تعلیم یا تماشا ——— اظہر عباس

1

“یہاں گاؤں کا رواج نہیں ہے؟” طنزیہ لہجے میں آزاد کشمیر کے وزیر تعلیم صاحب گویا ہوئے۔

“سر ایک بجے کالج سے چھٹی ہو گئی تھی” دبے ہوئے لہجے میں نہایت شائستگی سے ایک پروفیسر صاحب نے وضاحت کی۔

منسٹر صاحب کالج میں اپنے دورے کو یادگار اور کامیاب بنانا چاہتے تھے لہذا گفتگو جاری رہی اور موضوع بدل گیا۔ “جینز کوئی پہننے کا لباس ہے، آپ لوگوں کو کس نے الاؤ کیا ہے کہ جینز ہہن کر کالج آئیں؟” حاکمانہ لہجے میں ایک اور سوال کیا گیا۔

میں نے دفتر میں بیٹھے تمام پروفیسر صاحبان کی طرف نگاہ دوڑائی۔ میرے علاوہ ایک اور پروفیسر جینز میں ملبوس تھے اور جینز انکی خوش لباسی پر کوئی منفی اثر نہیں ڈال رہی تھی۔ مجھے منسٹر صاحب کا میرے لباس پہ کیے جانے والا طنز ایک آنکھ نہ بھایا۔ “جینز میں کیا خرابی ہے؟” میں نے جواباً سوال کیا۔

منسٹر صاحب کے تیور بدل چکے تھے اور اب وہ میرے لہجے کی خرابی کا گلہ کر رہے تھے اور میں بضد تھا مجھے میرے سوال کا جواب دیا جائے۔ ڈویژنل ڈائریکٹر کالجز مجھ سے گلہ کر رہے تھے کہ میرا جواب دینا ایک نہایت ہی قابلِ اعتراض عمل یے اور میں تھا کہ ان سے جواب مانگے جا رہا تھا۔ منسٹر صاحب برہم ہو چکے تھے اور انہوں نے ڈویژنل ڈائریکٹر سے کہا کہ وہ واپس جا کے پہلی فرصت میں ضابطہ لباس سے متعلق نوٹیفکیشن جاری کریں اور انتہائی تلخ لہجے میں خدا بنتے ہوئے مجھے حکم جاری کیا کہ میں اگلے دن ان کے حضور دفتر میں حاضری دوں۔ میں نے بلا جھجک انکار کر دیا اور جرم پوچھا مگر منسٹر صاحب ارادہ فرما چکے تھے میدان حشر اب ان کے دفتر میں ہی لگے گا۔ پرنسپل کے دفتر سے نکالے جانے سے پہلے مجھ سے جب یہ گلہ کیا گیا کہ جب باقی سب چپ ہیں تو تم کیوں بول رہے ہو تو آپ یقین کیجئے میں نے جذبات کو ایک طرف رکھ کے پوری ذمہ داری کے ساتھ یہ جواب دیا کہ “ان سب کی زبانیں کاٹ دی گئی ہیں میری سلامت ہے”۔

قارئین محترم میں اپنے لباس پر اٹھائے جانے والے سوال کا جواب بعد میں دوں گا مگر آئیے پہلے آپ کو تعلیم کے نام پہ کیے جانے والے تماشے سے آگاہ کرتا چلوں تا کہ آپ کو اندازہ ہو کہ میرا لباس وزیر تعلیم کے پریشانی بننا کسی لطیفے سے کم نہیں۔

آزادکشمیر پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ۔ کے ٢٠١٨کے اعدادوشمار کے مطابق ١٦٢ کالجز میں ٢٥٧٠ پروفیسرز (اورلیکچرر) تعینات ہیں اور تقریباً ہر ١٤ طلباء پر ایک پروفیسر متعین ہے۔ الف اعلان کے ٢٠١٧ کے اعدادوشمار کے مطابق آزادکشمیر نے تعلیم کے انڈیکس پر سب سے زیادہ سکور کیا اور تعلیم میں صنفی مساوات کے لحاظ سے بھی سبقت لے گیا۔ آپ یقیناً یہ اعدادوشمار دیکھ کے فخر محسوس کر رہے ہوں گے اور حکومت کی اس مثالی کامیابی پر داد دینا چاہتے ہوں گے مگر ٹھہریے! تصویر کا دوسرا رخ ایسا نہیں۔ تحقیق کے اصولوں سے واقف لوگ جانتے ہیں کہ اعدادوشمار، اشاریے اور مقداری پیمائش کچھ جگہوں خصوصاً تعلیم کے معاملے میں محض ایک دھوکہ ہے۔ آپ گنتی کر کے تعلیمی اداروں کے معیار کبھی نہیں بتا سکتے۔

میں اپنے دو سالہ تلخ تجربات کی بنیاد پر دعوے سے بغیر تحقیق کیے یہ بات کہہ سکتا ہوں کے کالجز کے ٩٩فیصد سے زائد طلباء بغیر کسی تعلیم و تربیت کے ایک سند لے کر لوٹ جاتے ہیں۔ غیر معمولی خداداد صلاحیتوں کے مالک کچھ طلباء و طالبات ہی اپنی صلاحیتوں سے واقف ہو پاتے ہیں مگر انھیں بھی راستہ کم ہی ملتا ہے۔ ہمارے طلباء ایک سادہ سا مضمون نہیں لکھ سکتے، کسی مباحثے میں حصہ نہیں لے سکتے، سوال نہیں اٹھا سکتے اور یہاں تک کہ وہ اردو یاد کر کے امتحان پاس کرتے ہیں۔ اور المیہ یہ ہے کہ انھیں یقین دلایا جاتا کہ وہ تعلیم یافتہ ہیں اوروہ نوکری کی تلاش میں چل پڑتے ہیں۔

ہم زبان سکھا نہیں رہے، فنونِ لطیفہ ہمارے کالجز میں گناہ کبیرہ ہے، پیشہ ورانہ تعلیم دینا ہمارے لیے مشکل ہے، نصاب کی تدوین، تحقیق اور توثیق ہمارے بس کا کام ہی نہیں اور ایک صدی ہونے کے قریب ہے کہ ہم چند کتابوں کو یاد کر رہے اور جو یاد کر لیتا اسے یہ ذمہ داری سونپ دی جاتی کہ وہ اگلی نسل کو یاد کروائے اور اسی عظیم فریضہ کو پیشہ پیغمبری سے تعبیر کیا جاتا ہے اور اسی استاذ کی توقیر میں زمین و آسمان کے قلابے ملائے جاتے ہیں اور قصہ مختصر یہ کہ معاشرہ سمجھتا ہے کہ انھیں زیور تعلیم سے آراستہ کیا جا رہا ہے۔

منسٹر صاحب کو پریشان ہونا چاہیے کہ اعدادوشمار کا جن بوتل سے نکل کر بڑا ہی ہوتا گیا مگر اس نے آج تک ہماری کوئی خواہش کیوں نہ پوری کی۔ ہم کوئی ایک اچھا سائنسدان، ایک انقلابی شاعر، معاشرے کی عکاسی کرنے والا ایک ادیب، ایک مثالی فنکار اور ایک مشہور موسیقار یا گلوکار ان تعلیمی اداروں سے کیوں نہ پیدا کر سکے۔ انھیں سوچنا چاہیے کہ مستقبل قریب میں انفوٹیک اور بائیوٹک کا ملاپ ہماری تعلیم کی کھوکھلی بنیادوں کو جب ہلا دے گااور ہمارے تمام اساتذہ سمیت آبادی کا ایک بڑا حصہ بے روزگار گار ہو جائے گا تو وہ کیسے مسائل کو حل کریں گے یا آج سے ہی انھیں کیا اقدامات کرنے چاہئیے۔ انھیں ڈرنا چاہیے اس وقت سے جب، بقول یووال نوح ھراری، ترقی یافتہ عوام کے پاس ہمارے استحصال کیلیے بھی وقت نہیں ہو گا اور ہم دنیا کے لیے غیر متعلقہ ہو جائیں گے۔ انھیں خود سے سوال کرنا چاہیے کہ تعلیمی ادارے انفوٹیک اور بائیوٹک کے انقلاب کے نتیجے میں جنم لینے والے طوفان کی تباہی سے بچنے کے لیے کیا حفاظتی تدابیر اختیار کر رہے ہیں۔ یقیناً انھوں نے سوچا بھی ہو گا تبھی انہیں ہماری جینز تبدیل کروانے کی سوجھی جو سارے مسائل کی جڑ ہے۔

تعلیم کے نام پر کیے جانے والے اس تماشے میں محکمہ تعلیم کے حکام بالا محض پتلیوں کی سی حیثیت رکھتے ہیں جن کی ڈوریں ان وزیروں کے ہاتھ میں ہیں جو امتیاز علی تاج کے کردار چچا چھکن کی طرح سمجھتے ہیں کہ وہ ہر فن مولا ہیں مگر حقیقت کچھ اور ہی ہے۔

رہی بات ضابطہ لباس کی تو آپ ہمیں ایک مثال دے دیجئے کہ کسی معاشرے نے لباس تبدیل کر کے تعلیمی اداروں میں کوئی انقلاب لایا ہو۔ یا کوئی ایک وجہ بتا دیں جو جینز کو قابلِ اعتراض بناتی ہو۔ میرے امریکی ٹرینرز مجھے ٹراؤزر اور ٹی شرٹ میں جو ایک ہفتے میں سکھاتے تھے ہمارے ادارے اسکا عشر عشیر بھی سالوں میں نہیں دے سکتے۔ تعلیم شعور بخشتی ہے اور باشعور لوگ ذاتی پسند اور نا پسند کے معاملے میں دوسروں پر اپنی مرضی نہیں تھوپتے۔ مگر منسٹر صاحب آفاقی اخلاقی قدروں سے نا آشنا ہیں اور اسی نظام کی پیداوار ہیں لہذا آپ بھی انتظار کریں نتائج کا اور میں بھی کرتا ہوں۔

یہ بھی پڑھیں: محمد انور عباسی کی خودنوشت ’’متاعِ شامِ سفر‘‘ پر ایک نظر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سیدمزمل حسین
(Visited 1 times, 4 visits today)

Leave a Reply

1 تبصرہ

Leave A Reply

%d bloggers like this: