’’لوح‘‘ اردو ادب کی نئی روایت ——– نعیم الرحمٰن

0

وہ آیا، اس نے دیکھا اور فتح کر لیا۔ ارد وادب کے حوالے سے ممتاز شیخ کے ادبی جریدے ’’لوح ‘‘ پر یہ مثال صادق آتی ہے۔ لوح کے پہلے شمارے کی اشاعت کے ساتھ شائقین ادب کو علم ہو گیا کہ یہ اردو کا منفرد اور بے مثال ادبی جریدہ ہے۔ صرف آٹھ شمارے مشترکہ گیارہ، بارہ نمبر کی اشاعت تک ’لوح‘ اردو ادبی دنیا پر چھا چکا ہے۔

اعلیٰ ترین پرنٹنگ، بہترین سفید کاغذ اور مجلد بڑے سائز کے چھ سو بہتر صفحات کے تازہ شمارے کی قیمت ایک ہزار روپے ناقابل یقین ہے۔ نقوش کے بارے میں ابن انشا مرحوم نے کہا تھا کہ

’’اس کا شمارہ خاص نمبر ہوتا ہے عام شمارہ خاص خاص مواقع پر شائع ہوتا ہے۔ لوح کے بھی اب تک تمام آٹھ شمارے خاص ہی ہیں۔ اسی طرح ایک اور ادیب نے کہا تھا کہ نقوش کو آلہ ضرب شدید کے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ تو یہ بات لوح کے ضخیم شماروں کے بارے میں بھی کہی جا سکتی ہے۔ ممتاز شیخ اب تک آٹھ شماروں میں ایک بے مثال ’’افسانہ صدی نمبر‘‘ بھی شائع کر چکے ہیں۔ جس میں اردو افسانہ کے ایک سو سترہ سال کا شاندار انتخاب شائع کیا گیا اور اب ممتاز شیخ نے ایک اور منفرد نمبر ’’ناول، افسانہ، غزل و نظم نمبر‘‘ شائع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ اپنی نوعیت کا پہلا خاص شمارہ ہو گا۔ جس میں اردو نثر و نظم کی چار اہم ترین اصناف کا احاطہ کیا جائے گا۔ ایسے کسی نمبر کی اس سے قبل اردو ادبی جرائد میں کوئی مثال نہیں ہے۔‘‘

’’حرفِ لوح ‘‘ میں ممتاز شیخ لکھتے ہیں۔

’’غالباً سن دو ہزار کی بات ہے کہ انقلاب بذریعہ شعر و سخن کی سوچ میرے اندر در آئی اور میں نے اولڈ راویئنز ایسوسی ایشن کے پلیٹ فارم سے ادب میں اپنا حصہ ڈالنے کے لیے مشاعروں کا بڑے پیمانے پر اہتمام کیا تو مجھے اندازہ نہیں تھا کہ آنے والے سالوں میں اس کی اہمیت سہ چند ہو جائے گی مگر یہ بھی جہدِ مسلسل کا تقاضا کرتی ہے۔ آج قومی تشخس پارہ پارہ ہو چکا ہے تو مجھے پھر یہی خیال آتا ہے کہ میری بیس برس پہلے کی سوچ درست تھی کہ ادب برائے انقلاب کا نعرہء مستانہ ایک بار پھر بلند کیا جائے اور جب میری اس سوچ اور ارادے کو مزید تقویت ملی کہ ادب ہی تشدد کی جبلت پر قابو پا سکتا ہے اور ایک تہذیب یافتہ سماج وجود میں آسکتا ہے تو میں نے لوح کا اجراء کیا کہ ادب ہی سماج میں صحت مند اور مثبت تبدیلیوں کا پیش خیمہ ہو سکتا ہے اور موجودہ تکلیف دہ صورتِ حال میں ادب کی وسیع پیمانے پر قبولیت ہی تحمل اور برداشت کی کسی منزل کی طرف لے جا سکتی ہے۔ یہ امر حوصلہ افزا ہے کہ ادبی رسالوں کو پڑھا جا رہا ہے اور رسالوں کی مانگ بڑھ رہی ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ ادبی رسالوں کی ذمہ داری سہ چند ہو گئی ہے کہ انہیں اپنے اعلیٰ مواد کی بناء پر معاشرے اور سماج کے سدھار کے لیے اپنا بہر حال کردار ادا کرنا چاہیے۔ ورنہ تو سماج میں ادب اگر کسی مقام پر تھم جائے تو اس کے بھیانک نتائج ہو سکتے ہیں۔ یہی وہ ذمہ داری ہے جسے شعوری طور پر ’لوح‘ نے اپنے کاندھوں پر لیا ہے کہ اپنے حصے کی شمع جلائے رکھیں۔ روزِ اول سے ’لوح‘ یہ بھی اپنی ذمہ داری سمجھتا ہے کہ اپنے حلقہ اثر میں موجود نوخیز جو ہر قابل کے ذوق کی تربیت کی جائے اور سماج میں جہاں انقلاب بذریعہ ادب کا نعرہء مستانہ بلند کیا جائے وہاں اس کے نتائج پر بھی پوری نظر رکھی جائے۔‘‘

جس مثبت نظریہ کے ساتھ ممتاز شیخ نے ’لوح‘ کا اجراء کیا تھا۔ وہ بخوبی اس پر عمل کر رہے ہیں اور اس کے ہر شمارے کے ایک ایک لفظ سے اسی کی عملی تعبیر نظر آتی ہے۔ اکتوبر میں ’لوح‘ کی اشاعت کو پانچ سال مکمل ہو گئے۔ پانچ سال میں آٹھ شمارے ممتاز شیخ کی مثبت سوچ کی بھرپور عکاسی کرتے ہیں اور دنیا بھر کے اردو شائقین ادب اب اس کے منتظر رہتے ہیں۔

تازہ شمارے کی ابتداء معروف شعراء محمد اظہار الحق اور سلیم کوثر کی خوبصورت حمد سے ہوئی ہے۔

ظلمات میں شکل ڈالتا ہے تو رحم میں روح ڈالتا ہے
تھک جاتے ہیں جانثار سارے بیمار کو تو سنبھالتا ہے
رکھ کر ہمیں موت کی پناہ میں کچھ دیر تو حشر ٹالتا ہے
ویسا ہی اس کے دھیان میں تُو ہے جیسا جس کے گمان میں تُو ہے
آسماں پر بلند ہو تے ہوئے طائروں کی اڑان میں تُو ہے

نسیم سحر اور صفدر صدیق رضی کی بھی حمد باری تعالیٰ بہت عمدہ ہے۔ احسان اکبر کی طویل بحر میں نعت کا بھی جواب نہیں۔

جلی یا خفی جلوہ نورِ محمد سا پھر خاکداں میں ہو ا ہے نہ ہو گا
جمیل الشیم ان کے مانند کوئی زماں و مکاں میں ہوا ہے نہ ہو گا
سبھی عالمی نامیوں کے نشاں رشتہ داروں کے ہاتھوں بڑھے ہیں
حریف اپنے ہی جس کے ہوں ایسا نامی بھی کوئی جہاں میں ہوا ہے نہ ہو گا

سلیم کوثر اور جاوید احمد کی نعتیں، فیروز ناطق خسرو کا نعتیہ قصیدہ اور افتخار عارف کی روح پرور منقبت بھی شمارے کا حصہ ہیں۔ لوح کے ہر شمارے میں ممتاز شیخ اپنی مادرِ علمی گورنمنٹ کالج لاہور سے جس محبت کا ثبوت دیتے ہیں۔ اس کی مثال معروف افسانہ نگار مقصود الہٰی شیخ پہلے راوی اور پھر ’مخزن‘ کے نام سے ادبی جریدہ شائع کر کے دیتے رہے۔ مخزن کے صرف دس شمارے ہی شائع ہو سکے۔ اب لوح کے ہر شمارے میں ایسے مضامین لازمی شامل کیے جاتے ہیں۔ اس شمارے میں’محبت جو امر ہو گئی‘ کے عنوان سے گورنمنٹ کالج لاہور کے عظیم ماہر نفسیات و فلسفہ پرنسپل، شاعر، ادیب اور ماہرِ تعلیم ڈاکٹر محمد اجمل کا خصوصی گوشہ شائع کیا ہے۔ معروف افسانہ نگار اور ادبی جریدے ’استعارہ‘ کے شریک مدیر ڈاکٹر امجد طفیل نے ڈاکٹر محمد اجمل کا مختصر سوانحی خاکہ پیش کیا ہے۔ ڈاکٹر محمد اجمل 7 ستمبر 1919ء کو لدھیانہ میں پیدا ہوئے اور ایک بھرپور اور قابل ِ رشک زندگی بسر کرنے کے بعد 31 جنوری 1994ء کو اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے۔ وہ تحریر سے زیادہ تقریر کے آدمی تھے۔ اسی لیے ان کا تحریری سرمایہ کچھ اتنا زیادہ نہیں۔ ان کی پہلی کتاب ’سقراط‘ تھی اس کے بعد انہوں نے ژنگ کی نفسیات پر ’تحلیلی نفسیات‘ کے نام سے کتاب لکھی۔ ان کے متفرق مضامین کا مجموعہ ’مقالاتِ اجمل‘ کے نام سے شائع ہوا۔ اس مجموعے میں ادب، مذہب، تصوف اور نفسیات پر ان کی تحریریں شامل ہیں۔ انہوں نے ول ڈیورانٹ کی کتاب کا ترجمہ ’نشاط فلسفہ‘ کے نام سے کیا۔ جبکہ ان کی اہم ترین کتاب Muslim Contribution to phhschotherapy ہے۔ جس نے پاکستان میں نفسیات کو ایک نیا رُخ دیا۔ اسی کتاب کا ایک اہم حصہ ’’نفسی طریق علاج میں مسلمانوں کا حصہ‘‘ بھی ڈاکٹر اجمل کے گوشے میں شامل ہے۔ اس مضمون کا ایک اقتباس:

’’تصوف کا نقطہء نظر جو ہم تک پہنچا ہے یہ ظاہر کرتا ہے کہ اصل علم معلومات نہیں ہیں اور نہ ہی گنے چنے مفروضے ہیں بلکہ علم وہ ہے جس میں جاننے والا اور جانی گئی شے ایک وحدت میں پروئے جاتے ہیں۔ علم اور وجود ایک ہیں۔ اگر انہیں الگ کرنے کی کوشش کی جائے تو اس سے نفسیاتی فاصلہ تضاد اور غلط شناخت جنم لیتے ہیں۔ تمام نفسیاتی فاصلے جو انسان اور انسان کے درمیان یا انسان اور فطرت میں موجود ہیں، اس فاصلے کا شاخسانہ ہیں جو خدا اور بندے کے درمیان پیدا ہو چکا ہے، چنانچہ ذہنی صحت کا دارومدار نفسیاتی طور پر خدا سے قریب ہونے میں ہے۔‘‘

حال ہی میں انتقال کرنے والے اردو کے معروف محقق، دانشور، ادیب اور ماہرِ تعلیم جمیل جالبی کا گوشہ بھی ’لوح‘ تازہ شمارے کا اہم حصہ ہے۔ اس میں ڈاکٹر معین الدین عقیل ’’جالبی صاحب کا امتیاز‘‘ اور صدف مرزا کا مضمون ’’علی گڑھ کی مٹی۔ کراچی کی ہواؤں تک‘‘ شامل ہیں۔

افسانوں کا حصہ ’سن تو سہی جہاں میں ہے تر افسانہ کیا‘ کے عنوان سے ایک سو چوالیس صفحات پر مبنی ہے۔ جس میں بیس افسانہ نگاروں کے اتنے ہی افسانے شامل کیے گئے ہیں۔ رشید امجد کا افسانہ ’’شہر جہاں وقت نہیں‘‘ اور انور زاہدی’’ ایک دن اکیلے ‘‘عمدہ موضوعات پر اچھے افسانے ہیں۔ محمد الیاس کا نیا افسانوی مجموعہ ’’چڑیاں اداس ہیں‘‘ حال ہی میں شائع ہوا ہے۔ جبکہ نئے اشاعتی ادارے صریر پبلشر سے جلد ’’وارے کی عورت‘‘ شائع ہونے والا ہے۔ محمد الیاس کا طویل افسانہ ’’سبحان اللہ‘‘ حسبِ سابق بہت عمدہ ہے۔ اخلاق احمد افسانہ ’’ایک تھا رستم‘‘ قارئین کے لیے لے کر آئے ہیں۔ علی تنہا ’’ایک ہی آنکھ‘‘ ہے۔ جبکہ استعارہ کے مدیر امجد طفیل ’’آنکھ میں ٹھہرا آنسو‘‘ بھی ایک عمدہ افسانہ ہے۔ امجد طفیل کے دو افسانوی مجموعے ’’اینٹیک شاپ‘‘ اور ’’مچھلیاں شکار کرتی ہیں‘‘ ایک جلد میں’’میرے افسانے‘‘ کے نام سے شائع ہو رہے ہیں۔ بھارتی افسانہ و ناول نگار مشرف عالم ذوقی کے ناول جلد صریر پبلشرز سے شائع ہونے والے ہیں۔ ذوقی کا افسانہ ’’گل بوزا اور باقی چھ‘‘ دل کو چھو لیتا ہے۔ طاہرہ اقبال کا نیا ناول ’’گراں‘‘ بھی حال ہی میں شائع ہوا ہے۔ طاہرہ اقبال کا افسانہ ’’نوکر بچہ‘‘ ان کے منفرد معیار کی تحریر ہے۔ گلزار جاوید ’’جشن بے قراری‘‘، بشریٰ اعجاز ’’رب ملیا، رانجھانہ ملیا‘‘، شموئل احمد ’’ٹیبل‘‘ لیکر آئے ہیں۔ خالد فتح محمد کا بھی نیا افسانوی مجموعہ حال میں منظر عام پر آیا ہے۔ ان کا ’‘کراہ‘‘ بھی ایک عمدہ افسانہ ہے۔ جبکہ رفاقت حیات کے ’’خوامخواہ کی زندگی‘‘ اور ناول ’’میر واہ کی راتیں‘‘ کے نئے ایڈیشن جلد شائع ہو رہے ہیں۔ رفاقت حیات ’’سزائے تماشائے شہرِ علم‘‘ جیسے مشکل عنوان سے ایک خوبصورت تحریر ہے۔ نگہت سلیم، سمیرا نقوی، شاہین کاظمی، ارشد اقبال، منیر احمد فردوس اور آدم شیر کے افسانے بھی دامن دل کو کھینچتے ہیں۔ آدم شیر نے پہلے ہی مجموعے ’’ایک چپ سو دکھ‘‘ سے قارئین کی توجہ حاصل کر لی ہے۔

معروف افسانہ، ناول اور سفرنامہ نگار سلمیٰ اعوان نے دنیا بھر کے ماضی اور حال کے اہم اہلِ قلم اور دانشوروں کے بارے میں بہت عمدہ کتاب ’’عالمی ادب کی فروزاں قندیلیں‘‘ تحریر کی ہے۔ جس کا دوسرا حصہ بھی شائع ہونے والا ہے۔ ’ہزار طرح کے قصے سفر میں ہوتے ہیں‘ کے زیرِ عنوان سلمیٰ اعوان اسپین کے گارشیالور کا۔ ایک توانا انقلابی آواز ایک بہت عمدہ تحریر ہے۔ سلمیٰ اعوان نے ایسے عالمی ادیبوں کو اردو قارئین سے متعارف کرا کے بہت اہم ذمہ داری انجام دے رہی ہیں۔

حصہ نظم کو ممتاز شیخ نے ’’نظم لکھے تجھے ایسے کہ زمانے وا ہوں ‘‘کا عنوان دیا ہے۔ جو چورانوے صفحات پر مبنی ہے۔ اس حصے میں پینتالیس شعراء کی چھوٹی بڑی ایک سو اکتالیس تخلیقات کو شامل کیا گیا ہے۔ ان میں ستیہ پال آنند، کشور ناہید، سعادت سعید، نصیر احمد ناصر، علی محمد فرشی اور جمیل الرحمٰن کی نظموں کے بارے میں اظہارِ خیال تو سورج کو چراغ دکھانے کے مترادف ہے۔ نصیر احمد ناصر کے شاندار ادبی جریدے ’’تسطیر‘‘ کا آٹھواں شمارہ بھی حال ہی میں شائع ہوا ہے۔ تسطیر اور لوح اس وقت اردو کی ادبی جرائد میں اپنی دھاک بٹھا چکے ہیں۔ علی محمد فرشی کا ’’سمبل‘‘ جاری نہ رہ سکا۔ لیکن وہ اپنی بے مثال شاعری سے دلوں کو تسخیر کرنے میں مصروف ہیں۔

’’لگا رہا ہوں مضامین نوکے پھر انبار ‘‘عنوان ہے لوح کے حصہ مضامین کا۔ جس میں سترہ مصنفین کے مضامین شامل ہیں۔ ہر مضمون اپنے موضوعات کے اعتبار سے ایک سے بڑھ کر ایک ہے۔ ابوالکلام قاسمی نے ’’راشد کی فکری اور فنی جہات اور نو آبادیاتی مضمرات‘‘، قاضی افضال حسین نے ’’غیر کی تشکیل: طریقہ کار اور اقسام‘‘، ڈاکٹر رؤف پاریکھ ’’اردو لغت بورڈ کی لغت: چند مزید الفاظ مع اسناد‘‘، ڈاکٹر ایس ایم معین قریشی ’’بے راہ رو، اشعار، لاپتا شاعر ‘‘اور محمد اظہار الحق’’ کیا محبت ابھی نصاب میں ہے؟‘‘ جیسے عمدہ مضامین لے کر آئے ہیں۔ دیگر مصنفین نے بھی بہت اچھے مضامین تحریر کیے ہیں۔

حصہ غزل کا عنوان ’’غزل شاعری ہے، عشق ہے، کیا ہے‘‘ ہے۔ جس میں اکیاون شعراء کی ایک سو انیس غزلوں کو شامل کیا گیا ہے۔

سحرانصاری

روش روش پہ تصور تھا، دھیان تھا اس کا
ہر ایک سروِ رواں پر گمان تھا اس کا

بساطِ عشق کی بازی نہ تھی بہت دشوار
میں خود ہی ہار گیا امتحان تھا اس کا

کشور ناہید

دست سبک بھی دست خزاں سے نہ بچ سکا
خفتہ نصیب خوف بیاں سے نہ بچ سکا
کم فرستی تھی اپنے لیے شرط ِ زندگی
پھر مآل ہجر وفغاں سے نہ بچ سکا

انور شعور

دل وہ مسکن ہے کہ تھا جو کبھی مہمان یہاں
دیکھتا ہوں میں اسے آج بھی ہر آن یہاں
گلشنِ دل سے کہاں جائے گی یادوں کی بہار
موسمی رد و بدل کا نہیں امکان یہاں

سلیم کوثر

مجھے بتاؤ مکاں سے کہ لامکاں سے ملا
میں خود کو مل نہیں پایا، تمہیں کہاں سے ملا
نشانِ سجدہ تو سجدوں سے ہو گیا روشن
خمارِ سجدہ مگر تیرے آستاں سے ملا

اجمل سراج

طالب ہیں ہم نہ کوئی طلب ہے ہمارے پاس
ہم کو جو چاہیے ہے وہ سب ہے ہمارے پاس
ماتھے پہ تو نشان نہیں ہے کوئی مگر
سینے میں ایک داغ عجب ہے ہمارے پاس

لوح کے تازہ شمارے سے ’’نہیں منت کش تاب شنیدن داستاں میری‘‘ کے عنوان سے مشہور ناول نگار ڈاکٹر رشید امجد کی آپ بیتی شروع کی گئی ہے۔ ڈاکٹر رشید امجد کی آپ بیتی کا پہلاحصہ ’’تمنا بے تاب‘‘ کے نام سے شائع ہوا۔ پھر انہوں نے اپنی آپ بیتی کو ’’عاشقی صبر طلب‘‘ کے نام سے آگے بڑھایا۔ رشید امجد کی آپ بیتی کی پہلی طویل قسط تئیس صفحات پر پھیلی ہے اور بہت دلچسپ ہے۔

’’قرطاس پر جہانِ دِگر بھی ہیں‘‘ کا عنوان تراجم کو دیا گیا ہے۔ اردو کے منفرد شاعر افتخار عارف نے یوگو سلاویہ، جاپان اور آسٹریلیا کے شعراء کی نظموں کے آزاد تراجم کیے ہیں۔ عامر حسین پاکستان کے انگریزی ادیب ہیں۔ ان کے چند اردو افسانے بھی معاصر ’آج‘ میں شائع ہو چکے ہیں۔ عامر حسین کے انگریزی افسانے’’خارزار‘‘ کا ترجمہ معروف شاعرہ اور افسانہ نگار فاطمہ حسن نے کیا ہے۔ جبکہ ہندی افسانہ نگار نوین کمار نیتھالی کے ’’پارس‘‘ کا ترجمہ احسن ایوبی نے کیا ہے۔ دونوں طویل اور عمدہ افسانے ہیں۔

لوح میں ادب کے ساتھ ساتھ دیگر فنون لطیفہ کو بھی جگہ دی جاتی ہے۔ ڈاکٹر امجد پرویز پاکستان کی معروف گلوکارہ ’’ناہید نیازی: ایک مہذب آواز‘‘ لے کر آئے ہیں۔ ڈاکٹر امجد پرویز خود بھی بہت اچھے گلوکار ہیں۔ انہوں نے ہندو پاک کے مشہور موسیقاروں اور گلوکاروں پر دو بہت اچھی کتب ’’میلوڈی میکرز‘‘ اور ’’میلوڈی سنگرز‘‘ تحریر کی ہیں اور اردو میں موسیقی پر تحریروں کی کمی کو دور کرنے کی کوشش کی ہے۔ وہ اپنی انہیں کتب سے مضامین مختلف ادبی جرائد میں بھی شائع کر رہے ہیں۔ لیکن ایک ہی مضمون دو مختلف جرائد کو بھیجنا ادبی بددیانتی ہے۔ ناہید نیازی پر مضمون استعارہ کے شمارہ پانچ میں بھی شائع ہو چکا ہے اور اب لوح میں بھی شامل ہے۔ اس سے قبل بھی ڈاکٹر امجد پرویز کا ایک مضمون دو پرچوں میں شائع ہوا ہے۔ ایسا نہیں ہونا چاہیے۔

لوح کے اختتامی حصے میں طنز و مزاح میں ڈاکٹر ایس ایم معین قریشی اور ڈاکٹر عزیز فیصل کے مضامین اور محمد عارف کا شاعر و ناول نگار اور ’’ادبیات‘‘ کے مدیر اختر رضا سلیمی کا بہت خوبصورت خاکہ ہے۔ جبکہ منفرد شاعر اور ڈرامہ نگار سرمد صہبائی کی اردو کافیوں کا جواب نہیں۔

لوح کا شمارہ گیارہ بارہ بھی حسبِ سابق بہت بھرپور اور عمدہ ہے، جس میں تمام اصناف ادب کا بہترین انتخاب شامل ہے۔ بہترین ادبی جریدے کی مسلسل اشاعت پر ممتاز شیخ مبارک باد کے حقدار ہیں۔ لوح کے ’’ناول، افسانہ، غزل اور نظم نمبر‘‘ کا قارئین کو انتظار رہے گا۔

(Visited 1 times, 3 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: