فیض کا تصور انقلاب : بس نام رہے گا اللہ کا ——– محمد حمید شاہد

0

وقت بدل گیا ہے۔ ترقی پسندی کے نام پر ایک ہنگامہ سا بپا رکھنے والے بھی بددل ہو کر کہیں اور نکل گئے ہیں۔ شاید وہ نکل کر کہیں گئے نہیں یہیں اہلے گہلے پھرتے ہیں بس مکوٹھے بدل لیے ہیں۔ یہ نئے مکوٹھے اپنی اپنی ضرورتوں کی حد تک روشن خیالی اور اعتدال پسندی کے ہیں۔ ایسے میں ترقی پسند فکر کے بارے میں سنجیدہ سوالات اُٹھانے اور اُن پر مکالمہ کرنے سے کہیں زیادہ جی کو لبھانے والا عمل یہ لگتا ہے کہ ایک جشن کا اہتمام ہو اور سارے سوالات اس فضا میں یوں اچھال دیے جائیں؛ یوںکہ وہ پھلجھڑی کی طرح تلملا کر خود بہ خود اپنے انجام کو پہنچ جائیں۔ تاہم وہ جو فیض کے فکر وفن سے ایک تعلق ِخاص رکھتے ہیں وہ اس بدلے ہوئے وقت میں بھی، انتہائی سنجیدگی سے اس محبوب شاعر کو پڑھ سمجھ کر نئی معنویت کشید کرنے میں جتے ہوئے ہیں۔ نئے عصری تناظر میں فیض کی شاعری کا مطالعہ کئی حوالوں سے اہم ہو جاتا ہے۔ عین ایسے زمانے میں کہ جب استعمار آپ کے سامنے دوست نما دشمن ہو کر آتا ہے، آپ کا بدن چیرتا ہے اور آپ کو تڑپنے، چیخنے اور کچھ کہنے بھی نہیں دیتا تو فیض کو پڑھنے سے آپ کے اندر کا سارا سماں بدل جاتا ہے:

دیکھ کہ آہن گر کی دکاں میں
تند ہیں شعلے سرخ ہیں آہن
کُھلنے لگے قفلوں کے دہانے
پھیلا ہر اک ز نجیر کا دامن
بول، یہ تھوڑا وقت بہت ہے
جسم و زباں کی موت سے پہلے
بول، کہ سچ زندہ ہے اب تک
بول، جو کچھ کہنا ہے کہہ لے

وہ سچ جو ہمارے بدنوں کے بیچ کہیں مرکر ہمیں مردہ سا کر گیا تھا فیض کی شاعری سے زندہ ہو جاتا ہے۔ فیض بہ اصرار لب کھولنے اور بولنے کا کہہ رہے ہیں تو یوں ہے کہ یہ عمل ایمان کے سے التزام کے ساتھ ہی بامعنی ہو سکتا ہے۔ ’اقرار باللسان و تصدیق بالقلب‘ اس کا بھی یہی تقاضا ہے۔ عین ایسے زمانے میں کہ جب کسی نظامِ فکر کی بات کرنا یا کسی نظام حیات سے وابستہ ہونا لا یعنی اور فرسودہ لگنے لگا ہو فیض کو پڑھنا اور اس انسان کی بابت سوچنا جو مادے اور منڈی کی تشکیل دی گئی کائنات کے حاشیے پر دھکیل دیا گیا ہے میرے لیے یوں اہم ہے کہ اس میں فرد اجتماع سے جڑ کر بامعنی ہو جاتا ہے۔ جی، وہ فرد جو سہولتوں کا عادی اور اشیا کا رسیا بنا کر بہت اکیلا کر دیا گیا ہے۔ ایک اچھا صارف مگر اکیلا۔ فیض کی شاعری اس اکیلے آدمی کو سماجی سطح پر جوڑتی ہے اور سماج کو انسانیت پر حملہ آور ہونے والے سامراج کے خلاف بغاوت پر اکساتی ہے۔

یہ شاعری بتاتی ہے کہ سامراجیت کی ہر سیاہ شاخ کی کماں سے جتنے بھی تیر چلائے گئے وہ سب انسانیت کے جگر میں پیوست ہو کر ٹوٹے ہیں۔ تاہم زندہ معاشروں کا یہ چلن رہا ہے کہ انہوں نے ان تیروں کو اپنے جگر سے نوچ کر تیشہ بنا لیا ہے۔

فیض احمد فیض کے فکر و فن کے باب میں یہ باتیں میں وقت کے عین اس دورانیے میں سوچ رہا تھا کہ جب اُدھر لاہور میں فیض فیسٹول کا ہنگامہ بپا تھا اور ادھر میں الگ تھلگ بیٹھا پروفیسر فتح محمد ملک کی عطا کی ہوئی ان کی تازہ کتاب ’’فیض کا تصور انقلاب‘‘ پڑھنے میں جتا ہوا تھا۔ پہلے تو مجھے اس کتاب کے عنوان نے چونکایا کہ ’’انقلاب‘‘ کا لفظ سنے ایک زمانہ ہو چلا ہے۔ اچھا! تو کیا ’’تبدیلی‘‘ کے نام پر ’’انارکی‘‘ اور ’’قبضے‘‘ کو شعار کرنے والے اس ظالم زمانے میں اِنقلاب کا یہ لفظ ابھی زندہ ہے۔ کتاب پڑھ چکا تو جانا کہ نہ صرف یہ لفظ زندہ ہے اِسے فیض کے نام کے ساتھ برتا بھی جا سکتا ہے۔ جی ایسے زمانے میں کہ جب میلوں ٹھیلوں میں مدھر تانوں پر فیض کی شاعری پر رقص تو کیا جا سکتا ہے اُس معنویت کو پانے کی کسی کو فرصت ہے نہ تاہنگ جو اس شاعری میں مقصد حیات ہو کر سامنے آتی تھی۔ ملک صاحب، اُس مقصد حیات کو بھلا کر اپنا تنقیدی متن کیسے تشکیل دے سکتے تھے جو ان کی شناخت بنا۔ اپنی ادبی زندگی کے اول روز ہی سے وہ یوں لگتا ہے کہ ایک خاص نصب العین سے جڑے ہوئے ہیں۔ جہاں وہ خود ہیں، وہیں انہوں نے اپنا تنقیدی ہالہ وضع کیا ہے۔ ملک صاحب کی ہمیشہ یہ کوشش رہی ہے کہ وہ اپنے ممدوح کو بھی اسی ہالے میں کھینچ لائیں۔ لگ بھگ نصف صدی پہلے ملک صاحب نے ’’ہماری قومی زندگی اور ادیب‘‘ جیسا مضمون لکھ کر جس موضوع کو اپنایا اور ایک ہنگامہ گرم کیا تھا، بعد کے برسوں میں قومی زندگی کے ساتھ جڑے ہوئے موضوعات پر لکھنا اور ہنگامہ سا اٹھا لینا ان کے نام سے جڑ گیا ہے۔ کچھ زیادہ عرصہ نہیں گزرا انہوں نے منٹو کی نئی تعبیر سے ہنگامہ بپا کیا تھا۔ ترقی پسندی کے حوالے سے کتاب آئی تو پھر ایسا ہی ہوا۔ فیض پر اپنے پہلے مضمون میں اُن کی شاعری سے دو آوازوں کی برآمدگی سے لے کر فیض پر مکمل کتاب لاتے ہوئے ایک تیسری آواز کے ساتھ ’’ذات باری تعالیٰ کے عارفانہ تصور‘‘ کی نشاندہی تک ایسے مقامات ہیں کہ جن پر ہر بار ہنگامہ گرم ہوتا رہا ہے۔ ’’فیض شاعری اور سیاست‘‘ بھی انہی دلچسپیوں کا شاخسانہ ہے۔ مجھے یقین ہے ملک صاحب کی تازہ کتاب ’’فیض کا تصور انقلاب‘‘ پر بھی ایسا ہی ہنگامہ اُٹھے گا کہ انہوں نے اس بار اس تیسری آواز سے فیض کے تصور انقلاب کو برآمد کر کے دکھا دیا ہے۔ جی، ایک ایسا انقلاب، جو مستحکم فکریات کے حامل ترقی پسند شاعروں میں سب سے زیادہ تسلیم کیے جانے والے شاعر فیض کے ہاں اشتراکی نہ رہا تھا، قرآنی تصور انقلاب ہو گیا تھا۔ صاحب! آپ کو جھٹکا لگا ہو گا۔ ممکن ہے آپ نے ’’نہیں، نہیں‘‘ کی گردان میں سر کو دائیں بائیں کئی بار حرکت دی ہو مگر یوں ہے فیض کی یہ تعبیر ملک صاحب نے اس ترقی پسند شاعر کی شاعری سے یوں اخذ کی ہے جیسے منٹو کے ٹوبہ ٹیک سنگھ سے اپنی مختلف تعبیر برآمد کر لی تھی۔

ملک صاحب کی اس کتاب کا پہلا مضمون ’’فیض، فاشزم اور مہاتما گاندھی‘‘ کے عنوان سے ہے۔ اس مضمون کا آغاز مارچ 2001ء میں مجلہ ’’معاصر‘‘ میں چھپنے والی احمد ندیم قاسمی کی اس تحریر کے حوالے سے ہوتا ہے جس میں انہوں نے فیض کو مورد الزام ٹھہراتے ہوئے لکھا تھا کہ سامراج دشمن ہوتے ہوئے بھی انہوں نے سامراجی فوج میں شامل ہونا گوارا کر لیا تھا۔ اس الزام کا جواب دیتے دیتے ملک صاحب نے فیض کی نہ صرف انقلاب پسندی کو نشان زد کیا ہے، پاکستان کے قیام کی جدوجہد کو ان کے ایمان کا جزو بھی بنایا ہے۔ ملک صاحب نے یہاں فیض ہی کے ایک بیان کا حوالہ دیا، جس میں برطانوی ہند میں فوج کا اعلیٰ عہدہ چھورنے کی وجوہ بیان کی گئی تھیں۔ یہ ان دنوں کی بات تھی کہ جب برطانوی حکومت نے ہندوستان کے آئینی مستقبل کے منصوبے بنانے شروع کر دیے تھے جبکہ دوسری طرف پاکستان اور مسلم لیگ کی تحریک عروج پر تھی۔ فیض فوجی تعلقات عامہ کی نگرانی پر متعین تھے اور انہیں ایک خفیہ کانفرنس میں ایسی باتیں سننے کا موقع ملا تھا کہ انہوں نے نظریاتی بنیادوں پر فوج سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ کتاب میں بتایا گیا ہے کہ جس بات پر احمد ندیم قاسمی اور دوسرے الجھتے تھے، اس میں الجھن کی کوئی بات نہ تھی، جس طرح فیض کا برطانوی فوج سے استعفیٰ نظریاتی بنیادوں پر تھا اس میں شمولیت بھی نظریاتی تھی۔ فیض ہی کے لفظوں میں:

’’بھئی اس میں کوئی الجھن کی بات نہیں ہے۔ ہم نے فوج اس لیے جائن کی تھی کہ فاشزم کے خلاف سرگرم عمل ہوں۔ ‘‘

یہاں فیض جاپانی فاشزم کی بات کر رہے ہیں۔ جی، وہی جس کی حمایت پر گاندھی تیار بیٹھے تھے مگر فیض ’’سیاسی لیڈر کے نام‘‘ کا عنوان پانے والی نظم میں اسے ’’آقائوں کی تبدیلی کا سیاسی مسلک ‘‘ گردانتے ہوئے رد کر رہے تھے۔

تجھ کو منظور نہیں غلبہء ظلمت، لیکن
تجھ کو منظور ہے یہ ہاتھ قلم ہو جائیں
اور مشرق کی کمیں گہ میں دھڑکتا ہوا دن
رات کی آہنی میت کے تلے دب جائے

ملک صاحب نے اس پر افسوس کا اظہار کیا ہے کہ ترقی پسندوں اور روشن خیال دانش وروں نے فیض کی اس نظم کو اس کے تاریخی تناظر میں دیکھنے کی کبھی کوشش نہیں کی۔

’’فیض اور ہمارا قومی محاذِ آزادی‘‘ کا عنوان قائم کرنے کے بعد ایک دوسرے مضمون کی ابتدا ہی میں وہ ایک بار پھر بہ اصرار کہتے نظر آتے ہیں کہ برطانوی ہند کی فوج سے صحافت کی جانب فیض کی پیش قدمی کا محرک وسیلہ روزگار کی تلاش نہیں بلکہ تحریک پاکستان کے تہذیبی اور سیاسی محاذ پر داد شجاعت دینے کی امنگ تھی۔ یہیں ملک صاحب کا یہ کہنا بھی ہے کہ 1940ء کی قراداد پاکستان کی منظوری کے محض دو سال بعد یعنی 1942ء میں انڈین کیمونسٹ پارٹی نے قوموں کے حق خود ارادیت کی بنیاد پر قیام پاکستان کی حمایت کر دی تھی اور برطانوی ہند کی کیمونسٹ پارٹی اور مسلم لیگ میں بڑی حد تک فکر و عمل کا اتحاد ہو گیا تھا۔ ملک صاحب نے سید سجاد ظہیر کے ۲ ستمبر ۱۹۴۵ء کے ’’نیا زمانہ‘‘ میں چھپنے والی ایک تحریر کا حوالہ دیا جس میں مسلمانوں کے دلوں میں مسلم لیگ کے لیے بے انتہا عزت اور محبت اور پاکستان کے لیے بلا کے جوش کا ذکر ہوا تھا۔

پاکستان بننے کے بعد کے فیض بھی قومی زندگی اور اُن موضوعات سے جڑے ہوئے نظر آتے ہیں جو خود ملک صاحب کی تنقید کے مرکز میں جگہ پاتے رہے ہیں۔ کہیں فیض کی شاعری کے سیاسی حوالے زیر بحث آتے ہیں اور کہیں قومی۔ کہیں وہ تہذیبی حیات نو کے لیے سرگرم ہیں تو کہیں ثقافتی تشکیل نو میں۔ ایک باب تحریک آزادی کشمیر کے حوالے سے ہے جس میں راولپنڈی سازش کیس میں فیض کی اسیری کا ذکر آیا ہے اور جلا وطنی کا بھی۔ ایک باب ’’انقلاب چین سے انقلاب ایران تک‘‘ کے عنوان سے ہے اور اسی میں ہم پڑھتے ہیں کہ وہ وقت آگیا تھا جب فیض صاحب کی رجائیت دھندلانے لگی تھی اور نوبت یہاں تک پہنچ گئی تھی کہ پہلے اُن کے ہاں اُجالا داغ داغ ہوا اور پھر تاریکی میں بدل کر رہ گیا تھا۔ بہ قول ملک صاحب:

’’فیض صاحب کو اشتراکی دنیا میں بنیاد پرستی اور ترمیم پسندی کے مباحث میں، مسلمانوں میں شیعہ سنّی کی سی فرقہ آرائی نظر آنے لگی۔ مجھے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے لینن انعام سے سرفراز ہونے کی بدولت سویت یونین میں بار بار آنے جانے اور وہاں کی سیاسی اور معاشرتی زندگی کے مشاہدات اور تجربات نے اُن کی امیدوں پر پانی پھیر دیا تھا۔‘‘

ملک صاحب نے لدمیلا وسیلیوا کی کتاب ’’پروش لوح و قلم: فیض، حیات اور تخلیقات‘‘ کے حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ فیض سے جب لینن کی صد سالہ سالگرہ کے موقع پر تیار کی جانے والی ایک کتاب کے لیے نظم لکھنے کی فرمائش کی گئی تو وہ نہ لکھ پائے تھے اور لینن انعام یافتہ شاعر کی ایک پرانی نظم شامل کر کے کام چلا لیا گیا تھا۔

فیض صاحب کو اشتراکی دنیا سے بیزار دکھانے کے فوراً بعد ملک صاحب نے اس نظم کا ذکر کیا ہے جس کا عنوان قرآن مجید سے مستعار ہے۔ جی میری مراد ’’ویبقٰی وَجہ ربّکَ‘‘ سے ہے اور اسی باب میں ملک صاحب کا کہنا ہے:

’’اشتراکی انسان دوستی کی منزل سے اسلامی انسان دوستی کی منزل تک کا یہ سفر ہنوز فیض شناسوں کی توجہ کا منتظر ہے۔ ہمارے مارکسی اور سیکولر دانشوروں نے تو اس نظم کا عنوان ہی بدل کر رکھ دیا ہے۔ وہ اس عہد آفریں نظم کو ہمیشہ اس کے اصلی عنوان ’’ویبقٰی وَجہ ربّکَ‘‘ کی بجائے ’’ہم دیکھیں گے‘‘ کے عنوان سے پیش کرتے ہیں۔ خود فیض صاحب نے ایران کے اسلامی انقلاب کو چشمہ فیضان قرار دیا تھا۔‘‘

اس کتاب کے ایک مضمون کا عنوان وہی ہے جو اس کتاب کا نام ہو گیا ہے۔ تاہم اس تک پہنچنے سے پہلے ہی انہوں نے اپنی بات کہہ دی ہے۔ وہ بات جو وہ کہنے کی ٹھانے ہوئے تھے اور اب انہیں خود فیض کے کلام نے کہہ ڈالنے کا موقع فراہم کر دیا تھا۔ اس باب میں وہ اپنے دعوے کو مزید استحکام دینے کے حیلے کرتے ہوئے اقبال اور فیض کو موضوع اور طرز اظہار کے اعتبار سے قریب لاتے ہیں؛ اتنے قریب کہ انہیں فیض کی ’’ندائے غیب‘‘، اقبال کے تسلسل میں نظر آتی ہے۔ آخری مضمون ’’فیض اور اقبال کا درد مشترک‘‘ میں وہ یہ کہہ کر اپنا مقدمہ تمام کر دیتے ہیں کہ:

’’اقبال کی شاعری نے برطانوی ہند میں تحریک پاکستان کے دوران عوام کے دلوں کو جن نئی امیدوں اور نئے خوابوں سے منور کیا تھا وہ فیض کا سرمایہ حیات بن گئے تھے۔‘‘

میں جانتا ہوں کہ ’’فیض کا یہ تصور انقلاب‘‘ بہت کم لوگوں کو ہضم ہو پائے گا، ایک ہنگامہ اٹھے گا اور ضرور اٹھے گا لہٰذا مجھے ابھی خود اور کچھ نہیں کہنا۔ اپنی بات فیض کی نظم سے مقتبس کر کے ختم کرتا ہوں کہ کتاب پڑھنے کے بعد آپ کے پاس بھی کہنے کو بہت کچھ ہو گا۔

’’بس نام رہے گا اللہ کا
جو غائب بھی ہے حاضر بھی
جو منظر بھی ہے ناظر بھی
اُٹھے گا انا الحق کا نعرہ
جو میں بھی ہوں اور تم بھی ہو
اور راج کرے گی خلق خدا
جو میں بھی ہوں اور تم بھی ہو‘‘

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20