’’ہیلو چندرا گُپ، میرے آتش فشاں‘‘ گرین لائن، اسلام آباد سے خانیوال، ایک چہرا ۔۔۔ قسط 2 ——– محمد احسن

0

بارش میں بھیگتا اسلام آباد.. مارگلا سٹیشن پر گرین لائن ساکت کھڑی تھی.. مجھے معلوم نہ تھا مگر ایک دلکش چہرا گرین لائن میں داخل ہو چکا تھا۔۔۔

تنہائی اور خاموشی کے عالم میں.. میرے ساؤنڈ پروف بزنس کلاس کیبن کی کھڑکی پر بارش کے قطرے پڑ رہے تھے۔ اُن میں سے ہر قطرے میں ایک ہی منظر تھا۔ جیسے ہیر پر ایک ایسا مقام آتا ہے کہ جس مرضی کا چہرا دیکھے، رانجھا کا چہرا نظر آنے لگے۔

کھڑکی سے پار ایسا لگ رہا تھا کہ جیسے ٹرین گھر میں بتائے بغیر کسی سرسبز باغ میں کھڑی کسی کا انتظار کر رہی ہے۔ عجب ماحول تھا۔ یہ کیسا سٹیشن ہے.. یہ کہاں لے آئے ہو تُم۔ یاد آیا.. لیک ڈسٹرکٹ انگلستان میں اوکژن ہوم کا ریلوے سٹیشن بالکل اِسی کی کاپی ہے۔ مَیں نے سوچا کہ اتنا سیاح لوگ کراچی سے ناردن ایریاز آتا ہے، ٹرین کے سفر پر کوئی لکھتا کیوں نہیں!.. پتا نہیں، پتا چل جائے گا۔ لیکن ابھی تک تو یہی نتیجا نکلا ہے کہ ضرور لکھنا چاہیے۔

اِسی ماحول میں ایک خاص بارعب آواز تھی۔ اگر آپ نے کبھی ساؤنڈ پروف ٹرین، یا بڑی بس یا ہوائی جہاز یا بحری جہاز یا خلائی جہاز میں سفر کیا ہے.. یا پھر فائیو سٹار ہوٹل میں گئے ہیں تو اِس بارعب آواز سے ضرور واقف ہوں گے۔ البم کی ایک ویڈیو میں یہ آواز موجود ہے۔ یہ وہی بھاری بھر کم مسلسل آواز ہے جو مذکورہ جگہوں پر موجود دیوزاد انجنوں کی وائبریشن یا شدید بھنبھناہٹ سے جنم لیتی ہے اور اِسے ساؤنڈ پروف کیا جاتا ہے۔ تب بھاری بھرکم Bass باقی رہ جاتی ہے اور توجہ کرنے والے کو سحرزدہ کر دیتی ہے۔ یہی آواز شب کی تنہائی میں سمندروں سے کچھ کلومیٹر دور شب بیداروں کے نصیب میں بھی لکھی ہوتی ہے۔ کبھی کسی سمندر سے واسطہ پڑا ہے؟

کھڑکی پر موجود سیکڑوں قطروں میں ایک ہی منظر اور بھاری بھر کم بارعب آواز نے مجھ میں اتنا ذوق بیدار کر دیا کہ ایک بار پھر سگریٹ پینے کی نوبت آ گئی لیکن مَیں وہیں بیٹھ کر باہر برستی بارش اور اوکژن ہوم کی کاپی سٹیشن کو مستقل کو دیکھتا رہا۔

’’ہیلو۔۔۔‘‘ ایک آواز نے میری توجہ اپنی جانب مبذول کر لی۔ مَیں نے مُڑ کر کیبن کے دروازہ کی جانب دیکھا۔ اچانک اوپر مجھے ٹیلی ویژن نظر آیا۔ واپس نظریں نیچے کیں اور ایک ممکنہ ہمسفر کے چہرے پر آ ٹھہریں۔ وہ ایک شدید جدید نوجوان سی دلکش خاتون تھیں، جیسی اسلام آباد کی ہوتی ہیں۔ دل نے اثر قبول کیا۔ کندھے تک آتے سیدھے سِلکی بال، سبز اور بھورے رنگ کی امتزاج آنکھیں، بغیر زیور، لیدر جیکٹ، سیاہ جینز۔۔۔ ایک یورپی ماڈل کھڑی تھی۔

’’ہیلو۔۔۔ مجھے اس کیبن میں سفر کرنا پڑے گا.. کوئی اعتراض تو نہیں؟‘‘ نسبتاً بھاری آواز کی حامل خاتون نے کہا۔

اب مَیں یہاں بطاطا چلوں کہ سفروں کے دوران ایسے ہمسفروں کا ملنا کم از کم میرے ریکارڈ میں نہیں۔ اِس لیے مَیں نے کیا اعتراض کرنا تھا۔ نیکی اور پوچھ پوچھ!.. پس مَیں فوراً مان گیا۔ ویسے مَیں نے کیا ماننا یا نہ ماننا تھا، پورا کیبن تو میرا نہ تھا۔

البتہ مَیں نے کنفیوژ ہو کر کہا “ضرور آئیے۔ مجھ سے پوچھنے کی کیا ضرورت ہے۔ میری سیٹ صرف ایک ہے۔” دل نے کہا کہ میری سیٹ بھی لے لیجیے، مَیں میز کے نیچے بیٹھ جاؤں گا۔ نو ایشیوز۔

خاتون نے کیبن سے باہر پڑے ہوئے اپنے دو بیگ سیٹوں کے نیچے کھسکا لیے۔ مَیں اِس دوران دوبارہ باہر محو ہو چکا تھا، کم از کم خاتون کو یہی محسوس ہوا ہو گا۔

اب سگریٹ کی طلب دھمال ڈالنے لگی۔ قریبی دروازے سے پلیٹ فارم پر اُترا اور ڈبی کا آخری سگریٹ سلگا لیا۔ اِسی وقت تک کے لیے میری ایک پوری ڈبی مختص تھی۔ بارش نے بھی نہ رُکنے کی قسم کھا رکھی تھی مگر پروا کسے تھی، بلکہ یہ تو زبردست بات تھی۔ مَیں نے گرین لائن سیلیکٹ کرنے پر اپنے آپ کو بوسا دینے کی کوشش کی مگر سراسر ناکام رہا۔ تب فلائنگ کِس ہی کر لی، یہ کامیاب ہو گئی۔

اچانک بھونپو بج گیا۔ فوراً دوڑ کر بوگی کے دروازے پر چڑھ گیا۔ مَیں چلتی ٹرین میں چڑھنے کا رِسک نہیں لے سکتا تھا، مَیں سمرن نہ تھا، میرے لیے دروازے پر کسی تھامنے والے کا ہاتھ نہ آنا تھا۔ لہذا مجھے خود ہی احتیاط کرنی تھی۔ اگرچہ مَیں یہ ضرور جانتا تھا کہ ٹرین ہمیشہ سُست رفتار سے پلیٹ فارم پر چلتی رہتی ہے تاکہ آخری لمحہ تک ٹرین پر سوار ہوا جا سکے۔

مَیں کوریڈور میں داخل ہوا اور کوریڈور میں ہی ہمارے کیبن سے مخالف سمت میں موجود کھڑکی سے باہر دیکھنے لگا۔ اچانک دوسرا بھونپو بجا اور مَیں ایک خاص لمحہ کا انتظار کرنے لگا۔ ٹرین نے ہلکا سا جھٹکا لیا اور ملکہ سبا کی سی طلسم کدہ سُست چال چلنے لگی۔ یہ چال مجھے ذوق کے دریاؤں میں ڈبکیاں لگواتی ہے۔ ہر شے ایک خاص بہاؤ لیے پیچھے کی جانب چلتی چلی جاتی ہے۔ اِس چال کے دوران خاموشی سی طاری رہتی ہے، ابھی مخصوص ردھم شروع نہیں ہوا ہوتا۔ ٹرین مارگلا سٹیشن کو پیچھے چھوڑ گئی۔ چند ماہ قبل مَیں کسی کو چھوڑنے یہاں آیا تو پلیٹ فارم پر کھڑے ہو کر دیکھا کہ چلتی ٹرین میں سے اُس کا ایک بازو باہر نکلا اور ٹاٹا کرنے لگا۔ مَیں نے فوراً فون کال ملائی اور کہا کہ خدا کے لیے بازو اندر کر لو، کوئی کھمبا آ جائے گا۔

مَیں کِس کے لیے اپنا بازو باہر نکالتا، لہذا کیبن میں آ گیا۔ میری غیر موجودگی میں معنک ہو چکی خاتون نے میرے سامنے والی سیٹ سے مسکرا کر میری طرف دیکھا۔ مَیں بھی مسکرا کر بیٹھ گیا۔

’’میری سیٹ اِس کیبن میں نہیں۔ مَیں نے یہاں خود کو منتقل کروایا ہے۔ کہیں اور جگہ نہیں فی الحال‘‘ خاتون نے کہا۔

مَیں نے کہا “آپ خود کیوں منتقل ہوئیں؟.. لڑکوں کو منتقل کروا دیتیں۔ ویسے آپ شروع میں ہی خواتین کی بوگی میں ٹکٹ لے سکتی تھیں۔ خیر، موسٹ ویلکم۔ میرا نام احسن ہے۔”

خاتون نے کہا “خواتین کی بوگی میں ٹکٹ نہیں لے سکتا تھا اسی لیے یہاں فیملی کیبن میں لے لی تھی۔ ہر بار یونہی کرتا ہوں اور پھر کیبن بدلتا رہتا ہوں، ہاہاہا۔ میرا نام ہریرہ ہے۔”

ویسے تو اندر سے تاج محل ڈھے پڑا تھا مگر مَیں نے ہرگز ظاہر نہیں ہونے دیا۔ اگرچہ مجھے ایسا لگا کہ مجھے 99 والے سانپ نے ڈس لیا ہے اور مَیں اپنے ریکارڈ کے مطابق واپس 2 پر آ گیا ہوں۔ یعنی میرا روایتی ریکارڈ درست ہو چکا تھا۔ خیر، اتنا بھی مسئلہ نہ تھا۔ مَیں بھی اسلام آباد میں ہی رہتا ہوں، اٹس اول رایٹ۔ خوشی کی بات البتہ یہ تھی کہ ہریرہ بہت تہذیب یافتہ تھا۔ سفر بہترین گزرنے والا تھا۔ بدتہذیب مردوں یا بدفطرت عورتوں کے مقابلے میں ہریرہ صریحاً ایک رستم تھا۔ اُس نے مجھے بتایا نہیں لیکن مَیں جانتا ہوں کہ اُس کے پیئرینٹس نے اُس کا نام ہریرہ کیوں رکھا تھا۔

ٹرین نسبتاً تیز ہو چلی تھی اور روایتی چھک چھک چھیا چھیا چھمک چھلو قسم کا ردھم شروع ہو چکا تھا۔ اسلام آباد اور پنڈی کے علاقے گزرتے رہے۔ مَیں ایک ایک سڑک کو پہچانتا تھا، ظاہر ہے۔

’’آپ اسلام آباد میں رہتے ہیں؟‘‘ مَیں نے پوچھا حالانکہ مجھے معلوم تھا۔ وہ ابھی بھی پہلی نظر جتنا ہی دلکش تھا۔ اِس دلکشی اور تہذیب کے سامنے جنس غیر اہم تھی۔

’’جی، ایک این۔جی۔او میں جاب کرتا ہوں۔‘‘ اُس نے بتایا۔ ویسے مجھے یہ بھی معلوم ہو چکا تھا کہ وہ زیادہ عرصہ ملک سے باہر رہا ہے اور وہاں اُسے کبھی کوئی پرابلم نہیں ہوئی ہو گی۔

ہریرہ نے مجھے پوچھا “آپ کراچی جا رہے ہیں؟”
مَیں نے کہا “جی ہاں۔ تفصیل کے لیے اگلی قسط دیکھیے۔”
اُس نے کہا “جی اچھا۔”

’’آپ بھی کراچی جا رہے ہیں؟‘‘ مَیں نے سوال پوچھا ہی تھا کہ اُس کا فون آ گیا۔ اس دوران ٹرین کی موسیقی بدل گئی۔ کچھ دیر میں پنڈی سٹیشن آ گیا اور ٹرین سُست ہو کر رُک گئی۔ ہریرہ اندر ہی بیٹھا رہا۔

مَیں پلیٹ فارم پر اترا اور ایک مخصوص کونے سے ایک جانب دیکھنے لگا۔ اُس جانب کچھ نہ تھا۔ ماضی میں اُس جانب میرا گھر ہوا کرتا تھا، بچپن وہاں گزرا ہے، بعد میں نئے مالک مکانوں نے ڈھا کر ڈب کھڑبا گھر بنا لیا تھا۔ چناچہ اب وہاں کچھ نہ تھا۔

ایک سگریٹ پی کر اندر کیبن میں آیا تو ایک اور کلین شیو لڑکا بیٹھا ہوا تھا۔ مَیں نے اپنی مونچھوں میں بہت شرم محسوس کی۔ پتا چلا کہ نیا لڑکا حیدرآباد اپنے گھر جا رہا تھا۔

پنڈی سٹیشن پر ٹرین غالباً 20 منٹ رُکی۔ اب دوبارہ چل پڑی۔ موسم بدستور ابرآلود تھا۔ ہلکی بارش میں شام کا تاثر تھا۔ پنڈی کے علاقے آتے رہے۔ تب چکلالا سٹیشن آیا جہاں ٹرین دو منٹ کے لیے رُکی۔ چکلالا سٹیشن بھی میرا بہت دیکھا بھالا ہے۔ مَیں قریب ہی پرانے ایرپورٹ کی پارکنگ کے ساتھ عسکری 8 میں دس برس رہا ہوں۔ اکثر صبح یا شام کو یہاں آنا ہوتا تھا۔ جب سیکیورٹی ٹائٹ ہو گئی تب آنا چھوڑ دیا۔ چکلالا اسلام آباد کی ڈرائی پورٹ بھی ہے۔ جگہ جگہ کنٹینرز پڑے نظر آتے ہیں۔ انگلستان میں مجھے ہر چھوٹا سٹیشن چکلالا ہی لگتا تھا۔

ظاہر ہے کہ یہ لاہور کا روٹ ہے۔ بچپن میں پنڈی/لاہور روٹ بذریعہ ٹرین بہت سفر کیے ہیں مگر بزنس سلیپر کیبن میں یہ پہلا سفر تھا۔

ہریرہ نے ایک کتاب نکالی اور پڑھنا شروع کر دی۔ وہ ایک ناول تھا “11 منٹس” (پالہو کولہو).. میرے کان تقریباً لال ہو گئے۔ اگر کوئی ہریرہ کو سرسری دیکھ کر ناول کا سرورق دیکھے اور اُسے ناول کا پتا ہو تو یہ الگ سے داستان ہو جائے گی۔

دریائے سواں کے پُل کو عبور کرنے کے بعد لہکتی ٹرین میں یونیفارمڈ عملہ مسکراتا ہوا آیا۔ ایک رکن نے کیبن کے دروازے پر کھڑے ہو کر کہا “فلاں فلاں فلاں چیزیں کمپلیمینٹری ہیں البتہ بریانی بطور لنچ اور چائے الگ سے لینی پڑیں گی۔ ٹیبل کے نیچے چارجنگ پورٹ لگی ہوئی ہے۔ ٹیلی ویژن کے چینلز اس وقت بند ہیں۔ وہ اوپر پنکھا چل جائے گا۔ درمیانی برتھیں احتیاط سے کھولیے۔ بلاء بلاء بلاء……” اُس نے کافی کچھ بتایا اور چلا گیا۔ دوبارہ آیا تو مَیں نے چائے آرڈر کر دی۔

شَب طاری ہو چکی تھی اور گرین لائن غالباً 90 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے دھچک رہی تھی۔ بوگی کے دروازے اصل میں سموکنگ ایریا میں ہی موجود ہیں۔ مَیں وہاں چلا گیا اور جھومتے جھامتے ایک سگریٹ پیا۔ وہاں ایک باتھ روم کا دروازہ نظر آ رہا تھا جس پر لکھا تھا “کھڑی ٹرین میں باتھ روم استعمال نہ کریں”۔ مَیں بہت دیر اِس ہدایت پر غور کرتا رہا مگر سمجھ نہیں آئی۔ یہاں دو باتھ ایک ساتھ تھے۔ ایک تو کموڈ والا اور دوسرا مشرقی حُسن سے لبریز جس میں ہیٹھاں بیٹھا جاتا ہے۔

ساڑھے سات بجے کے آس پاس اچانک دھند شروع ہو گئی اور دھند کے پار ایک شہر تھا.. لاہور دھندلاہٹ کا شکار تھا۔ ریل کی آوازوں سے پتا چل رہا تھا کہ رفتار آہستہ ہو چکی تھی ورنہ دھند میں کیا پتا چلتا ہے۔ لاہور سٹیشن آنے سے قبل یہ علاقے بھی میرے بہت خاص ہیں۔ یکی گیٹ، شاد باغ، دوموریا پُل.. بچپن کی گھمبیر یادیں.. بلکہ دلسوز یادیں۔ میری ایک منگنی یہیں کہیں ہوئی تھی۔ یاد اس لیے ہے کیونکہ ٹوٹ گئی تھی۔ سنا ہے آجکل وہ دبئی میں جاب کرتی ہیں۔ باقیوں کا بطاطا رہوں گا۔ بہت وسیع سٹاک ہے، الحمدللہ.. ہذا من فضلِ ربی۔

ٹرین رفتہ رفتہ لاہور سٹیشن پر ایک ایسے پلیٹ فارم پر جا رکی جہاں چھوٹا سا پیزا ہٹ تھا.. چھوٹا پیزا 399 کا دستیاب نظر آ رہا تھا۔ لاہور سٹیشن 1860ء میں تعمیر ہوا تھا مگر ظاہر ہے کہ بار بار تعمیری عمل سے گزرنے کی وجہ سے نیا لگتا تھا۔

ہریرہ 11 منٹس میں کھویا ہوا پیارا لگ رہا تھا۔ حیدرآبادی لڑکا اوپر والی برتھ پر سو رہا تھا۔ مَیں باہر نکلا اور ذرا آگے کی جانب چہل قدمی کرنے لگا۔ یہاں مَیں نے سوچا کہ لہوریا دوست رانا عثمان کو فون کر لُوں۔ رانا صاحب پارٹ ٹائم ولیج آفیسر بھی ہیں اور میری ٹُٹ چکی منگنی کے بعد رانا صاحب ہی میرے لیے لاہور ہیں۔ لیکن، مَیں نے فون نہیں کیا۔ بلکہ مَیں نے پاکستان بھر میں کسی کو کچھ بھی بتائے بغیر سفر شروع کیا تھا۔ شاید مجھے آخری لمحہ تک اپنے سفر کا خود بھی یقین نہ تھا۔ یا شاید کچھ اور بے نام وجہ ہو۔ ایک سٹیٹس بھی پوسٹ نہیں کیا۔ جانے کیوں!

اچانک۔۔۔۔ ٹرین چل پڑی۔ میری سِٹی گُم ہو گئی۔ بھاگتے بھاگتے مَیں نے سوچا کہ، اول، بھونپو کیوں نہیں بجا۔ دوم، ابھی تو 20 منٹ نہیں ہوئے، یقیناً 11 منٹس ہی ہوئے ہوں گے.. اگرچہ پالہو کولہو کے مطابق اتنا وقت ہی درکار ہوتا ہے مگر پھر بھی، رُول اِز رُول۔

میری بوگی ڈھیٹوں کی طرح اُدھر ہی کھڑی ہوئی تھی مگر اگلی بوگیاں علیحدہ ہو کر آگے جا رہی تھیں۔ پتا چلا کہ نئی بزنس بوگیاں لگیں گی جو کراچی جائیں گی۔ میرا تو تراہ ہی نکل گیا تھا کیونکہ مجھ سمرن کے لیے کسی نے ہاتھ نہیں بڑھانا تھا۔ اپنا خیال مَیں نے خود رکھنا تھا۔ مَیں ہی سمرن، مَیں ہی راج، مَیں ہی باؤجی۔

مَیں اپنی بوگی پر چڑھا۔ بوگی کا تیسرا دروازہ جو اگلی بوگی سے لنک کرتا ہے، اُس میں پورا پلیٹ فارم نظر آ رہا تھا۔ مَیں نے مزے سے فوٹوگرافی کی۔ کچھ دیر میں نئی بوگیاں آ گئیں اور میرے آگے لگ گئیں۔ میرا دروازہ کھل گیا۔ سکون ملا۔ سانپ مکمل ہو گیا۔ اندر ہی اندر نیا راستہ بن گیا، بلکہ سموکنگ ایریا وسیع ہو گیا۔

واپس پلیٹ فارم پر اتر گیا۔ لاہور کے وہ مسافر شروع ہوئے جنہوں نے کراچی جانا تھا۔ ایک نوجوان جوڑا سامان پکڑے ہوئے بھاگتا ہوا آیا اور بوگی نمبر 7 میں چڑھ گیا۔ وہ ویسے قانونی کپل نہیں لگ رہا تھا.. الحمدللہ۔

بھونپو بجا۔۔۔۔ مَیں بوگی میں آ کر کوریڈور میں داخل ہوا اور کیبن کا دروازہ کھولا۔ اندر ہریرہ نہیں تھا، اس کا سامان بھی نہیں تھا۔ پتا نہیں کیوں دل ڈوب سا گیا.. جیسے میری منگنی ٹوٹی ہو۔ مَیں نے دل کو تسلی دی کہ شاید اگلی بوگیوں میں چلا گیا ہو گا۔

ٹرین چل پڑی.. پھر وہی ملکہ سبا کی چال شروع ہوئی۔ مَیں نے اُس چال کی ایک ویڈیو بنائی ہے۔ لوڈ کروں گا۔ اس دوران کیبن میں ایک خان صاحب داخل ہو گئے، مکمل داڑھی بردار، سفید ٹوپی اور پشتو والے خان صاحب۔ ہریرہ کی جگہ یہ متبادل مجھے پسند تو نہ آیا مگر کیا کِیا جا سکتا تھا۔ اگرچہ خان صاحب کافی ہنس مُکھ تھے اور کراچی میں کنٹینرز ڈِیل کرتے تھے۔

اب اندھیروں کا سفر شروع ہوا۔ اگلی منزل خانیوال تھی۔ اس دوران ہمیں ڈنر دیا گیا۔ ہم سے مراد مَیں، حیدرآبادی لڑکا اور خان صاحب تھے۔ ڈنر کی ٹرے میں بریانی، بونلیس چکن، نان، رائتہ اور حلوہ تھے۔ مزیدار ڈنر تھا۔

ڈنر کے بعد مَیں ایک کتاب لے کر کوریڈور میں چلا گیا۔ مَیں آجکل مثنوی روم انگریزی ورژن کا اردو ماخذ تراجم لکھ رہا ہوں۔ میرا ارادہ تھا کہ کوریڈوز میں کھڑکی کے ساتھ لگی سیٹ پر بیٹھ کر رومی کی حکایات پڑھوں گا اور اُن میں اپنے افسانے فِٹ کروں گا۔ جیسے ہم چائنیز ڈِشیں بناتے ہیں۔ ہماری بنی ہوئی چائنیز ڈِش کوئی چینی باشندہ کھا لے تو اپنی ہی ڈِش پہنچاننے سے انکار کر دے۔ میرے ترجمے بھی ایسے ہی ہوتے ہیں جب تک کہ مَیں ساتھ لکھ نہ دوں کہ حضرات مذکورہ ترجمہ میں میری جانب سے کوئی مصالحہ جات شامل نہیں۔

اس دوران ایک اور چائے کا اورڈر دے دیا جس نے آدھے گھنٹے بعد تیار ہو کر آنا تھا۔ جب تک چائے آئی، مَیں مطالعہ کے دوران باہر کے اندھیروں میں گھورنے لگتا جو ساکت لگتے تھے۔ جیسے ہی اندھیرا نظر آتا، ایک نیا افسانہ پردہء ذہن پر تیرنے لگتا۔ اسی لیے مَیں چمگادڑ مسافرِشَب ہوں۔ اللہ نے مجھے اندھیروں میں دیکھنے کی حِس عطا فرمائی ہے۔ عطا سب کو ہوئی ہے، بطاطا کوئی نہیں۔

اچانک سگریٹ کی طلب ہوئی۔ سموکنگ ایریا میں اب اگلی بوگی کا دروازہ بھی کھلا ہوا تھا۔ مَیں نے سگریٹ سلگایا اور ٹرین کی دھماچوکڑی سُنتے ہوئے دروازوں کی کھڑکیوں سے باہر دیکھنے لگا۔

مجھے ہریرہ یاد آنے لگا۔ جانے کہاں چلا گیا تھا۔ دل میں آیا کہ کیوں نہ تمام بوگیوں میں چکر لگا لوں۔ اتنی دیر میں ٹرین کی رفتار تیز ہو گئی۔ وہ اتنی تیز رفتار تھی کہ مَیں اچھل اچھل پڑ رہا تھا۔ فون کے جی-پی-ایس پر رفتار چیک کی تو 125 کلومیٹر نظر آئی۔ ٹرین کا عملہ تو مزے سے بوگیاں کراس کر رہا تھا مگر میری ہمت جواب دے گئی۔ اگلی بوگی بہت اچھل کود رہی تھی جیسے تجھے چھوڑ کر کہیں اور شادی کرنے کے لیے بے تاب ہو۔ اسی چوءٹے ماءٹے سے مجھے نیند آنے لگی۔

مَیں واپس کوریڈور میں آ گیا اور مثنوی روم کو دیکھنے لگا۔ جب پڑھی نہ جا سکی تو مسلسل کھڑکی سے باہر دیکھنے لگا۔ لاہور-ملتان جی ٹی روڈ ساتھ چل رہی تھی۔ اُس پر ٹریفک ہم سے فوراً پیچھے رہ رہی تھی۔ اس تقابل سے اندازہ ہوا کہ اصل میں گرین لائن کتنی تیز رفتار ہے۔ انڈسٹریئل ایریا گزر رہا تھا۔

کیبن میں اندھیرا کیا جا چکا تھا۔ حیدرآبادی اور خان صاحب اپنی اپنی برتھوں پر گھوک سو چکے تھے۔ میری برتھ سے اوپر والی برتھ پر بھی کوئی سوتا نظر آیا۔ جانے کون تھا اور کیسے بغیر انفورم کیے سو رہا تھا۔ بہرحال، مَیں نے گرین لائن کی جانب سے دیا گیا تازہ کمبل اوڑھ کر اپنی سب سے نچلی برتھ پر لیٹ گیا۔ تکیہ بھی غالباً نیا یا دھلا دھلایا تھا، واہ۔ چُوءٹے لیتے ہوئے لیٹنے کا بہت خمار چڑھا۔

اچانک آنکھ کھلی۔ ٹرین ایک پلیٹ فارم پر کھڑی تھی۔ مَیں لیٹے لیٹے پلیٹ فارم کو گھورتا رہا۔ جانے کیا وقت تھا مگر کافی گہما گہمی تھی۔ مَیں اٹھا اور باتھ روم چلا گیا۔ باتھ روم کے لوٹے میں تھوڑا سا پانی تھا۔ نلکوں میں پانی نہیں تھا۔ مَیں نے اپنا کوہ نوردی والا سوئچ اون کیا۔ تب معاملات آسان ہو گئے۔ فلش کے اندر گہرائی میں پیلی روشنی نظر آ رہی تھی۔ بڑی حیرت ہوئی۔

پلیٹ فارم پر ایک جگہ پُوڑیاں تلی جا رہی تھیں۔ کافی خوبصورت اور طویل پلیٹ فارم تھا۔ پچھلی پٹڑیوں پر مال گاڑی کھڑی تھی جس پر مارسک لائن اور چائنہ شپنگ کے کنٹینرز دھرے ہوئے تھے۔ اچانک سمندر نے جوش مارا۔ مجھے شدت سے یاد آیا کہ مَیں سمندروں سے ملنے جا رہا ہوں۔

تُو نیل سمندر ہے میں ریت کا ساحل ہوں
آغوش میں لے لے، میں دیر سے پیاسی ہوں

میری تاریخ ہے کہ جب مجھے بچپن میں پہلا ہوش آیا تھا تو مَیں نے خود کو ایک بحری جہاز پر پایا۔ میرے ابئی میرین انجینیئر ہیں۔ مَیں سمندری مخلوق ہوں اور بڑا عرصہ خشکی پر رہا ہوں۔ اس لیے سمندر کو جانا میرے لیے گھر جانا ہے۔

مگر یہ کس شہر کا سٹیشن ہے؟ پوڑی والے نے تیل میں پوڑی گراتے ہوئے کہا “خانیوال۔”

کچھ دیر وہاں گھومتا رہا۔ ہریرہ نہیں تھا۔ مَیں واپس اپنی بوگی کے پاس آ گیا۔ سٹیشن کا عملہ ٹرین کی چھت پر کھڑا تھا۔ شاید پانی اور ڈیزل وغیرہ کی فیولنگ ہو رہی تھی۔

ایک بار پھر بھونپو بجا۔ مَیں آلریڈی اپنی برتھ میں کمبل کے اندر لیٹا ہوا تھا۔ ملکہ سبا کی چال شروع ہوئی اور ہر جانب اندھیرے بڑھ گئے یا روشن ہو گئے۔

اب ہم بہاولپور کی جانب جا رہے تھے۔ صحرائے چولستان کی خوشبوؤں سے فضا مہکنے لگی مگر مجھے گہری نیند نے آن لیا۔ پتا نہیں ٹرین کب بہاولپور پہنچی اور چلی، کچھ معلوم نہیں..

اچانک خان صاحب کی آواز آئی “ماڑا، ایدھر آؤ ناں۔”

یعنی بقول ایلیا۔۔۔۔

میری بانہوں میں بہکنے کی سزا بھی سن لے
اب بہت دیر میں آزاد کروں گا تجھ کو

سوچ کر ہی مَیرا تراہ نکل گیا۔

(جاری)

پہلی قسط کے لیے اس لنک پر کلک کیجیے۔

تیسری قسط کے لیے اس لنک پر کلک کییجے۔

(Visited 1 times, 3 visits today)

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: