کتاب ’’ہجر کی تمہید‘‘ ——– راحیلہ خان

0

ابو علیحہ کی کتاب ’’ہجر کی تمہید‘‘ پڑھ رہی ہوں۔
اس سے پہلے میں ’’خمیازہ ساحل کا‘‘ اور ’’خیال یار باقی ہے‘‘ پڑھ چکی تھی۔ مجھے زیادہ متاثر نا کر سکی۔ گو کہ ایسا لکھنا ہر شخص کے بس کی بات نہیں مگر میرا اپنا ایک معیار ہے۔

میں کسی رائیٹر کو زیادہ دیر نہیں پڑھ سکتی نا ہر بات سے متفق ہو سکتی ہوں۔ میری نظر میں ایک لکھاری کا تصور بہت عجیب سا ہے اسے بیان کرنا بہت مشکل ہو گا مگر یوں کہہ لیں کہ لفظوں سے خوشبو آئے، لفظ احساس ہوں، انہیں پڑھا نہیں جائے بلکہ ان میں اتنی صلاحیت ہو کہ حقیقت کا گمان ہونے لگے۔ انہیں ٹھکرایا نا جا سکے، ایک عظیم لکھاری خوف، ڈر، بناوٹی ماحول سے دور ہو، اسکے الفاظ اور کرداروں میں وہ سچائی نظر آئے جسے رد کرنا چیلنج ہو۔

مجھے آیات کی طرح کچھ مقدس پسند ہے جو پڑھتے پڑھتے اپنا یقین خود دلاتے رہیں۔ جسے جھٹلانا کفر سمجھا جائے۔ ناقابل فراموش، لیکن اس میں سادگی ہو لفظوں کی ہیرا پھیری نا ہو آسان ہو…!!

مجھے اس کتاب کے بارے میں تجسس تھا۔ اس کتاب میں اس نے وہ لکھا جو لکھنا آسان نہیں ہوتا ہر شخص کے لئے۔ خاص طور پر ایک ایسے انسان کے لئے جو ٹوٹ کر بکھرا ہو اور بکھر کر سنبھلا ہو۔ لیکن یہ لکھنا پھر سے توڑتا ہے یہ ٹوٹ پھوٹ چلتی رہے گی میرا خیال ہے!!

مجھے اس کتاب میں بہت سی جگہوں پر یہ محسوس ہوا کہ انسان اور خدا کا کیا تعلق ہے اور عشق حقیقی دراصل کیا چیز ہے۔.!!

میری امی کہتی تھیں “سیدوں سے دعا کروانی چاہیے اپنے حق میں انکی دعا قبول ہوتی ہے” …. مگر مجھے سید نظر نہیں آتے، میں آپکو پہچان بتاتی ہوں سیدوں کی کیا پہچان ہے۔
سید کے ساتھ دھوکہ کرنا، سید کو تکلیف دینا، سید کو رسوا کرنا گناہ ہے انکی پہچان یہ ہے کہ معاف کرین گے، درگزر کریں گے، دعائیں دیں گے، حق پر رہیں گے، بناوٹ سے دور رہیں گے سادہ مزاج اور ذہین و فطین ہوں گے، چہرے پر نور ہو گا، شخصیت میں کشش ہو گی، لفظوں میں تاثیر ہو گی اور دست شفا ہوں گے، ان کو رسوا کرنے والوں تہمت لگانے والوں کےچہروں کا رونق جاتا رہے گا اور انہیں بے آبرو دیکھنے والوں کی بینائی جاتی رہے گی۔ یہ سچ ہے!!

انکے ہاتھ سے کسی کو تکلیف نہیں پہنچ سکتی اور انکی ذات سے کسی کو نقصان ہونا ناممکن ہے انکے ساتھ سے سوائے فائدے کے اور کچھ نہیں حاصل ہو سکتا۔ کیونکہ یہ چاہ کر بھی برائی نہیں کر پاتے….!!

اپنے بارے میں سچ بولنا اور تکلیف دہ سچ لکھنا بہت ہی مشکل کام ہے یہ جتنا لکھنا مشکل ہوتا ہے اس سے کہیں زیادہ سننا تکلیف دیتا ہے شاید اسی لئے وہ صرف لکھتا ہے۔۔ اور لکھتا جاتا ہے یہ کہنے اور سننے سے قدرے آسان کام ہے!!

وہ دوران قید اپنے ساتھ ہونے والے سلوک پر ناراض ہے۔ میرے لئے دکھ کی بات یہ نہی کہ کسی کو جسمانی طور پر اذیتیں دی جاتیں ہیں وہ زخم تو کوئی حیثیت نہیں رکھتے بھر جاتے ہیں اور بھول جاتے ہیں تلخ اور اذیت دینے والے الفاظ اور رویہ جسکا کوئی مستحق نا ہو وہ بھلانا ناممکن ہوتا ہے جو بار بار کسی نا کسی موقع پر یاد کر کے انسان ساری عمر کے لئے زہنی مریض بن جاتا ہے۔. کسی کو قید میں رکھنا ایک دن بھی بلکہ چند گھنٹے بھی جرم ہے۔ جسکی انہیں سزا ملنی چاہیئے۔ ایسا قانون بننا چاہیئے کہ جرم ثابت کر کے اسکے حساب سے سزا دی جائے تا کہ جرم کرنے والا بھی جانتا ہو کہ آخر اسے سزا ہونی ہے اور اسی نوعیت کا جرم کر سکے۔۔ یعنی یہاں ایک قتل کرنے والا رشوت دیکر بچ جاتا ہے تو دوسرا شخص جو اسے بچتا دیکھتا ہے وہ بھی تو یہ سوچتا ہے کہ سزا سے بچنا مشکل کام نہیں ہے۔ نئ نسل کیا سیکھ رہی ہے اور ہم پر مسلط افراد ہمیں کیوں جبراً غلام بنا رہیں ہیں…!

حبس بے جا میں رکھنا اور اتنا طویل عرصہ بے مقصد رکھنا آنکھوں پر پٹی باندھ کر زنجیروں میں جکڑنا دن رات زہن کو مفلوج کرنے کے طریقے ہیں۔ کیوں؟ اسکا متبادل راستہ بھی تو اپنایا جا سکتا ہے…!!

ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ ایک ایسی جگہ ہو جہاں قیدی کی اصلاح کی جاتی ایک پڑھے لکھے اور زہین انسان کو سمجھانے کے لئے اسی جیسے لوگوں سے مکالمہ کروایا جاتا اور اصل مسلے تک پہنچنے کی کوشش کی جاتی ناکہ تھرڈ کلاس زبان کا استعمال کر کے بدلہ لینے کی کوشش۔ اور یہ توقع رکھنا کہ وہ ڈر جائیگا اور اسکو دیکھ کر مزید لوگ بھی ڈر جائینگے۔!!

قید سے نکلنے کے بعد اس کی جو حالت تھی وہ دیکھ کر تو اسکا خدا سے اعتبار جاتا رہتا اس نے غصے میں نفل بھی نہیں پڑھے۔ اور وضو کرنے جہاں گیا تھا شیشہ دیکھ کر کہا کہ “سر میں یہ ڈیزور” نہیں کرتا تھا۔ یہ بہت افسوسناک حالت تھی۔

وہ واپس آ کر بدلہ لینے کا منصوبہ بنا سکتا تھا کیونکہ اسکی والدہ بھی اسے بنا دیکھے دنیا سے جا چکی تھی اور ایسے میں انسان انتقاماً عام لوگوں کو بھی تکلیف پہنچا سکتا ہے….!

لیکن اس نے انتقام کا نہیں سوچا بلکہ دوسروں کو بھی ہمت دلوائی کہ اپنے مقاصد میں کامیابی ناممکن نہیں ہے اور غصے میں دن رات ایک کر کے کام کیا۔!!

اسکا کوئی میڈل نہیں ملنا چاہیئے تھا جنہوں نے اٹھایا تھا اب اسے ایوارڈ تو کم از کم دیتے اگر سزا دی تھی تو ایوارڈ دینا بھی تو بنتا ہے۔!!

(Visited 1 times, 1 visits today)

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: