈی ڈسپلے 4.7 انچ تک کے فونز میں بصری لحاظ سے ایک  عمدہ ڈسپلے ہے۔ یہاں یہ یاد رہے کہ 1080 سے ذیادہ ریزولیوشن کے حامل فونز اگر 4.7 انچ سے چھوٹے سائز کے ڈسپلے کے ساتھ آتے ہیں تو 720 اور 1080 والے دونوں ڈسپلے کے مقابلے میں ان کے بصری تاثر میں کوئی فرق نہیں ہوتا۔ انسانی آنکھ کے دیکھنے کی صلاحیت محدود ہے اور یہ ایک خاص سطح پہ جا کر زیادہ ریزولیوشن کے باوجود یکساں تاثر ہی دیتی ہے۔ علاوہ ازیں سکرین کا ریفریش ریٹ اور Number of Nits بھی ڈسپلے کی اہم خصوصیات ہوتی ہیں۔ سام سنگ، ایپل اور واوے سمیت تمام کمپنیوں کے فونز 60ہرٹز کے ریفریش ریٹ کے ساتھ آتے ہیں۔ البتہ مارکیٹ میں اس وقت چند کمپنیز (Asus, OnePlus, Oppo,Google) نے 90اور  120ہرٹز کے ڈسپلے کے ساتھ بھی فونزمتعارف کروائے ہیں۔ جنہیں بیٹری بھی ڈیڑھ سےدوگنا درکار ہوتی ہے۔

موبائل فون میں کیمرہ ایک اہم کمپونینٹ سمجھا جانے لگا ہے۔ موبائل کمپنیز عموما ذیادہ میگا پکسل دکھا کر اپنے فون کے کیمرے کو بہتر باور کروانے کی کوشش کرتی ہیں حالانکہ یہ سب اتنا سادہ نہیں ہے۔ کم میگا پکسل والا کیمرہ بعض اوقات زیادہ میگا پکسل والے کیمرے کی نسبت اچھا رزلٹ دے سکتا ہے۔ موبائل کیمرے کو استعمال کرنے کے لئے بھی آپ کو تصویر کشی کے بنیادی اصولوں سے واقف ہونا ضروری ہے۔ البتہ نسبتا مہنگے اور جدید فونز میں سافٹ وئیر کی مدد سے صارف کو کافی مددمہیا کی جاتی ہے جس کی وجہ سے فوٹو گرافی کے اصولوں سے نابلد شخص بھی ایک اچھی تصویر لے سکتا ہے۔ لیکن یہاں اس بات کو ذہن نشین کرنا ضروری ہے کہ فون کیمرہ کے دو بنیادی کمپونینٹ ہارڈ ویئر اور سافٹ وئیر ہیں۔ ہارڈ وئیر میں لینزکی استعداد اور معیار زیربحث ہوتا ہےجبکہ سافٹ وئیر اس لینز سے لی جانے والی تصاویر کو پراسس کرنے کے طریقہ کار سے متعلق ہوتا ہے۔ کئی مرتبہ ایک کمپنی اچھا لینز استعمال کرنے کے باوجود اچھا رزلٹ نہیں دے پاتی کیونکہ وہ سافٹ وئیر اور ہارڈ وئیر کی باہمی تعلق میں مار کھا جاتی ہے جبکہ اس کے برعکس دوسری کمپنی نسبتا سستا اور کم استعداد کا حامل لینز استعمال کر کے اپنے سافٹ وئیر کی عملا بہتر پرفارمنس سے اچھا نتیجہ دے سکتی ہے۔ ڈی ایس ایل آر وغیرہ کی نسبت موبائل فون کے کیمرہ کے رزلٹ میں سافٹ وئیر کا کرداد بہت ذیادہ ہوتا  ہے۔

موبائل فونز کا ایک اور اہم ترین فیچر اس کی بیٹری لائف ہے۔ سمارٹ فونز جس قدر ذیادہ خصوصیات کا حامل ہوگا اسے اتنی ہی الیکٹرک پاور بھی درکا ر ہو گی  جو کہ اسے بیٹری سے حاصل کرنی ہے۔ اچھی ریزولیوشن، ہائی سپیڈ نیٹ ورک، بہتر ساؤنڈ سسٹم اور ہائی فریم ریٹ ویڈیو ریکارڈنگ  کے لئے بیٹری بھی اسی تناسب سے درکار ہوتی ہے۔ مثال کے طور پہ اگر ایک  4.7ا انچ سکرین والے فون کی سکرین  ایچ ڈی ہو اور دوسرااسی سائز کا  فون 4K ریزولیوشن کے ساتھ ہو تو دونوں کا بصری تاثرتو  آپ کی آنکھ کے لئے یکساں ہو گا جبکہ بیٹری موخرالذکر کو ڈبل کے قریب درکا ر ہوگی ۔اس لئے بیٹری لائف کا اندازہ صرف اس کی کیپیسٹی (جو ملی ایمپئیر میں ماپی جاتی ہے) سے نہیں لگایا جا سکتا۔کسی فون کے ہارڈوئیر مختلف ہونے کی صورت میں اس کی  2500 ملی ایمپئر کی بیٹری یکساں استعمال کے باوجود دوسرے فون میں موجود 3500-3000 ملی ایمپئیر کی بیٹری کے برابر چل سکتی ہے۔

ساتویں نمبر پر نیٹ ورک کسی بھی موبائل کے لئے بنیادی حیثیت رکھتا ہے لیکن عام طور پہ یہ اس وجہ سے زیر بحث نہیں آتا کیونکہ  نیٹ ورک کی جنریشن روزانہ تبدیل نہیں ہوتی۔ کسی نئی جنریشن (جیسا کہ آج کل فائیو جی متعارف ہوئی ہے) کے آنے کے ایک دو سال کے دورانیہ میں تو اس کی بنیاد پہ فونز کا انتخاب کیا جاتا ہے لیکن بعدازاں  چونکہ ذیادہ تر موبائل میں نئی جنریشن کے نیٹ ورک کی سپورٹ مہیا کر دی جاتی ہے جیسا کہ آج کل کم قیمت فونز میں بھی فور جی نیٹ ورک استعمال کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔ جب 2014 سے پہلے تک ایسا نہیں تھا۔  اسی طرح آج کل چند موبائل فونزمیں ہی فائیو جی استعمال کرنے کی صلاحیت موجود ہے جو کہ اچھے خاصے مہنگے بھی ہیں جب کہ ایک دو سال کے بعد یہ سہولت عام اور سستے فونز میں بھی دستیاب ہو گی۔

اس کے علاوہ ساؤنڈ ،فاسٹ چارجنگ، کنکٹویٹی ٹائپ وغیرہ چند ثانوی فیچرز اور بھی ہیں لیکن بنیادی فیچرز وہی ہیں جن کی وضاحت اوپر کی گئی ہے۔

آخر میں ساری بحث کا  خلاصہ یہ ہے کہ اگر سب سےپہلی ترجیح نیٹ ورک اور پراسیسر، دوسرے نمبرپہ میموری اور پھر آخر میں بالترتیب بیٹری، کیمرہ، ڈسپلے، سٹوریج،  فاسٹ چارجنگ، کنکٹویٹی ٹائپ اور سپیکرز کو دیں تو آپ اپنی رینج میں رہتے ہوئے ایک اچھے فون کا انتخاب کر سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: میگا پکسل کا دھوکا: ۔۔۔۔۔۔۔۔ سجاد خالد
(Visited 1 times, 5 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: