پاکستان لال عشق کی حویلی ہے —— خرم شہزاد

0

پاکستانی عوام یعنی لوگوں کا یہ ہجوم شائد پوری دنیا میں منفرد ترین ہے کیونکہ ان کی سوچ، عمل، خیالات، کردار اور افعال ایسے ہیں کہ ان کے بارے کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ کب یہ مسلمان ہوتے ہوئے دوسرے مسلمان کی زندگی عذاب کرنے والے بن جائیں، کب اخلاقی پستی کا مظاہرہ کرجائیں اور کب یہ اپنی اسفل سیاسی بصیرت کا مظاہرہ کر جائیں۔

مجھے اپنے ارد گرد بسنے والوں پر حیرت ہوتی ہے کہ آخر ہم سب کون لوگ ہیں جن کی پستی کی کوئی حد ہی نہیںی، عنی ہم کسی بھی حد تک چلے جاتے ہیں اور شرمندہ نہیں ہوتے۔ ہماری ہی تاریخ بتاتی ہے کہ بابائے قوم ایک خراب ایمبولینس میں کئی گھنٹے کراچی کی ایک سڑک پر زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا رہے۔ مادر ملت کی تصویریں کتوں کے گلے میں ڈالنے اور ان کے خلاف نعرے لگانے بھی ہمارے آس پاس ہی بسنے والے لوگ تھے۔ اپنے سیاسی مخالفوں کی بہو بیٹیوں کی تصویریں پھولوں کی پتیوں کی طرح نچھاور کرنے والے بھی ہم میں سے ہی تھے اور طرح طرح کے مقدمات مخالفین کی خواتین پر بنانے والے بھی ہم میں سے ہی رہے ہیں۔ سیاست، مذہب اور اخلاقیات کی گراوٹ میں کوئی آخری حد سوچ لیں تو اس کے لیے مثال ہمارے معاشرے سے مل جائے گی۔ آپ یقینا اس بات سے اختلاف کریں گے اور اپنے آپ کو پاکباز ثابت کرنے کے لیے گندا ٹوکرا کسی نہ کسی سیاست دان، مذہبی راہنما یا کسی آمر کے گھر کے دروازے پر رکھنے کی کوشش کریں گے لیکن میرا سوال بہت چھوٹا سا ہے کہ سیاست دان نے کوئی غلیظ حرکت سوچی، کسی آمر نے کوئی گھٹیا منصوبہ بنایا لیکن ان کو پایہ تکمیل تک کس نے پہنچایا؟ آخر کسی نے ناں کیوں نہ کی؟ کوئی ان کے راستے میں کیوں نہ آیا؟ کوئی ایسا آس پاس کیوں نہ تھا جو یہ سب روک سکتا تھا؟ مذہب ہمارے کردار کو کیوں نہ بدل سکا ؟ سیاست کے اعلیٰ معیار ہمارے سامنے فضول کی بکواس کیوں ٹھہرے؟ اخلاقیات کے درس صرف دینے کے لیے کیوں رہ گئے اور اپنی باری پر صرف اور صرف اپنا مقصد ہر صورت حاصل کرنا ہمارے لیے کیوں اہم ہو گیا؟

آپ ان تمام سوالوں پر ذرا تفصیل سے سوچیں اور بتائیں کہ جب بابائے قوم کے لیے خراب ایمبولینس بھیجنے کا حکم ملا تو کسی کو بابائے قوم کا احسان کیوں یاد نہیں آیا؟ جب مادر ملت کے خلاف جلوس نکالنے کا منصوبہ بنایا گیا تھا تو اس منصوبے کے خالق کو کسی نے تنہا کیوں نہ کیا؟ بلکہ عام آدمی، گلی کوچوں میں رہنے والے اس جلوس کی شان بڑھاتے چلے گئے۔ جب بے نظیر کی بیہودہ تصاویر چھاپنے کا حکم ملا تو کسی نے مشین چلانے سے انکار کیوں نہ کیا؟ جب سپریم کورٹ پر حملے کے منصوبہ ساز گھر سے نکلے تو کوئی ان کے راستے میں کیوں نہ آیا اور سپریم کورٹ کی راہداریوں میں کسی نے ان کو روکتے ہوئے اپنی جان کیوں نہ دی؟ جب آمر عدالتوں میں پیش ہوتے تھے تو وکیلوں کے جھتے کیا کرنے جاتے تھے؟ آپ سوال سوچتے چلے جائیں لیکن افسوس کہ ان میں سے کسی سوال کا کوئی جواب نہیں ہے۔ ہم بڑی آسانی سے بااثر لوگوں پر ذمہ داری ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں اور وہیں ایک بریانی پر بک جانے والے غریب کی مجبوری بھی بیان کرتے ہیں لیکن کوئی یہ نہیں بتاتا کہ وہ غریب نہ بکتا تو بھی کیا قیامت آجاتی؟ بھوکا تو وہ پہلے بھی برسوں سے تھا کچھ دن اور بھوکا رہ لیتا تو کیا ہوجاتا؟

مجھے ان سوالوں کو سوچتے اور ان کے جواب کھوجتے برسوں لگ گئے لیکن کچھ حاصل کچھ نہ ہوا اور پھر ایک روز خلیل الرحمان قمر سامنے آ گیا۔ جی ہاں مشہور ڈرامہ اور فلم لکھاری خلیل الرحمان قمر، جنہوں نے جب بھی لکھا، سامنے سے گزرنے والے کو رک جانے پر، اپنی طرف توجہ کرنے پر مجبور ضرور کیا۔ برسوں پہلے لنڈا بازار دیکھا تھا اور بالی جیسے میرے اندر بس گیا تھا لیکن اب لال عشق دیکھا تو بس دیکھتا رہ گیا۔ مہر چراغ کا بیٹا مہر حکم بالی کے ہاتھوں قتل ہو جاتا ہے اور مہر چراغ بالی کو معاف کرنے کو تیار نہیں اگرچہ بالی قانون کے مطابق بیس سال جیل کاٹ کر بھی آ چکا ہے لیکن مہر چراغ اسے اپنے ہاتھوں سے مارنے کا خواہش مند ہے۔ حالانکہ یہی مہر چراغ خود اپنی زبانی بتاتا ہے کہ سات گاوں سے ہماری دشمنی تھی لیکن جب مہر حکم بڑا ہوا تو کوئی دشمنی نہ رہی کیونکہ اس نے کوئی دشمن چھوڑا ہی نہیں۔ جو مہر حکم کے ہاتھوں مارے گئے، وہ کیڑے مکوڑے تھے کہ انسان، مہر چراغ کو اس سوال سے کوئی غرض نہیں، اسے بس اتنا پتہ ہے کہ مہر حکم، میرا لاڈلا بیٹا قتل ہوا ہے اور قاتل کو قانونی سزا بھی مل چکی ہے لیکن سینے میں ٹھنڈ تو قاتل کو اپنے ہاتھوں سے قتل کرنے کے بعد ہی ملے گی۔ اسی حویلی میں آنسہ مہر نسا مہر حکم صاحبہ بھی رہتی ہے جو مہر حکم کی بیوی تھی اور اس کے قتل کے بعد بائیس سال روزے رکھتی ہے، اپنی اولاد کی دن رات صرف ایک بات پر تربیت کرتی ہے کہ اس نے بالی کو مارنا ہے۔ وہی آنسہ مہر نسا مہر حکم صاحبہ اپنی زبانی بڑے پیار سے بتاتی ہے کہ مہر حکم تو ہر سال کسی نہ کسی کے پیچھے چل پڑتے تھے اور میں ان کو روکتی بھی نہیں تھی بس کچھ عرصے بعد جا کر واپس لے آتی تھی اور پھر کچھ عرصے بعد وہ کسی اور کے پیچھے چل پڑتے تھے۔ وہی آنسہ مہر نسا مہر حکم جانتی تھی کہ زہرہ بالی کی پسند ہے اور اگر زہرہ کی شادی کی رات مہر حکم وہاں جا کر زہرہ کا تقاضہ نہ کرتا تو یقینا نہ مارا جاتا لیکن اپنے شوہر کے اس کردار سے اسے کوئی غرض نہیں، اپنے اس بے مثال کردار والے شوہر کے قاتل سے بدلا لینے کے لیے وہ بائیس سال روزے رکھ کر بچوں کی تربیت کرتی ہے، اپنی ایک بیٹی کو اپنے ہاتھوں قتل کرتی ہے لیکن بالی کو معاف نہیں کرتی۔ اسی حویلی کا ایک کردار مہر حکم کا بیٹا بھی تھا جو پنڈلی سے چاقو باندھ کر ڈب میں پستول لگا کر بالی کو قتل کرنے کے لیے جگہ جگہ ڈھونڈتا پھرتا ہے لیکن ایک بار بھی اپنی ماں سے یہ نہیں پوچھتا کہ اس کا باپ قتل کیسے ہوا تھا؟ بالی نے اسے کیوں مارا تھا؟ وہ زہرہ کی شادی کی رات ان کے گھر کیوں گیا تھا؟ کوئی اس سوال کا جواب نہیں سوچتا کہ کیا اپنی شادی کی رات دروازے پر آئے قاتل، اوباش اور آوارہ مہر حکم کو بالی پلیٹ میں رکھ کر اپنی زہرہ پیش کر دیتا؟ اور اگر پیش نہ کرتا تو کیا کرتا؟

میں نے لال عشق کئی بار دیکھا ہے اور مجھے سمجھ نہیں آتی کہ لال عشق کی حویلی پاکستان کی سرزمین جیسی تھی کہ اب پاکستان کی سرزمین لال عشق کی حویلی کا ایک بڑا روپ اختیار کر چکی ہے۔ جہاں کسی کو کسی کے احسان یاد نہیں، کسی کو اخلاق، قانون اور مذہب سے کوئی سروکار نہیں۔ یہاں کسی کو کسی کی زندگی سے کوئی غرض نہیں۔ یہاں سچ جھوٹ میں کوئی تمیز باقی نہیں اور یہاں سب کی گردنوں میں سریا اور انا بھری ہوئی ہے۔ ہمارے چاروں طرف مہر چراغ پھر رہے ہیں جنہیں اپنا مہر حکم ہی عزیز ہے بھلے سات گاوں قربان ہو جائیں۔ ہمارے سامنے آنسہ مہر نسا مہر حکم صاحبائیاں پھر رہی ہیں جنہیں اپنے قاتل آوارہ اور اوباش شوہر کا کسی دوسری عورت کو اس کی شادی کے دن اغوا کرنا بھی درست لگتا ہے اور جو ساری عمر روزے رکھ کر اپنے بد کرددار شوہر کا بدلہ لینے کے لیے اولاد کو پالتی ہیں۔ ہمارے ہر طرف مہر حکم کے وارث پھر رہے ہیں جنہیں اس بات سے کوئی غرض نہیں کہ ان کا باپ کیسا تھا، وہ تو بس اپنے آپ کو حلالی ثابت کرنے اور ماں کے دودھ کی بخشیش کے لیے کسی کو بھی مارنا اپنی زندگی بھر کا مقصد بنا ئے پھرتے ہیں۔ جن کے لیے ان کا راہنما ہر مذہب اور قانون سے اوپر ہے اور کہیں اس کی آنکھ کے اشارے کی تکمیل کے لیے، کہیں اس کی خوشنودی کے لیے اورکبھی اس کے دئیے پیسوں کو حلال کرنے کے لیے ہر ناجائز کام کر جانا مقصد حیات بن جاتا ہے۔

پتہ نہیں لال عشق کی حویلی پھیل کر پاکستان بن گئی ہے کہ پاکستان سمٹ کر لال عشق کی حویلی میں سما گیا ہے لیکن بات یہ ہے کہ ساری بات بس اتنی سی ہی ہے اور یہی ساری بات ہے کہ ہمارے لیے کوئی کچھ نہیں، نہ قانون، نہ مذہب نہ اخلاق۔ یہ عشق کی نکالی ہوئی فال ہے۔۔۔ عشق تو لال ہے، عشق تو لال ہے۔

(Visited 1 times, 2 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: