انواسی از محمد حفیظ خان ——- علی عبد اللہ

0

بات شروع ہوتی ہے 1872 سے جب انگریز سرکار کراچی سے لاہور تک ریلوے ٹریک بچھا رہا تھا۔ بہاولپور اور لودھراں کے بیچ موجود دریائے ستلج پر ایمپریس پل  بنانے کے دوران بستی آدم واہن کے باسیوں میں تشویش کی لہر دوڑ چکی تھی اور تمام لوگ جمع تھے، تاکہ فیصلہ کر سکیں کہ انگریز سرکار پل بنانے کے چکروں میں جو ان کے قدیمی قبرستان سے چھیڑخانی کرنے لگی ہے اس سے کیسے نبٹا جائے۔ بہت کم کتب ایسی ہوتی ہیں جو تاریخ کی راکھ میں دبے حقیقی واقعات کی چنگاریوں کو الاؤ میں نہ سہی، مگر دوبارہ بھڑکنے کے قابل بناتی ہیں۔ ایسی کتب کو ناول کا روپ دے کر مصنف فرضی کرداروں کے سہارے حقیقت کے ایسے پل کھڑے کرتا ہے، جس پر چلتے ہوئے قاری تاریخی حقائق کا نظارہ کر کے بہت سے انکشافات کا حامل ہو جاتا ہے۔ ایسا ہی ایک تازہ ناول “انواسی” ہے جسے محمد حفیظ خان کے قلم نے صرف موجودہ وقت کے لیے نہیں، بلکہ آنے والی کئی صدیوں تک کے لیے زندہ رہنے کا آب حیات عطا کر دیا ہے۔

انواسی صرف “سنگری” کی کہانی نہیں بلکہ یہ انسانی نفسیات، حالات کی کشمکش، مذہبی منافرت، محبت و نفرت، ضد اور انا کی ایک دلچسپ داستان ہے۔ یہ معاشرے کی وہ تصویر ہے جس میں عموماً کئی “سنگریاں” کسی “سیدے” کے ہاتھوں پامال ہو کر زندگی کی جانب دوبارہ لوٹنے کی جدوجہد کرتی ہیں۔ اپنی بقا اور جینے کی آرزو لیے وہ ظاہری طور پر ہر معاشرتی رسم و رواج کی باغی دکھائی دینے لگتی ہیں اور ان کے لیے پھر مرد ذات صرف ایک چم اور ماس کھانے والی بلا سے زیادہ کچھ نہیں ہوتی۔ مصنف نے اس ناول کے ہر کردار میں روح پھونک کر اسے قاری کے سامنے ایسے کھڑا کیا ہے کہ گویا وہ آپ کے ارگرد چلتا کوئی مجسم کردار ہو۔ ناول کا آغاز بستی کے بڑے بوڑھوں کے اجتماع، انگریز کی جانب سے ان کے قدیمی قبرستان کی مسماری کا ارادہ اور اپنے وڈکوں کی قبروں کی حفاظت کے لیے کسی حکمت عملی کی تلاش  سے ہوتا ہے۔ “سیدا” بستی کا ایک بانکا، ہٹ دھرم اور بہادر جوان ہے جو ہر قیمت پر انگریز کو اس ارادے سے باز رکھنے کی کوشش میں ہے چاہے اس کے لیے جان سے ہاتھ دھونا پڑے۔ اسے اپنے وڈکوں کی قبروں کی مٹی میں ان کی خوشبو محسوس ہوتی ہے اور یہی بات وہ اپنے جیسے ایک دوسرے جوان “منگر” کو کہتا ہے کہ

“اس بستی سے اٹھ جانے والے کیسے کیسے لوگ اس قبرستان کی مٹی میں ملے ہوئے ہیں۔ تم کہتے ہو کہ ہم ان کی ہڈیاں نکال کر کسی دوسری جگہ کر دیں مگر ان کے ماس کا کیا کرو گے جو پانی بن کر اس مٹی میں جذب ہو چکا ہے۔ کیا صرف ہڈیاں ہی انسان کی اخیر ہوتی ہیں؟ وہ ماس جس سے ہم پیار کرتے ہیں، جو ہماری صورتیں بناتا ہے، ہمارے ونکوونک نقوش کو ترتیب دے کر ہمیں ایک دوسرے سے الگ بناتا ہے، کیا وہ ہمارا اخیر نہیں ہوتا؟ اس کا کیا کرو گے؟ کہاں لے جاؤ گے یہ مٹی جو میرے پیاروں کے ماس میں گندھی ہے؟ خوشبو ہے ان کی اس مٹی میں۔”

منگر، سیدا کی طرح بہادر تو ہے مگر اس کی طرح جوشیلا اور عقل کو جذبات کے ہاتھوں مغلوب نہیں ہونے دیتا، امن اور حکمت سے اس ساری صورتحال سے نبٹنا چاہتا ہے۔ وہ مزاحمت کی بجائے گورا سرکار کے اس فیصلے کو تقدیر سمجھ کر احترام سے اپنے بڑوں کی باقیات کو دوسری جگہ دفن کرنا چاہتا ہے تاکہ باقی بستی انگریز سرکار کے جبر کا شکار نہ ہو پائے۔

ناول کا مرکزی کردار “منگری” ہے جو بچپن سے ہی سیدا کے نکاح میں دی جا چکی ہے مگر اس کے باوجود نہایت ضدی اور من مانی کرنے والی ہے، جو بظاہر سیدا کو کچھ نہیں سمجھتی مگر خود پر اس کا ایک غائبانہ سایہ ضرور محسوس کرتی ہے۔ سنگری کا حسن اور اٹھتی جوانی بڑوں بڑوں کو سوچ میں ڈال دیتی ہے مگر سیدا کا اکھڑ مزاج ان سب کو نظریں نیچی رکھنے پر مجبور کیے رکھتا ہے۔ سنگری سیدا کے مزاج کو جانتے ہوئے بھی لاپروا اور بے اعتنائی لیے ہوئے چاہتی تھی کہ باقی مٹیاروں کی طرح اسے بھی بستی کے نوجوان چھیڑیں، راستہ روکیں  اور آہیں بھریں بلکہ ایک بار وہ وہ اپنی ماں سے اس خواہش کا بھی اظہار کرتی ہے کہ اسے کیوں کوئی اغوا نہیں کرتا؟ اس کی ماں جواباً ایک نہایت عقل مندی کی بات بتاتی ہے کہ

“شادی تو نصیب والیوں کی ہوتی ہے میری دھی۔۔۔۔ نکالی ہوئی لڑکیاں ڈیرے پر رہیں تو رکھیل اور چکلے کو بیچ دی جائیں تو رنڈی۔ ساری زندگی جوتے کھاتے گزرتی ہے اور مر جائیں تو کفن بھی نصیب نہیں ہوتا۔”

مگر اس کے باوجود اس کی ضد اور ہٹ دھرمی ختم نہیں ہو پاتی اور پھر “سیدا” اس کی حرکات اور چند مشتعل کر دینے والی باتوں پر اسے اغوا کر کے اس مارتا پیٹتا ہے اور اس کی عزت لوٹ کر اسے عمر بھر ایک “امانت”  نامی بچے کی ماں بن کر صرف اس کے لیے جیے جانے پر مجبور کر دیتا ہے۔ اسی زیادتی کے بدلے “سنگری” مرد کی حقیقت اور عورت کی بے بسی کو ایک نئے زاویے سے محسوس کرتی ہے۔ وہ اپنی ماں کو بتاتی ہے کہ

“عورت چاہتی ہے اس کے دل کو چیر کر اسے فتح کی جائے مگر یہ حرامی اپنی آکڑ خانی قائم رکھنے کے چکر میں نہ دیکھ پاتے ہیں اور نہ سن پاتے ہیں، بس ترلے کرتے ہیں، تلوے چاٹتے ہیں اور پھر کچھ نہ بن سکے تو جانوں مار دیتے ہیں۔”

زمانے کے تلخ رویوں اور جینے کی قیمت چکانے اور معاشرے میں غیر محفوظ ہو جانے کے احساس نے اسے سکھایا کہ

“مرد تو وہ کام کا ہوتا ہے جو عورت کے ترلے نہ کرے، نیچے لگا کے رکھے مگر پیار سے۔ تھپڑ مارے مگر جوتا نہیں۔ خود بے شک مار مار کر نیلو نیل کر دے، چمڑی ادھیڑ دے مگر کسی اور کو انگلی نہ کھڑی کرنے دے۔ بستی کا وڈکا بھلے سے نہ ہو مگر وڈکوں جیسا ہو، وہ گالیاں بھی دے تو کانوں میں ماکھی ٹپکے، ظلم کرے تو اس پر پیار آئے۔ وہ قدم بھرے تو بھوئیں کو کانبا ہو۔ چاند نکلے تو وہ مشکی سانپ کی طرح کالا لگے اور رات کالی ہو تو وہ چاند بن جائے۔ پوہ میں ٹھنڈی لوری چلے یا ہاڑ میں تتی لو تو پورا پنڈ اس کی تانگھ میں ہوں ہوں کرنے لگے۔ بدل گرجے تو وہ یاد آئے اور دریا چڑھے تو اس کا سینہ سامنے ہو۔”

ناول کے دیگر اہم کرداروں میں مولوی جار اللہ، جان برنٹن اور ولیم برنٹن بھی ہیں۔ بستی کی اکلوتی مسجد کا امام ہونے کے ناطے مولی جار اللہ کے فتوے کو نظر انداز کرنے کی ہمت بستی کے کسی شخص میں نہیں ہے اور اسی بنیاد پر گورا سرکار اسے اپنے قابو میں لے کر اس کے دیے گئے فتوے سے رجوع کرواتی ہے اور مختلف لالچ دے کر اسے قبرستان کے مردوں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ دفن کروانے کا فتوی دینے کی ذمہ داری بھی دی جاتی ہے۔ مزید مذہبی شخصیت ہونے کے باوجود وہ شہوت زدہ اور کئی خواتین کو نکاح میں رکھے ہونے کے باوجود “سنگری” کے حسن کے آگے پھڑک جاتا ہے اور اسے بھی اپنے نکاح میں لے لیتا ہے، جبکہ وہ جانتا ہے کہ سنگری کے پیٹ میں کسی اور کا بچہ پل رہا ہے۔ جان برنٹن، ہمت اور مشکل وقت میں ہمت نہ ہارنے والا شخص ہے جو اپنے حاسدین کی صف میں اپنے بیٹے ولیم کو بھی دیکھتا ہے مگر کچھ کر نہیں پاتا۔ وہ جھوٹے الزامات کا سامنا بہادری سے کرتا ہے مگر اپنی نوکری بچا نہیں پاتا۔ اور آخر میں دریا میں اٹھنے والا سیلاب بستی آدم واہن کے مکینوں کو تمام اختلافات اور جھگڑے بھلا کر پھر سے اکٹھا ہونے پر مجبور کرتا ہے، جس کی وجہ سے بستی کے نئے امام “ملا بخشو “کی بیوی “سنگری” اپنی امانت اس کے سپرد کر کے زندگی سے ہار جاتی ہے۔ لیکن اس کی امانت کو مولوی کا خاندان خیانت سمجھ کر قبول نہیں کرتا اور پھر “منگر” سنگری کی پیدا کی گئی تمام مصیبتوں کو بھلا کر اس کی امانت کو اپنے ذمے لے کر چل پڑتا ہے۔

خطے کی تاریخ، اس دور کے حالات، معاشرے کی سوچ اور انسانی نفسیات کی پیچیدگیاں تو اس ناول میں موجود ہیں ہی، مگر ان کے ساتھ ساتھ مرد ذات کی خود ساختہ انا اور عزت نفس، جبکہ عورت کی ضد اور حد سے زیادہ ہٹ دھرمی کے بدلے پیدا ہونے والے اختلافات کو بھی نہایت مؤثر انداز سے اس ناول میں بیان کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ معاشرے میں بگاڑ کی وجہ بننے والے ان نام نہاد مذہبی لوگوں کا بھی اہم کردار ہے جو اپنے منصب کو قائم رکھنے کے لیے بدیسیوں سے بھی تعلقات قائم کرنے سے نہیں چوکتے اور شہوت کا شکار ہو کر اپنے اہم فرائض کو ثانوی درجہ دے دیا کرتے ہیں۔ دوسری جانب عوام بھی یوں جاہل بن چکی ہے کہ مذہب کے نام پر آنے والے ہر ایرے غیرے کی عقیدت میں اندھی ہو کر سچ کو ہی دفن کر دیا کرتی ہے۔  “انواسی” صرف سنگری ہی نہیں بلکہ وہ معاشرہ بھی ہے، جو کسی نہ کسی “سنگری” کی معصومیت کے درپے ہو کر اسے انواسی بناتا ہے۔ ندی کی طرح بہنے والے اس ناول میں کہیں کوئی بند نہیں اور قاری مسحور کن انداز میں اسے پڑھتا چلا جاتا ہے۔ مکالموں کی برجستگی اور مقامی و سرائیکی الفاظ کا بر محل استعمال اس ناول کو مزید خوبصورتی بخشتا ہے۔ محمد حامد سراج نے سچ ہی کہا تھا کہ

“انواسی پڑھ لیا اب میں کیا کروں بھائی؟ کیا مطالعہ کروں، کوئی کتاب من کو ہی نہیں لگ رہی۔”

(Visited 1 times, 34 visits today)

About Author

دو دریاؤں اور سلطان باہو کے شہر جھنگ سے تعلق رکھنے والے علی عبداللہ پیشے کے لحاظ سے ہیلتھ اینڈ سیفٹی پروفیشنل ہیں- کتب بینی اور لکھنے لکھانے کا شوق رکھتے ہیں اور مختلف مجلوں، ویب سائٹس اور اخبارات میں ان کی تحاریر شائع ہوچکی ہیں۔ ادب، تاریخ، مذہب اور ٹیکنالوجی ان کے پسندیدہ موضوعات ہیں جن پر گفتگو اور تحقیق کرنا پسند ہے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: