بھٹو اور تختۂ دار‎ ——– خشونت سنگھ

0

۴ اپریل ۱۹۷۹ء کو جب ذوالفقار علی بھٹو کو تختۂ دار پر چڑھایا گیا، خشونت سنگھ راولپنڈی، اسلام آباد میں موجود تھے۔ اُس شام ان کی ملاقات صدر جنرل ضیاء الحق سے طے تھی، جو کہ ظاہر ہے نہ ہو سکی۔ اس مضمون کے پہلے حصے میں ان بد حال دنوں کا آنکھوں دیکھا حال ہے جو مصنف نے لاہور، راولپنڈی اور کراچی میں موجود رہ کر محسوس کیا۔ دوسرے حصے میں بھٹو کے آخری لمحات کا احوال ہے جو خشونت نے عینی شاہدوں سے ملاقاتوں کے بعد قلمبند کیا۔ اُن میں سے کم از کم دو نے پھانسی لگنے کا عمل اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا۔

پاکستانی عملے نے پہلا کام تو یہ کیا کہ وہ اسکاچ ضبط کر لی جو میں اپنے ساتھ لے گیا تھا۔ دوسرا عمل ایک زوردار جپھی کے ساتھ ’’خوش آمدید‘‘ کہنے کا تھا۔ کسٹم کے جس اہلکار نے یہ دونوں حرکتیں کیں، ساتھ ہی پنجابی طریقے سے وضاحت بھی کی ’’معاف کرنا سردار جی، قانون قانون اے تے یاری یاری اے‘‘۔

لاہور ائر پورٹ کا یہ تجربہ بالکل اُسی ماحول کا آئینہ دار تھا جو بھٹو کی پھانسی سے قبل پاکستان میں دیکھا جا رہا تھا۔ مثلاً یہ کہ بھٹو نے جو بھی کیا، (اور اس پر بھی رائے کا اختلاف موجود تھا) اور اس پھانسی کا جو بھی نتیجہ نکلے، پھانسی اُسے ضرور چڑھنا تھا اس لیے۔۔۔ قانون قانون ہے اور۔۔۔ قانون سے کوئی بالا نہیں اور قانون نے بھٹو کو مجرم قرار دے دیا ہے۔ وغیرہ وغیرہ۔

پاکستان کے ضمن میں ایک تیسری بات اُس وقت دیکھنے میں آئی جب میں نے اُس سرزمین پر ابھی قدم بھی نہ رکھا تھا۔ جوں ہی ’’سیٹ بیلٹ باندھ لیجئے‘‘ کے نشان جلے اور فوکر فرینڈ شپ طیارے نے اپنی بلندی کم کی اور نیچے پاکستانی سرزمین نظر آنے لگی، مجھے احساس ہوا کہ کچھ بھی تو نہ بدلا تھا۔ ہم کئی دیہات کے اوپر سے گزرے۔ وہ بالکل اُسی طرح لگ رہے تھے جیسے ۱۹۴۷ء میں تقسیم کے وقت تھے۔ سیدھی سیدھی چھتوں والے مٹی کے بنے ہوئے گھروں کے بے ہنگم سلسلے۔ صرف ایک عمارت پکی اینٹوں اور پلستر کی بنی ہوئی سفید یا سبز رنگ کی موجود تھی۔ اُس وقت بھی یہ اکیلی عمارت مسجد ہوا کرتی تھی۔

جیسے ہی جہاز اُترا ایئر ہوسٹس نے لاہور کا درجۂ حرارت بتایا اور ہمیں اپنی گھڑیاں درست کرنے کو کہا۔ مجھے لگا کہ جیسے پاکستانی وقت ہم سے ۳۰ منٹ پیچھے تھا اُسی طرح پاکستان ہم سے زراعت، صنعت، تعلیم اور سوشل سیکٹر میں بھی ۳۰ سال پیچھے تھا۔ یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کیوں کہ یہاں کے لوگ بھی ہماری ہی طرح کے ہیں۔ بلکہ جسمانی طور پر ہم سے زیادہ مضبوط ہیں۔ ایک عقیدے اور ایک زبان کے باعث اُن کے مسائل بھی ہمارے مقابلے بھی ہمارے مقابلے میں کم ہیں۔ شروع شروع میں یہ لوگ ہم سے آگے نکل چلے تھے لیکن پھر نہ جانے کیوں سُست رفتاری کا شکار ہو گئے۔ ظاہر ہے ہم جواہر لال نہرو اور اندرا گاندھی کے طویل اور مستحکم دورِ حکومت کے معاملے میں خوش قسمت نکلے، جب کہ پاکستان میں ہر ایک دو برس بعد تبدیلیاں آتی رہیں۔ نہرو نے ہماری راہنمائی درست سمت میں کی۔ صنعتی ترقی کے ساتھ ساتھ دیہی ترقی اور دیہات کا شہروں کے ساتھ مواصلاتی رابطہ، ٹیوب ویلز کی تنصیب اور بجلی کا انتظام کیا گیا۔

پاکستان میں سارا زور شہروں کی ترقی پر رہا، جہاں امیر لوگ رہتے ہیں۔ لاہور ایسی ہی غیر فطری ترجیحات کی ایک عمدہ مثال ہے۔ آس پاس کے دیہات میں کچھ نہ ہوا، جب کہ شہر کی سڑکیں وسیع سے وسیع تر ہوتی چلی گئیں تا کہ لمبی درآمد شدہ کاروں (لیموزین، مرسڈیز اور ٹویوٹا وغیرہ) کو زحمت نہ اُٹھانی پڑے۔ ’’صاحب لوگوں‘‘ کے لیے وسیع پارک بنائے گئے اور بڑے بڑے بنگلے بھی۔ بالکل اُسی طرح جیسے بد عنوان ہندوستانیوں کے لیے ہمارے شہروں میں موجود ہیں۔

بازاروں میں سب وہی کچھ دستیاب ہے جو ہمارے پاس ہے۔ ہاں، پاکستانی کپڑا بیشک زیادہ نفیس ہے۔ یہاں میوزک شاپس کی بھی بھر مار ہے۔ لاہور میں فیروز سنز کی کتابوں کی دوکان جس کا میں نے دورہ کیا، ہندوستان کی کسی بھی بک شاپ سے بڑی ہے۔ پاکستان میں تقریباً ہر شے ہمارے مقابلے میں زیادہ مہنگی ہے اور سب سے بڑی بات یہ کہ ’’نظامِ مصطفیٰ‘‘ کی سخت گیری کے باوجود شراب آسانی سے دستیاب ہو جاتی ہے، لیکن ذرا مہنگے داموں۔

ہاں ایک معاملے میں دونوں ملک ایک جیسے ہیں اور وہ ہے کرپشن۔ یہ کاروبار پاکستان میں اُسی طرح روز افزوں ترقی کر رہا ہے جیسے ہندوستان میں۔

میرے لیے یہ بات کوئی زیادہ اہم نہیں تھی کہ ضیاء الحق واقعی بھٹو کو پھانسی پر لگائے گا، بلکہ یہ بات اہم تھی کہ پاکستان کے عوام کی رائے میں بھٹو اس قتل کا مرتکب تھا بھی یا نہیں۔ میں پہلے چار دنوں کے دوران لاہور اور اسلام آباد میں جن لوگوں سے ملا اُن کا خیال تھا کہ بھٹو نہ صرف نواب محمد احمد خان قصوری کے قتل میں ملوث تھا بلکہ کئی اور جرائم میں بھی شریک تھا، جو اب تک منظر عام پر نہیں آئے تھے۔ اُن میں سیاسی مخالفین کا قتل، تشدد اور بے عزتی (ایک باپ کی نظروں کے سامنے بیٹے کی بے عزتی، غیر شادی شدہ لڑکیوں کا اغواء اور بے حرمتی وغیرہ) شامل تھے۔

تاہم لوگوں کی ایک بڑی تعداد کا خیال تھا کہ گو بھٹو حکومت دہشت گردی کی علامت تھی، استغاثہ نواب قصوری کے قتل میں اُسے ملزم ثابت کرنے میں ناکام رہا تھا۔ اور لوگوں کا خیال تھا کہ اگر عدالتوں کی تشکیل یوں نہ کی گئی ہوتی یا پھر مقدمہ بازی اسلامی قانون کے تحت چلا ہوتا تو نتائج قطعاً مختلف ہوتے۔ تا ہم پھانسی ہونے کے فوراً بعد رائے عامہ واضح طور پر بھٹو کے حق میں ہو گئی۔

لاہور میں مجھے ایک دقّت یہ تھی کہ میرے اکثر دوست جو بھٹو کے ہاتھوں ذلیل و خوار ہو چکے تھے، اُن کے اہل خانہ اس معاملے میں بڑے تلخ نوا تھے۔ میرے جگری دوست منظور قادر کو ایوب خان کی کابینہ سے اس لیے دور رہنا پڑا تھا کہ بھٹو نے (خود جس کی رنگین مزاجی معلوم و مشہور تھی) ایک پمفلٹ شائع کروایا تھا جس میں منظور قادر جیسے نفیس انسان کو دہریہ قرار دیا گیا تھا۔ بھٹو نے جو مقدمات اپنے سیاسی مخالفین پر بنائے، منظور قادر اُن میں ملزمان کی طرف سے وکیل صفائی ہوا کرتا تھا۔

اُس کی موت کے بعد محمد انور ایڈوکیٹ نے یہ خدمت سنبھالی۔ انور نے لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کو بھٹو کی زیادتیوں کے خلاف منظّم کیا، جس کی پاداش میں پولیس نے اُس پر تشدد کیا اور اُسے ۱۵ دن تک حوالات میں رکھا گیا۔ تھوڑے عرصے بعد اُس کا انتقال ہو گیا۔ میرا فرض بنتا تھا کہ میں اُس کی قبر پر حاضری دیتا۔ میں گیا، قبر پر چنبیلی کے پھول چڑھائے اور اقبال کی نظم شکوہ سے یہ شعر پڑھا

قید موسم سے طبیعت رہی آزاد اُس کی
کاش گلشن میں سمجھتا کوئی فریاد اُس کی

یہ شعر انور کی شخصیت کے حسب حال تھا۔ وہ بھٹو کا نہیں بلکہ بے انصافی کا مخالف تھا۔ وہ اکثر کہتا تھا کہ بھٹو جیسا چالاک شخص اب قریب قریب حواس باختہ بھی ہو چکا ہے۔

انور کی موت کے بعد ظلم و زیادتی کے خلاف قانونی جنگ کا یہ علم ایم اے رحمان کے ہاتھ میں آیا۔ رحمان استغاثہ کی طرف سے بھٹو اور چار دوسرے افراد کے خلاف، جن کا تعلق اُس کی ذاتی ایجنسی فیڈرل سیکیورٹی فورس سے تھا، نواب قصوری کے مقدمہ قتل (وقوعہ ۱۰ اور ۱۱ نومبر ۱۹۷۴ء کی درمیانی شب) میں بڑا وکیل مقرر ہوا۔ اُسی کے گھر میں میری ملاقات مقتول کے بیٹے احمد رضا قصوری سے ہوئی۔ یہ وہ شخص تھا جس سے بھٹو واقعی جان چھڑانا چاہتا تھا۔ دلکش شخصیت کا مالک احمد رضا تقریباً ۱۸ کے قریب جان لیوا حملوں سے بچ نکلا تھا، اگرچہ بھٹو نے بڑے زور شور سے تردید کی کہ وہ کبھی احمد رضا کو قتل کروانا چاہتا تھا۔ اُس نے احمد رضا کو mere nobody کہہ کر اُس کی تضحیک کی، لیکن سچی بات یہ ہے کہ احمد رضا کی اپنی ایک حیثیت تھی۔ وہ ایک اسٹوڈنٹ لیڈر تھا، پاکستان پیپلز پارٹی کا تاسیسی رُکن اور بھٹو مخالف دھڑے کا رہنما۔ وہ بھٹو کے گلے کی پھانسی بن چکا تھا۔ اُس کے پیٹھ پیچھے لوگ اُسے ’’بھونکا‘‘ کہتے تھے اور ’’چھوٹا بھٹو‘‘ کے نام سے پکارتے تھے۔ گواہی کے کٹہرے میں ۸ دن تک مسلسل ۵ گھنٹے روزانہ اس پر جرح ہوتی رہی، لیکن وکلائے صفائی اُس کی شہادت کا توڑ نہ کر سکے۔

بھٹو کے حامی جن کی تعداد اچھی خاصی تھی، نواب قصوری کے قتل میں اپنے لیڈر کے ملوث ہونے پر بحث میں پڑنے سے اکثر کتراتے تھے۔ اس کے بجائے وہ بھٹو کی خصوصی حیثیت پر زور دیتے تھے کہ وہ قائد اعظم محمد علی جناح کے بعد پاکستان کا دوسرا بڑا لیڈر تھا اور اسی لیے بجا طور پر ’’قائدِ عوام‘‘ کہلاتا تھا۔ بھٹو کے مخالفین اُس پر پاکستان توڑنے کا الزام لگاتے تھے اور بلوچستان اور صوبہ سرحد میں ظلم و زیادتی پر معترض تھے، جب کہ اُس کے حامی بقیہ پاکستان کی تعمیر نو پر اُس کے قصیدہ خواں تھے اور یہ کہ اُس نے شملہ کانفرنس میں اپنی قابلیت و ذہانت کی بنیاد پر ۹۳ ہزار جنگی قیدیوں کی واپسی یقینی بنائی تھی۔

اس طرح پاکستانی قوم بھٹو کی حمایت اور مخالفت کے معاملہ میں تقسیم ہو چکی تھی۔ کچھ لوگوں کے نزدیک وہ ایک ولن تھا اور کچھ کے نزدیک ہیرو۔ لیکن ہر کوئی اس بات پر متفق تھا کہ وہ ایک خوش لباس، سرکاری پیسے کا اصراف کرنے والا، کئی عمدہ خواتین میں مقبول پلے بوائے تھا۔ اُس کی بیگمات میں سے پہلی امیر بیگم اُس کی کزن تھی جو اُس سے عمر میں پندرہ سال بڑی تھی۔ دوسری ایک ایرانی طلاق یافتہ نصرت جس سے اُس کے چار بچے ہوئے۔ تیسری ایک بہاری عورت تھی جس نے بھٹو کی خاطر اپنے بنگالی شوہر سے طلاق لی اور لندن میں مقیم ہے۔

بھٹو خواتین کے ساتھ اپنے خصوصی مراسم کا برملا اظہار کرتا تھا۔ جنرل ایوب نے اُس کو بہت سخت سُست کہا، لیکن ایک شفیق باپ کی طرح اُس کی کچھ مجبوریاں تھیں۔

وہ بیک وقت شاہانہ انداز کا ایک وڈیرہ اور یورپی معیار کے مطابق ایک معزز شخص بھی تھا۔ غصے کے عالم میں اور ایسا بارہا ہوتا تھا، وہ غلیظ زبان استعمال کرنے پر بھی اُتر آتا تھا اور حرام زادہ، سور کا بچہ اور اسی طرح کے الفاظ کا بے محابہ استعمال کرتا تھا۔

بھٹو کے حمایتی اور مخالفین دونوں اس بات پر متفق تھے کہ اگر اُسے آزاد کر دیا جائے اور انتخاب لڑنے کی اجازت دی جائے تو وہ اب بھی بھاری اکثریت سے کامیاب ہو گا (اور یہی بات غالباً اُس کی زندگی لے بیٹھی)۔ ایسے حالات میں باہر سے آیا ہوا کوئی شخص کیا اندازہ کر سکتا تھا۔

جنرل ضیاء نے مجھے ۴ اپریل کی شام ملنے کا وقت دے رکھا تھا۔ میں دو دن پہلے راولپنڈی پہنچا۔ ہمارے پریس کونسلر اوپی کھنہ نے مجھے سینٹرل جیل کا ایک چکر لگوایا جہاں اُن دنوں بھٹو قید تھا۔ یہ ایک قلعہ نما چوکور عمارت ہے۔ جو ایئر پورٹ اور پریزیڈنٹ ہائوس (جو کبھی بھٹو کی رہائش ہوا کرتا تھا) کے درمیان واقع ہے۔ جیل کے آس پاس خاردار تاریں لگی ہوئی تھیں اور مسلح فوجی اور پولیس والے تعینات تھے۔ کافی سردی تھی۔ ایک اندھیری کوٹھڑی میں سیلن زدہ فرش پر بیٹھے ہوئے پھانسی کے منتظر ’’ذلفی‘‘ کا خیال آتے ہی مجھے جھر جھری آ گئی۔ اُس کا دعویٰ تھا کہ اگر اُسے قتل کیا گیا تو ہمالیہ آنسو بہائے گا۔ مجھے یہ بات سچ ہوتی دکھائی دی۔ جب ہم وہاں سے تقریباً ۱۵ کلو میٹر دور اسلام آباد پہنچے تو ہلکی ہلکی بوندا باندی ہو رہی تھی۔

’’اسلام آباد ہالے ڈے ان‘‘ میں اُس وقت تقریباً ۱۰۰ کے قریب غیر ملکی صحافی اور کیمرہ مین موجود تھے۔ وہ بلیک کافی کے پیالوں پر جیسے گِدھوں کی طرح کسی مردار پر جھکے ہوئے تھے۔ صدر مجلس بی بی سی کا مارک ٹیلی تھا۔ اُس شخص کو کب اور کہاں سے خبریں مل جاتی تھیں کہ ذلفی اس وقت اپنی کوٹھڑی میں کیا کر رہا ہے، اُس سے کون کس وقت ملا اور انہوں نے کیا باتیں کیں۔ یہ ہم سب کے لیے ایک راز تھا، لیکن ہر کوئی ایک دوسرے سے علیک سلیک کے بعد یہی کہتا تھا

’’تم نے بی بی سی پر مارک ٹیلی کو سُنا؟‘‘۔

جنرل ضیاء کے بیوروکریٹس مارک ٹیلی سے نفرت کرتے تھے، ہالی ڈے ان کا اسٹاف اُس سے محبت کرتا تھا اور ہم صحافی اُسے رشک کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔

میرے پاس کچھ وقت تھا لہٰذا میں اور کھنّہ فلم ’’خاک اور خون‘‘ دیکھنے چلے گئے جو تقسیم ہند کے موضوع پر ایک گورنمنٹ ایجنسی نے بنائی تھی۔ اُس فلم کی بڑی تشہیر ہو چکی تھی۔ تقسیم کے عظیم واقعہ پر ایک فضول پروپیگنڈہ دیکھ کر مایوسی ہوئی۔ سارے فرشتے خدا ترس مسلمانوں کی صفوں میں دکھائے گئے تھے اور سارے شیطان گویا ہندوئوں اور سکھوں کی صفوں میں شامل تھے۔ وہی دوسرے درجے کی کہانی، کہ مکار ہندو بنیا راشٹریہ سیوک سنگھ کے ساتھ ساتھ سادہ لوح سکھوں کو بھی مسلمانوں کے قتل پر اُکساتا ہے۔ میں اُس فلم کا صرف آدھا حصہ دیکھ سکا جو بہت بُرا تھا۔ بعد میں پتہ چلا کہ دوسرا حصہ اس سے بھی خراب تھا۔ بظاہر ہمارے سفارت خانے نے تاریخ کو مسخ کرنے کی اس کوشش پر احتجاج کیا اور اُن مضر اثرات کا ذکر کیا جو پاکستان کی نوجوان نسل کے ذہنوں پر پڑ سکتے تھے۔ اُن مایوس کُن حالات میں اُس فلم نے میری مایوسی میں مزید اضافہ کیا۔

میری وہ شام انڈین ایمبیسی کے سفارتکار لامبا کے گھر میں شاندار طریقے سے گزری جہاں پر پاکستانی صحافیوں کی ایک بڑی تعداد اپنی بیگمات یا گرل فرینڈز کے ساتھ موجود تھی۔ وہ سب بڑے خوبصورت اور عُمدہ لوگ تھے۔ گفتگو کا موضوع ایک ہی تھا ’’کیا ضیاء الحق بھٹو کو پھانسی دیگا؟‘‘۔ جواب دو دو تھے، یعنی ہاں بھی اور نہیں بھی۔ اکثر لوگ اس بات پر متفق تھے کہ ضیاء الحق کو خواہ مخواہ اس مصیبت میں پڑنے کی ضرورت نہیں تھی اور اب اُسے ’’نہ جائے رفتن نہ پائے ماندن‘‘ کی کیفیت کا سامنا تھا۔

پھانسی سے ایک دن پہلے
صبح کے وقت بوندا باندی کے ساتھ ٹھنڈی ہوا چلتی رہی۔ سہ پہر میں میری ملاقات عبد الحفیظ پیرزادہ سے پراچہ ہائوس میں ہوئی جہاں نصرت بھٹو اور بے نظیر بھٹو رہا کرتی تھیں۔ اُن کی تصویریں ابھی بھی دیواروں پر لگی ہوئی تھیں۔ پیر زادہ کو، جو بھٹو کی کابینہ میں وزیر رہ چکے تھے، یقین تھا کہ بھٹو کو پھانسی نہیں دی جائے گی۔ اسی اثناء میں ذلفی کے کزن ممتاز بھٹو بھی آ گئے جو بہت پریشان لگتے تھے۔ اُنہیں بارش کے دوران جیل کے دروازے پر آدھے گھنٹہ تک انتظار کرنا پڑا تھا اور پھر اندر جانے کی اجازت بھی نہ ملی تھی۔

اسلام آباد میں متعین ہندوستانی سفیر شنکر واجپائی دہلی سے پاکستان کے حالات کے بارے میں بریفنگ کے بعد واپس اپنے اسٹیشن پہنچ چکے تھے۔ کوئی ایک برس پہلے انہوں نے مجھے بتایا تھا کہ بھٹو کو پھانسی ہو کر رہے گی۔ اُن کی رائے اب بھی وہی تھی۔ یہ بات باعث طمانیت تھی کہ اسلام آباد کے سفارتی حلقوں میں واجپائی اور اُن کی ٹیم کو بہت باخبر گردانا جاتا تھا۔ میں نے اُن سے پیرزادہ کے ساتھ ہونے والی گفتگو کا ذکر کیا تو انہوں نے سر ہلایا اور دوبارہ زور دے کر کہا ’’وہ اُسے ضرور پھانسی دیں گے۔ کب؟ اس کا ابھی کچھ نہیں کہا جا سکتا‘‘۔ میں نے لیڈی وکی نون اور میاں اورنگزیب والیٔ سوات اور اُن کی بیگم نسیم جو کہ مرحوم جنرل ایوب خان کی بیٹی تھیں وغیرہ کے تاثرات بھی جاننا چاہے۔ منجھے ہوئے سفارتکاروں کی طرح وہ لوگ میرے سوالوں کو گول کر گئے۔

۴ اپریل ۱۹۷۹ء
میں صبح ۵ بجے بستر سے اُٹھا۔ شفاف اور نیلے آسمان کے نیچے مارگلا کی پہاڑیاں دُھلا دھلایا منظر پیش کر رہی تھیں۔ ’’کیا خوبصورت صبح ہے‘‘۔ میں نے اپنے آپ سے کہا ’’خدا کی پوری کائنات اور پاکستان میں سب کچھ ٹھیک ٹھاک ہے‘‘۔ لیکن کیا واقعی ایسا تھا؟ میں نے موٹر سائیکلوں کی آواز سنی۔ ائیر فورس کے پچاس کے لگ بھگ جوان اپنی سفید اور گرے یونیفارم میں ہوٹل کا انتظام سنبھال چکے تھے۔ چند لمحوں میں سپاہیوں سے لدی کئی جیپیں بھی پہنچ گئیں اور ہوٹل کا محاصرہ کر لیا گیا۔ میں نے کافی منگوائی اور ویٹر سے پوچھا ’’کوئی خبر؟‘‘۔ وہ بولا ’’سنا ہے جیل اور ایئر پورٹ رات کو بند کر دیئے گئے تھے اور لوگ کہہ رہے ہیں سب کچھ ہو چکا ہے‘‘۔ وہ گھمبیر لہجے میں کہنے لگا ’’صاحب! بہت زیادتی ہوئی ہے۔ بہت ظلم ہوا ہے‘‘۔ انگریزی اردو اخباروں میں یہ خبر غائب تھی۔ کیا ذلفی کو لاہور لے جایا گیا تھا؟ میں نے واجپائی کو فون کیا۔ اُسے سارا علم تھا اور اُس کے بقول وائس آف امریکہ (جو اُس دفعہ بی بی سی پر سبقت لے گیا تھا) کے مطابق بھٹو کو رات ۳ بجے راولپنڈی جیل میں پھانسی دی گئی تھی۔ میرا تن بدن سُن ہو کر رہ گیا۔

میں نیچے لائونج میں دوسرے صحافیوں سے ملنے چلا گیا۔ خبر درست تھی۔ ذلفی گزر چکا تھا۔ اُس کی لاش لاڑکانہ کے قریب اُس کے آبائی گائوں نوڈیرو پہنچ چکی تھی۔ اُس وقت ایک نئی کہانی بھی منظر عام پر آئی کہ چین نے ضیاء الحق سے ذلفی کو لے جانے کی درخواست کی تھی اور اُسے تا حیات نظر بند رکھنے کی ضمانت دی تھی لیکن جنرل نے اُن کی بات ماننے سے انکار کر دیا۔ اور اب ہمارے ہوٹل کے باہر موجود فوجی اُس چینی وفد کو واپس ایئر پورٹ لے جا رہے تھے۔

یہ دیکھنے کے لیے کہ واقعات کیا رخ اختیار کرتے ہیں، میں اور کھنّہ راولپنڈی روانہ ہوئے۔ ہر چیز نارمل لگ رہی تھی (اگر آپ فوجیوں اور پولیس والوں کے جتھوں کی موجودگی کو نارمل مانیں)۔ دکانیں کھلی تھیں اور لوگ اپنے کام کاج کو نکلے ہوئے تھے، تا ہم خوف اور بے چینی کا عالم تھا۔ جنگ اخبار کے ضمیمے دھڑا دھڑ بک رہے تھے اور لوگ دبی زبان میں گفتگو کر رہے تھے حتیٰ کہ ہاکرز بھی دبی زبان میں آواز لگا رہے تھے۔ میں نے چار نوجوانوں کو دیکھا جنہیں ہتھکڑیوں کے ساتھ لے جایا جا رہا تھا۔

شام کے وقت کچھ نقل و حرکت دیکھنے میں آئی۔ نماز کے بعد لوگوں نے جلوس نکالا۔ برقعہ پوش خواتین سامنے اور مرد پیچھے تھے۔ انہوں نے نعرے لگائے:

’’ضیاء کتا ہائے ہائے‘‘۔۔ ’’ذوالفقار علی بھٹو زندہ باد‘‘۔

چند پولیس والوں نے خواتین کو روکنے کی کوشش کی لیکن اُن کو ایک طرف ہونا پڑا اور احتجاجی جلوس آگے بڑھ گیا۔ پاکستانی مرد برقعہ پوش خواتین کی عزت بے پردہ خواتین کے مقابلے میں زیادہ کرتے ہیں۔ چند لمحوں بعد آنسو گیس استعمال کی گئی اور جلوس کے شرکاء منتشر ہو گئے۔ کچھ لوگ پکڑے گئے۔ اُن میں ممتاز بھٹو اور حفیظ پیر زادہ شامل نہیں تھے۔ روزنامہ ’جنگ‘ کے دفتر کو آگ لگا دی گئی، ایک امریکی کیمرہ مین کی ٹانگ اُڑ گئی اور فوج کے ایک افسر کو جو موٹر سائیکل پر جا رہا تھا مشتعل ہجوم نے مار مار کر ادھ موأ کر دیا۔ اس کے علاوہ کچھ نہ ہوا۔

میرے دوست رحمان نے لاہور سے فون کر کے بتایا کہ وہاں کو ردِّ عمل نہ ہوا تھا۔ کراچی سے سنیت آئر نے مجھے بتایا کہ وہاں بھی کچھ نہ ہوا تھا، جب کہ بی بی سی کی رپورٹ تھی کہ سخت احتجاج ہو رہا ہے۔

جنرل ضیاء سے میری جو ملاقات اُس شام ہونے والی تھی، منسوخ کر دی گئی۔ ایسا ہونا ہی تھا۔ ساتھ ہی یہ نادر حکم بھی جاری ہوا کہ کوئی صحافی اگر اسلام آباد سے باہر کسی دوسرے شہر پہنچا تو ہم سے بُرا کوئی نہ ہو گا۔ روزنامہ ’’نوائے وقت‘‘ نے یہ شوشہ چھوڑا کہ ’’بی بی سی‘‘ اور ’’آل انڈیا ریڈیو‘‘ پاکستان میں ہونے والے تمام تر احتجاج کے اصل محرک ہیں۔

اگلے دن ’’پاکستان ٹائمز‘‘ کی طرف سے دیے گئے لنچ میں چالیس کے قریب صحافی موجود تھے۔ یہ بات عبرت ناک تھی کہ وہی لوگ جو مہینے بھر سے اس بات پر خیال آرائیاں کر رہے تھے کہ ضیاء بھٹو کے ساتھ کیا سلوک کرے گا، اب محض موسم پر گفتگو کر رہے تھے۔ میرے اس بیان کو کوئی پذیرائی نہ ملی کہ ضیاء نے ایک سخت سیاسی غلطی کی تھی اور اب بھٹو کی روح آنے والے کئی سالوں تک اس سرزمین پر منڈلاتی رہے گی۔

۸ اپریل جمعہ کے دن میں کراچی پہنچا۔ میرے اسلام آباد سے نکلنے پر کوئی اعتراض نہ ہوا تھا۔ اُس دن جمعہ کی نماز کے بعد احتجاجی جلوس متوقع تھے۔ میری درخواست پر ہمارے قونصل جنرل مانی شنکر آئر اور ان کی سکھ بیوی سُنیت نے مجھے شہر کا چکر لگوایا۔ جمعہ کی چھٹی کی وجہ سے تمام دوکانیں بند تھیں۔ ہم کئی ایسی جگہوں سے گزرے جہاں پر لڑکے کرکٹ یا ہاکی کھیل رہے تھے۔ ہم عظیم الشان میمن مسجد کے سامنے سے گزرے جہاں جمعے کا اجتماع موت کی سی خاموشی کے ساتھ ختم ہو چکا تھا۔ مجھے بتایا گیا کہ کراچی کبھی بھی بھٹو کا حامی شہر نہیں تھا۔

کراچی میں میری ملاقات بلوچستان پی ڈی پی کے رہنما سردار شیر باز خان مزاری سے ہوئی۔ ایوب کھوڑو سے ملنا بھی ہوا جو کبھی سندھ کے چیف منسٹر رہ چکے تھے۔ اُسکے علاوہ مشیر احمد پیش امام سے بھی ملاقات ہوئی جو ایئر مارشل اصغر خان کی تحریکِ استقلال کے جنرل سیکرٹری تھے۔ بے چارے ذلفی کے انجام نے اُن لوگوں پر کچھ خاص اثر نہیں ڈالا تھا۔ مزاری کو بھٹو کی طرف سے بلوچوں پر ڈھائے گئے ظلم و زیادتی کا غم تھا۔ ایوب کھوڑو اور اُن کی کیمبرج کی تعلیم یافتہ صاحبزادی حمیدہ کھوڑو کو زیادہ الجھن اُن مسائل پر تھی جو اُردو بولنے والے مہاجرین کے ہاتھوں سندھیوں کو پیش آ رہے تھے۔ مہاجروں کو، جن کی اکثریت اُتر پردیش، بہار اور پنجاب سے ہجرت کر کے آئی تھی، یہاں ’’تلمیر‘‘ کہا جاتا ہے اس لیے کہ وہ بولتے ہیں۔ مشیر پیش امام کے خیال میں پیپلز پارٹی اب ختم ہو چکی تھی، لوگ رجعت پسند مولویوں سے بھی تنگ آ گئے تھے اور اب ملک کا مستقبل تحریکِ استقلال کے ہاتھ میں تھا۔

میں جن صحافیوں سے کراچی میں ملا اُن کے خیال میں تحریک استقبال کی کوئی حیثیت نہیں تھی۔ پاکستان میں سیاسی پارٹیوں کی تشکیل بنیادی طور پر فیوڈل بنیادوں پر ہے۔ پی ڈی پی، جو بلوچستان اور سرحد میں اقتدار میں ہے، قبائلی سرداروں پر مشتمل ہے۔ دینی جماعتیں مولویوں پر اور تحریک استقلال پروفیشنلز پر مشتمل ہیں۔ پیپلز پارٹی کا مستقبل البتہ غیر واضح ہے۔ اب جبکہ ذلفی شہادت کے مقام پر فائز ہو چکا ہے اُس کی بیوہ نصرت یا بیٹی بے نظیر اُس کی جگہ لیڈر کے طور پر اُبھر سکتی ہیں۔

ذوالفقار علی بھٹو کے کھیل کا آخری حصہ شروع ہوتا ہے۔

یہ ۱۸ مارچ ۱۹۷۸ء کی صبح ساڑھے آٹھ بجے لاہور ہائی کورٹ کے مین کورٹ روم کا احوال ہے۔ یہ وسیع کورٹ روم دو چوبی دیواروں کی مدد سے تین حصوں میں منقسم ہے۔ شمالی حصہ میں پانچ جج صاحبان گائون اور روگ پہنے قدرے اونچی جگہ پر براجمان تھے۔ اُن کے سامنے ہائی کورٹ بار کے اراکین، استغاثہ اور دفاع کے وکلاء سیاہ سادہ لباس میں موجود تھے۔ مغربی حصے میں جج صاحبان اور وکلاء کے برابر میں پانچوں ملزمان کھڑے تھے اور اُن کے پیچھے مسلح پولیس والے۔ بڑا ملزم ذوالفقار علی بھٹو ایک نفیس ہلکے نیلے سوٹ اور ٹائی میں ملبوس تھا۔

فیصلہ سنائے جانے کے بارے میں کوئی پیشگی اطلاع نہیں تھی، صرف وکلاء کو رجسٹرار کی طرف سے علی الصبح فون کر کے عدالت میں موجود رہنے کو کہا گیا تھا۔ ملزمان کوٹ لکھپت جیل سے پولیس کی حفاظت میں لائے گئے۔ بات کسی طرح پھیل گئی اور کورٹ روم کھچا کھچ بھر گیا۔

آنکھیں قائم مقام چیف جسٹس مولوی مشتاق حسین پر لگی ہوئی تھیں۔ اُنہوں نے پانچوں جج صاحبان کے متفقہ فیصلے کی سمری پڑھ کر سنائی۔ سارے ملزمان نے جرم کی صحت سے انکار کیا تھا۔ چار نے اپنا دفاع بھی پیش کیا، صرف بھٹو نے احتجاجاً اپنے آپ کو کارروائی سے الگ تھلگ رکھا تھا۔ جسٹس مشتاق نے عدالتی فیصلہ سنایا:

’’پھانسی پر لٹکایا جائے تا وقتیکہ موت واقع ہو جائے‘‘۔

ساری آنکھیں جج صاحبان سے اُٹھ کر ملزمان خصوصاً ذوالفقار علی بھٹو پر مرکوز ہو گئیں۔ بھٹو نے خاموشی سے سزا سُنی اور اپنا چہرہ جج صاحبان کی طرف سے محض ہٹا لیا۔ وہ اپنی سوچوں میں گم تھا۔ ایک وکیل کے بقول ’’وہ ساقط و جامد تھا۔ اُس نے کسی خوف اور غصہ کا اظہار نہ کیا۔ لگتا تھا جیسے اُس نے کچھ سُنا ہی نہیں۔ یا پھر وہ کوئی انہونی دیکھ رہا تھا‘‘۔ عدالت میں کوئی نعرہ بازی نہیں ہوئی۔ نصرت بھٹو اور بے نظیر عدالت میں موجود نہ تھیں، پولیس ہر جگہ موجود تھی۔ چار ملزمان کے وکیل اُن سے مشورے کے لیے آگے بڑھے۔ چونکہ بھٹو نے عدالت کا بائیکاٹ کیا تھا، اُس سے بات کرنے والا کوئی نہ تھا۔

کوٹ لکھپت جیل میں بھٹو کے لیے چھ کمرے مختص تھے۔ وہ سیدھا اپنے سونے کے کمرے میں چلا گیا اور لباس تبدیل کیے بغیر بستر پر ڈھیر ہو گیا۔ اُس کی آنکھیں چھت پر مرکوز تھیں۔ بقول ایک محافظ کے ’’وہ کوئی گھنٹہ تک بے سُدھ پڑے رہے۔ پھر جب میں نے اُن کے پاس جا کر کھانے کا پوچھا تو اندازہ ہوا کہ وہ روتے رہے تھے۔ اُنہوں نے میری بات کا کوئی جواب نہ دیا‘‘۔

صبح گیارہ بجے یحییٰ بختیار ملاقات کو آئے۔ دونوں ایک دوسرے کے گلے لگ گئے اور پھر ضبط کا یارا نہ نہ رہا۔ ’’کیا بات ختم ہو گئی ہے؟‘‘ بھٹو نے پوچھا، تو یحییٰ بختیار نے پرجوش انداز میں کہا ’’ بالکل نہیں۔ ہم اپیل دائر کریں گے‘‘۔ دونوں کچھ دیر باتیں کرتے رہے۔ بھٹو کو کچھ حوصلہ ہوا اور اُس کی حالت کچھ بہتر ہوئی۔

جیل کے قوانین کے مطابق سزائے موت کے قیدی کو خصوصی کوٹھڑی میں رکھا جاتا ہے، جہاں سے اُس پر خاص نظر رکھی جا سکے۔ تا کہ وہ خود کشی نہ کر سکے یا اپنے آپ کو نقصان وغیرہ نہ پہنچا سکے۔ صرف صبح شام آدھے گھنٹہ کے لیے ’’ٹہلائی‘‘ کے لیے باہر نکالا جاتا ہے۔ شام پانچ بجے بھٹو کو اُسی قسم کی کال کوٹھڑی میں لے جایا گیا۔ لیکن اُس کے اصرار پر اُسے ذاتی لباس پہننے کے علاوہ بستر اور کُرسی استعمال کرنے کی اجازت مل گئی۔ کھانا گھر سے آیا اور اخبارات و رسائل کے علاوہ پڑھنے لکھنے کا سامان بھی فراہم کیا گیا۔ ایک مرتبہ پھر اُس پر مایوسی چھا گئی۔ جیل کے ایک ملازم کے بقول وہ تقریباً دو دن تک اپنے بستر پر بے سُدھ پڑا رہا۔

پھر لگتا ہے جیسے عالمی رہنمائوں کی طرف سے آنے والی رحم کی اپیلوں نے ڈوبتے کو تنکے کا سہارا دیا۔ اُسے یقین ہونے لگا کہ دُنیا بھر کا احتجاج پاکستانی حکام کو اپنے ارادوں سے باز رکھے گا اور یہ سب کچھ اُس کے حوصلے کی آزمائش تھا۔ اُس نے فیصلہ کیا کہ کسی طور بھی پریشانی کا اظہار نہیں کرنا ہے۔

یحییٰ بختیار نے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کر دی۔ چونکہ یہ راولپنڈی میں واقع ہے، اس لیے بھٹو اور دوسرے ملزمان کو راولپنڈی جیل پہنچا دیا گیا۔ یہ جیل اُس عمارت (ایوان صدر) کے قریب واقع ہے جو کچھ عرصہ پہلے تک بھٹو کی رہائش گاہ تھی۔ چار کمروں کا ایک سیٹ مختص کیا گیا جو عموماً پھانسی کی منتظر عورتوں کے لیے استعمال ہوتا تھا۔ اُس میں بیڈ روم، اسٹڈی، باتھ روم اور کچن شامل تھے۔ ایک مرتبہ پھر جیل کے قواعد معزز قیدی کے آرام کی خاطر نظر انداز کر دیئے گئے۔ ہسپتالوں میں استعمال کئے جانے والے اسٹیل بیڈ کی جگہ نواڑ کی چارپائی، فوم کا گدا اور ذاتی کمبل کے علاوہ پنکھے اور بلب (جن کے سوئچ خود بھٹو کے اپنے اختیار میں تھے) فراہم کیے گئے۔ میز، کرسی، ٹیبل لیمپ، کتابیں اور میگزین بھی دیئے گئے۔ ہوانا سگار اور کھانا گھر سے آتے تھے۔ وہ اپنے ذاتی کپڑے پہنتا اور اپنی شیونگ کٹ استعمال کرتا تھا۔ روزانہ ایک گھنٹہ وکیل کے ساتھ صلاح مشورہ اور آدھا گھنٹہ ’’ٹہلائی‘‘ کی اجازت تھی۔ سردیوں کا موسم تھا لہٰذا الیکٹرک ہیٹر بھی فراہم کیا گیا۔

سہ پہر کی چائے پر بیگم نصرت اور بے نظیر آ جاتی تھیں۔ بے نظیر اکثر اپنے والد کے ساتھ ایک ہی چارپائی پر بیٹھ جاتی اور وہ دونوں سرگوشیوں میں گفتگو کرتے، تا کہ اُنکی باتیں ریکارڈ نہ ہو جائیں اور انہیں ’’سُننے والے‘‘ سُن نہ لیں۔

۶ فروری ۱۹۷۹ء کو سپریم کورٹ نے بھٹو کی اپیل رد کر دی۔

وہ خود کورٹ میں موجود نہیں تھا۔ اُسے یہ خبر جیل سپرنٹنڈنٹ سے ملی جس پر اُس کے منہ سے نکلا ’’یہ بہت بُرا ہوا‘‘۔ پھر پوچھا ’’کیا فیصلہ متفقہ تھا؟‘‘ سپرنٹنڈنٹ نے تصدیق کیے بغیر ہاں میں جواب دے دیا۔ بھٹو کے منہ سے نکلا ’’حیرت ہے!‘‘ یہ خبر بیگم نصرت بھٹو کو سہالہ ریسٹ ہائوس میں ملی جہاں وہ خود نظر بند تھیں۔ وہ فوراً کار میں سوار ہوئیں اور پولیس گارڈ کو نظر انداز کرتے ہوئے جیل کے دروازے تک پہنچ گئیں۔ انہیں شوہر سے ملنے کی اجازت دے دی گئی۔ وہ روتے ہوئے اپنے شوہر کے گلے سے لگ گئیں۔

بھٹو نے اُن سے بھی یہی پوچھا: ’’کیا فیصلہ متفقہ تھا؟‘‘ نصرت نے بتایا کہ سات میں سے تین ججوں نے اُسے شک کا فائدہ فراہم کیا تھا۔ ’’تم فکر نہ کرو۔ ہم نظر ثانی کی درخواست دائر کریں گے‘‘۔ بھٹو نے پرجوش ہو کر نصرت سے کہا۔

سزائے موت کے کنفرم ہونے کے بعد جیل حکام نے بھٹو کے ساتھ دوسرے مجرموں جیسا سلوک کرنے کا فیصلہ کیا۔ شیونگ کٹ واپس لے لی گئی اور نواڑ کی چارپائی اُن کے کمرے سے ہٹا لی گئی (ان سے خودکشی کا خطرہ ہو سکتا تھا)۔ گھر کا کھانا بند کر دیا گیا۔ اس پر بھٹو نے جیل کا کھانا کھانے سے انکار کر دیا اور جیل کی چارپائی بھی واپس کر دی۔ اُس نے فوم کا گدا فرش پر بچھا لیا اور یہی آخری دم تک اُس کا بستر رہا۔ اُسی دن سہ پہر کو حکام نے اپنا فیصلہ بدلا اور گھر کے پکے ہوئے کھانے کی اجازت دے دی۔

تنکے کا سہارا بھی گیا
۲۴ مارچ ۱۹۷۹ء کو سپریم کورٹ نے بھٹو کی طرف سے دائر کی گئی ریویو پٹیشن خارج کر دی اور اب اُمید کی آخری کرن بھی بجھ گئی۔ یحییٰ بختیار کا کام ختم ہو چکا تھا، پھر بھی اُنہوں نے بھٹو سے ملاقات چاہی، جس پر ایم اے رحمان کی سربراہی میں موجود استغاثے وکلاء کو کوئی اعتراض نہ ہوا۔ عدالت کے باہر یحییٰ بختیار نے پریس والوں کو بتایا کہ مقدمہ میں ’’سیکنڈ ریویو پٹیشن‘‘ کی بنیاد موجود تھی۔

اسی دوران جیل سپرنٹنڈنٹ نے بھٹو کو کورٹ کے فیصلے کی تحریری اطلاع دے دی اور بتایا کہ رحم کی اپیل کے لیے اُس کے پاس صرف سات دن تھے۔ جب وہ یہ اطلاع لے کر گیا اور کاربن کاپی پر دستخط کرنے کو کہا تو بھٹو نے انکار کر دیا اور جھنجلا کر کہنے لگا ’’ہاں مجھے سب پتہ ہے‘‘۔

اگلے دن ۲۵ مارچ کو لاہور ہائی کورٹ نے پانچوں افراد کے بلیک وارنٹ نکال دیئے جن کے مطابق اُن کو ۴ اپریل کے بعد کسی بھی وقت پھانسی دی جانی تھی۔ پھانسی کی اصل تاریخ صیغۂ راز میں رکھی گئی۔

بھٹو کو عزیزوں اور دوستوں سے ملاقات کی اجازت دی گئی۔ اُس کی پہلی بیوی امیر بیگم، چچا، کزن (بشمول ممتاز بھٹو) اور حفیظ پیر زادہ اور وغیرہ اُن میں شامل تھے۔ ملاقات کے لیے آنے والوں کی باقاعدہ جامہ تلاشی لی جاتی تھی اور کسی کو کوٹھڑی کے اندر جانے کی اجازت نہ تھی۔ چھ فٹ چوڑا ٹیبل لوہے کی جالی کے سامنے رکھ دیا گیا تا کہ قیدی اور ملاقاتیوں میں کسی خطرناک چیز (مثلاً زہر وغیرہ) کا تبادلہ نہ ہو سکے۔

ایک رات بھٹو نے جیل کے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ کے توسط سے حفیظ پیرزادہ و بلا بھیجا۔ اُس نے پیرزادہ سے کوئی دو ٹوک بات نہ کی، بس اتنا کہا کہ ’’مرنا بہت مشکل ہوتا ہے‘‘۔ یکم اپریل کی آخری ملاقات کے بعد پیر زادہ کی طرف سے رحم کی اپیل کا دائر ہونا اس بات کی علامت تھا کہ بھٹو کو، زندگی کی بھیک نہ مانگنے کے باوجود، اس بات کی اُمید تھی کہ کسی طرح کوئی ذات جنرل ضیاء الحق کو اپنے ارادوں سے باز رکھے گی۔ پیرزادہ نے جیل کے باہر کھڑے صحافیوں پر واضح کیا کہ ’’بھٹو صاحب نے رحم کی اپیل نہیں کی ہے، لیکن میں ایسا کروں گا‘‘۔ اور پیر زادہ نے ایسا ہی کیا، جس کی وسیع تشہیر ہوئی۔ ایوانِ صدر سے اُس پر کوئی تبصرہ نہ ہوا۔

پھانسی کے لیے ۴ اپریل کی تاریخ کا فیصلہ دو دن پہلے یعنی ۲ اپریل کو ہوا۔ قواعد کے مطابق پھانسی کی سزا ساڑھے پانچ یا چھ بجے صبح دی جاتی ہے، لیکن دو بجے رات کا وقت مقرر ہوا تا کہ کوئی مظاہرہ نہ ہو سکے اور لاش کو بروقت لاڑکانہ لے جا کر دفن کیا جا سکے۔ تارا مسیح کو بہاولپور سے لاہور لایا گیا جس پر افواہ پھیلی کہ بھٹو کو کوٹ لکھ پت جیل میں پھانسی دی جائے گی۔

۳ اپریل کو گیارہ بجے صبح نصرت اور بے نظیر کو سہالہ ریسٹ ہائوس سے جیل لایا گیا۔ اُن کے استفسار پر کہ کیا یہ آخری ملاقات تھی، بتایا گیا کہ ’’آپ ایسا ہی سمجھ لیں‘‘۔ اُن دونوں نے جب یہ بات بھٹو کو بتائی تو اُس نے سپرنٹنڈنٹ کو بُلا بھیجا، جس نے تصدیق کی کہ ملاقاتوں کی حد تک یہ آخری ہی تھی۔

آخری لمحے کا وقت صیغۂ راز میں تھا۔ نصرت اور بے نظیر کوئی تین گھنٹے بھٹو سے گفتگو کرتی رہیں۔ ایک موقع پر بھٹو سے نہ رہا گیا اور اُس نے لاڑکانہ والے گھر میں چھپائے گئے چند کاغذات کا ذکر کیا۔۔۔۔۔ اگلے چار گھنٹوں میں اُس گھر کے کونے کونے کی تلاشی لی جا چکی تھی اور کاغذات سرکاری اہلکاروں کے ہاتھ لگ چکے تھے۔

وہ اپنے والد کو گلے نہ لگا سکی
اُس کی آخری ملاقات کی تفصیلات بڑی دلدوز ہیں۔

بے نظر اپنے بابا کو گلے لگانا چاہتی تھی، یا پھر اُن کے پائوں ہی چُھو سکتی۔ لیکن یہ درخواست رد کر دی گئی۔ چاندی کے جس برتن میں بھٹو کو چائے پیش ہوتی تھی، یہ کہہ کر واپس کر دیا گیا کہ ’’اب صاحب کو اس کی ضرورت نہیں پڑے گی‘‘۔ دونوں خواتین ڈھائی بجے جیل سے نکلیں اور صدر ضیاء الحق سے ملاقات کرنا چاہی۔ سپرنٹنڈنٹ نے صدر کے عملے سے رابط کیا تو بتایا گیا کہ وہ کچھ کہنا چاہتی ہیں، تحریری طور پر دے دیں۔

شام چار بجے ایک مجسٹریٹ آیا اور بھٹو کو آخری وصیّت لکھنے کو کہا تا کہ وہ اس کی تصدیق کر سکے۔ بھٹو ایک گھنٹہ سے زیادہ لکھتا رہا۔ اُس نے کیا لکھا؟ یہ بات راز ہی رہے گی، اس لیے کہ پھر اُس نے اپنے سگار سے وہ کاغذ جلا دیا۔

چھ بجے اُس نے یہ کہتے ہوئے کہ ’’میں مُلّا کی موت نہیں مرنا چاہتا‘‘ شیونگ کا سامان اور گرم پانی مانگا۔ پھر اُس نے آئینے میں اپنا چہرہ دیکھا اور خود استہزائی انداز میں کہنے لگا

’’اب لگتا ہوں تیسری دنیا کا لیڈر۔۔۔‘‘

پھر ایک مولوی تسبیح اور مصلّا لے کر آیا تا کہ اُسے آخری عبادت میں مدد دے۔ اُس نے تسبیح گلے میں ڈال لی اور یہ کہہ کر مولوی کو مصلّا اُٹھا لے جانے کو کہا کہ ’’مجھے اپنے مالک سے رابطے کے لیے تمہاری ضرورت نہیں‘‘۔

پھر اُس کے بعد چراغوں میں روشنی نہ رہی۔

وہ دیر تک گدے پر لیٹا رہا اور تقریباً ’’کوما‘‘ کی حالت میں تھا۔ جونہی وقت قریب آیا، جیل کے قیدیوں کو جگا کر قرآنی آیات کا ورد کرنے کو کہا گیا۔ صرف بھٹو ان باتوں سے لا تعلق تھا۔ ڈیڑھ بجے جیل حکام مجسٹریٹ اور ڈاکٹر کے ساتھ آئے۔ سپرنٹنڈنٹ نے اُسے پکڑ کر ہلایا اور بولا ’’بھٹو صاحب جانے کا وقت آ گیا ہے‘‘

اب آگے جو کچھ ہوا اُس کے بارے میں مختلف روایات ہیں۔

ایک مطابق وہ گھبرا گیا اور اُس نے چائے مانگی، وصیت لکھنا چاہی اور نہانے کی خواہش کا اظہار کیا وغیرہ وغیرہ۔ شاید وہ کچھ وقت حاصل کرنا چاہتا تھا جسے حکام نے رد کردیا۔ دوسری روایت کے مطابق وہ لیٹا رہا جس پر جیل سپرنٹنڈنٹ کو اُس کی موت کا شک گزرا۔ ڈاکٹر بلایا گیا جس نے اُس کی نبض دیکھی، اسٹیتھ سکوپ سے دل کی حرکت نوٹ کی اور اُس کے زندہ ہونے کی تصدیق کی۔ پھر اُسے اسٹریچر پر لٹا کر لے جایا گیا اور ہاتھوں میں ہتھکڑیاں لگا دی گئیں۔ جیل پر ممکنہ حملے سے بچائو کے لیے بھاری اقدامات کیے گئے تھے۔ فلسطین کی پی ایل او اور دو ایک بیرونی حکومتوں کے بارے میں افواہ تھی کہ وہ بھٹو کو بچانے کی خاطر کچھ بھی کر سکتی ہیں۔ کسی پیرا شوٹ یا ہیلی کاپٹر کی ممکنہ در اندازی پر کڑی نظر تھی۔ نتیجتاً بھاری تعداد میں فوجی موجود تھے۔ اندازہ ہے کہ دو سو پچاس کے لگ بھگ افراد نے پھانسی اپنی آنکھوں سے دیکھی۔

’’ختم کرو‘‘۔۔۔

پھانسی گھاٹ کال کوٹھڑی سے کافی فاصلے پر واقع ہے۔ بھٹو کو لے جانے والی پارٹی وہاں پونے دو بجے پہنچی۔ وہ اسٹریچر سے فوراً اُٹھ کھڑا ہوا، اُس نے زیر لب کچھ الفاظ کہے جو شاید یہ تھے کہ ’’نصرت اکیلی رہ جائے گی‘‘۔ ہتھکڑیاں کھول دی گئیں اور اُس کے ہاتھ پیچھے کی طرف باندھ دیئے گئے۔ ایک اطلاع کے مطابق اُس نے گانٹھ کے بہت سخت ہونے پر احتجاج کیا۔ پھر وہ اسی سج دھج سے بغیر کسی کی مدد کے سوئے دار بڑھا۔ قبل اس کے کہ تارا مسیح اُس کے چہرے پر سیاہ کپڑا ڈالتا وہ سختی اور تلخی سے بولا ’’ختم کرو‘‘۔ ایک اور روایت کے مطابق اُس نے کچھ اور بھی کہا جو سنا نہ جا سکا۔

پھندا ٹھیک دو بجے ڈالا گیا اور پھر ذُلفی۔۔۔ پاکستان کا سابق صدر اور وزیر اعظم، اور قائد اعظم کے بعد اُس ملک کا مقبول ترین لیڈر۔۔۔۔۔۔ اپنے انجام کو پہنچ گیا۔

جان دی، دی ہوئی اُسی کی تھی

دمِ آخر، بھٹو شلوار قمیص میں ملبوس تھا، جسے خود اُسی نے عوامی سوٹ کا درجہ دلوایا تھا۔ اُس کی کلائی پر سونے کی Zenith گھڑی اور اُنگلی میں ہیروں سے مُرصع انگوٹھی تھی۔ جب مولوی حیات محمد نے اُس کی میت کو غسل دیا اور کفن پہنایا تو کسی نے نوٹ کیا کہ انگوٹھی غائب تھی۔ حیات محمد اور تارا مسیح کو فوراً گرفتار کر کے تلاشی لی گئی۔ انگوٹھی تارا مسیح کی جیب سے برآمد ہوئی۔ اگلی صبح دونوں اشیاء بے نظیر تک پہنچا دی گئیں۔

بھٹو کی میت لاڑکانہ اور پھر نوڈیرو لے جائی گئی۔ بھٹو کی پہلی بیگم اور دوسرے لواحقین کو آخری دیدار کی اجازت ملی۔ اُس کا چہرہ نہایت پرسکون تھا جیسے گہری نیند میں سور ہا ہو۔ گردن پر ایک نشان کے سوا کوئی اور نشان نہ تھا (اس بات میں کوئی صداقت نہیں کہ پھانسی پانے والوں کی گردن لمبی ہو جاتی ہے یا اُن کی آنکھیں اور زبان باہر نکل آتی ہیں، وغیرہ وغیرہ)۔

بھٹو کے اس درد ناک انجام سے اُس کے کردہ اور ناکردہ گناہوں کی تلافی تو ہو سکے گی مگر جو کچھ اُس نے اپنے ملک و قوم کے لیے کیا وہ دیر تک یاد رکھا جائے گا۔ خیبر سے کراچی تک اُن دنوں اُس کی غائبانہ نماز جنازہ پڑھی گئی۔ شہادت کا رتبہ تو اُسے مل ہی چکا ہے۔ بڑی تعدا میں لوگ اُس کی قبر پر فاتحہ پڑھنے جاتے ہیں، اُس کی قبر کو چومتے ہیں اور وہاں کی خاک کو خاکِ شفاء جانتے ہیں۔ بھٹو کی ذات قبر سے نکل کر اقتدار کے ایوانوں میں حکمران جرنیلوں کے لیے ہمیشہ کے لیے سوہانِ روح بن چکی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بھٹو : بھارت کا خیرخواہ دشمن ۔۔۔۔۔۔۔۔ ڈاکٹر غلام شبیر
(Visited 1 times, 1 visits today)

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: