سعدیہ دہلوی‎ ——– خشونت سنگھ

0

۱۹۸۷ کی بات ہے، آمینہ آہوجہ کی خطاطی کی نمائش تھی، جب پہلی بار میری ملاقات سعدیہ سے ہوئی۔

امینہ نے میرا ہاتھ پکڑا اور موڑھے پر بیٹھی ہوئی ایک لڑکی کے پاس لے گئی۔۔۔ آئو میں تمہیں سعدیہ دہلوی سے ملوائوں۔۔۔ کمرہ کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔ متعارف کی جانے والی لڑکی نے میرے لیے کھڑے ہونے کا تکلّف بھی نہ کیا۔ اُس نے محض اپنی بڑی بڑی گہری آنکھوں سے مجھے دیکھا۔ اُس کے کالے سیاہ بال بیضوی چہرے پر بکھرے پڑے تھے۔

’’تم اتنی خوبصورت کیوں ہو؟‘‘ میں کہے بغیر نہ رہ سکا۔ وہ خوشی سے چہک اُٹھی اور ہاتھ بڑھا کر بولی ’’اگر آپ ایسا سمجھتے ہیں تو پھر میں یقیناً خوبصورت ہوں گی‘‘۔۔۔ یا شاید کچھ اسی طرح کے الفاظ تھے جو اُس نے کہے۔۔۔ میں اُس کا نام اچھی طرح سُن نہ سکا تھا، اس لیے دوبارہ پوچھا۔ اُس نے کہا ’’سعدیہ دہلوی‘‘۔۔۔ آپ نے شمع گروپ کے دہلوی خاندان کا نام سنا ہو گا۔ میں یونس دہلوی کی بیٹی ہوں۔ ایک اردو رسالے ’’بانو‘‘ کی ایڈیٹر بھی‘‘۔

میں کوئی گھنٹہ بھر اُس سے باتیں کرتا رہا۔ پھر اُس کو اپنے گھر آنے کی دعوت دی۔ اُس دن سے لے کر اپنی شادی کے دن تک سعدیہ میری قریب ترین دوست رہی۔ پھر پیا (رضا پرویز) کے گھر پاکستان سدھار گئی۔

ہماری عمروں میں ۴۵ سال کے فرق کی ذرّہ برابر حیثیت نہ تھی۔ نہ ہی اس بات کی کہ اُس کا تعلق شمالی ہندوستان کے ایک مشہور و معروف قدامت پسند مسلمان گھرانے سے تھا، اور میں ایک عمر رسیدہ سکھ جو دہلی کے تیسرے درجے کے پریس میں خبیث بوڑھے شخص کی حیثیت سے بدنام تھا۔ باوجود اس بات کے کہ ہم دونوں اکثر اکٹھے دیکھے جاتے تھے، میں نے کوشش یہی کی کہ بات باہر نہ نکلے۔ لیکن سعدیہ نے ایسا کوئی تکلف نہ کیا۔

سعدیہ جذباتی طور پر انتہائی سیماب صفت ہے اور منہ پھٹ بھی۔ وہ اپنی زندگی میں آنے والے مردوں کے بارے میں مجھے بے محابہ بتانے لگتی۔ وہ ایک ناکام شادی سے گزر چکی تھی جو کلکتہ کے ایک بڑے اردو اخبار کے مالک لڑے سے ہوئی تھی۔ اُس کا شوہر ممتاز کا مارا تھا اور اکثر تشدد پر اُتر آتا تھا۔ سعدیہ نے طلاق لی اور اپنے میکے چلی آئی۔

وہ ایک بے چین روح، اکثر اُس کے پسندیدہ کام اور لوگ تبدیل ہوتے رہتے تھے۔ ایک دن وہ بوتیک کھولتی۔ مہینوں میں کروڑوں کمانے کا سوچتی۔ چند دنوں میں اُسے بند کر کے فرنیچر کا کاروبار شروع کر دیتی۔ پھر کسی ریسٹورنٹ کا فرنچائز خرید لیتی۔ اور پھر کچھ دن بعد زیادہ پیسوں کے چکر میں قالین کے ایکسپورٹ میں پڑ جاتی۔

کچھ عرصہ اُس نے سیاست بھی کی۔ اُس نے میرٹھ جانے والے ایک جلوس کی قیادت کی جہاں پر فرقہ وارانہ فسادات پھوٹ پڑے تھے۔ اُس نے مسلمان اکثریت کے علاقے جامعہ نگر اور ذاکر باغ کو اپنا حلقہ گردان کر کچھ کام بھی کیا۔

کئی دفعہ بیرون ملک گئی۔ ایک دفعہ انگلینڈ میں قلّاش ہو جانے پر اُسے ایک بار میں ساقی گری کرنا پڑی۔ واپسی پر اپنے ’’گناہوں‘‘ کی تلافی کے لیے مکہ اور مدینہ میں عمرہ کے لیے رُک گئی۔

لکھنے لکھانے سے اُسے قدرتی شغف تھا، جس کی بنیاد پر ’’انڈیا ٹوڈے‘‘ اور ’’دی ٹائم آف انڈیا‘‘ نے اُسے اپنے ہاں مستقل کالم لکھنے کی دعوت دی۔ اس سے بڑی بات اور کیا ہو سکتی تھی، لیکن سعدیہ نے صرف چند ہفتوں تک جوش و خروش دکھایا اور پھر بور ہو گئی۔

کچھ دن گھڑ سواری سیکھی اور پھر اگلے چند روز ہوا بازی۔ ایک مولوی صاحب کی خدمات حاصل کیں تا کہ عربی فارسی سیکھ سکے۔ لیکن پھر اسکالر بننے کے شوق پر روزی روٹی غالب آ گئی۔

اُسے جانوروں سے بڑی محبت تھی۔ اُس نے ایک خوبصورت کتا پالا۔ کچھ دن بعد اُسے اپنی اُس وقت کی بہترین دوست کامنا پرشاد کے ہاں یہ کہہ کر چھوڑ آئی کہ شام کو لے جائوں گی۔ کئی دن بعد کامنا کو خود سعدیہ کے گھر جا کر یہ کام کرنا پڑا۔

پارہ صفت سعدیہ انتہائی درجے کی خود پسند بھی ہے۔ ایک دفعہ راجیو گاندھی کے بیرون ملک دورے میں وہ پریس پارٹی کے ساتھ گئی۔ اپنی دلکشی کے باعث وزیر اعظم کے ساتھ ساتھ اُسے بھی ٹی وی اور ریڈیو پر پذیرائی ملی۔ ایک مرحلے پر تو اُس نے سیاست میں آنے کا سوچا اور کانگریس پارٹی میں شامل ہو کر دونوں سبھائوں میں سے کسی ایک کی رکنیت حاصل کرنے کا پلان بنایا۔ لیکن جلد ہی حسبِ عادت اس بات سے بور ہو گئی۔

صرف ایک بات ہے جس میں سعدیہ ثابت قدم رہی اور وہ تھی شادی کی خوہش۔۔۔ بلکہ اس سے بھی زیادہ ماں بننے کی خواہش۔ اس کا ہونے والا شوہر مسلمان ہونا چاہیے تھا، تا کہ اس کے بچے کا باپ مسلمان ہو۔ جب عصمت چغتائی نے اسے بغیر باپ کے بیٹا پیدا کرنے کا مشورہ دیا تھا تو اُسے بڑی کراہت ہوئی تھی۔

اس کے لیے کئی عمدہ مردوں نے شادی کی پیش کش کی۔ وہ اپنی تمام تر طرح داریوں کے ساتھ اُنہیں ملی لیکن شادی کے لیے راضی نہ ہوئی۔ آخر یہ قرعۂ فال رضا پرویز کے نام نکلا۔ رضا پرویز نے۔۔۔ جو اُس سے عمر میں بیس برس بڑا، پہلے سے دو بچوں کا باپ اور شیعہ مسلک کا پیروکار تھا (جبکہ سعدیہ سنی العقیدہ ہے)۔۔۔ آخر سعدیہ کو راضی کر لیا۔ اُس کی ماں نے اُس شادی سے باز رکھنے کی ہر ممکن کوشش کی۔ نکاح نامہ پر دستخط ہوتے وقت بھی اُس کی ماں چاہتی تھی کہ وہ انکار کر دے لیکن وہ ٹس سے مس نہ ہوئی۔ میں اُس نکاح کا باقاعدہ گواہ تھا۔ میرا خیال تھا کہ اب سعدیہ پاکستانی شہریت حاصل کر لے گی اور میری زندگی سے ہمیشہ کے لیے نکل جائے گی۔۔۔ اُس نے یہ بات بھی غلط کر دکھائی۔

چند ماہ بعد سعدیہ اور رضا اسلام آباد میں بس گئے اور یہ شادی بظاہر خانہ آبادی ہی لگ رہی تھی۔ وہ لوگ مجھے ملنے کے لیے لاہور آئے جہاں میں پاک و ہند تعلقات پر ’’منظور قادر میموریل لیکچر‘‘ دینے آیا تھا۔ سعدیہ لیکچر سننے کے لیے ایک شاندار ساڑھی پہن کر آئی، جب کہ پاکستانی خواتین عموماً شلوار قمیض پہنتی ہیں۔ اُس نے ماتھے پر ایک سُرخ رنگ کی ’’بِندی‘‘ لگا رکھی تھی۔ پاکستان میں یہ بات تو گویا کفر کی علامت ہے اور ہندوئوں کا امتیازی نشان۔

ایک ایسے ملک میں جو ہندوستان کو دشمنِ اوّل گردانتا ہو، سعدیہ بڑی پرجوش ’’ہندوستانی‘‘ کی حیثیت سے متعارف ہونے لگی۔ کچھ دنوں بعد اُس پر بھارتی جاسوس ہونے کا الزام لگا اور وہ پاکستانی معاشرے میں ایک ناپسندیدہ شخصیت گردانی گئی۔ رضا کو ملازمت سے ہاتھ دھونے پڑے۔

سعدیہ پریشان اور وہمی ہو گئی۔ ایک گرہ لکشمی ثابت ہونے کی بجائے وہ اپنے خاوند کے لیے نحوست لائی تھی۔ ایک اچھے کیریئر کی تلاش میں وہ واپس دہلی آ گئی۔ ڈاکٹروں کے چکر بھی لگانے لگی، یہ جاننے کے لیے کہ وہ ماں کیوں نہیں بن سکی۔ راز کی یہ بات سعدیہ نے مجھے خود بتائی تھی کہ رضا ایک شاندار مرد تھا۔

پھر وہ دونوں پاکستان چلے گئے۔ رضا کو اپنا کراچی کا گھر بیچنا پڑا تا کہ گھر کا چولہا جلتا رہے۔ پھر آہستہ آہستہ قسمت اُن پر مہربان ہونے لگی۔ رضا کو ملازمت مل گئی اور سعدیہ اُمید سے ہو گئی۔ اُن کے ہاں ایک بیٹا پیدا ہوا جس کا نام ’’ارمان‘‘ رکھا گیا۔

چھ ماہ بعد وہ اُس بچے کو اپنے اصل نانا (یعنی مجھ) سے ملانے لائی۔ وہ مجھ سے شکایت کرنے لگی کہ اب تک میں نے کوئی کتاب اُس کے نام منسوب کیوں نہ کی تھی۔ میں نے وہ شکایت دور کر دی۔ اپنی ایک کتاب پر اس طرح کا انتساب لکھا:

’’سعدیہ دہلوی کے نام۔۔۔ جس نے مجھے اس قدر محبت اور بد نامی دی

جس کا میں سزاوار نہ تھا‘‘۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: