خان صاحب ہمارے بچوں کو اب جینے کا حق دے دیں ——– سحرش عثمان

0

ہم اور ہمارے بچے فرات کے کنارے پڑے کتے بھی نہیں ہیں کیا؟

اللہ میاں نے چھوٹا سا بھانجا دیا۔۔ تین دن کی مہلت دی اور واپس لے لیا۔
انا للہ وانا الیہ راجعون۔

کرب اور وحشت کے وہ بہتر گھنٹے کسی پر نہ گزریں۔ یہ دعا تب سے دعاؤں کا حصہ ہے۔
تکلیف درد دکھ کا وہ وقت سوشل میڈیا سے دور گزارا۔۔۔۔کہ کسی ایسے دکھ پر لکھنا ہی نہیں آتا کسی ایسی تکلیف کو بیان کرنے کے لیے جو الفاظ درکار ہوتے ہیں وہ میرے قلم و ذہن پر ابھی اترے ہی نہیں۔

ایک گہری خاموشی تھی جو اندر تک سرایت کر گئی۔
تکلیف کا احساس اتنا شدید تھا جیسے کسی تیز دھار خنجر سے جگر کو مسلسل چیر رہا ہو کوئی۔

بار بار رب کے حبیب ﷺ کے وہ الفاظ یاد آرہے تھے کہ “صبر یہ نہیں کہ انسان تکلیف میں جی بھر واویلا کر لے اور جب تھک جائے تو کہہ دے میں نے صبر کیا۔ بلکہ صبر تو یہ ہے کہ جب تکلیف سر پہ پڑ جائے جیسے دشمن کی تلوار پڑتی ہے تو بندہ کہہ دے اے میرے رب میں راضی ہو گیا۔
مان لیا تیرے فیصلے کو تیری مرضی کو۔
اندازہ نہیں تھا کبھی ایسی تکلیف بھی پڑے گی کہ راضی ہو جانا مشکل تر ہو جائے گا۔

پر وہ چھوٹی سی ماں۔۔۔ جس کی پہلی امید بن کر آیا تھا وہ بچہ۔۔ اس نے لب سی لیے۔۔ اپنے بچے کے کمبل سے لپٹ کر بس آنسو بہاتی رہی۔ جس کی زبان سے بے صبری یا ناشکری کا کوئی حرف نہیں نکلا۔

اس کے پہاڑ جتنے حوصلے کے سامنے ہمت پست ہو گئی تو چپ چاپ واپس اپنی اپنی زندگیوں میں چلے آئے سب۔

ذاتی دکھ پر لکھنا بہت عجیب ہوتا ہے۔ لکھنا آتا بھی نہیں۔ لیکن یہ بچہ ہمارا دکھ نہیں یہ سارے سماج کا کیس تھا آزمائش تھی۔

اس آزمائش میں جو ہم بحثیت سماج فیل ہوئے اس پر جوابدہی کے خوف نے قلم اٹھانے پر مجبور کیا ہے۔

وہ بچہ جس کی ماں سپیشلسٹ ڈاکٹر کے پاس جاتی رہی ہے۔ جس نے کامپلیکیشن پیدا ہوتے وقت نہیں بتایا۔ جب پانی سر سے گزر گیا تو بتایا۔
جس پرائیویٹ ہوسپٹل میں وہ پیدا ہوا وہاں کی گائناکالوجسٹ اور پیڈیاٹریشن نے نہیں بتایا بچے کو کیا مسئلہ ہے۔
بس نرسری میں ایڈمٹ کر لیا۔ اور کئی گھنٹے بس نرسز کے حوالے کیا رکھا۔
بچے کے ایکسرے کروانے اور رپورٹ آنے کے درمیانی وقفے میں پیڈیا ٹریشن کی شفٹ ختم ہو گئی اور اگلے بارہ گھنٹے
س کا انتظار کیا گیا۔
جب پانی سر سے گزر گیا تو بچے کو چلڈرن ہاسپٹل ریفر کر دیا گیا۔

اگر مگر یوں ہوتا ایسے نہ ہوتا کے وہم پالنے اور شرک کا شکار ہوئے بغیر کچھ زمینی اور تلخ حقائق پر بات کرنا چاہتی ہوں۔کہ آئندہ کسی پر قیامت کے وہ بہتر گھنٹے نہ گزریں۔
کوئی تین راتیں آنکھوں میں نہ کاٹے۔
خالائیں گود میں بے جان محبتیں لے کر نہ لوٹیں۔
نانیوں کے سجدوں میں بیٹیوں کے نام کی ہچکیاں کم ہو جائیں۔
ہماری بستی کے لوگ بھی انسانی سطح پر زندگی گزارنے لگیں۔

اللہ نے وسعت دی ہے لہذا پرائیویٹ نرسری کے بل بھی افورڈ ہو گئے اور بعد ازاں چلڈرن ہاسپٹل بھی پہنچ گیا وہ بچہ۔
وہ ہہ چلڈرن ہاسپٹل جہاں بغیر سفارش کے کسی کا علاج نہیں ہوتا۔
جب سے یہ سنا ہے ڈر خوف اور کرب مسلسل دل کو کاٹتا ہے۔

میں کسی عثمان بزدار و یاسمین راشد کو نہیں جانتی خان صاحب میں آپ کو جانتی ہوں۔ میرا سوال بھی آپ ہی سے ہے۔ جو شاید آپ تک نہ پہنچ پائے لیکن مجھے ہے حکم اذاں آپ سنیں یا نہ سنیں۔

خان صاحب مجھے اب پچھلے چالیس سال کی کہانی نہیں سننی۔ معلوم ہے یہاں بہت گند تھا اگر ہمیں یہ معلوم نہ ہوتا تو کیوں منتخب کرتے آپ کو؟ہمیں یہ بھی معلوم ہے یہاں استادوں سے ڈاکٹروں تک اور وکیلوں سے صحافیوں تک ہر شخص ایک مافیا کا حصہ ہے۔ لیکن اب کیا کریں ڈر جائیں ان مافیاز سے؟

خان صاحب ہم لاہور کے ٹوین سٹی میں رہتے ہیں جہاں سے اگر ظہر کے بعد نکلیں تو عصر سے پہلے پہلے لاہور پہنچ جاتا ہے بندا اس شہر میں بھی چلڈرن ہاسپٹل جیسا کوئی ہسپتال نہیں ہے وہ گورنمنٹ نہ پرائیویٹ کوئی اچھی نرسری نہیں ہت جہاں نوزائدہ بچوں کے لیے وینٹی لیٹر موجود ہو۔

ہم لاہور کے بعد موسٹ ڈیولپڈ سٹی میں رہتے ہیں خان صاحب اور ہمارے پاس نرسری نہیں بچوں کے ہسپتال نہیں۔ بچوں کے ڈاکٹرز کی بے حسی پر تو اب کچھ کہنے کا بھی جی نہیں چاہتا۔ جسٹ ایک خیال آتا ہے کیا یہ سارے ڈاکٹرز مسیحا بھی ہیں؟

یہ سارے پیڈیا ٹریشنز اور گائناکالوجسٹس رب کو کیا منہ دکھائیں گے اگر ان سب کا کسی رب پر کوئی ایمان باقی ہے تو۔ کیونکہ سٹیٹ کا خوف رٹ آف سٹیٹ سے قائم ہوتا ہے۔ مافیاز کے سامنے سرنڈر کرنے سے نہیں۔

خیر خان صاحب یہ تو ہمارا شہر ہے جو دس کروڑ کی اس آبادی کا ایک ڈیڑھ کروڑ سموئے ہوئے ہے جس پر آپ کا وسیم اکرم پلس حکمران ہے۔
تو پھر اس وزیر اعلی کے شہر کا کیا حال ہو گا خان صاحب؟
بارتھی کا کیا حال ہو گا تونسہ کا کیا حال ہو گا۔
جس نے اپنا بچہ ڈی جی خان سے لاہور لے کر آنا ہے وہ تو ہسپتال بھی نہیں پہنچ پاتے ہوں گے۔ اس ماں کی امید تو راستے میں ہی دم توڑ جاتی ہو گی خان صاحب۔
سوچیں وہ بچہ جو بٹگرام میں پیدا ہوتا ہے۔
جو دیر میں مالاکنڈ میں پیدا ہوتا ہے جو چمن میں اور تھر میں پیدا ہوتا ہے اس کے لیے کسی ہسپتال میں پہنچ جانا ہی معجزہ ہے۔
اور پھر اس ہسپتال میں اسے علاج میسر آ جانا اس سے بڑا معجزہ۔

خان صاحب مجھے اب پچھلے چالیس سال کی کہانی نہیں سننی۔ معلوم ہے یہاں بہت گند تھا اگر ہمیں یہ معلوم نہ ہوتا تو کیوں منتخب کرتے آپ کو؟

ہمیں یہ بھی معلوم ہے یہاں استادوں سے ڈاکٹروں تک اور وکیلوں سے صحافیوں تک ہر شخص ایک مافیا کا حصہ ہے۔ لیکن اب کیا کریں ڈر جائیں ان مافیاز سے؟
اور اپنے بچوں کے قاتلوں کو مسیحا کہتے رہیں؟
کب تک بارش میں نومولود دفناتے رہیں۔ پتا ہے خان صاحب جب واپسی پر مائیں پوچھتی ہیں وہاں کیچڑ تو نہیں تھا تو کیسا درد اٹھتا ہے۔ کیسی تکلیف ہوتی ہے۔ روح کیسے زخمی ہو جاتی ہے؟
آپ کو اندازہ نہیں ہو گا۔۔ کیسے ہو گا آپ پر بیتی جو نہیں ہے۔

بس یوں سمجھ لیجئے جب کسی کی شوکت خانم مر جاتی ہے تو اس سے کم تکلیف ہوتی ہے۔
کیونکہ شوکت خانم چل بسے تو عمران خان کے پاس کرنے کو بہت سا کام ہوتا ہے گزارنے کو اک عمر پڑی ہوتی ہے۔ لیکن اگر خان کو کچھ ہو جائے تو شوکت خانم کے پاس کرنے کو کچھ نہیں بچتا۔ ماوں کہ زندگیاں ساکن ہو جاتی ہیں اسی ایک لمحے میں ٹھہر جاتی ہیں۔ ان کے دل چھوٹی قبروں کے کتبے بن جاتے ہیں۔ جو ساری زندگی رستے رہتے ہیں۔

خان صاحب مائیں چلی جائیں تو اولادیں زندگیوں میں مصروف ہو جاتیں ہیں۔
اور آخر بچوں کو کچھ ہو جائے تو ماؤں کی زندگی خالی ہو جاتی ہے۔ ان کے پاس ایک ناسور پالتی روح کے سوا کچھ نہیں بچتا وہ ساری زندگی اس ایک قبر کی مجاور بن جاتی ہیں جو دل میں بنا بیٹھتی ہیں۔
آپ ہی بتائیے اتنے مجاور ہم کیا کریں گے؟

خان صاحب جس غریب کے ہاں اگلے وقت کا کھانا نہیں ہے۔ وہ نرسری اور وینٹی لیٹرز کے کرائے کہاں سے بھرے گا؟
وہ تو پھر بچے کی زندگی پر اس کی آسانی کی دعا ہی کرئے گا نا؟

جس ماں سے اس کا لخت جگر سماج اور نظام چھین لے جائے۔ وہ سماج کی بہتری کا بھاڑ جھونکے کی اس کے بعد؟
اس کو تو حشر سے بھی نہیں ڈرایا جا سکے گا۔ وہ جب پوچھے گی اس سے زیادہ حشر کیا برپا ہو گا تو کیا جواب بن پڑے گا ہم سے؟

خان صاحب اگر ہمارے بچوں کو بھی بچانے کا اہتمام نہیں کر سکتے آپ تو بتائیے کیا امید وابستہ کریں آپ سے؟
صحت تعلیم اور انصاف اگر یہ تینوں اب بھی ہمیں میسر نہیں آنے تو ہم بیانئیے اور سول سپر میسی کے نام پر دھوکے میں اور سستی میں سے کس چیز کو ترجیح دیں؟

بتائیے خان صاحب ہمارے شہر میں آپ کا وزیر اعلی اور اس کی وزیر صحت کب بچوں کے لیے سہولیات سے مزین ہسپتال بنانے کا ارادہ کریں گی؟

بتائیے خان صاحب سی ایم کے شہر تونسہ سے کسی بچے کو چلڈرن ہسپتال لانا پڑ گیا تو کیسے لایا جائے گا؟
ایمبولینس کون دے گا؟
اور چلڈرن ہاسپٹال میں اسے علاج ملے گا اس کی گارنٹی کون دے گا؟
خان صاحب فرات کے کنارے کا تو پتا نہیں۔ لیکن اگر ہسپتال نہ پہنچ پانے سے دوا نہ مل پانے سے کسی ماں گود سونی ہو گئی تو کون جواب دے گا؟

ایسی ماؤں کی آنکھوں کی وحشتوں کا حساب کون دے گا؟
حشر میں جب یہ آپ کا گریبان پکڑ لویں گی تو کون بچائے گا آپ کو؟
کیا یاسمین راشد یا عثمان بزدار پر ذمہ داری ڈال سکیں گے آپ اس وقت؟
یا رب کو بتا سکیں گے ڈاکٹرز بہت بڑا مافیا بن چکے تھے۔ ان پر ہاتھ نہیں ڈالا جا سکا؟

وہ رب بڑا ہے خان صاحب۔۔ بے نیاز بھی۔ اسے تین دن تین دن کے ننھے وجود پاس بلانے سے کوئی نہیں روک سکتا تو کئی دلوں کی دھڑکن کو جنت کے سوا کوئی اور راستہ دکھاتے کون روکے گا؟

آپ صرف عمران خان ہوتے تو شاید شوکت خانم و بشری بی بی کی دعائیں آپ کو بچا لے جاتیں۔
اب آپ حکمران ہیں میرے جیسے جذباتی تو شاید اس روز بھول جائیں پر مائیں کہاں بھول پاتی ہیں خان صاحب۔
وہ تو حشر میں بھی اولاد کے پیچھے پیچھے دوزخ جانے کو تیار ہوں گی۔

تو اس جوابدہی سے پہلے پہلے والی مہلت میں ہمارے بچوں کو جینے کا حق دے دیں۔

شاید یہ تحریر مکمل نہ ہو پائے۔ کہ زخم ابھی رس رہا ہے۔ جب جی تھوڑا ٹہر جائے گا تو شاید اس سے قدرے بہتر ترجمانی ممکن ہو تب تک صرف اتنی گزارش سن لیں خان صاحب۔۔ اس سوال پر غور کرلیں کہ۔

ہم اور ہمارے بچے فرات کے کنارے پڑے کتے بھی نہیں ہیں کیا؟

(Visited 1 times, 1 visits today)

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20