سرخ اور سبز : جنگ یا مشترک جدوجہد؟ —— آصف لقمان

0

گذشتہ دنوں کچھ طلبہ و طالبات کو کمیونسٹ تحریک کے نعرے لگاتے ہوئے دیکھ کر پرانی یادیں تازہ ہو گئیں۔

ہماری جامعات اور کالجز میں ایک زمانے میں کمیونسٹ یا سوشلسٹ تحریک اور اسلامی تحریک میں رقابت کا رشتہ رہا ہے۔ ایشیا سبز ہے اور ایشیا سرخ ہے کے نعرے ستر اور اسی کی دھائی کا ایک تاریخی ورثہ ہے۔ میری رائے میں اسلامی تحریک اور کمیونسٹ تحریک کے درمیان مشترکات موجود ہیں۔ دونوں کے ہاں مظلوم اور زیر دست طبقات کے حقوق، عدل اور انصاف کی بات ہوتی ہے۔ معاشی و سماجی انصاف اور طبقاتی ناانصافی کا خاتمہ تو وہ آدرش ہیں جو ہر دو کی فکر و فلسفہ کی بنیاد اور مقصود ہیں۔ اگرچہ گذشتہ تیس برسوں میں عالمی سیاست کا منظر نامہ بہت بدل چکا ہے۔ سیاسی انقلاب کے نعرے قصہ پارینہ بن چکے ہیں۔ ان نعروں کا وجود اب محض فکری سطح تک محدود ہوگیا اور سرمایہ داری کے عفریت نے انسان کو جدید غلامی کی صورت میں شدید غیر انسانی صورتحال کا شکار بناکر رکھ دیا ہے۔

اسلامی تحریک کے ہاں مختلف مذہبی مکاتب فکر کے درمیان “درد مشترک اور قدر مشترک” کی بنیاد پر ہم آہنگی کے فروغ کی بات ہوتی رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم اپنے سماج، سیاست اور اقتصادی نظام میں موجود استحصال کے خاتمے، قانون کی بالا دستی اور انسانی حقوق کے تحفظ جیسے مشترکات پر کمیونسٹ یا سوشلسٹ تحریک جیسی سیکولر اور لبرل جماعتوں کے ساتھ یکجا ہو سکتے ہیں؟

میری رائے میں کمیونسٹ تحریک کو دین و مذہب کے بارے میں اپنی اپروچ پر ازسر نو غور کرنا چاھئیے۔ دین کے بارے میں معاندانہ رویہ کمیونسٹ تحریک کا ناگزیر لوازمہ نہیں ہے۔ اگر چین دور حاضر کے تقاضوں کے  پیش نظر اپنے نظریات میں مطابقت لاسکتا ہے تو پاکستان میں بھی کمیونسٹ تحریک کو اپنے سماجی اقدار کو پیش نظر رکھنا چاھئیے۔ دینی شعائر کے احترام کے ساتھ بھی اس تحریک کے مقاصد کے لئے جدوجہد کی جاسکتی ہے اور عوام میں اس سے زیادہ پذیرائی حاصل کی جاسکتی ہے۔ اگر ایسا ہو جائے تو اسلامی تحریک اور کمیونسٹ تحریک ساتھ ساتھ بھی چل سکتے ہیں۔ ہمیں ماضی کے الجھاو سے قطع نظر کرتے ہوئے انسانی فلاح کے لئے مشترکہ مقاصد کو سامنے رکھتے ہوئے جدوجہد کے امکان کو زیر غور لانا چاہئے۔

مجھے یاد ہے میرے مرحوم والد اور سابق امیر جماعت اسلامی پاکستان قاضی حسین احمد صاحب کثرت سے فیض کے اشعار اپنی تقاریر میں استعمال کرتے تھے۔ وہ فیض کو بے دین اور ملحد نہیں سمجھتے تھے جیسا کہ بہت سے لوگ سوچتے ہیں، بلکہ فیض صاحب کے دین کے ساتھ وابستگی کے کچھ حوالے بھی دیتے تھے۔ ان کی وفات پر میں نے جہاں لیاقت بلوچ اور امیر العظیم کو مغموم پایا، وھاں حسن نثار اور فرخ سہیل گوئندی جیسے بائیں بازو کے کارکنان کی آنکھوں میں بھی آنسو دیکھے۔ مجھے یاد ہے زمانہ طالب علمی میں گورنمنٹ کالج لاہور اور اسلام آباد کے تعلیمی اداروں میں باہمی چپقلش کے باوجود ہماری انکے ساتھ گاڑھی چھنتی تھی، کیونکہ ایک دوسرے کی بات سمجھنا ہمارے لئے آسان تھا۔ جماعت اسلامی نے کاروان دعوت و محبت چلایا تو جو نظم سب سے زیادہ مقبول ہوئی وہ ساحر لدھیانوی کی “مظلوموں کے باغی لشکر سیل صفت امڈے آتے ہیں” تھی۔

قرآن کریم تو ہمیں اہل کتاب کے ساتھ بھی مشترکات کی دعوت کا درس دیتا ہے۔ یہ تو کلمہ گو مسلمان ہیں۔ ھمارا معاشرہ ظلم اور اور نا انصافی کی آماجگاہ بن چکا ہے۔ ظلم کی اس تاریک رات کے خاتمے اور عدل وانصاف کی صبح نو کے لئے ہر کسی کی طرف دست تعاون دراز کرنا چاھئیے۔ میں سمجھتا ہوں پاکستانی سیاست کی قیادت بیوپاریوں اور کھلاڑیوں کی بجائے ان نظریاتی کارکنان کے ہاتھ میں ہونی چاہئیے جنہوں نے اس ملک میں ایک حقیقی تبدیلی کو اپنا مقصد زندگی بنایا ہو۔ اگر ایسا ہو جائے تو یہ پاکستان کے مستقبل کے لئے خوش آیند ہوگا۔

فیض احمد فیض نے ایک نظم “رقیب” کے عنوان سے لکھی تھی۔ کچھ طلبہ و طالبات، جو اب میرے بچوں کی عمر کے ہیں، کو دیکھ کر آج یہ نظم ان کے نام کرتا ہوں۔

رقیب سے !

آ کہ وابستہ ہیں اُس حسن کی یادیں تجھ سے
جس نے اس دل کو پری خانہ بنا رکھا تھا
جس کی اُلفت میں بھُلا رکھی دُنیا ہم نے
دہر کو دہر کا افسانہ بنا رکھا تھا

آشنا ہیں ترے قدموں سے وہ راہیں جن پر
اس کی مدہوش جوانی نے عنایت کی ہے
کارواں گزرے ہیں جن سے اُسی رعنائی کے
جس کی ان آنکھوں نے بے سُود عبادت کی ہے

تجھ سے کھیلی ہیں وہ محبوب ہوائیں جن میں
اس کے ملبوس کی افسردہ مہک باقی ہے
تجھ پہ بھی برسا ہے اُس بام سے مہتاب کا نور
جس میں بیتی ہوئی راتوں کی کسک باقی ہے

تو نے دیکھی ہے وہ پیشانی، وہ رخسار، وہ ہونٹ
زندگی جن کے تصوّر میں لُٹا دی ہم نے
تجھ پہ اُٹھی ہیں وہ کھوئی ہوئی ساحر آنکھیں
تجھ کو معلوم ہے کیوں عمر گنوا دی ہم نے

ہم پہ مشترکہ ہیں احسان غمِ الفت کے
اتنے احسان کہ گِنواؤں تو گِنوا نہ سکوں
ہم نے اس عشق میں کیا کھویا ہے کیا سیکھا ہے
جُز ترے اور سمجھاؤں تو سمجھا نہ سکوں

عاجزی سیکھی ، غریبوں کی حمایت سیکھی
یاس و حرمان کے ، دُکھ درد کے معنی سیکھے
زیر دستوں کے مصائب کو سمجھنا سیکھا
سرد آہوں کے ، رُخِ زرد کے معنی سیکھے

جب کہیں بیٹھ کے روتے ہیں وہ بیکس جن کے
اشک آنکھوں میں بِلکتے ہوئے سو جاتے ہیں
ناتواں کے نوالوں پہ جھپٹتے ہیں عُقاب
بازو تولے ہوئے منڈلاتے ہوئے آتے ہیں

جب کبھی بِکتا ہے بازار میں مزدُور کا گوشت
شاہراہوں پہ غریبوں کا لہُو بہتا ہے
آگ سی سینے میں رہ رہ کے اُبلتی ہے نہ پوچھ
اپنے دل پر مجھے قابو ہی نہیں رہتا ہے

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20