ناصح تجھے آتے نہیں آدابِ نصیحت —– عبدالباسط ذوالفقار

0

نمازِ عصر کی تیسری رکعت تھی جب بدبودار جھونکا ناک کے نتھنوں سے ٹکرایا؛ قریب تھا کہ میں لقمہ بدبو بن کر اجل کے منہ میں جا گرتا پر اذن نہ ملا تھا۔ اک چھوٹ تھی جو خدا تعالیٰ نے دے رکھی تھی۔ خیر میں تو اس بدبو کی بات کر رہا تھا جو ناک کے نتھنوں سے ٹکراتی ہوئی دماغ کے دریچوں کو متعفن کرنے کے بعد دل کے آنگن میں اتر کر سڑاند پھیلا رہی تھی۔ عین وقت پر امام صاحب کی بھاری آواز نے خیالات سے کھینچا اور رکوع میں لے گئی۔ زور آور بدبو کے بھبکے اب کچھ زیادہ ہی اٹھ رہے تھے اور اب کی بار تو اس زور کی ابکائی آئی تھی کہ کیا بتاؤں۔ منہ سختی سے بھینچ لیا تھا، مبادا قے ہو اور مسجد کی صف دھونی پڑ جائے۔ اس وقت نماز میں کھڑا رہنا محال تھا۔ جیسے تیسے کھڑا رہا۔ خدا تعالیٰ کو یا خود کو دھوکا دینے کی ناکام کوشش کرنے لگا۔ نماز تو رہی جگہ پر اب نظریں چاہتی تھیں کہ بھٹکیں اور اس درگند پھیلاتی شیے کو مسجد سے باہر کا راستا دکھائیں۔ توجہ تو پہلے ہی بھٹ گئی تھی کہ یہ بدبودار ہلکورے کہاں سے آرہے ہیں؟ خاصی کوشش پر بھی سمجھ دانی نے کام نہ کیا کہ ابھی جو پڑوس میں حرکت ہوئی تھی، اسی کی برکت ہے۔ اب سوچتا ہوں تو مسکراتا ہوں کہ سلیمانی چادر اوڑھے، اڑتے بھبکے کیا نظر آتے؟ اس وقت تو فرشتے بھی تنگ آکر باہر چلے گئے ہوں گے۔   اب ہم سجدے سے واپس اٹھے تھے۔ چوتھی رکعت میں کھڑا اب بھی میں داروغے کی طرح سوچ رہا تھا کون ہے جو اس بدبوکو خوشبودار جگہ لے آیا اور پھیلا دی۔ ابھی میں سوچ ہی رہا تھا کہ باہنی جانب سے ایک بھیانک سا آوازہ اڑا۔ ساتھ ہی ساری فضا میں مولی کی بو حلول کرگئی۔ بآسانی دماغ نے جانچ پڑتال پر خبر دی کہ ہو نہ ہو مولیاں سستی ہوگئی ہیں۔ صاحب سلامت مولی کھا کر آئے ہیں۔ اور اب ڈکار رہے ہیں۔ امام صاحب کی تکبیر نے سوچوں کے سمندر میں ڈبکی لینے سے قبل ہی کھینچ لیا اور رکوع میں لے گئی۔ اب کی بار جو باس ناک میں گھسی یقین کیجیے اس قدر سخت اور بھڑکیلی تھی کہ بے ہوشی کو بھی مات دے گئی ہاں مگر نماز محفوظ رہی۔ برداشت ہاتھ جوڑے سامنے کھڑی تھی۔ میں صف سے پیچھے کو نکلا تو خبر ہوئی کہ صف میں کھڑے انہی صاحب کی جرابیں یہ بدبو پھیلا رہی ہیں۔ جب امام صاحب نے سلام پھیرا تو خیال پر مہر ثبت ہو گئی، کیوں کہ بدبو کا ریلا تیسری رکعت میں دماغ تک سرائیت کر گیا تھا اور وہ صاحب آخری رکعتیں مکمل کرنے اٹھ کھڑے ہوئے تھے۔ سلام کے بعد دو احباب مزید اٹھ کر باہری جانب دوڑے تھے اور پھر وہ بو، قے کی صورت اندر سے نکل کر نالی کا رخ کر رہی تھی۔

میں وضو کے بعد نماز کے اعادے کے لیے اٹھ کھڑا ہوا جب کہ لوگ ان صاحب پر کئی حروف بھیج رہے تھے۔ اب باتوں کی آوازیں تھیں تو ساتھ عطر کی تیز بو، جو پہلے جرابوں کی وجہ سے ناک کو نظر نہ آئی تھی۔ اب پھر نماز متاثر ہو رہی تھی۔ قریب کے ستون کے پاس تعلیم کا حلقہ لگا تھا۔ آداب کی بحث چل رہی تھی۔ نماز کی فضیلت بیان ہو رہی تھی۔ پر لی طرف میری نماز کھڈے لائن لگ رہی تھی۔ میں ایک دنیا دار انسان کب تک نماز سلامت رکھتا؟ہر بار سبق بھولا، کیا پڑھ رہا تھا؟ کتنی رکعت ہوئی؟ سب بھلا بیٹھا تھا۔ بس اتنی خبر تھی کہ دو رکعتوں کو رگید آیا ہوں۔ سلام پھیرا اور بیٹھ گیاکہ تعلیم کا حلقہ ختم ہو تو نماز کا اعادہ کروں۔ چھوٹی سی مسجد، عین وسط میں ستون کے پاس لگا حلقہ، ڈکارتے بزرگ، سبحان اللہ، ماشائاللہ کا آوازہ اور اس سے سے تھوڑا پرے بیٹھا میں گناہ گار۔ تعلیم کا حلقہ ختم ہونے کا نام نہ لے رہا تھا۔ ہاں اب کوئی مشورے کی بات چل رہی تھی۔ کوئی گشت، بیان، بیرونی، تشکیل جیسے لفظ سماعتوں سے ٹکرائے تھے۔  میں ناک بھوں چڑھاتا، خود کو، کوستا اٹھ کھڑا ہوا تھا۔ بدبخت انسان، وقت پر آیا کرو مسجد، کیسی نمازیں ہیں۔ جماعت نکل جائے تو فائدہ، وقت پر آئیں تو رکعت رہے نہ سبق بھولے۔ ذکر تو نہیں رک سکتا۔ ایک تمہاری وجہ سے ہم سب خیر سے محروم ہوں؟ فضائل کی تعلیم بہت ضروری ہے۔ ایسے کئی جملے دماغ کی کھڑکیوں سے جھانک رہے تھے۔ میں اس وقت کو کوسنے لگا تھا جب مسجد آنے کا خیال سوجھا تھا۔ کہ نماز نہ ہوئی ہو گی، پہنچ جاؤں گا۔ مسجد تو گیا پر بقول اکبر الہ آبادی:بولے کہ تجھ کو دین کی اصلاح فرض ہے  میں چل دیا یہ کہہ کے کہ آداب عرض ہے
ؔ

بہرکیف! تہیہ کیا کہ اب جہاں ہوا، وہیں پڑھ لیا کروں گا۔ روز کون مسجدیں بدلے، اور ہر مسجد کے اپنے اصول، اپنے ٹھیکدار، اپنے سیلز مین، ابھی دو روز قبل ہی تو مسجد بدلی تھی۔ جب دیر ہوئی۔ مسجد پہنچا تو نماز کی دوسری رکعت تھی۔ نیت باندھ دی۔ سلام پھرتے ہی اٹھ کھڑا ہوا اور دوسرا لمحہ ایسا تھا کہ لرز کر رہ گیا تھا۔ سنبھلتا نہیں تو خود تو گرتا، دل بھی اچھل کر باہر آجاتا۔ دھاڑگونجی توڈر گیا تھا۔ خوف کا سایہ تھا۔ دوسرے لمحے یوں لگا جیسے لوگ بین کر رہے ہوں۔ پھر ہنسی آئی کہ مت ماری گئی تیری، یہ بین نہیں ذکر بالجہر کر رہے ہیں۔ اور ذکر تھا کہ اس کے نام پر نعوذ باللہ ڈکارنا تھا۔ الامان، الحفیظ۔ جھومتے ہوئے سب کی زبان پر ذکرجاری تھا اور میری بھی زبان وہی الفاظ دہرا رہی تھی۔ سبق کتنا پڑھا کیسا پڑھا کچھ خبر نہ تھی بس جلدی سے رکوع میں گرا اور سرعت سے نماز سلام تک پہنچائی اور نکل کھڑا ہوا۔ خوف زدہ تھا کہ اس بھونچال سے مسجد کی پرانی چھت اوپر ہی نہ گر جائے۔ ان فرشتوں کا اس وقت کیا حال ہوتا ہوگا جو مسجد میں اترتے ہیں؟

ہم کیسے لوگ ہیں ناں؟ خود تو پڑھ لیتے ہیں۔ کوئی بھی کام کر لیتے ہیں۔ دوسروں کا خیال نہیں رکھتے۔ نہ ان کے لیے گنجائش باقی رکھتے ہیں۔ نہ ہی ادب آداب کی خیر خبر ہے۔ بس دین کے نام پر سب ثواب سمجھ کر بے ادبیاں کرتے ہیں۔ شور شرابہ، بدبودار چیزوں سے مسجد کی فضا میں بدبو کا حلول، اکثر بے خیالی میں اور بعض اوقات جان بوجھ کر ایسا کارنامہ سر انجام دیتے ہیں۔ کبھی تیز، بھڑکیلی، عطر چھڑک کر خیالوں میں خوشبو کی سنت پوری کر رہے ہوتے جب کہ حقیقتاً اذیت کا سبب بن رہے ہوتے ہیں۔ ساتھ والے کی جان گلے میں اٹکی ہوتی ہے۔ سانس رک رہی ہوتی ہے۔ پوری نماز میں وہ بو سر چڑھ کر بولنے لگتی ہے۔ اب کیسے کہے بندہ کہ خدارا! اپنی جرابوں کی بدبو کو مسجد سے باہر جوتوں میں ہی چھوڑ کر آیا کریں۔ جوتوں میں سے بدبو کا آنا اپنے بس میں نہیں لیکن جرابیں نکال کر پاؤں دھو کر مسجد میں داخل ہونا تو اپنے بس میں ہے نا؟ سو مسجد جائیں تو جوتوں کے ساتھ جرابیں بھی باہر، اگر گھر پر ہیں تو جرابیں نکال کر وہیں رکھیں اور فرصت ملتے ہی بھیانک بدبو والی جرابوں کو اونچی جگہ پر ٹانگ دیں، اس سے گھر میں چھپکلی، مچھر اور لال بیگ وغیرہ نہیں آئیں گے۔ ممکن ہے مہمان بھی گیٹ سے واپس چلے جائیں۔ ۔ مسجد بدبو لیے چلے گئے تو بعید نہیں کہ آپ کے مسجد داخل ہوتے ہی فرشتے پتلی گلی پکڑ لیں۔   وہاں عجز و انکساری کا پیکر بن کر جائیں۔ دھونس جمانے نہیں۔ اس کے علاوہ بھی اطوار شائستہ اپنائیں۔ کہیں جائیں تو بھینی سی، مدھم پرفیوم لگا کر جائیں۔ فرحت بخشتی خوش بو آپ کی شخصیت کو چار چاند لگائے گی۔ سفر میں ہوں تو ساتھ بیٹھے مسافر کا خیال رکھیں۔ سفر یا حضر میں، باڈی سپرے کا بغلوں میں چھڑکاؤ کریں۔ تا کہ کوئی آپ سے گلے، لے تو خوش ہونہ کہ دل سے ’’پراں مر‘‘ کہہ رہا ہو۔ کسی کے سامنے اعضا نہ کھجائیں۔ ٹانگیں پھیلا کر نہ بیٹھیں۔ کپڑے سنبھال کر اٹھیں بیٹھیں۔ خرانٹ پھینکنا، جا بہ جا تھوکنا اور موقع ملتے ہی ناک میں انگلی گھمانا شروع کر دینا قبیح عمل ہے جو آپ کی شخصیت کو مسخ کر سکتا ہے۔ ۔ مختصر یہ کہ ادب آداب کا خیال رکھیں۔ مہذب بنیں۔ وضع داری کا مظاہرہ کریں۔ کوشش کریں کہ کوئی ایسا عمل نہ ہو جوتکلیف کا سبب بنے۔

اپنے ساتھ، باقی سب لوگوں کا خیال رکھیں۔ خصوصا خدا تعالی کے گھر میں، اس سے جہاں آپ کو طمانیت کا احساس ہو گا وہیں مسجد میں آئے لوگوں کو سکون ملے گا اور وہ اطمینان سے اپنے رب کے حضور سجدہ ریز ہو کر حکم کی بجا آوری ممکن بنا سکیں گے۔ دین سراسر خیر خواہی کا نام ہے۔ بد خو بن کر لوگوں کو خدا سے دور نہ کریں۔ ادب اور اخلاق ہی دین ہیں۔ آداب کے لحاظ کے ساتھ دوسروں سے نیکی کریں کہ نیکی کرنا بھی صدقہ ہے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20