اندھے بھکاری کا قتل اور قانون کی حکمرانی —– اورنگ زیب نیازی

0

’’ترش رُو ہوا اور بے رُخی برتی اس بات پر کہ وہ نابینا اس کے پاس آگیا۔ تمھیں کیا خبر شاید وہ سدھر جائے یا نصیحت پر دھیان دے اور نصیحت کرنا اس کے لیے نافع ہو۔ جو شخص بے پروائی برتتا ہے، اس کی طرف تو تم توجہ کرتے ہو اور جو شخص تیرے پاس آٹا ہے اور وہ ڈر بھی رہا ہے تو اس سے بے رُخی برتتا ہے‘‘۔

یہ ترجمہ ہے کتاب ہدایت کے تیسویں پارے میں شامل سورہ عبس کی ابتدائی آیات کا۔ کلام کرنے والا خالق کائنات ہے اور مخاطب وجہ ء تخلیق کائنات، محبوب الٰہی ہیں۔ لہجے میں خفگی عیاں ہے، اس طرزِ تخاطب کی یہ واحد مثال ہے اور پس منظر اس کا یہ ہے نبی محترمﷺ مکہ کے چنیدہ سرداروں عتبہ بن ربیعہ، شیبہ بن ربیعہ، عمر بن ہشام، امیہ بن خلف اور ولید بن مغیرہ کے ساتھ محو گفتگو تھے۔ مقصد یہ تھا کہ مکہ کے طاقت ور سردار دائرہ اسلام میںشامل ہو جائیں تو مشکلات آسان ہو جائیں گی، دریں اثنا ایک نابینا صحابی محفل میں داخل ہوئے اور اور انجانے میں گفتگو میں مخل ہوئے۔ ایک لمحے کو یہ مداخلت رحمت اللعالمین ﷺ کو نا گوار گزری اور آپ نے منہ پھیر لیا۔ اس پر سورہ عبس کی یہ آیات نازل ہوئیں۔ یہ نابینا صحابی حضرت عبداللہ بن ام مکتوم تھے جو اس واقعے کے بعد دربار نبی ﷺ میں مقرب خاص ہو گئے۔
کل جس وقت میدان ِسیاست میں بساط بچھی تھی اور بڑے کھلاڑی ایک دوسرے کو مات دینے کے لیے نت نئی چالیں چل رہے تھے، ملک تماشائی بنا بیٹھا تھا، گونگے، بہروں کا ہجوم تالیاں پیٹ رہا تھا۔ عین اس وقت لاہور کے نواحی علاقے کاہنہ نو میں ایک اندھے بھکاری کی دلدوز چیخیں کچھ دیر کو فضا میں بلند ہوئیں اور سننے والے کانوں کو بہرہ پا کر ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گئیں۔ تین اوباش، آوارہ لڑکے ایک کمپریسر کے ذریعے اس کے جسم کے کسی سوراخ سے، اس کے جسم میں ہوا بھرتے رہے، اندھا بھکاری تکلیف سے چیختا رہا اور وہ قہقہے لگاتے رہے، اس کا جسم اندر سے پھٹ گیا۔ اسے ہسپتال پہنچایا گیا لیکن وہ جانبر نہ ہو سکا۔

پاکستان کے بڑے نیوز چینلز نے یہ خبر چند سیکنڈز کے لیے ایک ٹکر کی صورت میں چلائی۔ لیکن یہ خبر ’’بریکنگ نیوز‘‘ نہ بن سکی کیونکہ یہ واقعہ ’’بریکنگ نیوز‘‘ کے معیار پر پورا نہیں اترتا۔ بریکنگ نیوز بننے کے لیے کسی بڑی سیاسی پارٹی کا راہنما، کسی بڑے ادارے کا سربراہ، حکومت یا اپوزیشن یا طبقہ ء اشراف میں سے ہونا ضروری ہے۔ اور مقتول ایک معذور، مجبور انسان تھا۔۔۔ شاید انسان بھی نہیں۔ اس پر مستزاد یہ کہ میڈیا چینلز نے قاتلوں کے لیے’’منچلے‘‘ کا لفظ استعمال کیا۔ یعنی ان کا یہ عمل ایک شرارت، عیاشی، فن یا شغل تھا، یہی وہ لفظ ہے جس نے پہلے بسنت جیسے خوبصورت ثقافتی تہوار کو ایک قاتل سرگرمی میں تبدیل کیا۔ پھر جشن آزادی، چاند رات اور نیو ایئر نائٹ کو لفنگوں کا کھیل بنا دیا اور اب اس لفظ کے ذریعے ہمارا میڈیا بے گناہ لو گوں کے قتل کا جواز بھی فراہم کرنے لگا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کوئی انسان اس حد تک سفاک کیسے ہو سکتا ہے؟ اس کے مختلف محرکات ہو سکتے ہیں۔

فرسٹریشن، جہالت، سادیت پسندی اور دیگر نفسیاتی، ذہنی عوارض، عدم برداشت، نفرت اور انتہا پسندی وہ عمومی وجوہات ہیں جن کا شکار پورا معاشرہ ہو چکا ہے۔ اس عدم برداشت، منفیت اور انتہا پسندی کی اس سے بڑی مثال اور کیا ہو سکتی ہے کہ سوشل میڈیا پر اس دل خراش واقعے کو بعض احباب نے اپنے سیاسی بغض کے اظہار کے لیے استعمال کیا۔ بلاشبہ اس واقعے کی ذمہ داری بھی حاکم وقت پر ہے کہ ظلم اوربربریت کا یہ واقعہ اس کی عملداری میں پیش آیا ہے۔ یہ سب کچھ اچانک نہیں ہوا۔ یہ سب بہتر سال کی ’’کاوش پیہم‘‘ کا نتیجہ ہے۔ اور ڈیڑھ سالہ حکومت وقت بھی اسی بد بودار نظام کا حصہ ہے جسے’’اشراف کی حکومت، اشراف کے ذریعے، اشراف کے لیے ‘‘کہا جائے تو زیادہ مناسب ہو گا۔ لیکن ’’ریاست مدینہ ثانی‘‘ میں اب قانون کی حکمرانی ہے۔ رکاوٹیں دور ہو چکی ہیں۔ طاقت ور اور کمزور کے لیے ایک قانون ہے۔ اس لیے ہم امید کر سکتے ہیں کہ اندھے بھکاری کے علاوہ ماڈل ٹائون کے چودہ شہداء، سانحہ ساہیوال کے مظلومین، نقیب اللہ محسود، بلدیہ ٹائون فیکٹری کے مقتولین اور دیگر کمزوروں کو بھی جلد انصاف مل جائے گا۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: