مولانا ابوالکلام آزاد کی تحریریں:  نقد ونظرکی کسوٹی پر

0

 کسی بھی معاشرے میں شخصیات کے مطالعے کیلیے انکا تجزیہ انسانی لیول پر کیا جانا بہت ضروری ہوتا ہے تاکہ انکی شخصیت پرستی کے بجاے انکے اعلی اوصاف حقیقی تناظر میں سامنے لاے جاسکیں۔ دانش کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ مولانا ابوالکلام آزاد کی شخصیت پر ایک جامع تحقیق و تنقید کا آغاز یہاں سے ہو رہا ہے۔ یہ اس سلسلے کا پہلا مضمون ہے، ہر دو دن بعد ہم اس سلسلہ کی اگلی قسط شائع کرتے رہیں گے۔  زیر نظر مضمون شایع کرنے کا مقصد محض ایک علمی بحث کا آغاز ہے اور اگر کوئی صاحب اسکے جواب میں کچھ لکھنا چاہیں تو دانش کا پلیٹ فارم موجود ہے۔

کچھ عرصہ پہلے فیس بک پرمولانا ابوالکلام آزاد کے متعلق چند باتیں لکھنے کا اتفاق ہوا تھا جن میں مولانا آزاد کی تحریروں میں موجود تضادات کی نشاندہی کی گئی تھی۔ یہ تضادات سوالات کی صورت میں مولانا کے چاہنے اورماننے والوں کی خدمت میں پیش کیے گئے تھے اور انکے جوابات کا تقاضا کیا گیا تھا۔ مگرکہیں سے بھی تاحال کوئی جواب نہیں موصول ہوا۔ ہاں بعض باتوں کے حوالے سے مجھے تنقید کانشانہ ضروربنایاگیا۔ اب بھی جب کبھی فیس بک پر ابوالکلام کے حامیوں سے و اسطہ پڑتاہے تو وہ مولانا آزاد کے تضادات سے پہلوتہی کرتے ہوئے صرف مولانا آزاد کی رٹی رٹائی نام نہاد ’’پیش گوئیوں‘‘ کا ڈھنڈورا پیٹتے رہتے ہیں۔ چند دنوں سے بعض دوستوں کا تقاضا تھا کہ میں مولانا ابوالکلام آزاد سے متعلق اپنے بکھرے ہوے سوالات کو یک جا کر کے مفصل بیان کردوں۔ تاکہ کوئی صاحب ان کا جواب لکھنا چاہیں تو ان کے سامنے تمام باتیں رکھ دی جائیں۔ اسی بات کے مدنظرمیں نے مولاناآزاد کی تحریروں میں موجود تضادات اورنادرست بیانیوں کوسلسلہ وارمضامین کی صورت میں رقم کردیاہے۔ مولاناآزاد کے اپنے بیان کردہ کسی بھی واقعہ کاردعموماً انکی اپنی دوسری کسی تحریرسے کیا گیا ہے۔ کسی ناگزیروجوہ سے کسی دوسرے مصنف کی تحریرکا حوالہ دینا پڑا تووہ بھی دیاگیا۔ مولانا ابوالکلام آزاد کی جوکتب میرے پیشِ نظر رہی ہیں ان میں ’’تذ کرہ‘‘، ’’آزاد کی کہانی آزاد کی زبانی” بہ روایت عبدالرزاق ملیح آبادی، “آزادی ہند‘‘ شامل ہیں۔۔ یعنی “خطباتِ آزاد‘‘،’’غبارِخاطر‘‘ ’’خطوطِ آزاد” کوئی صاحب میرے دیئے گئے حوالوں کوچیک کرناچاہیں توانہیں زیادہ محنت نہیں کرناپڑیگی بس یہی چھ کتب اپنے سامنے رکھ لیں۔
سلسلہ مضامین کو پڑھنے سے پہلے میں ضروری سمجھتا ہوں کہ کچھ گزارشات پڑھنے والوں خدمت میں پیش کردوں اورامید کرتاہوں کہ جوصاحب اٹھائے گئے سوالات کاجواب دیناچاہیں گے یا مجھ پرتنقید کرناچاہیں گے توانہیں ضرورمدنظررکھیں گے۔ ان سوالات میں سے بعض سوالات واعتراضات ایسے بھی ہیں جومجھ سے پہلے بھی بڑے صاحبانِ علم بزرگوں نے اٹھائے تھے اوربعض سوال تو خود مولاناآزاد کی زندگی میں ہی اٹھاے جانے لگے تھے۔ مگرنہ توان کاجواب مولاناآزاد نے خود دیا اورنہ ان کے بعدان کے مریدین خاص کرغلام رسول مہر،عبدالمجید سالک یا شورش کاشمیری نے دینیکی کوشش کی۔ بعض باتوں کاجواب غلام رسول مہر نے دوتین مضامین میں دینے کی کوشش فرمائی جس کاذکراپنے مقام پرآئیگامگریہ جوابات کم اور سوالات اٹھانے والے فرد پرتنقیدزیادہ تھی۔ انہی تضادات کو سامنے رکھتے ہوے جب میں نے مولانا آزاد کی مذکورہ بالا کتب کامطالعہ کیا تو نہ صرف مولانا آزاد پر تنقید کرنے والے بزگوں کے بیانات کی تصدیق ہوئی بلکہ اور بھی کئی نئے انکشافات ہوے لٰہذا میں نے اپنے موجودہ سلسلہْ مضامین میں تمام نقات کو یکجا کر دیا ہے۔
مجھے مولاناابوالکلام آزا دسے نہ توکسی قسم کابغض ہے اورنہ ہی عناد۔ میں ایک زمانے میں مولانا کا زبردست مداح رہا ہوں ۔اوران کی تحریرکا آج بھی مداح ہوں خاص کر ’’غبارِخاطر‘‘ان کتابوں میں سے ایک ہے جسے میں نے باربارپڑھاہے۔ ان کی تحریرکاسحرآج بھی مجھ پروجدکی کیفیت طاری کردیتاہے۔ ان کی علمیت،ذہانت اورآزادی کی تحریک میں ان کی خدمات سے کون انکارکرسکتا ہے۔ میں مولاناماہرالقادری کے اس تبصرے سے بالکل متفق ہوں کہ “مولاناابوالکلام آزاد کی ذہانت وعبقریت اپنی جگہ مسلم ہے۔ کوئی شک نہیں وہ غیرمعمولی ذہین آد می تھے۔ اوروہ جومشہورکہاوت ہے کہ ’’ یک من علم را دہ من عقل باید‘‘تویہ ضرب المثل ان پرپوری اترتی ہے۔ مولاناآزاد تحریروتفسیرمیں اپناجواب آپ تھے۔ اپنے اندازِتحریر کے موجد بھی اورخاتم بھی۔ ہندوستان کی جنگِ آزادی میں وہ صفِ اول کے قائدین میں ممتازدرجہ رکھتے تھے۔ انگریزی عہد میں باربارجیل گئے اورقیدوبند کے شدائد ان کی علمیت پراثراندازنہ ہوسکے۔”مگراس سب کے باوجود تاریخ نویسی،اپنے اوراپنے خاندان کے حالات لکھتے ہوئے جسقدرغلواورتضاد بیانی انہوںنے کی اس میں بھی وہ اپنی مثال آپ ہیں۔ ایک جگہ کچھ لکھتے ہیں تودوسری جگہ اس کے الٹ،خودہی ایک بت بناتے ہیں اورخود اسے پاش پاش کردیتے ہیں۔ مولاناکے اس رخ پربھی جوتبصرہ مولاناماہرالقادری نے کیامیں اس سے متفق ہوں کہ “مولاناآزاد کی تمام خوبیوں کاہمیں اعتراف ہے مگران کی زندگی کے یہ کمزورپہلوبھی ہمارے سامنے ہیں کہ وہ اپنے بارے میں ،تعلیم وسفروغیرہ اوراپنے خاندان کے حالات جب بیان کرتے ہیں،تواس میں نہ صرف یہ کہ بیجامبالغہ سے کام لیتے ہیں بلکہ اس میں ’’ایجادبندہ‘‘کاخاصہ رنگ پیداکردیتے ہیں۔ انہیں اوراپنے خاندان کی تذکرہ نگاری کے فن میں وہ اپنے وقت کے’’واقدی‘‘ہیں۔ کاش مولاناآزادجیسا شخص اس مرض میں مبتلانہ ہوتا۔”
اگرچہ غلام رسول مہرصاحب نیمولاناآزاد کے تضادات کاجواب دینیکی کوشش فرمائی تھی مگروہ بنیادی اشکالات جومولانا آزادکی تحریروں نیپیداکردیئے تھے،سے صرف نظرکرگئے۔ لگتاہے ان کے پاس ان کے جواب تھے ہی نہیں۔ ان کاکہناہے کہ ’’بالفرض مولاناآزاد کے آباواجدادعلم وفضیلت کے مالک نہ تھے۔ کیا پاکستان وہند کے ہزاروں نجیب الطرفین سید یا نسب وخاندان کی برتری کے دوسرے استخوان فروش یاخود یہ محقق مل کراورمتحد ہوکر ’’الہلال‘‘، ’’البلاغ‘‘’’ تذ کرہ‘‘ ’’قولِ فیصل‘‘، ’’غبارِخاطر‘‘یا ’’ترجمان القرآن‘‘جیسی ایک بھی چیزپیدا کرسکتے ہیں۔ پھر ہمارے دورمیں حضرت علامہ اقبال اسلام کے بہت بڑے داعی اورترجمان تھے اور یہ معلوم ہے کہ ان کے جدامجد مشرف بہ اسلام ہوئے تھے۔ قائداعظم مرحوم کاخاندان بھی کچھ عرصہ پیشترمسلمان ہوا تھا۔ مولاناعبید اللہ سندھی مرحوم ومغفورخود دائرہ اسلام میں آئے۔ کیاکوئی شخص یہ جرات کرسکتا ہے کہ انکے کارناموں کی تحقیرکیلیے انہیں نومسلم قراردیاجائے۔ یقیناً شرف وعزت نسب وخاندان نہیں بلکہ ہرانسان کیحسنِ عمل اورذاتی کارناموں میں ہے” بجا ارشاد ہے۔ بلاشبہ مولاناآزاد کی عظمت ان کی اپنی قابلیت وذہانت اوران کے عمل کی وجہ سے ہے۔ پھرمولاناکواسلاف کے کارناموں اورخاندانی عزت وعظمت کے سہاروں کی ضرورت بھی نہیں۔ مگرکیاکیاجائیکہ خود مولانا اازاد نے ان ’’سہاروں‘‘،’’اضافوں‘‘اوران افسانوی واقعات‘‘کی ضرورت محسوس کی۔ اب یہ سہارے یا اضافے اگرتاریخ کی کسوٹی پرپورے نہ اتریں تواس میں ہمارا کیا قصور۔
۔ سوال ہوتاہے کہ مولاناابوالکلام آزاد پرہی یہ تنقید کیوں؟میں کہتاہوں مولانا اازا د پر کیوں نہیں؟ اسلامی تاریخ میں اہم سے اہم شخصیتوں اورمحترم سے محترم ہستیوں پرنقد واحتساب کا سلسلہ جاری رہا۔ مشاہیر کے حالاتِ زندگی،سفروسیاحت،تعلیم،تصانیف وتالیف کاجائزہ اوران پرنقد ونظر،کسی مورخ کی حاشیہ آرائیوں اورافسانہ طرازیوں پرتبصرے ہردورمیں ہوتے رہے۔ محدثین کی روایتوں کی صحت وعدم صحت کاتعین کیاجاتا رہا توپھرکیامولاناآزاد ہی کی شخصیت پوری امت میں ایسی منفرد،انوکھی اورمقدس ہے جن کی تحریروتقریر، تذ کرہ وحالات اوربیانِ واقعات پرنقد وتبصرہ گناہ ہے۔ وہ اپنے سفر،تعلیم، اسلاف کیحالات اورسیاسی مخالفین کے متعلق جوبھی بیان کردیں اس پرلب کشائی کی اجازت نہیں۔ مولاناابوالکلام آزاد جوکچھ اپنے قلم سے خودلکھ دیں یاان کی زبانی دوسرے لوگ اپنی کتابوں میں بیان کردیں ان کودرست ہی ماناجائے۔ اگرمولاناکے اپنے بیانات میں تضاد ہویا واقعات کی تصدیق دوسرے ذرائع نہ کریں تواس کا قلم سے اظہارنہ کیاجائے۔

مولانا آزاد کی اوپردی گئی چھ کتابوں میں سے دو’’آزاد کی کہانی‘‘اور ’’آزادی ہند‘‘ باقی کتب سے مختلف ہیں۔ یہ کتب مولانا آزاد نے اپنے ہاتھ سے نہیں لکھی تھیں بلکہ مولانا نے انہیں اپنے ساتھیوں کو املا کرایا تھا۔ پھر یہ کس طرح مولاناکی ہیں ذرااس کاتذکرہ بھی ضروری ہے۔ کیونکہ کل کلاں کسی صاحب سے میرے ان کتابوں کے دیئے گئے حوالوں کاجواب نہ بن پڑے تووہ اس سے انکاری ہی نہ ہوجائیں۔
الف) ’’آزاد کی کہانی‘‘بہ روایت عبدالرزاق ملیح آبادی کے متعلق عبدالرزاق ملیح آبادی رقم طراز ہیں “اازاد کی کہانی” کی شانِ نزول یہ ہیکہ 1921 میں ہم سب جیل کے چرند پرند بن چکے تھے۔ جیل کی عجیب زندگی کووہی سمجھ سکتے ہیں جوجیل میں رہ چکے ہیں۔ اکتا ڈالنے والی زندگی اورہم سیاسی قیدی تھے اور اے کلاس میںکوی کام کرنیکا نہ تھا۔ میں نے مولانا کواکسانا شروع کیاکہ ’’تذکرہ‘‘کی دوسری جلد لکھا دیں۔ ہفتوں ’’میرے بھائی‘‘’’میرے بھائی‘‘کہہ کرٹالتے رہے مگرمیں بھلا پیچھا چھوڑنے والاتھا۔ تقاضاجاری رکھا۔ آخرراضی ہوگئے اوریہ کتاب لکھانا شروع کردی۔ بولتے جاتے تھے اورمیں پینسل گھسیٹتاجاتاتھا۔ رات کومسودہ صاف کرلیتاتھا۔”‘‘
یقیناً مولانا آزاد اگریہ کتاب اپنے ہاتھ سے لکھتے تواس کی شکل مختلف ہوتی۔ مگریہ کہنابھی درست نہیں ہوگاکہ یہ تمام کی تمام مولاناآزاد کی بیان کردہ نہیں پھرفاضل مرتب پربھی یہ اتہام لگانا زیادتی ہوگی کہ اس نے کتاب چھاپتے وقت اپنی طرف سے کچھ بڑھا دیاہوگا۔ فاضل مرتب مولانا کے عقیدتمند اور 37 سال ساتھی رہے۔ وہ مہینوں مولانا کے گھرمیں بھی رہتے رہے۔ یہاں تک کہ مولانا اازا د نے ان کے متعلق لکھا’’مولوی عبدالرزاق صاحب ملیح آبادی نے فقیرکے ہاتھ پربیعت کی ہے۔ وہ بیعت لینے اورتعلیم وارشادِ سلوک سنت میں فقیرکی جانب سے ماذون ومجازہیں۔ جوطالب صادق اْنکے ہاتھ پربیعت کریں گے۔ انہوں نے خود فقیرسے بیعت کی۔‘‘اب ایسے مرید کیمتعلق جوخلیفہ مجازبھی ہویہ سمجھناکہ اس نے اپنے پیرسے غلط باتیں گھڑکرمنسوب کردی ہوں گی کسی طرح بھی قرین قیاس نہیں ہوسکتا۔ ہاں یہ ہوسکتاہے چونکہ مولانا نے یہ کتاب جیل میں بغیرکسی مآخذ کوسامنے رکھ کرلکھوائی لہذا کہیں ناموں میں اختلاف آگیا ہو،کہیں سنین بھول گئے ہوں یاکہیں جزئیات میں کمی بیشی ہوگئی ہو۔ ایسا ہونا ممکن ہے مگریہ نہیں ہوسکتا کہ ہم کہیں کہ فلاں واقعہ مولانا نے بیان ہی نہیں کیاہوگا۔ اسی لیے میں نے اپنے آئندہ کے سلسلہْ مضامین میں ایسے تمام واقعات سے صرف نظرکیا ہے جن کاتعلق ناموں،سنین یا واقعات کی جزئیات سے تھا۔
ب ) “آزادی ہند” اصلاًانگریزی میں چھپی تھی۔ جس کے تیس صفحات تیس سال کے لیے روکے گئے تھے۔ مکمل کتاب 1988 میں چھپی تھی جبکہ نامکمل ایڈیشن 1958 میں آیا تھا۔ کتاب کے مرتب ہمایوں کبیربھی مولانا کے ساتھی رہے تھے۔ وہ اس کتاب کی کہانی یوں بیان کرتے ہیں۔’’میںنے مولانا آزادسے گزارش کی کہ وہ اپنے سوانح حیات لکھوادیں۔ پہلے تووہ ہچکچاے اورپھرتیارہوگئے۔ میں جب دہلی سے باہرنہ ہوتاتوروزانہ ڈیڑھ سے دوگھنٹے مولاناکے یہاں چلے جاتا۔ وہ جوکچھ فرماتے تھے میں اس کے اچھے خاصے مفصل نوٹ لے لیتاتھا بعض نکات کی توضیح یامزیدمعلومات بروئیکارلانیکی غرض سے سوال بھی کرتاجاتاتھا۔اس طرح ایک باب کے لیے خاصاموادفراہم کرلیتاتواس کی بناپرانگریزی مسودہ تیارکرکے موقع پرمولاناکے حوالے کر دیتا۔ وہ ہرباب خودپڑھتے پھرہم دونوں یکجابیٹھ کراسکاجائزہ لیتے۔ اس مرحلے پرمولانابہت سی ترمیمیں کرادیتے جومطالب میں اضافے یاتغیریاحذف پرمبنی ہوتیں۔ یہ سلسلہ جاری رہتا تا آںکہ میں نے ستمبر 1957 میں کتاب کاپورامسودہ انکے حوا لے کردیا۔ مولانانے اس میں سیتیس صفحے نکال کراورمہریں لگواکرنیشنل لائبریری کلکتہ اورنیشنل آرکائیوزنئی دہلی میں محفوظ کرادیے۔ ان صفحات کے نکل جانے سے اصل کتاب کے مطالب میں کوئی خلل یاخلاپیدانہ ہوا۔ باقی مسودہ مختلف ترمیمات اورنظرثانی کے بعد اواخرنومبر 1957 میں مولاناکے پاس پہنچ گیا۔ 26 جنوری 1958کویعنی انتقال سیصرف اٹھائیس روزبیشترمولانانے اسے چھاپ دینیکی اجازت دیدی۔” اس تفصیل کے بعدکوئی یہ نہیں کہ سکتاکہ ’’آزادی ہند‘‘مولاناآزادکی تصنیف نہیں یااس میں بیان کیے گئے حالات وواقعات تمام وکمال مولاناکے نہیں۔
آگے پیش کئے گئے سلسلہ مضامین میں میراطریقہ یہ رہاہے کہ میں نے کسی فردیاواقعے سے متعلق مولاناآزادکاکوئی بیان ان کی کسی کتاب سے لیااورپھر مولاناکی کسی دوسری کتاب سے مختلف بیان لیکردرج کردیاہے اس طرح تضاد واضح ہوگیاہے یاپھرمولاناکے بیان کردہ ایسے واقعات لکھ دیئے ہیں جن کی تردیدتاریخ وسوانح کی مستندترین کتب سے ہوجاتی ہے۔ اورآخری بات یہ کہ یہ تمام مضامین لکھنے کامقصدصرف یہ دکھلانامقصودہے کہ جب مولانااپنے یااپنے اسلاف کے کارناموں کے بیان میں ’’ایجادبندہ‘‘سے کام لے سکتے ہیں توپھرانہوں نے اپنے مخالفین خاص کرقائدِاعظم اورمسلم لیگ کے متعلق لکھتے یابولتے ہوئے کیاکیاکچھ زیب داستاں کیطورپربڑھانہیں دیا ہوگا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

About Author

Daanish webdesk.

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: