جمہوری ارتقاء میں سوشلزم کا کردار؟ —— احمد الیاس 

0

فیض فیسٹول اور طلباء مارچ کے تناظر میں بائیں بازو کی سیاست گذشتہ کچھ دنوں سے مختلف حلقوں میں زیرِ بحث ہے۔ اس حوالے سے ایک طرف تو نِری نعرے بازی ہے اور دوسری طرف سے انتہائی سطحی اور بے تُکی تنقید۔ نہ تو اشتراکیت اور پاکستان میں اس کی ضرورت کے حوالے سے کوئی خاص بات سننے یا پڑھنے کو ملی اور نہ ہی طلباء مارچ اور فیض فیسٹول جیسی سرگرمیوں پر کوئی بامعنی اور ٹھوس تنقید ہی سامنے آسکی۔

پاکستان سمیت دنیا بھر میں بایاں بازو نظریات کی سختی اور شدت کے اعتبار سے مختلف دھڑوں میں تقسیم کیا جاتا ہے:

سب سے کٹر دھڑا تو کمیونسٹ ہیں جن کی ذیلی شاخیں لینن، ٹرائسکی، سٹالن اور ماؤ وغیرہ سے منسوب ہیں۔ یہ لوگ مسلح انقلاب، بورژوا کے مکمل خاتمے، پرولتاریہ کی آمریت اور یک جماعتی نظام پر یقین رکھتے ہیں۔

پھر نسبتاً کم شدت کے حامل وہ لوگ ہیں جنہیں ڈیموکریٹک سوشلسٹ کہا جاتا ہے۔ یہ لوگ معاشی و سماجی انقلاب اور مکمل سوشلسٹ معیشت پر یقین تو رکھتے ہیں لیکن اس مقصد کو چین یا روس وغیرہ کی طرح مسلح مزاحمت اور یک جماعتی آمریت کے ذریعے نہیں بلکہ انتخابات اور لبرل جمہوریت کے ڈھانچے کے ذریعے، پرامن طریقے سے اور آئین کی حدود کے اندر رہتے ہوئے حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

ان سے بھی نسبتاً کم نظریاتی شدت کے لوگ سوشل ڈیموکریٹ کہلاتے ہیں جو کامل اشتراکی معیشت کا مطالبہ کرنے کی بجائے اشتراکی اقدار کی بنیاد پر معیشت کی حقیقیت پسندانہ تشکیلِ نو کے قائل ہیں تاکہ معاشرے کے اندر دولت کی تقسیم میں ناہمواری کو جس قدر ممکن ہو، دور کیا جاسکے۔

سب سے نرم دھڑا سوشل لبرل ہیں جن کے نظریات دراصل لیفٹ اور لبرل ازم کے نظریات کا ملغوبہ ہیں۔ یہ لوگ بنیادی طور پر لبرل اور سینٹرسٹ ہی ہیں مگر معاشرتی انصاف اور سماجی تحفظ کی بات کرتے ہیں اور نیز ایک لبرل ڈھانچے کے اندر مختلف قسم کے پسماندہ طبقات کا خاص خیال رکھنے پر زور دیتے ہیں۔

ان چاروں دھڑوں میں سے کسی بھی قسم کی ریویژن ازم سے منکر کمیونسٹ حضرات چونکہ سرے سے پارلیمانی کثیر الجماعتی جمہوریت اور اس اصول پر تشکیل پانے والے آئین کو ہی تسلیم نہیں کرتے اور اپنے علاوہ تمام سیاسی قوتوں کا وجود ہی انقلاب کے ذریعے مٹا دینے کے قائل ہیں لہذا انہیں ہم اپنی سہولت کے لیے اس بحث سے خارج تصور کرتے ہیں کیونکہ اس مضمون کا عنوان ہی جمہوری ارتقاء میں اشتراکیوں کا کردار ہے اور یہ تحریر کثیر الجماعتی انتخابی جمہوریت کو مسلمہ نکتہِ اتفاق تصور کرکہ لکھی جارہی ہے۔ لہذا اگر کوئی اورتھوڈوکس لیننسٹ مارکسسٹ، سٹالنسٹ یا ماؤسٹ اس تحریر کو پڑھ رہا ہے تو برائے مہربانی ابھی ہی پڑھنا چھوڑ دے کیونکہ اس تحریر میں اس کے لیے کچھ نہیں ہے۔

پاکستان کے اندر سوشل ڈیموکریٹ دھڑے کی نمائندہ پاکستان پیپلز پارٹی کو سمجھا جاتا ہے جبکہ سوشل لبرل بھی پی پی پی، پی ٹی آئی، ایم کیو ایم اور اب کسی حد تک نون لیگ میں گھل مل چکے ہیں یا پھر این جی اوز اور میڈیا وغیرہ کے ذریعے ہی معاشرے اور سیاست پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ گویا یہ دونوں دھڑے بڑی حد تک قومی مرکزی دھارے کا حصہ ہیں اور مارجنل یا فرینج تصور نہیں کیے جاسکتے۔

اب باقی بچے ڈیموکریٹک سوشلسٹ۔ یہی دھڑا اس مضمون کا اصل موضوع ہے اور فیض میلے یا طلباء مارچ کے تناظر میں زیادہ تر یہی لوگ منظرِ عام پر آئے۔

کوئی بھی جمہوریت پسند شخص اشتراکی نظریات سے اختلاف رکھ سکتا ہے، لیکن اس بات سے دائیں بازو کا کوئی معتدل اور منصف مزاج شخص بھی انکار نہیں کرسکتا کہ معاشرے کے اندر جمہوریت کے ارتقاء، سماجی ناہموار یوں کا احساس توانا رکھنے اور پسماندہ طبقات کی بہتری کی طرف توجہ دلانے کے ضمن میں جمہوری اشتراکی تحریکوں کا بہرحال نمایاں کردار رہا ہے۔ چاہے وہ حکمران یا بڑی جماعتوں کی حیثئیت میں نہ بھی ہوں تب بھی انٹیلیجینشیا، طلباء، مزدور یونینز، ادب اور صحافت جیسے شعبوں میں متحرک رہ کر جمہوری اشتراکیوں نے سماج اور ریاست کو جمہور اور جمہوریت سے قطعی بے پروائی نہیں برتنے دی۔

لہذا ایک اچھے صحت مند معاشرے اور جمہوریت میں ایک اچھی صحت مند جمہوری اشتراکی تحریک کا ہونا بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے تاکہ ترقی اور جمہوری حقوق کا فائدہ محض اشرافیہ اور مڈل کلاس تک محدود ہوکر نہ رہ جائے بلکہ اس سارے عمل میں ہمواری اور بہتری کے لیے دباؤ مقتدر حلقوں پر پڑتا رہے۔

یورپ کے کئی ممالک میں جمہوری اشتراکی تحریکیں اقتدار میں آئے بغیر ہی اشتراکی اقدار پر مبنی کئی مقاصد مثلاً فلاحی ریاست، سوشل سیکورٹی اور سماجی انصاف وغیرہ کو حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی ہیں۔ جرمنی جیسے کچھ ملکوں میں تو انہوں نے یہ مقاصد معتدل دائیں بازو کی حکومتوں کو دباؤ میں لاکر بھی بہت اچھے طریقے سے حاصل کیے ہیں۔

تاہم افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ پاکستان کی ڈیموکریٹک لیفٹ ایسا کرنے میں قطعاً ناکام رہی ہے، حالانکہ ہمارے ہاں جمہوری اشتراکی فکر کی ایک انتہائی توانا فکری روایت موجود تھی۔ یقیناً اس میں ہمارے معاشرے کے زرخیز نہ ہونے کا عنصر بھی نمایاں ہیں لیکن یقیناً خود لیفٹ کے کام میں بھی کچھ کوتاہیاں رہ گئیں۔

وہ کوتاہیاں راقم الحروف کی رائے میں کیا تھیں اور انہیں کس طرح درست کیا جاسکتا ہے، اس حوالے سے کچھ گزارشات پیش ہیں۔

۱۔ ہمارے ہاں جمہوری بایاں بازو خود کو ڈوگمیٹک اور آمرانہ بائیں بازو سے علیحدہ ہی نہیں کرسکا، نہ تنظیمی طور پر اور نہ فکری لحاظ سے۔ اس ساری صورتحال نے عوام میں اور خود لیفٹ کے لوگوں میں ایک عجیب سی فکری کنفیوژن پیدا کیے رکھی ہے۔ آج تک یہ صورتحال ہے کہ لینن اور بعض اوقات سٹالن تک کی تصویریں لگا کر ہمارے ہاں کامریڈز جمہوریت، آئین، سب کے لیے آزادیِ اظہار، مذہبی آزادی اور پرامن جدوجہد کی باتیں کرتے ہیں۔ یہ حرکتیں کسی بھونڈے مذاق سے کم نہیں۔ یورپ کی ڈیموکریٹک سوشلسٹ جماعتوں اور تحریکوں میں آپ کو یک جماعتی آمریت، مسلح جدوجہد یا “پرولتاریہ کی آمریت” وغیرہ مسلط کرنے والے بائیں بازو کے کسی روسی، چینی یا لاطینی امریکی ڈکٹیٹر کی تصور یا مدح سرائی نظر نہیں آئے گی۔ یہ مذاق صرف ہمارے ہاں ہوتا ہے۔ وقت آگیا ہے کہ ہمارے جمہوری کامریڈ کنفیوژن دور کرکہ پورے اخلاص کے ساتھ جمہوری ہوجائیں اور ڈوگمیٹک کمیونزم کو طلاق دے دیں۔ اس سے انہیں خود بھی ایک نیا جذبہ ملے گا اور معاشرہ بھی ان سے خوفزدہ نہیں ہوگا۔

۲۔ لبرل ازم اور سوشلزم کی بچکانہ کنفیوژن بھی ہمارے معاشرے میں عام ہے۔ اگرچہ خود کامریڈ حضرات اس مغالطے کا شکار نہیں ہیں لیکن آج تک وہ عام آدمی کے ذہن سے اس مغالطے کو دور بھی نہیں کرسکے۔ اب اگرچہ کامریڈز نے یہ بات بتانی اور دہرانی شروع کردی ہے کہ وہ لبرل نہیں بلکہ ترقی پسند ہیں لیکن یہی بات اس وقت وہ لوگ بھی کررہے ہیں جو ترقی پسند نہیں ہیں بلکہ وفاق میں چار بار اور سندھ میں سات بار حکومت کرکہ خود کو عملاً اوّل درجے کا رجعت پسند ثابت کرچکے ہیں۔ اب انہیں ایک نئے شہزادے کے ساتھ ایک نئے آغاز کی ضرورت ہے تو وہ ترقی پسندی اور طلباء تحریک کے اس ممکنہ احیاء کو تنکا سمجھ رہے ہیں۔ لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ حقیقی ترقی پسندوں اور جمہوری اشتراکیوں میں خود کو ان انتہائی بدنام اور بدعنوان لوگوں سے الگ کرنے کی ضرورت کا احساس نظر نہیں آتا۔ خود فیض میلے میں لگنے والے نعروں میں ایوب، ضیاء، مشرف، نواز اور عمران سے لڑ کر طلباء کے زندہ رہنے کا ذکر تو تھا لیکن بھٹو، بے نظیر اور زرداری کو نامعلوم کن مصلحتوں کے تحت نظر انداز کیا گیا، حالانکہ طلباء اور دیگر ترقی پسند قوتیں ان تینوں ادوار میں بھی حکومت سے لڑتی رہیں۔ اے جے رحیم اور حنیف رامے جیسے ترقی پسندوں کو ہٹا کر بلکہ قید و بند کا نشانہ بنا کر غلام مصطفیٰ کھر جیسے وڈیروں کو آگے بھٹو صاحب ہی لائے تھے۔ بے نظیر ہی کے دور میں جالب نے لکھا تھا کہ “ہر بلاول ہے دیس کا مقروض، پاؤوں ننگے ہیں بے نظیروں کے” اور اسی دور میں اقبال احمد سے خلدونیہ یونیورسٹی کے وسائل چھینے گئے تھے۔ رہا زرداری دور تو کیا مجھے واقعی اس سے متعلق کچھ کہنے کی ضرورت بھی ہے؟

لہذا پی ایس ایف کے ساتھ تعلقات اور “لِنکس” کے سبب اگر آپ ان لوگوں کے نام لینے سے ڈرتے ہیں تو عام نوجوان جو ابھی کوئی مخصوص نظریاتی راہ اختیار نہیں کرسکا اور سب کا مشاہدہ کررہا ہے، وہ آپ کو دوہرے معیار والا کیوں نہ سمجھے؟ ڈوگمیٹک کمیونسٹوں کے ساتھ ساتھ پیپلز پارٹی سے بھی خود کو الگ کیجئے۔ اندرون سندھ یا پھر پنجاب اور کے پی کی کچھ چھوٹی چوٹی پاکٹس کے سوا پاکستان میں کہیں بھی لوگ پیپلز پارٹی کو بالکل اچھی نظر سے نہیں دیکھتے۔ اگر آپ کو واقعی اس جماعت کا اتحادی بننا ہے تو آپ کو بھی اس عوامی ناپسندیدگی میں اپنا حصہ وصول کرنا پڑے گا۔

۳۔ پسماندہ اقوام اور ریاستی جبر کے شکار مظلوم طبقات کے لیے آواز اٹھانا یقیناً اشتراکی تحریک کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ مگر ایسا کرتے ہوئے شناخت کی سیاست اور اصول کی سیاست کا فرق ملحوظ رکھنا بہت ضروری ہے وگرنہ آپ رجعت پرستانہ قوم پرستی کے گڑھے میں بھی گرسکتے ہیں جو نسل پرستی اور لسانیت سے کچھ زیادہ دور نہیں ہیں۔ جب تک پشتون، بلوچ یا کسی بھی دوسرے لسانی گروہ یا “قوم” کے لیے آواز پشتون اور بلوچ کو انسان اور پسا ہوا انسان جان کر اٹھائی جائیں تو ایسی آوازیں ترقی پسندانہ ہیں۔ جب یہ آوازیں قوم پرستی کے ساتھ گڈ مڈ ہونے لگیں یعنی ان میں دیگر لسانی گروہوں یا “اقوام” کے خلاف عمومی نفرت و حقارت کا عنصر پیدا ہونے لگے اور پرامن بقائے باہمی کی بجائے علیحدگی اور بغاوت کے بظاہر خوشنما مگر درحقیقت رجعت پسندانہ نعرے اٹھنے لگیں، وہیں سے راستہ بدل لینا بہتر ہے۔

مارٹن لوتھر کنگ جونئیر کا کردار امریکہ میں سیاہ فام لوگوں کے حقوق کی جدوجہد کے حوالے سے سب سے زیادہ نمایاں ہے، آج سیاہ فام پچاس کی دہائی کی طرح علیحدہ بسوں، علیحدہ ہوٹلوں، علیحدہ کلاس رومز، علیحدہ ٹوائلس وغیرہ میں مقید نہیں ہیں تو یہ کنگ جونئیر کی قربانیوں کا ثمر ہے۔ مارٹن لوتھر کنگ جونئیر نے کبھی سیاہ فام کی امریکہ یا سفید فام لوگوں سے علیحدگی کی بات نہیں کی بلکہ یہ کہا کہ میرا خواب ہے کہ سفید اور سیاہ بچے اور بچیاں برابری کی بنیاد پر دوست بن کر، بہن بھائی بن کر رہیں گے۔ علیحدگی اور نفرت کی بات الائیجا محمد نے کی۔ الائیجا محمد نے سیاہ فام لوگوں کے لیے کیا حاصل کیا؟ کچھ بھی نہیں۔

پسی ہوئی قوموں کے لیے اٹھنے والی آوازوں میں مارٹن لوتھر کنگ جونئیر کا لہجہ تلاش کریں، الائیجا محمد کا لہجہ نظر آئے تو فوراً پیچھے ہٹ جائیں کیونکہ اس آواز کی نفرت سماج کے ساتھ ساتھ آپ کی تحریک کو بھی نقصان پہنچائے گی۔

۴۔ لیفٹ مساوات اور اتحاد کی بات کرتی ہے لیکن خود لیفٹ کی صفوں میں مساوات اور اتحاد کہیں نہیں ہے۔ عروج اورنگزیب اور اس کے ساتھی طلباء یقیناً ایلیٹ نہیں ہیں، لیکن ایلیٹ لیفٹ کا وجود بھی اپنی جگہہ حقیقیت ہے اور یہ ایلیٹ لیفٹ خود لاہور کے فیض میلے میں جا بجا نظر آتی ہے، یہی ایلیٹ لیفٹ اسلام آباد اور کراچی میں بھی اگلی صفوں میں رہتی ہے، بلکہ طلباء سے ہٹ کر تو نظر ہی ایلیٹ کے کامریڈز آتے ہیں۔ میرے نزدیک کامریڈ کا امیر اور خوشحال ہونا بھی کوئی جرم نہیں۔ یہ بھی ضروری نہیں کہ وہ اپنا سب کچھ غریبوں کو دے دے کیونکہ خیرات اور نجی نوعیت کی “ویلفئیر” تو خود لیفٹ کے نظریات کے اعتبار سے کوئی ایسی مستحسن شئے نہیں ہے۔ قدرے خوشحال کامریڈز کے خلاف خود لیفٹ کے کئی حلقوں میں پایا جانے والا بیانیہ بھی بہت زیادہ مضبوط بنیادوں پر نہیں کھڑا۔

تاہم یہ بہت ضروری ہے کہ یہ خوشحال کامریڈز اپنے طرزِ عمل سے، اپنے رویے سے اور اپنی سرگرمیوں سے “بورژوائی” تاثر پیدا نہ ہونے دیں، قدرے کم خوشحال کامریڈز بالخصوص لوئر مڈل کلاس کے نوجوانوں کو پیچھے نہ دھکیلیں، ان کی بات سنیں، انہیں کسی قسم کی حقارت سے دیکھنے کی بجائے ان کے سطح پر رہ کر بات کریں، اپنی دولت کو اپنے سر پر سوار نہ ہونے دیں، ہر طرح کے لوگوں میں گھل مل سکیں اور اپنے سماجی سٹیٹس کی بنیاد پر تحریک میں اپنا سٹیٹس بلند نہ کریں۔ فیض احمد فیض پر اکثر اپر مڈل کلاس سے ہونے اور آسودہ زندگی گزارنے کے حوالے سے تنقید کی جاتی ہے لیکن فیض صاحب کی سیرت کو دیکھا جائے تو یہ تنقید بے سبب ہے کیونکہ فیض صاحب نے کبھی کسی کو معاشی طور پر کمتر ہونے کے سبب حقارت سے دیکھا نہ اپنی خوشحالی کو بطور ترقی پسند اپنا مقام بلند کرنے کے لیے استعمال کیا اور نہ اس سرد مہر اور مغرور قسم کی ایلیٹ ببل کا حصہ بنے جو فیض میلے میں نعرے لگاتے طلباء کے درمیان نہیں تو آس پاس ہالز اور لان میں گھومتی ہمیں ضرور نظر آئی۔

۵۔ حقیقی سیاست یعنی انتخابی سیاست اور عوامی رابطہ مہم کے حوالے سے یوں بھی لیفٹ کی جماعتوں کا رویہ انتہائی غیر سنجیدہ ہے۔ پھر ہمارے شہر لاہور میں برابری پارٹی کے جواد احمد، لال بینڈ اور مزدور کسان پارٹی والے تیمور صاحب، عوامی ورکرز پارٹی کے لوگ علیحدہ علیحدہ ہیں اور ان میں کوئی کوآرڈینشن نظر نہیں آتی۔ لیفٹ کے لوگ آج تک ملاّؤں کو فرقہ بندی اور “کونسا اسلام” کا طعنہ دیتے آئے ہیں لیکن مولوی تو ایک دوسرے کو کافر کافر کہہ کر بھی ایم ایم اے میں مشترکہ سیاسی مقصد کے لیے اکٹھا بیٹھ گیا؟ کیا کامریڈز میں ملاّؤں جتنی بھی وسعتِ قلبی نہیں پائی جاتی؟

کہنے کو اور بھی بہت کچھ ہے لیکن چونکہ نظریاتی لوگ (خواہ رائٹ کے ہوں یا لیفٹ کے) عموماً فکری طور پر کافی مغرور ہوتے ہیں لہذا وہ یہاں تک بھی وہ پڑھ لیں تو غنیمت ہوگی اور اگر کچھ لمحوں کے لیے غور بھی کرلیں تو سونے پر سہاگہ۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستانی لیفٹ کا کنفیوذ آدمی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ احمد الیاس
اور یہ بھی
فیض کا تصور انقلاب : بس نام رہے گا اللہ کا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ محمد حمید شاہد
(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20