مہنگائی تو پھر آپ کا حق ہے ——– خرم شہزاد

0

مہنگائی تو آسمان سے بھی اوپر چلی گئی ہے، پتہ نہیں اس کے بعد کیا ہو گا؟

ٹماٹر تین سو روپے کلو ہو گئے ہیں، غریب آدمی کی تو ہانڈی بھی چھین لی اس حکومت نے۔

او بھائی صاحب ہر چیز کی قیمتیں آسمان تک پہنچی ہوئی ہیں، لگتا ہے حکومت غربت نہیں غریب ختم کرنے پر لگی ہوئی ہے۔

یہ اور ایسے بہت سے جملے آج کل زبان زد عام ہیں اور ان کے ساتھ گالیوں کا اضافہ کرنے والوں کی بھی کوئی کمی نہیں۔ مہنگائی یقینا بڑھی ہے لیکن ایک غریب آدمی کو وجوہات سے کوئی غرض نہیں ہوتی اور نہ ہی اسے وجوہات سے غرض ہونی چاہئے کیونکہ اس نے ووٹ دے کر ایک منتخب حکومت کی تشکیل میں اپنا حصہ ڈالا ہوتاہے اور کوئی بھی حکومت بنائی ہی اس لیے جاتی ہے کہ وہ اپنے عوام کے لیے بہترین زندگی گزارنے کے اسباب مہیا کرئے۔ اس لیے وجوہات، اگر مگر چونکہ چنانچہ وغیر ہ سے نمٹنے کی ساری ذمہ داری اس حکومت کی ہوتی ہے جسے عام آدمی ووٹ دیتا ہے۔ ہمیں یہ بھی ماننا چاہیے کہ کچھ حکومتی ضروریات اور وقتی تقاضوں کی وجہ سے مہنگائی کی شرح کم یا زیادہ ہوتی رہتی ہے اور ایسا پوری دنیا میں ہوتا ہے اور ہمیشہ سے ہوتا رہا ہے لیکن اگر مہنگائی صرف بڑھنے کی طرف ہی مائل ہو اور غریب کو سانس بھی نہ لینے دے تو حکومت پر تکیہ کرنے کے بجائے غریب کو خود اس کی فکر کرنی چاہئے اور وجوہات تلاش کرنے اور ان کے سدباب کی کوشش کرنی چاہیے کیونکہ اب سانس تواس کا اپنا اٹکنے لگا ہے، اس وقت ادھر ادھر دیکھنا گویا اپنے ساتھ ہی ظالم کرنے کے مترادف ہے۔

ہر کام کرنے کا ایک طریقہ کار ہوتا ہے لیکن پاکستان یعنی ہمارے معاشرے میں ہر شخص کی اپنی سمجھ اور اپنا طریقہ کار ہوتا ہے جس سے وہ کسی بھی معاملے اور مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ حکومت اور متعلقہ اداروں کی طرف سے ہر چیز کی قیمت مقرر ہوتی ہے لیکن اگر ہم خود دکاندار ہیں تو ہماری یہی دلیل ہوتی ہے کہ بھئی حکومتی نرخ پر بھلا کیسے فروخت کر سکتے ہیں کیونکہ اس میں تو کرایہ بھی پورا نہیں پڑتا وغیرہ وغیرہ۔ ہمیں یہ بھی ماننا چاہیے کہ ستر سالوں میں گاہک نے سر ہلاتے ہوئے نہ صرف اس موقف کی تائید کی ہے بلکہ اضافی ادائیگی کرتے ہوئے اس کو موقف کو اختیار کرنے والوں کو ہلا شیری بھی دی ہے۔ دوسرے لفظوں میں حکومتی رٹ کو چیلنج کرنے میں اپنا اہم کردار ادا کیا ہے۔ کسی بھی ملک میں رہنے والے شہری کا یہ فرض ہوتا ہے کہ جہاں وہ حکومتی احکام کے خلاف کچھ دیکھے اس کو رپورٹ کرئے لیکن ہمارے معاشرے میں حکومتی حکم کے خلاف کوئی بھی کچھ بھی نہ صرف بولنے کو آزاد ہوتا ہے بلکہ دوسرے اس کا ساتھ بھی دیتے ہیں جس کی ایک مثال ہر دور حکومت میں مقرر قیمت سے زیادہ میں دکانداروں کا چیزوں کو فروخت کرنا ہے اور صارف کا چپ کر کے ادائیگی کرنا ہے۔ ہمارے اسی رویے نے دکانداروں میں یہ اعتماد پیدا کیا ہے کہ اب ان کے لیے چیزوں کو دوگنے تگنے دام میں فروخت کرنا آسان ہو گیا کہ چار گالیاں حکومت کو دے کر گاہک کے ساتھ ہمدردی کے تین بول بولتا ہے تو گاہک سمجھتا ہے کہ نہ جانے یہ دکاندار کتنا مجبور ہے اور دوگنے دام پر چیز خرید لیتا ہے۔

ہمارا ایک اور بڑا مسئلہ یہ بھی ہے کہ ہم مہنگائی کے خلاف ہیں لیکن مہنگائی کے خلاف بالکل بھی نہیں۔ ہمارے معاشرے میں مہنگائی کے مارے ننانوے اعشاریہ اٹھانوے فیصد لوگوں کو یہ پتہ ہی نہیں ہے کہ پرائس کنٹرول کمیٹی بھی کوئی چیز ہوتی ہے جس کا کام قیمتوں کو دیکھنا اور زائد قیمت پر چیزوں کی فروخت کا خاتمہ کرنا ہوتا ہے۔ اگر کہیں پرائس کنڑول کمیٹی والے چھاپہ ماریں اور کسی کو گرفتار کریں یا جرمانہ کریں تو ہماری عمومی نفسیات یہ کہتی ہے کہ ان کو بھتہ نہیں ملا ہو گا اس لیے یہ کاروائی کی گئی ہے۔ متعلقہ کاروائی میں عام عوام کی طرف سے کس قدر پریشانی کا سامنا پرائس کنٹرول والوں کو ہوتا ہے اس کی ایک آسان مثال یہ ہوتی ہے کہ مہنگی چیز خرید رہا شخص بھی گواہ بننے کو تیار نہیں ہوتا۔ اب ایسے معاشرے میں جہاں ایک عام آدمی خود اداروں پر الزام لگائے، ان کے ساتھ تعاون نہ کرئے اور اپنے عملی تعاون سے دکاندار اور گراں فروش کا حوصلہ بڑھائے وہاں اگر مہنگائی نہیں ہو گی تو اور کیا ہو گا۔ یہ ایک الگ موضوع ہے لیکن اہم بات یہ بھی ہے کہ ہمارے ہاں ننانوے اعشاریہ اٹھانوے فیصد لوگوں کو تو پرائس کنٹرول کمیٹی کے دفاتر کا بھی پتہ نہیں ہوتا۔ وہاں شکایت کیسے درج کروانی ہے اور کیا طریقہ کار ہوتا ہے اس سب کی الف بے پتہ کرنے کا ہمارے پاس وقت ہی نہیں ہوتا کیونکہ ہمارے ایمان کے مطابق ہر حکومت عوام دشمن ہوتی ہے، دکانداروں کے ہاتھ بلیک میل ہوتی ہے اور اسے عوام کا کوئی خیال نہیں ہوتا۔ ہمارے ہاں لوگوں کو سیشن کورٹ، ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کا نہ صرف پتہ ہوتا ہے بلکہ وہاں دئے جانے والے فیصلوں پر عوام ممتاز قانون دانوں سے بڑھ پر بحث کر سکتے ہیں لیکن ہمیں یہ نہیں پتہ ہوتا ہے کہ کنزیومر کورٹ کیا بلا ہے اور وہاں کون سے کیس دیکھے جاتے ہیں۔ ہمیں بطور گاہک کون سے حقوق حاصل ہیں اور ہم انہیں کیسے حاصل کر سکتے ہیں۔ ہماری عمومی نفسیات یہ بھی ہوتی ہے کہ ایک ہمارے بول دینے سے، کیس کر دینے سے کیا ہو جائے گا، کون سا سسٹم بدل جائے گا اور پھر اس سسٹم میں انصاف تو ملنا نہیں، خواری الگ ہو گی اس لیے چلو اضافی قیمت دو اور غنیمت جانو کہ اضافی قیمت پر چیز مل تو رہی ہے کیونکہ بعض علاقوں میں تو لوگ اضافی قیمت دینے کو بھی تیار ہوتے ہیں لیکن چیز دستیاب نہیں ہوتی۔

اس لیے سوال یہ نہیں کہ مہنگائی نے غریب کا جینا دوبھر کر دیا ہے اور غریب اب جسم اور جان کا تعلق کیسے قائم رکھے گا، لیکن سوال یہ ضرور ہے کہ ایک غریب جو کہ صارف ہے کیا اسے اپنے حقوق کا پتہ ہے؟ کیا اسے ان حقوق کے حصول میں جب مشکل پیش آتی ہے تو متعلقہ فورم کا پتہ ہے جہاں سے اسے اپنے حقوق کو حاصل کرنے کے لیے کوشش کرنی ہے؟ کیا ہمارے ملک کے ایک عام صارف نے کبھی اپنے حقوق جاننے میں دلچسپی لی ہے؟ کیا ہم نے حکومت کو چار گالیاں دینے والوں سے کبھی ریٹ لسٹ مانگی ہے؟ کیا ہمیں پرائس کنٹرول کمیٹیوں اور کنزیومر کورٹس کا پتہ ہے؟ کیا اپنی ساری زندگی میں ہم نے کبھی ان کمیٹیوں اور کورٹس کے بارے معلومات حاصل کی ہیں؟ کیا کبھی ہمارے اندر یہ خواہش جاگی ہے کہ ہم مہنگی چیزیں بیچنے والوں کے خلاف کہیں کوئی رپورٹ لکھوائیں اور مہنگائی کے سدباب میں حکومتی کوششوں میں اپنا حصہ ڈالیں؟ کیا کبھی ہم نے کسی ملاوٹ کرنے والے اور گراں فروش کا بائیکاٹ کرنے کا سوچا ہے؟ افسوس تو اس بات کا ہے کہ ایسے سوالوں کا ایک پہاڑ موجود ہے لیکن جوابوں کی عدم دستیابی نے اس پہاڑ کو بنجر کر دیا ہے۔ ہر سوال کا جواب نفی میں ہے تو بتائیے کہ پھر کیسے اور کیونکر مہنگائی نہ ہو، گراں فروشی نہ ہو، ذخیرہ اندوزی نہ ہو۔ مہنگائی تو آپ کا حق بنتا ہے اور ہر کوئی آپ تک آپ کا یہ حق پہنچانے میں اپنا کردار ادا کر رہا ہے اور آپ کہاں اپنا حق چھوڑتے ہیں، مہنگائی کو بھی حق سمجھ کر وصولتے ہیں اور بس یہی ساری بات ہے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20