قبائلی علاقے اور قومی دھارا۔ راو جاوید

0

وفاقی حکومت کو عنقریب یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ قبائلی علاقی جات کوکسی صوبے میں ضم کرنا ہے یا اسکی اپنی اسمبلی تشکیل دینا ہے۔ شاید کوئی اسے وفاق کا حصہ سمجھ کر مکمل حقوق دینے کی کی تجویز پر غور کررہا ہو۔ اس سے قبل پاکستان نے گلگت بلتستان کی اپنی کونسل تشکیل دیکر ایک اہم قدم اٹھایا۔ گلگت بلتستان کو ہندوستان کشمیر کا حصہ گردانتا ہے۔ لیکناس علاقہ کے عوام اپنی علیحدہ اسمبلی بنائے جانے پر خاصے خوش ہیں۔ کیا ڈیورنڈلائن کے پاکستانی قبائلی بھی صوبہ خیبر پختونخواہ کا حصہ بننے پر تیار ہونگے؟ جب سرتاج عزیز کی سربراہی میں قبائل کی تقدیر کا فیصلہ کرنے کیلئے اجلاس ہوئے تو قبائلی ملک اور سرداروں نے دونوں تجاویز دیں۔ یہ فیصلہ تو وقت کریگا گا کہ قبائل اپنی اسمبلی یا صوبے میں سے کسے ترجیح دیں گے۔ لیکن اس سے قبل کچھ (غیر) علمی و (غیر) اہم سوالات ہیں جن کے جواب تلاش کرنا چاہئیں۔
قبائل وفاق کے ماتحت ہیں کیونکہ انہیں وفاقی قبائلی علاقہ کہا جاتا ہے۔ انہیں صدر براہ راست کنٹرول کرتا ہے۔ وفاقی اسمبلی اورسپریم کورٹ اس میں مداخلت نہیں کرسکتے۔ لیکن یہ ان دنوں کی بات ہے جب صدر انتہائی طاقتور تھا اور سن انیس صد تہتر میں ایوب خان کی صدارت کے دنوں کو یاد رکھا جاتا تھا۔ روایات چونکہ ایک دن میںختم نہیں ہوتیںاور صدر کا عہدہ ایک روایت کا امین ہے۔ اس لئے فاٹا کو صدر کے ماتحت ہی رہنے دیا گیا۔ حقیقت میں پاکستان میں وفاقیت کو اس کے معیار پر سمجھا ہی نہیں گیا۔ فاٹا وفاق کا براہ راست حصہ ہے۔ لیکن فاٹا کی صورت میں فیڈرل علاقے سے مراد اسلام آباد نہیں بلکہ No man’s land ہے۔ اسے صرف لفظی طور پر فیڈرل کہاگیا۔ معانی و مفہوم میں یہ ہنوز افغان سرحد کا آخری مقام بلکہ اس سے بھی کہیں دور پرے ایک ایسا علاقہ ہے جہاں حکومتِ کے سوا کوئی بھی گھس سکتا ہے۔ اسی لئے جب بھی ہم نے وفاقیت کی بات کی تو اس سے مراد مرکزیت ہے یا ہماری ناک کے نیچے کا محدود تر اسلام آبادی علاقہ۔ یہ حقیقت فاٹا سے مزید واضح ہوجاتی ہے۔ اس کی صرف ایک ہی وجہ ہے کہ ہمارے ادارے فاٹا کیلئے بصیرت سے عاری ہوگئے اور وفاقیت پر عمل مشکل ہوگیا۔ وگرنہ آج بھی فاٹا کو فیڈریشن کا حصہ بنا کر اسلام آباد جیسی ترقی دیجاسکتی ہے۔ اسکی کونسل کو اسلام آباد کیساتھ جوڑ کر ، جہاں اب الیکشن ہوچکے ہیں، اور اسکے ترقیاتی ادارے کو سی ڈی اے کیساتھ ملا کر ایک بڑا وفاقی علاقی تشکیل دیا جاسکتا ہے۔ شاید معنوی طور پر ایسا وفاق ممکن ہو۔ ایسا کرنے سے صدرِپاکستان کا عہدہ صرف نام نہاد نہیں رہ جائیگا بلکہ اس میں تھوڑی سی جان پیدا ہوجائیگی اور وہ کسی قسم کا سیاسی خطرہ بھی نہیں بن پائیگا۔ فیڈرل علاقہ کو اسکی وفاقیت سے گراکر صوبائیت تک لیجانے میں کچھ لفظی ہچ بھی موجود ہے۔ مگر یہ ذرا دور کی کوڑی ہوگی۔
زیادہ تر سیاسی جماعتیں فاٹا جیسے سیاسی یتیم کو صوبے کے ساتھ ملانا چاہتی ہیں۔ اسلئے کہ یہ "ہینگ لگے نہ پھٹکڑی اور رنگ بھی چوکھا آئے” کا نسخہ ہے۔ انہیں کوئی زیادہ بڑی مہم نہیں چلانی اور سیاست کی کھلی آزادی کے ساتھ چند جلوسوں میں سیاسی آزادی دلوا کر چیمپئن بن جائیں گی۔ حکومت اسے آسان اس لئے سمجھتی ہے کہ بیوروکریسی کو چند فقرے لکھ کر جان خلاصی ہو۔ غیرسرکاری طوفان تھمے اور حقوقی شریعت کے دعویدار جنیوا سرکار کو "سب اچھا” کی رپورٹ جاری کردیں۔ صدرِ پاکستان اپنے ایوان تک محدود ہوچکے ہیں۔ جہاں صرف وہ خود ہی تشریف رکھتے ہیں۔ ان کا ماضی کا رعب و دبدبہ رخصت ہؤا۔ وزیراعظم کو بہت زیادہ کام در پیش ہیں۔ وفاقی اسمبلی میں اس مسئلے پر ہاتھ ڈالنے سے قبل بڑے مسائل موجود تھے۔ قبائل کا مطلب صرف ایک علاقہ نہیں ہے۔ یہ بین الاقوامی نوعیت کا اہم علاقہ ہے۔ اس کے بارے میں فیصلے کرنے سے ذمہ داری عائد ہوتی تھی۔ اس لئے بھی قومی اسمبلی نے اسے عضوِ معطل بنائے رکھنے میں عافت محسوس کی۔ لیکن امریکی قیادت میں موجود اقوام متحدہ کی افواج نے قبائل کو اس کی اہمیت کے مطابق میزائلوں سے نوازا۔ شاید عالمیت کا خمار ابھی تک سر پر سوار ہو، مگر زیادہ تر اتر چکاہے۔ مگر اس کی وجہ پاکستان کے اقدامات نہیں ہیں۔
فاٹا کیلئے اداراتی انداز میں فیصلے کرنے خیال تک نہیں تھا۔ ادارے "کم از کم کام "اور "زیادہ سے زیادہ فائدے "کی تلاش میں اپنی ترجیحات طے کرتے رہے۔ دنیا آج بھی قبائل کو دہشت گرد تصور کرکے اقدمات کرسکتی ہے کیونکہ اقوام متحدہ کی عالی قوت کا جواز ابھی تک باقی ہے اور انکی فوج ابھی وجود رکھتی ہے۔ پاکستانیوں پر الزام لگا کر حملہ کرنااور قبائل کو تاراج کرنا آسان ترین کام ہے۔ اس فریضے سے کوئی غفلت نہیں برتتا۔ ہم بھی اپنے عوام کی گردن آگے کرنے میں فخر محسوس کرتے ہیں۔ انہیں بچانے کیلئیے اداراتی تگ و دو کی ضرورت ہے، مگر اس کیلئے ہمیں مشرقی دانش یا مغربی علوم کی دبیز کتب سے کچھ نہیں مل پایا۔ ہم تباہی کا جواز برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔ اگر ادارے سوئے رہے تو دوبارہ وہی ہوگا جو اس سے قبل ہوتا رہا۔ اداراوں کو خواب غفلت سے جگا کر فریضے ادا کرنے کیلئے تیار کرنا وقت کی ضرورت ہے جبکہ ہم خاموش رہ کر، غیر اعلانیہ طور پر رونے پیٹنے اور جان بچانے کی کوشش میں مصروف ہیں۔ ہمارے دشمن ان تمام حرکات سے نہ صرف واقف ہوچکے ہیں بلکہ وہ انہیں ہدف تنقید بناتے ہیں۔ ہمارے کرنے کے کام بہت سستی کیساتھ جاری ہیں لیکن امریکہ کے پاس وقت کو دھوکہ دینے کے تیز تر ہتھیار موجود ہیں۔
قبائل کو انکا حق دینے کیلئے مروجہ علوم اور انکی روشنی میں تشکیل پاسکنے والے قوانین پر کام نہیں ہوپائیگا کیونکہ اس کیلئے سیاسی عملیت اور طاقت ور ادارے کی ضرورت ہے۔ پھر اس کام میں علمیت کا عنصر بھی موجود ہے، جسے ہم علی گڑھ سے جان چھڑانے کے بعد فراموش کرچکے ہیں۔ قبائلی علاقوں میں امن قائم کرنا پاکستان کا چیلنج ہے۔ لیکن قانون کا انتخاب کرنا قبائلی عوام کا حق۔ یہاں تین قانون نافذ ہیں اور چوتھا نافذ ہونے جارہاہے۔ پہلا قانون پشتون ولی، دوسرا اسلام، تیسرا فرنٹیئر کرائمز ریگولیشن اور چوتھا 1973ء کا آئین پاکستان۔ یہ سب ایک ملغوبہ بن چکا ہے۔
"پشتون ولی” قبائلی روایات کی بنیاد ہے۔ اسلام اور پشتون ولی کے مقابلے نے خان اور ملاؤں کو صدیوں مقابل رکھا۔ قبائلی معاشرہ کسی ایک قانونی روایت کے ماتحت نہیں تھا۔ پاکستان بنتے ہی یہ دونوں روایات بھی باقاعدہ طور پر کسی اتھارٹی کے ماتحت اداراتی قانون سازی کیلئے استعمال نہ ہوپائیں، اس لئے خلاء باقی رہا۔ ایک قانونی روایت کے حامل نے دوسرے کے خلاف عمل کو اپنا فریضہ سمجھا۔ قبائلی معاشرہ جرائم کا اکھاڑہ بن گیا۔ یہ قانونی اصول جب کسی اداراتی عمل سے گزرے بغیر ایک دوسرے سے براہ راست مقابلہ کرتے ہیں تو”جو جیتا وہی سلطان "بنتا ہے۔ پیسہ اور طاقت دونوں جیت جاتے ہیں۔ پیسے سے طاقت حاصل ہوتی ہے اس لئے رقم بنانے کی کوشش کیلئے تمام وسائل بروئے کار لائے گئے۔ اس معاشرے میں ہیروئن کی فیکٹریاں رواج پاگئیں۔ معاشرہ مکمل طورپرمجرموں کی آماجگاہ بن گیا۔ کسی کو اس معاشرے کی اصلاح کے لیے جواز تلاش کرنے کی ضرورت پیش نہ آئی کیونکہ پاکستان کیلئے جواز تلاش کرنے والے بھی خاموش درختوں جیسے بڑے لوگوں اور بڑے ممالک کے پروں تلے عافیت محسوس کرتے تھے اور اس ناسور کو کینسر بننے کیلیے چھوڑ دیا گیا۔فاٹاکے لوگوں میںسے کسی کو افغانستان کا چھاتہ میسر آیا تو کسی کو پاکستان کا۔ کسی کو سی آئی اے کی پشت پناہی تو کسی کو عربی کھجور کی ڈھال۔ کچھ کو جنیوا کا تنظیماتی جال پسند آیا اور کسی کیلئے مقامی پولیٹیکل ایجنٹ اور ڈی سی کی اختیاراتی کرسی کا پایا یا پھر ایف سی کی نوکری کا جھانسہ۔ لیکن آپس کے جھگڑے نے ثابت کیا کہ یہ تمام چھتریاں ایک دوسرے کے اثر کو زائل کرتی رہیںاور معاشرہ تباہ ہوگیا۔ اسکی تباہی کا عمل اس وقت تیز تر ہؤا جب جنیوا کی حقوق پسندی کا مشرق وسطیٰ کے عرب تسلط سے براہ راست تصادم ہؤا۔ یہ افسوس ناک ہے۔ وگرنہ مشرق وسطیٰ میں جنیوا اور عرب ایک دوسرے کے ہاتھ میں ہاتھ ڈال کر چلتے تھے۔ پاکستان کی غیر موثر حکمت عملی نے بھرپور موقع فراہم کیااور نتیجہ مکمل تباہی کی صورت میں نکلا۔ اب ہوش آئی ہے تو شاید کوئی ناخن بھی لئے جائیں۔
اسلام بذات خود قوانین کا ایک بڑا مجموعہ ہے۔ شافعی ، حنفی ، حنبلی اور مالکی سکول آف تھاٹ میں بھی بہت سے فقہی اور مسلکی اختلافات ہیں۔ اس لئے اسلام کا مکمل اور یکدم نفاذ ایک مشکل سوال ہے۔ اس سے پہلوتہی کرنے میں پاکستانی ادارے اور ارباب اختیار حق بجانب قرار پاتے رہے۔ انہیں دینی علم حاصل کرکے اس مسئلے کو حل کرنا چاھئیے تھا لیکن اس میں طویل عرصہ درکار تھا، جس کا روادار کوئی بھی نہ تھا۔ میرا ذاتی خیال ہے کہ ایک بھرپور طویل مغلیہ قسم کا حکمران اس معاملے کا فیصلہ ضرور کرلیتا۔ اسے افسر شاہی اور سیاست دانوں یا قبائلی سرداروں سے نمٹنے کا موقع ملتا تو کوئی نہ کوئی فیصلہ کرپاتا۔ میں آمریت کا حامی نہیں مگر جمہوری تنگ نائے ہماری مقامی روایات کے پیچیدہ تر نظام کو مفلوج کردینے کا باعث ہوتی ہے۔ اور ایسا ہی ہؤا۔ ہمیں پاکستان کی اپنی خودمختارانہ روایت کو تشکیل دینا ہوگا جس میں اسلام اور روایت کو سامنے رکھتے ہوئے اپنے مقاصد کی روشنی میں طویل مدتی ریاستی ڈھانچہ تشکیل دیکر ہر علاقے کے مختلف مسائل کو حل کیا جائے۔ یہ اس لئے بھی ضروری ہے کہ اندرونی عوامی ترقیاتی یا فلاحی چیلنج اور بیرونی انسانی حقوق کے فریم ورک کو بھرپور انداز میں اپنا کر پاکستانی روایت کو پنپنے کا موقع ملے۔ یہ ہماری لائف لائن ہوگی۔ اس روایت کے تحفظ کیلئے ہماری فوج یا ادارے کوئی بھی اقدام کرنے کے قابل ہونگے۔ وگرنہ ہم چہار اطراف سے تزویراتی حملوں کا شکار رہیں گے۔ اس کیلئے جنیوا بردار حقوقی گروہ، انڈیا بردار مسلح جتھے اور پشتون ولی کے ترجمان افغان ریاستی کارندے ہمارے سامنے مسائل کھڑے کرتے رہیں گے۔ ایسے میں قبائلی نظم کے بنیادی کردار، 1) "جرگہ” اور 2) "مخلص ملاؤں کا مسجد و مکتب پر مشتمل باصبر و باعمل ادارہ” ہمیں بنیاد فراہم کریگا۔ اگر اس کی بنیاد کو ہم آگے بڑھانے میں کامیاب ہوئے تو ہم اندرونی، قبائلی عدالتی اسلام کے محدود اور بھرپور تجربہ سے گزر سکیں گے۔
ہم شریعت کو نافذ کرنے کا عملی تجربہ نہیں کرسکے لیکن اسے آئین کا حصہ بنائے رکھا۔ ملائیت سے قطع نظر کہ ملائیت کی عینک سے دیکھا جاے تو شریعت بڑی پیچیدہ دکھائی دیگی۔ مگر لمبا چوڑا اور مشکل ترین انگریزی ہیرپھیر ہمیں قبول ہے۔ انگریز نے انسانی حقوق کو چارٹر کو ایک ڈبے میں بند کرکے ہم سے منظور کروالیا۔ اب ہر روز ایک نیی صورت میںاس کی تشریحات سامنے آتی ہیں۔ جن پر عمل کرنے کیلئے نئی ٹریٹی اور عالمی معاہدہ نازل ہوتا ہے جسے تسلیم کرنے کے ہم پابند ہیں۔ یہ ہماری حق پرستی اور ہمارے ذاتی ویژن خلاف نہیں۔ اسے ہم بے چون و چرا قبول کرلیتے ہیں۔ کیونکہ ہم نے ان معاملات پر اور قانونی بنیادوں پر کوئی کام نہیں کیا۔ علمی روایات کو سمجھا نہیں اور قانونی عمل کیلئے اجتماعی طریقہ کار تشکیل نہیں دیا۔ جو کچھ علمی روایت اور قانونی رواج اسلام یا قبائلی رسوم کی صورت میں ہمارے پاس موجود تھے، انہیں ہم نے بیکار سمجھا۔ انکی بجائے آسمان ِ جنیوا سے جس قدر حقوق کی شریعت کا بادل برسا، اسے ہم نے آب زمزم سمجھ کر خوب پیاس بجھائی۔ لیکن یہ ہمارے عوامی ضمیر کو خاموش نہ کرسکی۔ اجتماعی آواز پھر بھی موجود ہے کہ عالمی قوانین کا بے دریغ استعمال اقبال اور جناح کے ویژن کے برخلاف ہے۔ فاٹا کو اگر صوبے سے ملایا گیا اور اس کے جرگے کو کالعدم کیا گیا یا کوئی قانونی جوڑ لگانے کی کوشش کی گئی تو یہ ایک نیا تجربہ ہوگا۔ اگرچہ علماء کا مطالبہ ہے کہ اگر پاکستان کا مقصد اسلام کا تجربہ ہے تو اسے سیدھے سبھاؤ اپنایا جاسکتا ہے۔ اس پر کسی قبائلی کو اعتراض نہیں ہوگا۔ لیکن ہم ایسا کرنے کے قابل نہیں۔ درمیان میں عالمی قوانین کو بے سوچے سمجھے وفاقی یا صوبائی قانونی تجربہ کی آڑ میں مسلط کیا گیا تو یہ قبائل کیساتھ ظلم ہوگا۔ وفاقی قانونی تجربہ ابھی تک صرف انگریزی حقوق کا نمونہ ہے۔ اس لئے قبائل میں اسے قبول کرنے میںمزاحمت پایی جاتی ہے۔ میرا خیال ہے کہ ہم اقوام متحدہ کو خوش کرنے کیلئے ایسا ہی کریں گے۔ یہ قدم نیک نیتی سے اٹھایا جائے تو شاید بچت ہوجائے۔ ایسے ہی پشتون ولی اور جرگہ مقامی لوگوں کیلئے ایک اچھا تجربہ اور عملی روایت ہے۔ ہم اسے نظرانداز کرکے ، اس کے مثبت پہلؤں کو بھی مسترد کرکے وفاقی یا صوبائی قانون کو بے دریغ نافذ کرکے اپنے ماضی کے بہترین تجربے کو عالمی دباؤ کو بھینٹ چڑھادیں گے۔
ہم نے قبائل کے سادہ مزاجوں کو اس سے قبل ستر سال تک ایک مشکل تجربے سے گزارا۔ ایف سی آر کے تحت وہ ایک مختلف مزاج کی زندگی گزارتے رہے۔ 1998 میں انہیں اجتماعی سزا سے تھوڑی سی آزادی دیکر انسان مانا گیا۔ 2011ء میں سیاسی آزادی نصیب ہوئی۔ لیکن اس کے باوجود ایف سی آر عام قانون سے مختلف نوعیت رکھتا تھا۔ یوں وہ ایک مختلف گروہ تھے کیونکہ انسان اپنے قانون کے ماتحت ہی ہوتے ہیں۔ انکا اجتماعی رویہ اپنے قانون کے مطابق تشکیل پاتا ہے۔ وہ اجتماعی روئیے کا مظہر ہے اور اجتماعی رویہ قانون ہی سے وجود میں آتا ہے۔ اس لئے قبائل کا رویہ پشاور کے لوگوں سے مختلف ہے۔ اور یہی قانون کی حقیقت ہے۔
صوبے کی کہانی کچھ مختلف ہے۔ صوبے بھی اعلیٰ کارکردگی دکھانے میں ناکام رہے۔ صوبائی افسرشاہی اپنے مزاج میں وفاقی افسر شاہی سے کہیں زیادہ تنک مزاج بننے کی کوشش کرتی ہے۔ افسر کا ماتحت کہیں بڑا افسر ہوتا ہے۔ اس کی بناء پر ضلعے اپنا حصہ وصول کرنے میں ہمیشہ ناکام رہے۔ یہ نزاعی معاملہ صرف پرویز مشرف نے اپنی صدارت میں حل کرنے کی کوشش کی۔ ادھر وہ رخصت ہوئے اور ادھر ضلعے دوبارہ یتیم ہوگئے۔ ہم مشرف کو ضلعیت کا علمبردار قرار دلوانا نہیں چاہتے لیکن صوبوں نے اپنے عمل سے یہی ثابت کیا کہ کوئی آمرقوت کے زور پر ہی صوبائیت کے جبر سے ضلعوں کو بچا سکتا ہے۔ صوبائیت کو بدنام کردیاگیا ہے۔ ایسے حالات میں قبائل کو صوبے سے کچھ حاصل نہیں ہوسکتا کیونکہ کوئی معیار موجود ہی نہیں۔ ایسے میں حقوق حاصل کرنا عظیم ترین فن ہے لیکن فرائض سے غفلت کے ایک لاکھ سے زائد بہانے موجود رہتے ہیں۔ یہ حقیقت اسلام آباد کی مرکزی حکومت، کابل کے تختِ افغان اور جنیوا کی عالمی اشرافیہ کے حقوقی ماہرین (جو کہ حقی ہیں نہ حقانی بلکہ صرف حقوقی ہیں اور حقانیوں کے دشمن) کے بارے میں بالکل صحیح ثابت کرنا چنداں مشکل نہیں۔ سچائی ہمیشہ آدھی ہوتی ہے یا تول میں پورے سے کہیں کم رہتی ہے۔ دروغ گوئی کے سو پردے قائم رہتے ہیں چاہے وہ سرِعام ننگی ہوکرسامنے آجائے۔ ایسے ہی صوبوں کو وفاق سے گلہ برقرار رہے گا لیکن ضلعوں کا گلہ ختم کروانے کا کوئی طریقہ کار وجود پذیر نہ ہوگا۔
2011ء کی اصلاحات سے ایف سی آر کے قانون میں سیاسی حکمنامہء 2002 کے تحت سیاسی جماعتوں کو کام کرنے کی اجازت دی گئی۔ چونکہ سیاسی جماعتیں (الا ماشاء اللہ) صوبائیت پر مبنی ہیں یا ان میں صوبائیت باقاعدہ غفلت کے تحت گھسا دی گئی ہے، اس لئے وہ فاٹا کو صوبائی حصہ ہی مانتے ہیں۔ اس سے سوا کوئی پیمانہ نہیں۔ سیاسی جماعتوں کو قبائلی روایات اور اس کے علامی مضمرات کا علم ہو یا نہ ہو، وہ قبائلی علاقے میں ویسے ہی کام کرسکتے ہیں جیسے پاکستان کے باقی علاقوں میں۔وفاق کو اسکا کوئی غم نہیں۔ صوبائیت سے زیادہ نسلی عصبیت کا زھریلا عنصر پاکستانیوں کے خون میں شامل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اسلئے انہیں تمام پشتون صوبہ خیبر کا حصہ ہی نظرآتے ہیں۔ ان کے علاوہ کوئی پشتون نہیں ہوسکتا۔ ہمارے یہاں کوئی دوسرا صوبہ موجود بھی نہیں جسے پشتون (یا تیسرا بلوچ صوبہ یا چوتھا پنجابی علاقہ) کہا جاسکے۔ ہم صوبے کے لفظ کے علاوہ کسی لفظ یا کوئی مفہوم سمجھ بھی نہیں سکتے حالانکہ بہت سے ضروری سیاسی، سماجی، علاقائی یا مذھبی حقائق سرعام موجود ہیں۔ ہمیں صوبے کے لفظی معیار سے سو اختلاف ہو تو بھی صوبہ ہمارے لئے انگریزی کا پراونس ہی رہیگا جو کہ فیڈرل کے ماتحت، لیکن ضلعوں سے اوپر ہوگا بلکہ ضلع کیلئے نا خدا کا درجہ اختیار کرجائیگا۔ وفاق کا لفظ وفاق پر پورا نہ بھی اترے تو وہ مرکزیت پر مبنی بت رہے گا۔ ہمیں نئے الفاظ اور اصطلاحات اس لئے میسر نہیں آتے کیونکہ ہم اپنے علم کے یپمانے کسی دوسرے سے طے کرواتے ہیں۔ اگر ہمیں اپنی روایات پریقین ہوتا تو ہم معجز نما الفاظ، اصطلاحات، علوم اور ان سے بھی کہیں آگے کے حقائق کو واضح کرسکتے۔ لیکن ہمیں انگریز کی محدود لادین اصطلاح کو بھی اپنے لئے حد فاصل کے طور پر سمجھنا ہے اور اسے استعمال کرکے اپنے یقین کو کم ازکم پیمانے پر لاگو کرتے ہوئے غفلت کی نیند سوجانا ہے یا دوسروں کو لوری دیکر سلادینا ہے۔ حقائق ہمارے سر پر چنگھاڑتے رہیں یا انسان مطالبات کرتے رہیں، ہمیں یا ہمارے دماغوں کو ٹس سے مس نہی ہونا۔ ہم اپنے تعصبات سے اوپر دیکھ نہیں سکتے۔
جان لاک اور روسو جمہوریت پرشرمندہ ہونگے۔ یورپ زدہ بلکہ ہمارے لئے ایساف زدہ جمہوریت کے مفہوم نے تمام عالم کو شرما کر رکھ دیا ہے۔ قبائل کی جمہوریت کو نظرانداز کیاجاسکتا ہے۔ جمہوری رویے کا کوئی غیر لغوی یا غیر یورپی معنی موجود ہی نہیں۔ وہ غیر سرکاری گروہ جنہیں خود کو انسانیت کا علمبردار قرار دینے کا شوق چرایا ہے، وہ فاٹا کی قبائلیت کو عورتوں پر تشدد کا ہم معنی سمجھتے ہیں۔ یہ سوارئے جیسی قبائلی روایت کو صرف مطعون کرتے ہیں اسکا کوئی جمہوری متبادل فراہم کرنا نہیں چاہتے کیونکہ انہیں یورپی علوم کے ماہرین نے قانونی بنادیا ہے۔ یقین مانئیے یہ قانون نافذ کروانا چاہتے ہیں کیونکہ انہیں یہ قانون نافذ نہیں کرنا، صرف پولیس کو نفاذ کی پابندی ادا کرنا ہے یا سی ایس پی افسران کو اسکا الزام لینا ہے اور عدلیہ کو اس کا ازخود نوٹس لینا ہے۔ہمارے حقوقی جمہورئیے علمی متبادل کیلئے پشتون ولی پر مبنی افغان قبائلئیت کو بغیر پڑھے اور قانون کی بنیادوں کو بغیر سمجھے (حتیٰ کہ یورپی یونیورسٹیوں سے کوئی باقاعدہ ڈگری لئے بغیر بھی) خود سے خود ایک قانونی حیثیت حاصل کرچکے ہیں۔ ہماری جامعات کے اساتذہ اپنے علم پر حیران و پشیمان ہیں۔ انہیں ایساف کے فوجیوں کی پشت پر براجمان فنڈ کرنے والے اداروں نے ناک آؤٹ کرڈالا ہے۔ یہ لوگ کسی ایک قبائلی کو بھی بربنائے حق افغان قوم کا حصہ نہ بناسکے۔ اس لئے ہمیں موجودہ افغان قوم کے نمائندوں کا افغانیت کا دعویٰ درست معلوم نہیں ہوتا اور حقوقی شریعت کا دعویٰ نادرست ہی لگتاہے۔
فاٹا کو ہمیشہ یتیم مانا جائیگا۔ پاکستان کے تحت اسے بہترین سیاسی تجربے کیلئے استعمال نہیں کیا جاسکے گا۔ قبائل کی حقیقت کو واضح کرنے کیلئے افغان قوم پر لکھنے والے دانشوروں کو اکٹھا نہیں کیا جاسکے گا کہ اس سے انکا کوئی حق ادا کیا جاسکے۔ نہ ہی پاکستان کیلئے شریعت اور نظام فطرت کے حسین امتزاج کا عملی اظہار ہوپائیگا۔ یہ فقط ایک عضو معطل ہوگا جسے لیکر آگے بڑھنے سے ہم بدنام ہوجائیں گے (اگرچہ پہلے بھی ہم نیک نام نہیں ہیں)۔ ہم اس ذمہ داری کی ادائیگی میں غفلت کے مرتکب ہوتے چلے جائیں گے تاآنکہ قبائل ختم ہوجائیں گے اور پشاور میں قبائلیت کی اعلیٰ ترین مزار بنادیا جائیگا۔ جنیوا میں سب اچھا کی آخری رپورٹ جمع کرادی جائیگی۔ وفاق پاکستان ایک برف زار میں تبدیل ہوجائیگا۔ ہمارے فوجی ذخیرے زنگ آلود ہوجائیں گے۔ ہمارے سفراء کی کوششوں کو عملی پشت پناہی حاصل نہیں ہوگی اور انکی آواز صدا بصحرا شمار ہوتی رہے گی۔ عدالتوں سے ہمیں قانونی ضابطہ کاری کی پشت پناہی نصیب نہیں ہوگی۔ ہم صرف سیاسی نعرہ بازی کریں گے اور اس کے بعد صبر کا کفن اوڑھ کر سوجائیں گے۔

About Author

Daanish webdesk.

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: