فیض احمد فیض‎ ——– خشونت سنگھ

0

مترجم: شریف اعوان

خشونت سنگھ کا مطالعہ اور پھر ترجمہ کرنے کی وجہ ان کی تحریروں کا خلوص ہے جس نے خشونت کو اپنے دور بلکہ آنے والے دور کا بھی مقبول ترین مصنف بنایا ہے۔
خشونت برصغیر کی موجودہ تاریخ کے اہم ترین واقعات بشمول تقسیم ہند اور قیامِ پاکستان کے عینی شاہد ہیں۔ وہ واشگاف انداز میں پاکستان کے ہمدرد ہیں، لیکن ایک نادان دوست کہلانے کو تیار نہیں۔ وہ ان الجھے ہوئے مسائل کو موضوع بناتے ہیں جو ہمارے ہاں شجرِ ممنوعہ قرار پا چکے ہیں۔ خشونت انسان دوست ہیں، انسانوں سے محبت کرتے ہیں اور ان پر شوق سے لکھتے ہیں۔۔۔ اور اس بات کو کم تر درجے کی چیز نہیں سمجھتے۔
ہم نے ایک سیریز کی شکل میں ’خشونت سنگھ کا پاکستان‘ کے عنوان سے انکے کچھ مضامین کا ترجمہ کیا ہے۔ فیض پر لکھا گیا اس سلسلہ کا پہلا مضمون دانش کے قارئین کے لئے پیش خدمت ہے۔ فیض احمد فیض کی وسیع المشرب شخصیت پر یہ تحریر تاریخی حیثیت رکھتی ہے۔ شریف اعوان


شمالی ہندوستان کے شیعہ مسلمانوں میں ایک روایت امام ضامن باندھنے کی ہے۔ کسی طویل سفر پر نکلنے والے کے بازو پر ایک رومال میں سکہ یا کرنسی نوٹ حفظ و امان کی دعائوں کے ساتھ باندھ دیئے جاتے ہیں۔ آل انڈیا ریڈیو کی اردو سروس کے پروڈیوسر اور میرے دوست محمود ہاشمی کا خیال تو یہ ہے کہ مسافروں کے حامی و ناصر یہ بزرگ دراصل شاعر امام ضامن ہیں جو کہ قطب مینار کے علائی دروازے کے مشرق میں دفن ہیں۔ لہٰذا اس روایت کی ابتدا سترہویں عیسوی سے ہوئی ہو گی۔

اب یہ روایت شیعہ کے علاوہ سنّیوں کے ہاں بھی برابر درج پا چکی ہے۔ اسی طرح کی ایک روایت پنجاب کے ہندو اور سکھوں میں موجود ہے، اسے ’’سِروارنا‘‘ کہتے ہیں۔ کوئی بڑی بوڑھی سفر پر نکلنے والے کے سر سے تھوڑی سی رقم ’’وارتی‘‘ ہے اور اُسے ہی دے دیتی ہے کہ راستے میں خرچ کر لے یا کسی ضرورت مند کو دے دے۔ میری نانی ایسا کرتے وقت (جب کہ صدقے کی رقم ایک روپے سے کم ہی ہوتی تھی) یہ دعائیہ کلمات بھی ادا کرتی تھیں۔

ردّ بلائیں، دور بلائیں —- اوڑ تائیں، رکھے سائیں

اس دفعہ جب میں باہر (جاپان، کوریا اور ہانگ کانگ کے دورے پر) گیا تو کوئی ’’سِروارنا‘‘ کرنے والا نہیں تھا اور نہ کوئی ’’امام ضامن‘‘ باندھنے والا۔ اس کے باوجود مجھے کوئی نقصان نہیں پہنچا، سوائے اُس موذی اثر کے جو خود میں نے کثرت شراب نوشی اور بسیار خوری سے اپنے آپ کو دیا ہو گا۔ میرے پاس کرنے کو کچھ نہیں تھا۔ بے شمار تقریبات اور پھر بیگم کی عقابی نظریں جو خود میری نگاہوں کو ادھر اُدھر بھٹکنے سے روکتی تھیں۔ اب میرے پاس ایک ہی مشغلہ رہ گیا تھا اور وہ تھا چائنیز اور کورین کھانوں کو کھاتے جانا۔

ایسی کیفیت میں میں اپنا وزن کرنے سے بھی گھبراتا ہوں جب تک کہ چند پائونڈ کم نہ کر لوں۔

اس بیرونی دورے کے دوران یہ پہلی دفعہ ہوا کہ میں نے اپنے پیچھے ملک کی کچھ خبر نہ رکھی۔ یہ مجھے واپسی پر ہی معلوم ہوا کہ یشونت رائو جی کا دیہانت ہو چکا ہے۔ میں اُن کی سیاست کی وجہ سے نہیں بلکہ ایک اچھے انسان ہونے کی حیثیت سے بے حد محبت اور عزت کرتا تھا۔ اسی طرح میرے کئی سیاستدان دوستوں کو آئندہ الیکشن کے لیے پارٹی ٹکٹ نہیں ملے۔ مجھے اُن کا بھی افسوس ہوا۔ لیکن سب سے زیادہ دُکھ اس بات کا ہوا کہ ۲۰ نومبر کو جب میں ٹوکیو میں مزے اُڑا رہا تھا، عین اُنہی لمحوں میرے دوست فیض احمد فیض لاہور میں اس دنیا سے رخصت ہو رہے تھے۔

میں اُن چند ہندوستانیوں میں سے ہوں جو فیض کے قریب ترین دوست تھے۔ فیض صاحب مجھ سے کالج میں دو سال سینئر تھے۔ وہ انگریزی اور عربی میں ماسٹر کی ڈگری لے رہے تھے۔ ابھی وہ محض ایک طالب علم ہی تھے کہ اُن کا اُٹھنا بیٹھنا لاہور کے باوقار Aethetes Club میں ہونے لگا جس کے ممبران میں پروفیسر پطرس بخاری، امتیاز علی تاج، ڈاکٹر تاثیر اور صوفی تبسم جیسے بڑے لوگ شامل تھے۔ یہ عزت فیض کو ایک اُبھرتے ہوئے شاعر کی حیثیت سے ملی تھی۔ وہ سولہ سال کی عمر سے شاعری کر رہے تھے اور مرّے کالج سیالکوٹ کے مشاعرے میں (جہاں کے وہ گریجویٹ تھے) اُنہیں پہلی دفعہ پڑہوایا گیا۔ اُس مشاعرے میں فیض نے یہ شعر بھی سنایا تھا۔

لب بند ہیں ساقی میری آنکھوں کو پلا
وہ جام جو منت کشِ صہبا نہیں ہوتا

کچھ سال بعد جب میں انگلینڈ سے آیا اور لاہور میں رہنے لگا تو ہماری ملاقاتوں کا سلسلہ دوبارہ شروع ہوا۔ کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کی ہدایات پر فیض نے برٹش آرمی جوائن کر لی۔ اس طرح شاعر نے ’’نظریۂ ضرورت‘‘ کے تحت فوجی یونیفارم اختیار کی۔

تقریباً اُنہی دنوں میں ڈاکٹر تاثیر کی بیگم کی چھوٹی بہن ایلس ہندوستان آئیں۔ اُن کی منگنی ہرکرت سنگھ سے اُس وقت ہوئی تھی جب وہ سینڈ ہرسٹ میں کیڈٹ تھا۔ ہرکرت سنگھ، جو بعد میں جرنیل ہوا، اُس وقت تک ایک سکھ لڑکی سے بیاہ کر چکا تھا۔ ایلس کا دل بُری طرح ٹوٹا۔ اُسی مرحلے پر اُن کی ملاقات اور پھر شادی فیض صاحب سے ہوئی۔ اُن کے ہاں دو بیٹیاں سلیمہ اور منیزہ ہوئیں۔

فیض صاحب عورتوں میں کوئی ایسے مقبول نہ تھے۔ چھوٹے قد اور گہرے گندمی رنگ کے ساتھ لگتا تھا کہ جیسے اُنہوں نے جسم پر ’’تیل مالش‘‘ کروا رکھی ہو۔ وہ ایک کم گو، نرم گفتار اور نرم خو انسان تھے۔ وہ گفتگو کی وجہ سے نہیں بلکہ اپنی شاعری کی وجہ سے ہر محفل کی جان ہوتے تھے۔ اس تخلیقی صلاحیت کے علاوہ وہ ہر طرح کے مذہبی یا نسلی تعصّبات سے بھی ماورا تھے۔ اُن کے کئی قریبی دوست ہندو یا سکھ تھے۔ وہ حقیقی معنوں میں انسان دوست تھے۔

فیض صاحب کی زندگی کے اپنے تضادات تھے۔ جب کہ اُن کی شاعری میں غریبوں اور دنیا کے محروم لوگوں کی وکالت تھی خود اُن کی زندگی ایک Aristocrate کی تھی۔ اعلیٰ قسم کی شراب اور در آمد شدہ سگریٹوں پر اُن کے ایک دن کے صرفے سے کسی غریب مزدور کے خاندان کا ایک ماہ کا خرچ نکل سکتا تھا۔ تا ہم جب انہیں جیل جانا پڑا تو اُنہوں نے بخوشی یہ ساری عیش و عشرت ترک کر کے جیل کی خشک روٹی اور پانی کا راشن قبول کر لیا۔

ہندوستان کی تقسیم نے فیض صاحب کے دل پر گہرا اثر چھوڑا تھا۔ اگرچہ انہوں نے اپنی جنم بھومی پاکستان میں رہنے کا فیصلہ کیا تھا، تا ہم وہ برصغیر کے عوام کی تقسیم کے حق میں نہ تھے۔ وہ آخری دم تک ایک پاکستانی، ہندوستانی اور بنگلہ دیشی رہے۔ اسی طرح وہ نسلی اور مذہبی تقسیم کے بھی خلاف تھے۔ ایک کمیونسٹ ہونے کے باوجود کئی سرمایہ داروں کے ساتھ اُن کے اچھے تعلقات تھے۔ خدا کے وجود سے انکار کرنے والا یہ شخص خود بہت خدا ترس بھی تھا۔

جونہی پاکستان کی ریاست وجود میں آئی فیض احمد فیض کی مشکلات کی ابتدا ہوئی۔ پاکستان ٹائمز کے ایڈیٹر کی حیثیت سے اپنے فرائض کی انجام دہی کے دوران وہ سجاد ظہیر اور کچھ آرمی افسران کے ساتھ گرفتار ہو گئے۔ اُن پر غداری کا مقدمہ چلا۔ اُس مشہورِ زمانہ راولپنڈی سازش کیس کے چیف پراسیکیوٹر حبیب اللہ دن میں حکومت کا مقدمہ لڑتے اور شام کو فیض صاحب سے جیل میں ملنے آتے اور انہیں خود اُن کی شاعری سناتے۔ فیض صاحب کو سات سال کی قید بامشقت ہوئی۔

حیدر آباد جیل میں یہ سزا گزارنے کے دوران وہ انتہائی علیل ہو گئے جس پر اُنہیں کراچی کے ایک ہسپتال میں علاج کے لیے لے جایا گیا۔ ہسپتال کی لیڈی سپرنٹنڈنٹ اپنی ملازمت، شہرت اور جان دائو پر لگا کر فیض صاحب کو ایک رات اپنے گھر لے گئی، اُن کی ضیافت کی اور اُن سے شاعری سُنی۔ قید و بند کے ان برسوں میں فیض کے اندر کا شاعر خوب نکھرا۔ خود اُن کے بقول جیل جانا ایسا ہی تھا جیسے کسی محبت میں گرفتار ہونا۔

بجھا جو روزنِ زنداں تو دل یہ سمجھا ہے
کہ تیری مانگ ستاروں سے بھر گئی ہو گی
چمک اُٹھے ہیں سلاسل تو ہم نے جانا ہے
کہ اک سحر تیرے رُخ پر بکھر گئی ہو گی

پاکستانی گورنمنٹ کے تبدیل ہونے پر فیض کی جیل سے گلو خلاصی ہوئی۔ ’’نیو اسٹیٹس مین‘‘ اور ’’نیشن‘‘ کے ایڈیٹر کنگزلی مارٹن میرے پاس دہلی آنے سے پہلے پاکستان میں فیض صاحب سے ملے۔ اُن کے بقول پاکستان میں گزارے ہوئے وہ لمحے یادگار تھے جب وہ فیض کے ہمراہ لاہور کی ہیرا منڈی گئے اور وہاں کی لڑکیوں نے اُنہیں فیض کی غزلیں گا کر سنائیں۔ مزید یہ کہ اُن سے کوئی رقم لینے کے بجائے خود اُن گانے والیوں نے فیض صاحب اور اُن کے مہمان کو تحفے تحائف دیئے۔ فیض صاحب طوائف بازی سے بہت دور تھے بلکہ ایک نیک انسان ہونے کی وجہ سے وہ اُنہیں بھی عزت کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔ اُن کے بقول زندگی ایک فقیر کی گدڑی کی طرح ہے جس پر درد کے چیتھڑے سلے ہوتے ہیں۔

فیض صاحب کا جیل جانا اور واپس آنا بھی ایسے ہی ہوتا تھا جیسے اُن کا پاکستان بدر ہونا اور پھر واپس آنا۔ یہ تو میرے دوست منظور قادر نے، جو اُس وقت وزیر خارجہ تھے، صدر ایوب خان کو قائل کیا کہ فیض صاحب جیسے شخص کو عزت و تکریم دے کر کسی بڑے عہدے پر رکھا جا سکتا ہے۔ اس پر فیض کو نیشنل کونسل آف آرٹس کا سربراہ بنا دیا گیا۔ رہائش کے لیے ایک وسیع بنگلہ اور جملہ سہولیات مہیا کی گئیں۔ اب شراب پیار و محبت کے نغموں پر حاوی ہونے لگی۔

جب میں اسلام آباد بلایا گیا تو فیض صاحب مجھ سے ملنے دو دنوں کے لیے اسلام آباد آئے۔ میرے ہوٹل ہی میں آمنے سامنے ایک کمرہ لیا اور مجھے پابند کیا کہ اس تمام عرصے میں ہمارا کھانا پینا اکٹھا ہو گا۔ میں صبح کے وقت اُن کے کمرے میں گیا تو وہ شراب پی رہے تھے۔ میں نے ناشتہ کیا اور اپنے کام کاج سے نکل گیا۔ میں دوپہر کو واپس آیا تو تب بھی اُن کا وظیفہ جاری تھا۔ میں نے لنچ کیا اور سستانے کے لیے اپنے کمرے میں چلا گیا۔ شام کو دوبارہ اُن سے ملنے گیا اور اپنے حساب سے شراب نوشی کے بعد وہیں کھانا کھایا۔ میری واپسی کے بعد تک اُن کی شراب نوشی جاری تھی اور یہ محفل صبح تک چلتی رہی۔

فیض صاحب کو پنجابی بیوروکریسی کے ہاتھوں مشرقی پاکستان میں ہونے والے سلوک پر سخت اعتراض تھا اور اس بات پر بھی دُکھ تھا کہ بھٹو نے مجیب الرحمان کو اقتدار سے دور رکھنے کا پلان بنایا اور جنرل ٹکا خان کی سربراہی میں بے یار و مدد گار بنگالیوں پر فوج کشی کروائی۔

میں ۱۹۷۱ء میں بھٹو سے ملنے گیا جب وہ سربراہِ مملکت تھے اور ٹکا خان کا انٹرویو بھی کیا۔ رات کو میں فیض صاحب کے ہاں کھانے پر گیا۔ اُن کے دیگر مہمانوں میں ایک نوجوان لڑکی بھی تھی جس نے میرے بھٹو اور ٹکا خان سے ملنے پر اعتراض جڑنا شروع کئے۔ میں نے اُسے یہ کہہ کر قائل کرنے کی کوشش کی کہ میں ایک جرنلسٹ ہوں اور یہ میرے پروفیشنل فرائض کا حصہ تھا۔ بات بڑھ گئی اور صورت حال بدمزہ ہونے لگی۔ پھر لڑکی کو احساس ہو گیا کہ فیض صاحب کو اُس کا لب و لہجہ اچھا نہیں لگا۔ وہ فوراً کہنے لگی ’’میں اپنی بدتمیزی کے بدلے میں آپ کو فیض سناتی ہوں‘‘۔ اگلا ایک گھنٹہ اُس نے اپنی مسحور کن آواز میں فیض کی غزلیں پیش کیں۔۔۔ وہ لڑکی نیّرہ نور تھی جس کے ریکارڈ اب ہزاروں کی تعداد میں فروخت ہوتے ہیں۔

تین برس پہلے اردو شاعری کے دنیا بھر کے شائقین نے فیض صاحب کی ۷۰ ویں سالگرہ منائی۔ فیض صاحب ہندوستان آئے اور وہ جہاں بھی گئے اُن کا بے مثال اور والہانہ استقبال ہوا۔ جن لوگوں کو اردو پڑھنا نہیں آتی تھی اُنہیں بھی فیض کی شاعری زبانی یاد تھی اور وہ مل کر کورس کے انداز میں مصرع اُٹھاتے تھے۔ یہ نہ اُن اعزازات مثلاً لینن امن انعام اور لوٹس ایوارڈ کی وجہ سے اور نہ اعزازی ڈاکٹریٹ کی وجہ سے تھا جن سے فیض صاحب نوازے جا چکے تھے بلکہ یہ ان کی انسان دوستی کی وجہ سے تھا اور اُس شاعری کی وجہ سے تھا جس نے اُنہیں برصغیر کے لاکھوں کروڑوں عوام میں مقبولیت دی تھی۔ اُنہیں بجا طور پر بے انتہا محبت ملی۔

مجھے ذرا برابر بھی شک نہیں کہ فیض کو اپنی موت کا پہلے سے احساس ہو گیا تھا ورنہ اُن کی اس آخری نظم کی کیا توجیہہ ہو سکتی ہے۔

اجل کے ہاتھ کوئی آ رہا ہے پروانہ
نہ جانے آج کی فہرست میں رقم کیا ہے

فیض صاحب کے آبائی گائوں کالا قادر، جہاں وہ اپنی زندگی کے آخری ایام گزارنا چاہتے تھے، کا نام اب تبدیل کر کے فیض نگر رکھ دیا گیا ہے۔۔۔ فیض صاحب کے ابدی سفر پر اُن کے لیے اس سے بہتر ’’امام ضامن‘‘ کیا ہو سکتا تھا۔

اس سلسلہ کا دوسرا مضمون خشونت سنگھ کی باتیں‎ ——– سلیم عاصمی  بھی ملاحظہ کریں
(Visited 1 times, 1 visits today)

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20