دھرنا ختم ہوا لیکن ’کب تماشا ختم ہوگا‘ —— اورنگ زیب نیازی

0

شہر اقتدار میں مولانا کا دھرنا 14ویں روز ختم ہو گیا اور اپنے پیچھے دُھول چھوڑ گیا۔ دُھول بیٹھے گی تو معلوم ہو گا کہ اس دھرنے کا حاصل حصول کیا تھا؟ یہ دھرنا بہ ظاہر ناکام ہوا اور حکومت کے حامیان اس ناکامی پر بغلیں بجا رہے ہیں۔

مسلسل تیسری سیاسی حکومت میں یہ تیسرا سیاسی دھرنا تھا۔ پیپلز پارٹی کے دورحکومت میں علامہ طاہر القادری نے دھرنا دیا اور آئین کے آرٹیکل 62,63 کے نفاذ کا مطالبہ کیا۔ ایک معاہدے اور وعدے کے تحت یہ دھرنا ختم ہوا۔ مظاہرین کے گھر پہنچنے سے پہلے حکومت اپنے وعدے سے مکر گئی۔ بالکل اسی طرح جس طرح پیپلز پارٹی نواز شریف کے ساتھ کیے گئے ’’میثاق جمہوریت‘‘ سے یہ کہہ کر مکر گئی تھی کہ معاہدے کوئی قرآن، حدیث نہیں ہوتے۔ یہی نہیں پیپلز پارٹی کے ایک سنجیدہ راہنما نے طاہرالقادری کی مزاحیہ انداز میں نقلیں بھی اتاریں لیکن اس 62,63 نے بعد میں میدان سیاست کے برجزمہروں کو جو دھول چٹائی وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ دوسرا دھرنا ن لیگ کے دور حکومت میں موجودہ وزیر اعظم عمران خان کی تحریک انصاف نے دیا۔ 126 دن کا ریکارڈ قائم کرنے کے بعد، بہ ظاہر ناکامی سمیٹ کر یہ دھرنا بھی اختتام پذیر ہوا لیکن پاکستانی سیاست پر اس کے جو اثرات مرتب ہوئے ان کی گونج آج بھی سنائی دے رہی ہے۔

اور اب مولاناکا دھرنا۔ یہ دھرنا اپنی نوعیت کا منفرد دھرنا اس لیے ثابت ہوا کہ یہ مختلف الخیال پارٹیوں اور لوگوں کا ایک گلدستہ تھا۔ اس میں مدرسے کے طالب علم (بہ قول شخصے طالبان) بھی تھے، خدائی خدمت گار بھی، این جی اوز کے ہیرو اچکزئی صاحب بھی، بائیں بازو کی پیپلز پارٹی بھی، بیانیہ والی ن لیگ بھی، ملیشیا کی وردی میں ملبوس صف اول کے صحافی اور اینکرز بھی اور جمہوریت کے لیے اچھل کود کرتے دانشور بھی۔ لبرل طبقے کا ’’دانشور ونگ‘‘ پہلے چار دن تو خود بھی اس نظریاتی قے کی بد بو کو برداشت نہ کر سکا اور خاموش رہا لیکن آخر کار کچھ جواز تراش لینے میں کامیاب ہو گیا۔ ایک مشہور کالم نگار نے لبرل ازم کی اقسام گنوائیں ا ور بتایا کہ ہم نظریاتی نہیں، سماجی لبرل ہیں۔ ایک مشہور ابن مشہور کالم نگار نے دلیل دی کہ یہ حکومت چونکہ بہتر سال کی بد ترین حکومت ہے۔ معاشی بد حالی، بیروزگاری، مہنگائی، بیرونی قرضے، کرپشن وغیرہ جیسی برائیاں سب اسی کی پیدا کردہ ہیں اس لیے تما م لبرل اور روشن خیال طبقات مولانا کی قیادت میں اس کے خلاف اکٹھے ہوئے ہیں تا کہ ملک و قوم کو اس سے نجات دلائی جا سکے اور ملک میں پہلے کی طرح دودھ اور شہد کی نہریں پھر سے جاری ہو سکیں۔ ایک نا مشہور بلاگر نے یہ دلیل تراشی کہ یہ حکومت نیو لبرل حکومت ہے، اس نے عام آدمی اور اشراف کے درمیان ایک خلیج پیدا کر دی ہے۔ چناں چہ دھرنے کے شرکاء اسلام آباد میں جو ’’گھیسیاں‘‘ اور جھولوں کے مزے لے رہے ہیں وہ دراصل ان کی فرسٹریشن کا اظہار ہے جو موجودہ حکومت کی پیدا کردہ ہے وگرنہ ڈیڑھ سال پہلے تک تو شیر اور بکری مل کر اسلام آباد کے میریٹ ہوٹل میں کھانا کھاتے تھے۔ اگر یہ دھرنا ’’آزادانہ‘‘ تھا تو پاکستان میں لیفٹ کی نظریاتی سیاست کی موت کا اعلان ہو چکا اور اگر ’’آزادانہ‘‘ نہیں تھا اور یار لوگوں کے بہ قول موجودہ حکومت کو دبائو میں لانے یا کمزور کرنے کے لیے ’’کرایا ‘‘گیا تھا تو اس کا مطلب وہی ہوا جو پنجابی کے ایک مشہور محاورے میں بیان ہوا ہے، جس میں کوئی ’’ک‘‘ چوروں کے ساتھ مل جاتی ہے۔ دونوں صورتوں میں واضح نشانیاں ہیں ان عقل والوں کے لیے جو کسی بھی سیاسی جماعت سے کسی ’’اینٹی E بیانیے‘‘ اور مزاحمت کی امید لگائے بیٹھے ہیں۔

دھرنا ختم ہو گیا لیکن تماشا ختم نہیں ہوا۔ دھرنا ختم ہوتے ہی پیپلز پارٹی نے اپنی الگ راہ، یعنی مفاہمت کی راہ لے لی ہے۔ پیپلز پارٹی جو کبھی پاکستان میں سیاسی مزاحمت کی علامت سمجھی جاتی تھی؛ اس کی گزشتہ کم از کم بیس سال کی سیاسی تاریخ کے چند اہم واقعات جیسے مشرف کے ساتھ این۔ آر۔ او، 2008ء کا الیکشن، بے نظیر مرحومہ کے ’’نامزد کردہ‘‘ شخص کی بطور ڈپٹی وزیر اعظم تقرری، جنرل Kکی مدت ملازمت میں توسیع، چیئرمین سینٹ کے انتخاب اور بعد ازاں تحریک عدم اعتماد نہ صرف پارٹی کے سربراہ جناب آصف علی زرداری بلکہ پوری جماعت کو ’’مفاہمت کا بادشاہ‘‘ ثابت کرتے ہیں۔ ن لیگ نواز شریف کی ’’با عزت‘‘ رخصتی کے بعدفی الحال اپنا بیانیہ سمیٹ رہی ہے۔ میاں صاحب بغرض علاج لندن پہنچ چکے ہیں۔ لیکن تماشا ابھی بھی ختم نہیں ہوا۔ تحریک انصاف والوںکی خوشی پر پانی پھر جائے گا جب چار یا چھے یا آٹھ ہفتوں کے بعد ’’قیدی‘‘ واپس آئے گا اور باعزت بری ہونے کے بعد دوبارہ لندن سدھار جائے گا۔

کیا تماشا یہاں ختم ہو جائے گا؟ ہر گز نہیں۔۔ کوئی اور ہدف کوئی اور نشانہ ہو گا۔ مداری ڈگڈگی بجاتا رہے گا۔ بائیس کروڑ تماشائی اپنے اپنے ہر نئے پسندیدہ ایکٹ پر تالیاں پیٹتے رہیں گے اور تماشا جاری رہے گا۔۔۔۔۔ تو نہیں اور سہی، اور نہیں اور سہی۔۔۔۔ تماشا جاری رہے گا جب تک اشرافیائی گٹھ جوڑ کا یہ نظام جاری رہے گا جسے یار لوگ جمہوریت کا نام دیتے ہیں؛جس نے ملکی ادروں کو اس حد تک کھوکھلا کر دیا ہے کہ وہ اس اشرافیائی گٹھ جوڑ کی باندی بن بیٹھے ہیں۔ اگر قطاروں میں لگ کر ووٹ کی پرچی ڈبے میں ڈالنے کا نام جمہوریت ہے تو ان گناہ گار آنکھوں نے اپنے بچپن اور نوجوانی میں ضیاء اور مشرف دور کے الیکشن بھی دیکھے ہیں جب ہزاروں لوگوں نے لائنون میں لگ کر اپنا حق رائے دہی استعمال کیا تھا۔ اگر الیکشن بازی ہی جمہوریت ہے تو پھر ملک میں جمہوریت کے عدم تسلسل کا گلہ کیسا؟ چلو الیکشن بازی ہی سہی، جب تک ہمارے نمائندے ہماری مرضی سے منتخب ہو کر اسمبلیوں میں نہیں پہنچ جاتے یہ تماشا جاری رہے گا۔

ڈاکٹرز کا نمائندہ کوئی ڈاکٹر ہوسکتا ہے ایک پولیس مین نہیں۔ وکیلوں کا نمائندہ وکیل ہوتا ہے کوئی پروفیسر نہیں، مزدوروں کا نمائندہ مزدور ہو گا، کوئی تاجر ان کی نمائندگی نہیں کر سکتا تو کروڑوں مجبور، لاچار، غریب لوگوں کا نمائندہ کوئی ارب پتی تاجر، زمیندار یا سرمایہ دار کیسے ہو سکتا ہے؟ اسمبلیوں میں بیٹھے ہوئے سیکڑوں ’’نمائندگان‘‘ میں سے کتنے ہیں (پانچ سات استثنائی مثالوں کو چھوڑ کر) جو اپنے اپنے حلقے کے عوام کے نمائندے ہیں؟ الیکشن بازی کے اس نظام میں ایک حلقے کا الیکشن جیتنے کے لیے کروڑوں روپے درکار ہوتے ہیں جب کہ ملک کی ساٹھ فی صد آبادی تو خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔ قانون ساز اسمبلی میں ساٹھ فی صد (شاید اس بھی زیادہ) آبادی کی نمائندگی ہی نہیں تو جمہوریت کیسی؟ نہ صرف یہی بلکہ یہ ملک مختلف مذہبی، مسلکی، لسانی اکائیوں میں بٹا ہوا ہے۔ کوئی پڑھا لکھا ایماندار پنجابی بلوچستان کے کسی حلقے سے الیکشن اس لیے نہیں جیت سکتا کیونکہ وہ پنجابی ہے۔ اردو بولنے والی جماعت کراچی سے اکثریت حاصل کرتی رہی ہے لیکن لاہور میں ان کے امیدواروں کی ضمانتیں ضبط ہو جاتی ہیں۔ جس ملک میں یہ صورت حال ہو، وہاں آزاد رائے دہی اور شفاف جمہوریت کا دعویٰ دیوانے کا خواب ہی ہو سکتا ہے۔

آخر میں ایک بار پھر اس سوال کا اعادہ کہ کیا انسانی ذہن اتنا بانجھ اور بنجر ہو چکا ہے کہ ایک کثیر لسانی، کثیر قومی، کثیر مسلکی خطے کے زمینی حقائق کے مطابق جاری نظام میں ایسی ترامیم نہیں کر سکتا یا کوئی ایسا سیاسی نظام تشکیل نہیں دے سکتا جو کروڑوں انسانوں کے دکھوں کا مداوا کر سکے؟

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20