استانی جی —– محمد اویس حیدر کا افسانہ

0

آئینے کے سامنے کھڑی وہ اپنے بالوں میں اتری چاندی کو دیکھ رہی تھی جو اس کی لٹوں میں چمک رہی تھی۔ اگرچہ اس کی عمر اتنی زیادہ نہ تھی۔ مگر شائد اس کی ذات میں لگا تنہائی کا دیمک اسے اندر ہی اندر چاٹتا جا رہا تھا۔ پورا گاوں ممتاز کو استانی جی کہہ کر بلاتا تھا۔ سب کی نظروں میں استانی جی کے لیے عزت تھی، تکریم تھی، لیکن اسی تکریم نے استانی جی کو وقت سے پہلے ہی بوڑھا بھی کر دیا تھا۔

ممتاز کے والد تاج دین کا ایک نہایت پسماندہ گاوں میں دو کمروں کا ایک سکول تھا۔ جہاں وہ گاوں میں رہنے والے لوگوں کے بچوں کو پڑھایا کرتا تھا۔ آج جن کے بچے تاج دین کے پاس پڑھ رہے تھے، انہوں نے خود بھی کبھی تاج دین ہی سے پڑھا تھا۔ تاج دین بچوں کو تعلیم عبادت سمجھ کر دیتا تھا اسی لیے سبھی کو بغیر فیس کے بھی پڑھاتا تھا۔ گاوں والے تاج دین کے گھر اناج اور راشن وغیرہ ڈال دیتے۔ اس طرح اس کے گھر روزی روٹی کا سلسلہ بھی جاری رہتا۔ گاوں والوں کے دلوں میں اس کے لیے بے پناہ محبت اور احترام تھا۔ کیا بڑے کیا چھوٹے سب تاج دین کو اپنا باپو سمجھتے تھے اور اس کی بیوی کو ماں جی۔ انکی اکلوتی اولاد ممتاز گاوں کی واحد لڑکی تھی جس نے گاوں میں رہتے ہوئے ہی بی اے پاس کیا تھا۔ اس طرح وہ گاوں کی سب سے پڑھی لکھی لڑکی بن چکی تھی۔ ممتاز کی ماں اب اس کی شادی کے بارے میں بھی کچھ فکر مند سی رہنے لگی تھی۔ لیکن تاج دین چاہتا تھا کہ ممتاز کی شادی کسی اسی جیسے پڑھے لکھے شخص سے ہو۔۔۔ پر فکر کی بات یہ تھی کہ ایسا بہتر شخص گاوں میں فی الحال کوئی نہ تھا۔

جاڑے کی وہ رات کچھ زیادہ ہی ٹھنڈی تھی، جب آدھی رات گزرنے کے بعد اچانک تاج دین کو کھانسی کا دورہ پڑ گیا۔ جنت بی بی نے جب اپنے میاں کی ایسی غضب ناک آواز سنی تو فوراََ اٹھ بیٹھی پانی کا گلاس بھرا اور تاج دین کی طرف لپکی۔ تاج دین اپنے سینے پر ہاتھ رکھے کراہ رہا تھا کہ اچانک اسے ہچکی آ گئی، ایسی ہچکی جس کے بعد سانس کا تانتا ٹوٹ جاتا ہے۔

میت کو دفناتے وقت سب کی آنکھیں پُر نم تھیں۔ ان کا باپو آج منوں مٹی تلے جا لیٹا تھا۔ آخری رسومات مکمل ہوئیں۔ کچھ دن گزرنے کے بعد سب کے زہنوں میں سوال پیدا ہوا کہ اب سکول میں بچوں کو تعلیم کون دے گا؟ اگرچہ پورے گاوں کو اپنے بچوں کو پڑھانے کا شوق نہیں تھا۔ کیونکہ زیادہ تر لوگ اپنی اولاد کو اپنے ساتھ کام پر لگا کر اپنی محنت ان میں بانٹنا چاہتے تھے۔ انہیں لگتا تھا کہ جب بچے کی عمر کے دس بیس سال کتابوں کی نظر کر لینے کے بعد بھی فصلیں ہی بونی اور کاٹنی ہیں تو پھر پہلے سے ہی کیوں نہیں۔ جب بچہ شروع سے ہی کام پر لگ جائے گا تو کام اس کی ہڈیوں میں بیٹھ جائے گا۔ ورنہ وہ اپنے جسم کو آرام طلبی کے حوالے کر بیٹھتا ہے اور اس طرح اسے اپنے ہی باپ دادا کا کام بھی حقیر لگنے لگتا ہے۔ مگر جن لوگوں نے تاج دین کے پاس بیٹھ کر پانچ پانچ جماعتیں پڑھ لی تھیں وہ اتنا ضرور سمجھتے تھے کہ انسان کا وقار دراصل اس کے علم میں ہی موجود ہے۔ بیل کولہو کے گرد پورا دن چکر لگا لگا کر سمجھتا ہے کہ اس نے جانے کتنا فاصلہ طے کر لیا۔ جبکہ اس سے اپنے لیے وہ صرف تھکاوٹ کے علاوہ کوئی فائدہ حاصل نہیں کر پاتا۔ کیونکہ وہ اپنے عمل سے جاہل ہے۔ لیکن اگر اسے کوئی علم دے دے کہ اس کے ان چکروں کے سفر سے کس طرح تیل نکلتا ہے اور اس کی محنت کس طرح لوگوں کے رزق کا زریعہ بنی ہوئی ہے انکی زندگیوں میں آسانی پیدا کرتی ہے تو اس کی اسی محنت میں خلوص شامل ہو جائے گا جو اس کے کام کو عبادت بنا دے گا۔ مگر یہ سوچ علم سے ہی ملتی ہے اور ساتھ تاج دین جیسے مخلص استاد سے۔

اس نازک موقع پر ممتاز نے سکول کی زمہ داری اپنے نازک کندھوں پر اٹھا لی۔ اس نے سکول پر انتہائی محنت کی سکول کو پرائمری سے بڑھا کر میٹرک تک کرنے میں کامیاب ہو گئی۔ وہ اپنے باپ کے خیالات کی امین تھی۔ تعلیم نے اس کی سوچ کو آرام پسند نہیں بلکہ محنتی بنا دیا تھا جو جان گئی تھی کہ علم رخ دکھاتا ہے، خیال کو نکھارتا ہے۔۔۔ جبکہ سفر محنت سے ہی طے ہوتا ہے۔ ٹھہرا ہوا پانی ہو یا چارپائی پر پڑا بیکار جسم، کچھ ہی دنوں میں بدبودار ہو جاتے ہیں۔اس کا مطلب حرکت میں رہنا ہی عین فطرت ہے۔

جنت بی بی کا دل اب مغموم رہنے لگا تھا۔ کبھی اسے اپنی بیوگی کا احساس غمزدہ کر دیتا تو کبھی ممتاز کی بڑھتی عمر کی فکر۔ ممتاز اپنی زندگی کا مقصد اب صرف سکول بنا چکی تھی۔ اب وہ صرف ایک استانی جی تھی، استانی۔۔۔۔ جو بچوں کی روحانی ماں کا درجہ رکھتی ہے۔ مگر پھر بھی کبھی کبھی اس کے اندر چھپی بیٹھی ایک کنواری لڑکی اسے چٹکی کاٹ دیتی۔ اس چٹکی کی تکلیف اسے بہت بے چین کرتی، زخم اگر جلد پر ہو تو اس پر مرہم لگ جاتا ہے۔ لیکن اگر اندر ہو تو ٹیس کی شدت مغز پر پڑتی ہے۔ جس کے علاج کے طور پر پین کلر دے کر اسے صرف سُن کر دیا جاتا ہے کہ کچھ وقت گزرے گا تو وقت آپ ہی اندر مرہم لگا دے گا۔ مگر کبھی کبھی ایسا نہیں ہوتا، بلکہ وقت مرہم کی بجائے ریگ مال بن کر وجود کی دیواروں کو رگڑ رگڑ کر چھیلنے لگتا ہے۔

رشید نے اچھے نمبروں کے ساتھ میٹرک پاس کیا تھا۔ وہ گاوں کا پہلا لڑکا تھا جو اس مقام پر پہنچا تھا۔ جب اس کا رزلٹ آیا تو گاوں والوں نے اس کے گلے میں ہار ڈالے اور خوب ڈھول بجایا۔ رشید جانتا تھا کہ یہ سب استانی جی کی ان تھک محنت کا نتیجہ ہے۔ اس لیے وہ فوراََ مٹھائی لے کر استانی جی کے پاس گیا۔ استانی جی اسے کامیاب دیکھ کر بہت خوش ہوئی۔ اور اسے تاکید کی کہ وہ اپنی پڑھائی مت چھوڑے بلکہ شہر جا کر کالچ میں داخلہ لے لے۔ رشید کو بھی استانی جی کی بات پر عمل کرنا ہی بھلا معلوم ہوا۔

رشید ایک سلجھا ہوا لڑکا تھا۔ اس کے خیالات گاوں والوں کی روائتی سوچوں سے بہت مختلف تھے۔ رشید کے والدین نے اس کی پڑھائی کا فیصلہ قدرے دیر سے کیا تھا، اس لیے وہ میٹرک تک پہنچتے ہوئے ہی سنِ بلوغت پار کر چکا تھا۔ اس میں زہانت تو تھی ہی ساتھ میں وجاہت بھی تھی۔ وہ اپنی استانی جی کا صرف ایک طالبِ علم ہی نہیں بلکہ مداح بھی تھا۔ رشید نے استانی کے کہنے پر مزید آگے تعلیم جاری رکھنے کا فیصلہ کر لیا۔ استانی جی بھی رشید کو بڑے انہماک سے پڑھاتی تھی۔ اسی توجہ نے رشید میں ذہانت پھونک دی تھی۔

محبت کیا ہوتی ہے؟
استانی جی نے رشید کے بے محل سوال پر چونک کر دیکھا، رشید بھی استانی جی کی اٹھی اس حیرت سے بھری نگاہ پر جھیمپ گیا
کیا مطلب ؟ استانی جی پوچھا
پتہ نہیں کیوں میرے ذہن میں یہ سوال آیا تو میں نے پوچھ لیا، دراصل کچھ دنوں سے میرے ذہن میں ایسے ہی الٹے سیدھے خیالات آرہے ہیں
کیوں۔۔۔ ایسا کیوں ہے؟ کیا الٹے سیدھے خیالات آ رہے ہیں تمہیں؟

بس ایک نیا سا احساس ہے دل میں۔۔۔ مگر کچھ سمجھ نہیں آتا یہ کیسا احساس ہے۔ میں ابا کے ساتھ جاتا ہوں فصلوں میں تو لگتا ہے جیسے فصلیں نہیں ہیں بلکہ ٹہنیاں ہیں جن پر ابھی کلیاں کھلنے والی ہوں۔ پھر کلیاں اپنے بال کھول کر حال کھیلتے ہوئے پھول بن جائیں گی۔ اور پھر اچانک جانے کہاں سے خوشبو کی لپٹیں آنے لگتی ہیں۔ میں رات کو جب چھت پر سوتا ہوں تو پہلے کئی کئی گھنٹے نیند نہیں آتی، آسمان پر ستارے ٹمٹماتے ہوئے لگتا ہے کہ مجھ سے بات کر رہے ہوں۔ مجھے چھیڑ رہے ہوں۔ چاند کو دیکھتا ہوں تو لگتا ہے کہ جیسے بغیر خدوخال کے چہرہ ہے۔ جانے کس کا چہرہ ہے اتنا روشن۔۔۔ کالی رات جیسی زلفیں، جن کی لٹوں میں ستاروں کی لڑیاں ہیں۔۔۔ اور ان کے درمیان دمکتا چہرہ۔۔۔ جس کے خدوخال بس ابھی ابھرنے کو ہیں۔

استانی جی حیرت سے رشید کی باتیں سن رہی تھی۔ پہلے تو اس کی سمجھ میں کچھ نہ آیا کہ رشید سے کیا کہے، دونوں سر جھکائے یونہی خاموش بیٹھے رہے۔ اچانک استانی جی کو لگا کہ یہ خاموش وقت وزنی ہوتا جا رہا ہے۔ اور وہ اس وزن تلے دبتی چلی جا رہی ہے، پھر ممتاز کے ماتھے پر سے پسینے کی چند بوندیں بہنے لگیں۔ ان بوندوں کے بہنے نے اسے ایک دم چونکا دیا، اس نے ماتھا صاف کرتے ہوئے رشید کی طرف دیکھا تو وہ زمین پر اپنی انگلی سے گول دائرے بنا رہا تھا۔ شائد وہ ان دائروں میں چاند کو دیکھ رہا تھا، اور چاند میں کسی چہرے کو، جسکے خدوخال ابھی نہ ابھرے تھے۔
رشید تمہیں کب سے ایسا لگ رہا ہے؟

پتہ نہیں استانی جی۔۔۔۔ بس یوں سمجھ لیں جب سے ایف اے میں داخلہ لیا ہے تب سے کچھ نیا نیا سا احساس اجاگر ہو گیا ہے۔ پہلے میں نے سوچا شائد شہر کی نئی فضا دیکھی ہے کالج کی شکل دیکھی ہے اس لیے ہے۔ مگر پتہ نہیں کیا ہے، کیوں ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ محبت میں انسان کی دنیا بدل جاتی ہے، پرانے نظاروں میں نئے جلوے دکھنے لگتے ہیں۔ میں جب آپ کے پاس پڑھنے آ رہا تھا تو پورے راستے جانے کیا کیا گنگناتے ہوئے آیا ہوں بس اسی احساس میں آپ سے پوچھ لیا کہ۔۔۔۔۔ محبت کیا ہوتی ہے؟ کہٰیں مجھے محبت تو نہیں ہو گئی؟
استانی بدستور محوِ حیرت رشید کی باتیں سن رہی تھی
آآآپ کو میری بات ب ب بری۔۔۔ تو نہیں لگی، رشید نے کچھ پریشان ہوتے ہوئے استانی جی سے پوچھا
استانی جی رشیدکی باتیں بڑی توجہ سے سن رہی تھی۔ اسے خود سجھ نہیں آرہا تھا کہ رشید کو کیا کہے۔ پسینہ اس کے کپڑوں کو بھی شرابور کرنے لگا تھا۔ پھر اس نے لڑکھڑاتی زبان سے کہا
ن ن نہیں تو۔۔۔ مجھے بھلا کیوں برا لگے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایسا کرو آج کی پڑھائی ختم کرتے ہیں۔ مجھے کچھ کام ہے آج گھر پر۔ کل وقت پر آ جانا

رشید اٹھ کھڑا ہوا۔ اور خدا حافظ کہہ کر چلا گیا۔ ممتاز دیر تک وہیں بیٹھی جانے کیا سوچتی رہی، دماغ میں اتنا کچھ ایک ساتھ چلنے لگا تھا کہ کسی بھی بات کی سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ کیا سوچ رہی ہے۔ اسی طرح بیٹھے بیٹھے گھنٹوں گزر گئے دماغ سوچ سوچ کر تھک گیا۔ مگر اتنا وقت کیا سوچا ؟ ایک لفظ بھی یاد نہیں۔ بس یوں تھا کہ دماغ پلیٹ میں پڑا کوئی انڈا ہو جسے چمچ سے کوئی پھینٹتا چلا جا رہا ہے۔ پھر یک دم ممتاز کو اپنے بدن میں چیونٹیاں سی رینگتی محسوس ہونے لگیں۔ وہ صحن سے اٹھی اور اپنے کمرے میں چلی گئی، مگر دل تھا کہ دھڑکن تھم ہی نہیں رہی تھی۔ پسینے اب بھی دھاروں کی صورت بہہ رہے تھے۔ وہ پھر کمرے سے باہر نکلی غسل خانے میں پڑی پانی سے بھری بالٹی کو دیکھا اور پانی اپنے اوپر انڈیلنے لگی۔ پانی انڈیلتے ہی اسے یک دم کپکپی سی آ گئی۔ اسے خود سمجھ نہیں آرہا تھا کہ اسے کیا ہو گیا ہے۔ وہ کچھ سوچنا چاہتی تھی۔۔۔۔۔ مگر خود ہی کسی بھی سوچ کو دماغ میں ٹھہرنے نہیں دے رہی تھی۔ پھر اس نے اپنے جسم سے پانی پونچھا، اپنے بال سکھائے اور آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر خود کو دیکھا۔۔۔۔ اس کی لٹوں میں کہیں کہیں چاندی کی تاریں چمک رہی تھیں۔ پھر اس نے اپنے چہرے کو دیکھا۔۔۔ تو اسے لگا جیسے یہ چہرہ نہیں ہے۔۔۔ بلکہ کسی نے چاند پر خدوخال لگا دیے ہیں۔ وہ فوراََ آئینے کے سامنے سے ہٹ گئی اور اپنا چہرہ اپنے ہاتھوں میں چھپا لیا۔ مسکراہٹ اس کے لبوں پر پھیلنا چاہتی تھی مگر وہ اسے پھیلنے نہیں دے رہی تھی یوں ایک کپکپاہٹ تھی جو اس کے ہونٹوں پر جاری تھی۔ اتنے میں اس کی ماں کی آواز اسے سنائی دی
ممتاز تار پر سے کپڑے اتار لے۔۔۔۔ بادل آ گئے ہیں لگتا ہے کہ مینہ برسے گا۔
ممتاز بھاگ کر صحن میں گئی اور کپڑے اتار لیے۔۔۔ اور پھر جا کر صحن میں کھڑی آسمان کو تکنے لگی جس پر بادلوں کی گھٹا چھا رہی تھی۔ ممتاز کا دل چاہا کہ آج خوب بارش برسے اور اس کا انگ انگ بھیگ جائے۔ پھر یک دم بجلی کڑکی اور ممتاز دوڑ کر واپس کمرے میں چلی گئی۔

اس بات کو مہینہ بھر گزر گیا، ممتاز سکول جاتی بچوں کو پڑھاتی مگر اس کا دھیان کہیں اور لگا رہتا۔ وہ گھر آ کر ماں سے پوچھتی کہ رشید نہیں آیا پڑھنے؟ پھر انکار کے جواب پر اس کا دل بیٹھ جاتا۔ پھر وہ ماں سے کہتی
پتہ نہیں کیا ہو گیا ہے اسے۔۔۔ پڑھائی سے اتنی لا پرواہی۔۔۔۔ اب بڑی جماعت میں چلا گیا، کالچ کی شکل دیکھ لی ہے اس نے، اتنی زمہ داری ہے اس پر اور جانے کہاں منہ چھپا کر بیٹھ گیا ہے۔ میں تو کہتی ہوں اس کے گھر جا کر پتہ کروں، مہینہ گزرنے کو آیا ہے، آخر آیا کیوں نہیں پرھنے؟
چل آ جائے گا پڑھنے، جانا کہاں ہے اس نے، گھر میں لگا ہو گا باپ کیساتھ اس کا ہتھ ونڈانے اور کیا۔۔۔ اللہ مارا اب جوان ہو گیا ہے۔ ظاہر ہے اب کام بھی زیادہ کرے گا۔ کل کو ویاہ نہیں ہونا اب اس کا۔
جوان۔۔۔۔۔ ویاہ؟َ یک دم ممتاز کی آنکھیں حیا سے جھک گئیں، اس کے رخساروں پر سرخی چھانے لگی۔ بدن پر پھر چیونٹیاں رینگنے لگیں، اس کا دل چاہا کہ فوراََ کہیں منہ چھپا لے، پھر کچھ سنبھلنے کے بعد اسے خیال آیا کہ کہیں رشید نے جو باتیں کیں انہی کے خوف سے گھر میں دبک کر بیٹھا ہو۔ اور اب سامنا کرنے کی ہمت نہ کر پا رہا ہو۔ اس نے یہ سوچ کر پھر ماں سے کہا
اماں تم کل جانا اور انہیں سمجھانا کہ اسے یوں پڑھائی سے دور کرنا اچھی بات نہیں۔ پڑھائی کے لیے وقت نکالے اور ضرور پڑھنے آیا کرے۔۔۔ آخر وہ ہمارے گاوں کا سب سے قابل نوجوان ہے۔
اچھا چلی جاوں گی، تو اسے چھوڑ اور ہانڈی پکا لے اماں جی نے لا پرواہی سے جواب دیا۔

اگلے دن جب ممتاز سکول سے گھر آئی تو سامنے دیکھتے ہی ٹھٹھک گئی۔ اماں جی کیساتھ رشید بیٹھا تھا۔ ممتاز کا دل ایک دم اچھل کر ہلک کو آ گیا۔ ممتاز کی ماں بولی
لے سن لے مہینہ بھر آیا کیوں نہیں یہاں پڑھنے، جوانی چڑھ آئی ہے اسے تو۔۔۔۔ کہتا ہے کسی سے محبت ہو گئی ہے۔۔۔ اب تو بس پہلے جلدی سے بیاہ کروں گا میں
ممتاز کی آنکھوں میں پھلجڑیاں چلنے لگیں، کس سے بیاہ کرنا چاہتا ہے تو رشید؟ ممتاز نے انتہائی معنی خیز لحجے میں پوچھا
کہتا ہے بالکل چاند ہے چاند، اماں جی نے پھر جواب دیا
ہاں م م م مگر وہ چاند ہے کون؟ ممتاز بے چینی کیساتھ رشید کے منہ سے جواب سننا چاہ رہی تھی
استانی جی اب کیا کہوں آپ سے۔۔۔۔ مجھ میں تو پہلے آپ کو کہنے کی ہمت ہی نہیں ہو رہی تھی۔۔۔ آخر اتنی عزت ہے آپ کی میرے دل میں، مگر آج سوچا کہ آپ کو بھی سچ سچ بتا ہی دوں
رشید نے بولنا شروع کیا اور ممتاز کے دل کی دھڑکن بڑھتی جا رہی تھی

اپنے کالج کے باہر دیکھا تھا جی میں نے اس کو۔۔۔ وہ اپنے کالج جا رہی تھی پڑھنے، لڑکیوں کے کالج میں پڑھتی ہے نہ وہ۔۔۔۔۔ بس وہیں دل دے بیٹھا اسے میں، پھر گاوں آکر کچھ دن اس نئے احساس میں ڈوبا رہا، پھر واپس شہر جا کر پندرہ دن اس کے گرد چکر کاٹے تو شکر ہے جی وہ بھی میری طرف مائل ہوئی۔ میری تو دنیا ہی بدل گئی ہے جی۔۔۔ شہر میں پڑھائی کے تو بڑے فائدے ہیں جی۔۔۔ تعلیم بھی مل جاتی ہے اور محبت کے لیے کڑی بھی۔

رشید بولتا جا رہا تھا اور ممتاز کی آنکھوں کے آگے دھند چھانے لگی تھی۔ رشید کے الفاظ اس پر چنگاریوں کی مانند گر رہے تھے جن میں بغیر تپش کے آگ بھری ہوتی ہے۔ بدن پر رینگتی چیونٹیاں اسے اب نوک بن کر چبھنے لگی تھیں۔
میں نے بتایا ہے جی اسے آپ کے بارے میں بھی۔۔۔۔۔ بھلا اپنی استانی جی کو میں کبھی بھول کر بھی بھول سکتا ہوں؟ پہلے ان کے ابا مرحوم نے اور ان کے گزرنے کے بعد میں استانی جی نے خود اپنی محنت سے ہی تو مجھے قابل بنایا ہے۔ استانی جی کو تو میں نے ہمیشہ اپنی ماں سے بھی بڑھ کر سمجھا ہے جی۔

اماں۔۔۔ رشید مہمان بن کر آیا ہے آج۔۔۔۔ میرے ب ب بچے کے آگے،،، روٹی تو رکھو، استانی جی نے حلق سے تھوک نگل کر کپکپاتے ہونٹوں سے کہا۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20