ناروے کا واقعہ : کرنے کا کام —— آصف لقمان

0

ناروے میں قرآن پاک جلائے جانے کا واقعہ مسلمانوں سے نفرت پر مبنی پہلا واقعہ نہیں ہے۔ اس پر مسلمانوں کا ردعمل بھی ہماری گذشتہ روایت کے عین مطابق ہے۔ ایسے کسی واقعہ کے بعد ہمیشہ مسلمان تنظیموں کا الل ٹپ رد عمل سامنے آتا ہے۔ احتجاجی مظاہرے، جلسے اور جلوس منعقد کئے جاتے ہیں، عوامی دباو میں اکا دکا مسلمان ملک کی حکومت متعلقہ ملک کے سفیر کو بلا کر احتجاج ریکارڈ کر لیتی ہے۔ پارلیمنٹ میں قرارداد بھی پاس ہو جاتی ہے، اور اس کے بعد ہم مطمئن ہو جاتے ہیں کہ اپنا فرض ادا کردیا۔ ھفتہ دس دن بعد لوگ اس واقعے کو بھول جاتے ہیں۔ ایسا کبھی نہیں ہوا کہ ہم اپنے احتجاج کے مقاصد، اھداف اور حکمت عملی متعین کریں اور پھر تسلسل کے ساتھ جائزہ لیتے رہیں کہ ہم نے کس حد تک اپنے اھداف حاصل کئے۔ اصل مرض کی تشخیص کریں اور طویل المدت منصوبے کے ساتھ اس کے علاج کی کوشش کریں۔ نتیجتاََ کچھ عرصے بعد دوبارہ اس نوعیت کا کوئی واقعہ ہوتا ہے اور ہم پھر سے ایک بے نتیجہ اشتعال کا شکار ہوتے ہیں جس کا مجرموں پر کوئی اثر نہیں ہوتا بلکہ بسا اوقات انہیں فائدہ ہوتا ہے۔

مغربی دنیا میں اسلامو فوبیا اور مسلمانوں سے نفرت مخصوص گروہوں کی جانب سے ایک منصوبے کے تحت پھیلائی جارہی ہے۔ اس میں مذھبی اور نسلی انتہا پسندوں کے ساتھ ساتھ مفاد پرست سیاسی عناصر اور میڈیا بھی شامل ہوتا ہے جو ان واقعات کے ذریعے اپنے معاشروں میں موجود متعصب گروہوں میں مقبولیت حاصل کرنے کی کو شش کرتے ہیں۔ یہ افسوس ناک اور مسلمانوں کے لئے باعث تشویش امر ہے۔ البتہ یہ سمجھنا بھی ضروری ہے کہ خواہ امریکہ ہو یا یورپی ممالک، ان کے معاشرے کلی طور پر متعصب نہیں ہیں۔ ان معاشروں کی اکثریت، یا کم از کم یک بہت بڑی اقلیت، نہ صرف یہ کہ انصاف پسند اور دلیل سے بات کو سمجھنے وٗالے لوگ ہیں، بلکہ ایک بڑی تعداد ایک اصولی موقف کے لئے ڈٹ کر کھڑی بھی ہو جاتی ہے۔ ہم نے بارھا دیکھا کہ مساجد اور مسلمانوں کی حفاظت کے لئے مقامی لوگ قطار بنا کر کھڑے ہو جاتے ہیں۔ اور مسلمانوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں۔ یہ وہ اخلاقی پہلو ہے جس کو نظر انداز نہیں کرنا چاہئے۔ مناسب یہ ہوگا کہ مسلمان تنظیمیں اور جماعتیں بھی اپنا ردعمل جذبات کی بجائےعلم، انصاف اور اور اخلاقی اصولوں کی بنیاد قائم کریں۔ جذبات کی رو میں بہہ کر شتعال انگیز تقریریں کرنے کی بجائے ہمارے احتجاج میں بھی اخلاق، انصاف اور علم کا رنگ غالب رہنا چاہئے۔ اس سلسلے میں قرآن کریم کی یہ آیت ہماری رہنمائ کرتی ہے

وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَآنُ قَوْمٍ عَلَىٰ أَلَّا تَعْدِلُوا ۚ اعْدِلُوا هُوَ أَقْرَبُ لِلتَّقْوَىٰ ۖ وَاتَّقُوا اللَّهَ

یہ بھی ضروری ہے کہ ہمیں اصل واقعے کا صحیح طور سے علم ہو اور ہماری معلومات سوشل میڈیا کی بجائے مستند ذرائع سے حاصل کی گئ ہوں۔ مغربی ممالک میں کام کرنے والی اسلامی تنظیموں اور مراکز میں موجود دانشمند حضرات سے بھی رہنمائی لیتے رہنا چاہئے۔ مغرب کے ساتھ معاملہ اور مکالمہ کرنے میں وہ ہم سے زیادہ تربیت یافتہ ہیں اور وہ مغربی معاشروں کی زبان، ثقافت، رجحانات اور قوانین کے بارے میں ہم سے بہتر آگاھی رکھتے ہیں، اور مغرب کی مروجہ اصطلاحات میں ایسا جواب مرتب کرسکتے ہیں جس میں وہاں کی حساسیت اور نزاکتوں کی رعایت شامل ہو۔

ہمیں یہ بات ذھن میں رکھنی چاہئے کہ ہمارا مقصد دل کا غبار ھلکا کرنا نہیں ہے، نہ ہی کوئی انتقامی کاروائی پیش نظر ہونی چاہئے۔ ہمیں جہالت اور تعصب کا مقابلہ علم، اخلاق اور جرات سے کرنا چاہئے، اور اپنے موقف کو اھداف کے حصول تک تسلسل سے پیش کرتے رہنا چاہئے۔ ہماری یہ بھی ذمہ داری ہے کہ ہم اشتعال انگیز بیانات دے کر مغربی ممالک میں رھنے والے مسلمانوں کی مشکلات میں بھی بلاوجہ اضافہ نہ کریں۔ اس مطلب یہ نہیں ہے کہ ھم اپنا دوسرا گال بھی تھپڑ کے لئے پیش کریں، بلکہ مقصد یہ ہے کہ اپنے جذبات کا اظہار ایسے انداز سے کریں جس سے ہمارے مقاصد حاصل ہو سکیں۔ میری رائے میں ہمیں مغربی ممالک کے جھنڈے جلانے کی بجائے اپنی حکومت کو دباو میں لانا چاھئیے کہ وہ اس سلسلے میں اپنی ذمہ داریاں پوری کرے، متعلقہ مغربی ممالک کی حکومتوں کو اپنے عوام کے جذبات سے آگاہ کرے، اور ایسے واقعات کے تدارک کے لئے سفارتی ذرائع سے متعین مطالبات پیش کرے اور پھر ان مطالبات کا تعاقب کرے۔ خود مسلمان ممالک کے اندر اس نوعیت کا کوئی واقعہ اقلیتوں کے ساتھ پیش آئے تو مغربی ممالک یہی طریقہ اختیار کرتے ہیں، اور سفارتی دباو کے ذریعے اھداف حاصل کرتے ہیں۔ انسانی حقوق کو بنیاد بنا کر ایسے مطالبات کا اعادہ ہمیں مسلسل کرتے رہنا چاھئیے تاوقتیکہ کہ مغربی ممالک ایسے واقعات کے تدارک کے لئے عملی اقدامات نہ اٹھا لیں، اور ذمہ دار عناصر کے خلاف قانونی چارہ جوئی نہ کرلیں۔

اگر ھمارا موقف اصولوں پر مبنی ہوگا تو ہم خود مغربی ممالک کے اندر موجود بہت سے اصول پسند طبقات کو بھی اپنا ھمنوا بنا سکتے ہیں۔ اس سلسلے میں زیادہ سنجیدہ رویہ اپنانے کی ضرورت ہے۔

یہ بھی پڑھیں: نفاذ شریعت: کیا، کیوں اور کیسے — احمد جاوید

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: