کتے، ٹڈی دل اور سندھ کے عوام ——- سید مظفر الحق

0

سندھ کےکھیتوں کھلیانوں پہ ٹڈی دل نے حملہ کر رکھا ہے اور وہ پیڑ پودوں کی ہریائی چاٹ کے انہیں ٹنڈ منڈ کر رہے ہیں ٹڈی دلوں کی زد میں تو دیہی علاقے آئے ہیں لیکن شہری علاقے تو کب سے لٹیرے دلوں کی زد میں ہیں. ٹڈی دل کا سد باب تو کیمیائی چھڑکاؤ سے کیا جاسکتا ہے لیکن کراچی اور دوسرے شہروں میں جو مختلف دَل ادل بدل کر کے انہیں چاٹ رہے ہیں، ان کا تیس سالہ راج اور اثر و رسوخ تو اب ناقابلِ علاج نظر آتا ہے۔

تھر کے بے آب و گیاہ خطّے میں بچوں کو غذا اور دوا میسر نہیں اس پہ مستزاد ڈھٹائی سے یہ کہہ دیا جاتا ہے کہ تھر کے دور دراز کے گاؤں دیہات سے اسپتالوں تک تاخیر کی وجہ سے یہ اموات واقع ہورہی ہیں، عذر گناہ بدتر از گناہ، سالوں سے ان ہی وجوہات کی وجہ سے تسلسل سے معصوم بچے ماؤں کی آغوش سے چھن کر موت کی گود میں چلے جا رہے ہیں جبکہ کئی عشروں سے صوبے میں ایک ہی سیاسی پارٹی اور خاندان حکمراں ہے۔ شاید لوگوں کو تھر کی تاریخ کا بلکہ برصغیر کی تاریخ کا یہ اہم واقعہ یاد بھی نہ ہو کہ جب مغل شہنشاہ ہمایوں پٹھان بچّے شیر شاہ سوری سے جان بچا کر مارا پھر رہا تھا تو اسی صحرائے تھر کی بستی امر کوٹ میں مغل خاندان کا نامور اور کامیاب ترین شہنشاہ جلال الدین محمد اکبر پیدا ہوا تھا۔

پھر ان حکمرانوں کے آبائی شہر میں ایڈز جیسے منحوس اور ناقابلِ علاج مرض نے اس طرح ڈیرے ڈالے ہیں کہ اس کی مثال نہیں ملتی۔ اس کے شکار بچوں اور بڑوں کی جو کثیر تعداد اس میں مبتلا ہوچکی ہے اس کا ذمہ دار کون ہے؟ وہ نوزائیدہ بچے کہ جو نہ اس مرض کے اسباب کے قصوروار نہ ان کے ماں باپ آلودہ عصیاں اور بے اعتدالیوں کے مرتکب ہوں گے، ان سینکڑوں معصوموں کی اذیتوں اور اموات کا عذاب کس کے سر جائیگا؟

پہلے تو کتّے صرف پوش علاقوں میں پائے جاتے تھے کچھ حکمرانوں کے پالتو ہوتے تھے اور کچھ ان کے زیر دستوں کے راتب خور، تاہم ان کا دائرہ عمل محدود اور معین ہوتا تھا بیشتر بھونکتے تھے کاٹنے میں خودمختار نہیں تھے بلکہ ان کا انحصار مالکوں کے ہشکارے پہ ہوتا تھا۔ لیکن اب تو گلی کوچوں اور سڑکوں پہ ان کا راج ہے یہ نہ صرف بھونکتے ہیں بلکہ بھونکنے سے پہلے کاٹتے ہیں اور ان آوارہ کتّوں کا علاج سرکاری اسپتالوں میں دستیاب نہیں اس لئے جس کو ہو جان و دل عزیز، ان کے قریب جائے کیوں، مثل مشہور ہے “بلی کے بھاگوں چھینکا ٹوٹا” لیکن سندھ میں تو کتّوں کے کاٹے حکمرانوں کامقدّر جاگا، کمیشن تو کسی طور بناجائے وڈیرا، سنا ہے حکومت سندھ آوارہ کتّوں سے نبٹنے کے لئے کسی بیرونِ ملک سے تیس کروڑ کا معاہدہ کر رہی ہے، اس طرح ’آم کے آم اور گٹھلیوں کے دام‘۔

سنا ہے مشرق بعید کے کئی ممالک میں کتّوں کا گوشت بڑی رغبت سے کھایا جاتا ہے۔ تیس کروڑ کے معاہدے میں کمیشن تو ایک طرف کتّا خور قوموں کو یہ کٹ کھنے اور آوارہ و بیکار کتّے برآمد کر کے خاطر خواہ فائدہ غیر تحریری ہوگا۔

(Visited 1 times, 2 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: