عمران سے آگے کا جہاں ——– شاہد اعوان

0

پرانے سیاستدانوں، جماعتوں اور نظام سے بیزار، تبدیلی کے نعرے اور خواہش کے ساتھ سیاسی شعور کی آنکھ کھولنے والی نسل اب میدان میں موجود ہے۔ آنے والا وقت ان کا ہے۔ اس ہی نے ہمارے مستقبل کی صورت گری کرنی ہے۔ اس نسل میں بڑے شہروں کے اپر مڈل کلاس کے نوجوان، مڈل کلاس کے باشعور اور پروفیشنل لڑکے لڑکیاں، مغربی ممالک سے پلٹ کے آنے والے پاکستانی، سماجی ذرایع ابلاغ سے عالمی منظر اور کار جہاں کی آگہی حاصل کرنے والے چھوٹے شہروں و قصبات کے نوجوان، اور آنے والے دو چار سالوں میں ووٹر بننے والی نسل اور انکی امنگوں کو دیکھتی، انکے مستقبل کے بارے میں سوچتی انکی مائیں خاص طور پہ شامل ہیں۔ یہ سب لوگ ماضی کی سیاسی روایت سے نہ صرف کٹے ہوئے ہیں بلکہ اس سے شدید بیزار بھی۔ پچھلے انتخابات میں بھی بہت سے تجزیہ کاروں، دانشوروں اور سیاستدانوں نے اس نئے طبقہ، سوچ اور اس کی درست کمیت کو نہ جاننے کی وجہ سے ناکامی کا منہہ دیکھا۔

پُرانی سیاست گری خوار ہے  —  زمیں مِیر و سُلطاں سے بیزار ہے

سوال یہ ہے کہ عمران خان کے بعد کا منظر نامہ کیا ہوگا۔ خواہ یہ وقت ایک سال بعد آئے، چار سال بعد یا دس سال بعد، آنا تو ہے۔ یہ نسل عمران کے بعد کسی پرانی سیاسی وراثت کی طرف تو ہرگز نہیں جائے گی۔ ایک خلا ہے جو واضح طور پہ نظر آرہا ہے۔ تحریک انصاف کسی طور بھی سیاسی “جماعت” نہیں ہے اور نہ ہی بنتی نظر آرہی۔ دیکھنا یہ ہے کہ سماج میں پیدا ہونے والی یہ نئی سوچ آئندہ کس طور ظہور کرے گی اور کس انداز میں متشکل ہوگی۔ کیا یہ کسی نئی سیاسی جماعت کو جنم دینے کا باعث بنے گی؟ سول سوسائٹی کے نئے اور موثر مختلف پریشر گروپس کی شکل میں سامنے آئے گی یا کچھ اور۔ سماجی دانشوروں کے لیے یہ ایک دلچسپ سوال ہے۔

دیکھئے اس بحر کی تہہ سے اچھلتا ہے کیا

ن لیگ سیاسی اشرافیہ اور سیاسی مافیا کا ایک گروہ تھا جس نے جیسا تیسا ایک بیانیہ بھی گھڑ لیا تھا اور پچھلی نسل سے آئی سیاسی عصبیت کی بنا پہ وسطی پنجاب کی حد تک ایک درجہ عوامی مقبولیت بھی حاصل کرلی تھی، اس کا چہرہ شریف خاندان تھا۔ ظاہر ہے کہ موروثی سیاست سے بیزار نسل کے لیے اس ٹوٹتی پھوٹتی جماعت میں کوئی کشش نہیں۔ جدوجہد کی بات کرتا اس جماعت کا سربراہ اس کہولت آثار عمر میں سہولت کی منزل حاصل کرچکا۔ تاجر سے عزیمت کی توقع حماقت اور کم علمی ہے۔

آسودہ رہنے کی خواہش مار گئی ورنہ
آگے اور بہت آگے تک جا سکتا تھا میں

پیپلز پارٹی کو زرداری صاحب کے ہاتھوں لگنے والے گھاو اتنے گہرے ہیں کہ نوجوان بلاول کی بھٹو صاحب کی ناکام نقل کرتی تقاریر انکا مداوا نہیں کرسکتیں۔ اس نوجوان کا سیاسی بیانیہ بھی اسکے لہجہ کی طرح اجنبی ٹھہرتا ہے۔ تاہم ن لیگ کے مقابلے پر پیپلز پارٹی کا بھٹو کی صورت میں ملنے والا سیاسی اثاثہ پھر بھی قابل ذکر ہے مگر نئی نسل کے لیے، بدترین کرپشن کے شدید الزامات کا سامنا کرتی اس جماعت کی سیاست میں بھی کوئی دلچسپی نہیں۔

سوال یہ بھی ہے کہ آنے والے وقت میں موجودہ پارلیمانی نظام برقرار رہ سکے گا یا نہیں۔ مجوزہ صدارتی نظام یا کسی اور ملتے جلتے تجربہ کی مزاحمت کرنے کی، موجودہ سیاسی جماعتوں کی صلاحیت تو تازہ ترین سیاسی منظرنامہ نے کھول کے رکھ دی ہے۔ مذہبی و مسلکی جذبات کی بنیاد پہ کچھ سخت جان افراد کے گروہوں کے دھرنے ہوں یا مقبولیت کی دعویدار قیادتوں کی ڈیل، ڈھیل، جیل کے اندر سے ملک سے باہر تک رفت گزشت اور زباں بندی کے معاہدوں کے ہنگام سیاسی بقا کی جدوجہد، تبدیلی سرکار کو درپیش حقیقی چیلنجز کے باوجود دن بہ دن گہرا ہوتا اسکا ناکامی کا تاثر اس سوال کی شدت میں حدت کا اضافہ کررہا ہے۔ کیا معلوم اس تاثر کےپیدا ہونے کے پیچھے کچھ ’شعوری‘ کوشش بھی کارفرما ہو کہ اگلے مرحلہ کو جواز دیا جاسکے۔

عمران سے مکمل تبدیلی یا اصلاح کی توقع شاید زیادہ ہے، عمران کا یہ کارنامہ بھی کم نہیں جو اس نے اس روایتی سیاست کو بدل کے رکھ دیا اور تبدیلی کی بات کو غالب بیانیہ بنادیا۔ کئی دھائیوں سے جاری یکسانیت کی شکار پاکستانی سیاست میں عمران خان کی آمد سے پیدا ہونے والی ہلچل کا منطقی انجام جو بھی ہو جلد ہونا ہے، تبدیلی ناگزیر ہے، نوشتہ دیوار ہے۔

لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے

یہ بھی پڑھیں: اگر عمران خان ناکام ہوا تو کیا ہوگا؟ --------- محمود شفیع بھٹی

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20