سہ غزلہ —— احمد جاوید صاحب کی تازہ ترین سخن آرائی

0

(۱)

سنے گی خاکِ سیہ کب ہری بھری آواز
خزاں کے دل میں اترتی بہار کی آواز

یہی ملا ہے وراثت میں بے نواؤں کو
گھٹی گھٹی سی خموشی دبی دبی آواز

کوئی عوام سے پوچھے تو کیسے اترے گی
دھواں دھواں سی سماعت میں جنتی آواز

اتار دیجیے بہروں كو تخت پر سے جناب
وگرنہ زلزلہ بن جائے گی یہی آواز

یہ چند لوگ جو اب تک ہیں آشتی خواہاں
انھیں بھی کھینچ نہ لے جائے آگ کی آواز

ہمارے پاس اب اس کے سوا رہا کیا ہے
گھناؤنی سی خموشی، ڈراؤنی آواز

سنو سنو کہ یونہی ناشنیدہ ڈھہ نہ پڑے
یہ حسن و خیر و ولا سے لدی پھندی آواز

کل اک خطیبِ مسیحا کلام کا فرزند
تھڑے پہ بیچ رہا تھا مری ہوئی آواز

سنائی دیتی ہے اکثر خرابۂ دل میں
بجھی بجھی سی وہ تنہا چراغ کی آواز

کسی زمانے میں افلاک تھے سمیع و مجیب
کسی زمانے میں ہوتا تھا آدمی آواز

کسے سناؤں کہ آسیبی کانوں میں پڑ کر
اجاڑ ہو گئی کیسی بھری پری آواز

زبان سوکھ گئی، دل میں قحط سالی ہے
نہ خامشی تر و شاداب ہے نہ ہی آواز

ہوس نہیں ہمیں آوازیں جمع کرنے کی
حضور آپ جو سنتے ہیں بس وہی آواز

یہ ایک بوند کہ ہے چشم و دل کی کل پونجی
اسے سنبھال رکھو، ہے یہ آخری آواز

ہمارے بچے نگل جائے گی خدا نہ کرے
یہ دلدل ایسی خموشی، یہ اژدری آواز

کبھی سنو تو سہی کان دھر کے بیدردو
یہ زخم دل کی، یہ آنسو ہے آنکھ کی آواز

اسی طرح خس و خاشاک بن کے سنتے رہو
خطیبِ شعلہ بیاں کی جہنمی آواز

اسے رجز میں کھپائیں کہ نوحہ خوانی میں
یہ باقی ماندہ سخن، یہ رہی سہی آواز

ہمیں مرقع ہستی سے دو ورق ہی ملے
کٹی پھٹی سی خموشی، مڑی تڑی آواز

یہ خالی ہاتھ خموشی کفیل ہے میری
مرا اثاثہ ہے کشکول میں پڑی آواز

جو برق و رعد كی مرشد ہے، زلزلوں كی امام
تمھیں بھی خطبہ سنائے گی كل وہی آواز

ہم آپ راكھ بنے دیكھتے ہیں دم سادھے
یہاں تو آگ ہی سامع ہے، آگ ہی آواز

سخن كا بوجھ سہارے گی! دیكھ لو جاوید
یہ كِرم خوردہ سماعت، یہ بھر بھری آواز

(۲)

علاج ہے مرے افلاس كا وہی آواز
وہی سماعت و گفتار سے غنی آواز

وہ دشت اور وہ سورج کے منتظر آفاق
وہ صبح خیز پرندوں کی نقرئی آواز

اُدھر طلوع پہ آمادہ وہ ستارۂ غیب
اِدھر یہ دل سے اٹھی خیر مقدمی آواز

چراغ ِ خیمۂ افلاک ہے وہ ماہ ِ منیر
کہ جس کے فیض سے بنتی ہے روشنی آواز

نہ سن سکے نہ کوئی اُس کو ان سنا کر پائے
خطاب کرتی ہے دل سے وہ سرمدی آواز

نکل کے حلقۂ رنداں سے پھر کہیں نہ ملی
وہ اک سبو سی خموشی، شراب سی آواز

تو بات یہ ہے میاں، تشنگی کے کانوں میں
ازل سے گونج رہی ہے سراب کی آواز

گئی تھی رات کہیں خامشی کے حجرے میں
وہ آگ تھی کہ وہیں راکھ ہو گئی آواز

اُسی زمین پہ چمكے گا آفتابِ وجود
جو بوجھ لے گی طلوع و غروب كی آواز

ہمارا ترکہ ہے بیٹا سنبھال کر رکھنا
یہ ٹوٹی پھوٹی خموشی، بچی كھچی آواز

بھنور سے بنتے رہے زیرِ آبِ آئینہ
ہوئی تھی عكس وہ سینے میں گھومتی آواز

یہ انتظار ہے اب تك بچارے سائل كو
وہ آئے قاضیِ حاجات، وہ پڑی آواز

بتائیے تو ذرا كون ہے طویل العمر
یہ ایك لمحہ خموشی كہ اك صدی آواز

یہ كہہ رہا تھا بنا كچھ كہے خطیبِ زماں
سنو سنو كہ یہی چپ تو ہے مری آواز

یہ قولِ خوش بطریقِ سكوت ہے منقول
سماعتوں كی مربی ہے ان سنی آواز

كہاں كہاں نہ پھری بارِ مدعا لے كر
حضور آج سبك دوش ہو گئی آواز

(۳)

سنو کہ رہنِ شنیدن نہیں مری آواز
یہ ہے سلوک ِ خموشی میں منتہی آواز

کبھی، یقین کرو، دل خطاب کرتا تھا
کبھی مبلغ ِ نور و حضور تھی آواز

جو سچ کہوں تو مجھے آج بھی بلاتی ہے
جنید و رابعہ و بایزید کی آواز

سماعتوں کی انھی جھاڑیوں میں نغمہ سرا
خدا نے مجھ کو عطا کی ہے متقی آواز

فغاں کہ منبر و ماتم کے شور میں ہوئی گم
ابوالحسن کی خموشی، حسین کی آواز

کہاں کا حافظِ قرآں جو سن نہیں سکتا
وہ حرف حرف میں مدغم پیمبری آواز

جو ناشنیدہ بھی محوِ سماع رکھتی ہے
سکوتِ دل کو ہے ازبر وہ سرمدی آواز

کھلے پروں سے فضا کو طلائی کرتے ہوئے
نکالتے ہیں پرندے سفید سی آواز

غروب ِ مہر کا تھا بسکہ اور ہی آہنگ
کہ جیسے ڈوب گئی آج آخری آواز

ہمارے پودوں کو بیمار کرنے آئی ہے
کہیں شمال سے آلودگی بھری آواز

بلاتی ہے مجھے رہ رہ کے آپ سے باہر
مرے ہی سینے سے آتی اک اجنبی آواز

ہے ذرہ ذرہ بیاباں نوائی میں سرگرم
کسے دکھائیے لا کر یہ ان سنی آواز

کسی زمانے میں سورج كلام كرتا تھا
کسی زمانے میں ہوتی تھی روشنی آواز

یہی تو حاصلِ بزمِ سماعِ ہستی ہے
بہار سے بھی ہے بیگانہ سبزے کی آواز

جو خاكِ تیرہ میں بھونچال كاشت كرتی ہے
اتر گئی ہے مرے سینے میں وہی آواز

یہ اور بات كہ محرومِ لن ترانی ہے
بنا تو لیتا ہے دل بھی كلیم سی آواز

سنا تو میں نے بھی ہے اُس جگہ كے بارے میں
جہاں سكوت كی كرتی ہے پیروی آواز

ہمیں ملاؤ كبھی اس خطیبِ اعظم سے
بنی ہے جس كی خطابت سے خامشی آواز

بقولِ طائرِ رنگیں نواے روضۂ جاں
بہار سبز خموشی ہے، قرمزی آواز

یہ ایك حرف جو دل سے زباں تك آیا ہے
یہی ہے میری خموشی، یہی مری آواز

چمن میں بولنے كی مشق كر رہی ہے بہار
كلی كلی ہے یہاں جیسے ادھ كھلی آواز

شگفتنِ گلِ زرتاب و نغمۂ بلبل
چہك رہی ہے خموشی، لہك اٹھی آواز

دلِ گداختہ و چشمِ تر كی سنگت میں
بس ایك رات رہی تھی كہ دھل گئی آواز

جو بے نیاز ہے تم كو سنائی دینے سے
ملی ہے اہلِ جہاں مجھ كو وہ غنی آواز

سنا ہے میں نے کہ بابِ قبول کے پس و پیش
وہ خامشی ہے کہ بن جائے آدمی آواز

یہ قول ہے مرے استاد كا خدا بخشے
سخن میں ہے بھی تو ایك آدھ فیصدی آواز

یہ بھی پڑھیں: میرا دل چاہتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ احمد جاوید کی نظم

 

(Visited 1 times, 6 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: