کج بحث ——– سید مظفر الحق

0

کہتے ہیں کسی جگہ دو کج بحث اڑیل بندے ایک دوسرے سے تکرار کر رہے تھے، ایک کہہ رہا تھا ’’شیر انڈا دیتا ہے‘‘ دوسرا مصر تھا کہ “نہیں بچّہ دیتا ہے”۔ اس سوال سے شیر کی نسلی نوع پر بھی زد پڑ رہی تھی کیونکہ اگر بچے دینے والے جانور ممالیہ یا فقاریہ ہوتے ہیں تو انڈے دینے والے غیر ممالیہ۔ دونوں میں سے کوئی اپنے موقف سے ہٹنے کو تیار نہیں تھا اتنے میں انہیں ایک چٹیا والے، لٹیا لئے، قشقہ لگائے اور دھوتی پہنے پنڈت جی جاتے نظر آئے تو دونوں نے طے کیا، چلو اس گیانی برہمن سے فیصلہ کرا لیتے ہیں کہ کون صحیح ہے، دونوں نے پرنام کر کے پنڈت جی کے سامنے اپنا معاملہ پیش کیا، پنڈت جی نے دونوں کو عالمانہ حقارت سے دیکھا اور کہا

’’ارے مورکھو، باگھ بن کا راجہ ہوتا ہے اس کی مرضی چاہے انڈہ دے یا بچّہ‘‘۔

یہ قصّہ اس لئے یاد آ گیا کہ بھارتی سپریم کورٹ کے جسٹس گگوئی یا گو گوئی نے جو پہلے آسامی نژاد چیف جسٹس ہیں، انہوں نے شواہد، دستاویزات، تاریخی حقائق اور اپنے فیصلے کے متن میں تسلیم کرنے کے باوجود کہ بابری مسجد ۵۰۰ سو سال سے موجود تھی اور وہاں باقاعدہ نماز ادا کی جاتی تھی اس مقدمے کا فیصلہ عدلیہ کی صوابدید، بصیرت اور اختیارات سے متعلق ایک قانونی شق کے تحت ہندوؤں کے حق میں کر کے وہ پوری مسجد اور ملحقہ زمین ان کے حوالے کرنے کے احکام صادر کر دیئے۔

ہم آئین و قانون سے نابلد لوگ یہ باریکیاں سمجھنے سے قاصر ہیں لیکن کچھ سیانے کہتے ہیں پاکستان کے قانون میں ایسی کوئی شق نہیں اور نہ ہی ملک کی ستّر سالہ عدالتی تاریخ میں یا کسی اور ملک کی عدلیہ کی ایسی کوئی نظیر موجود ہے کہ ملک کی اعلیٰ ترین عدلیہ سے سزایافتہ محبوس مجرم کی طبّی بنیاد پہ نہ صرف سزا کچھ مدت کے لئے معطل کی جائے بلکہ اسے کسی ٹھوس ضمانت کے بغیر بیرونِ ملک بھی جانے دیا جائے جبکہ اس کے خلاف دوسرے الزامات کے تحت بھی مقدمات زیر سماعت ہیں، اب لوگ لاکھ بحث کرتے رہیں کہ یہ امتیازی سلوک ہے اور پاکستان کی جیلوں میں قید ہزاروں مریض قیدیوں کو بھی یہی سہولت کیوں حاصل نہیں۔ قانون کا اندھا ہونا تو سنا تھا لیکن اس کا اندھیر ہم اب ہی دیکھ رہے ہیں۔ وزیر اعظم لاکھ چیف جسٹس سے اپیل کرتے رہیں جب قانون ساز ادارہ ہی مفلوج ہو اور اس کے اراکین مجہول و مفعول اور اختلال میں مبتلاء ہوں وہاں آئینی اصلاحات اور عوامی مفاد کی بے لوث تبدیلیوں کی توقع عبث ہے۔ اس لئے یہ سوچ کر صبر کرلیں کہ شیر جنگل کا بادشاہ ہے چاہے انڈہ دے یا بچّہ!

خان صاحب بہت عرصے بعد دو دن کے مراقبے سے باہر آگئے، مراقبے میں جانا اس لئے ضروری ہو گیا تھا کیوں کہ پیر فرتوت خود اپنے بل پہ کچھ نہیں کرتا، یہ ڈیزل سے چلنے والی موٹر ہے پھر کس کی انگیخت پہ یہ شوریدہ سری اختیار کی اور کراچی سے اسلام آباد تک طویل سفر کا ایندھن اور زادِ راہ کس نے فراہم کیا، وہ کون پس پردہ فنکار ہے جس کی زبان کئی اتحادیوں کے منہ میں لپلپا رہی ہے، وزیر اعظم سے این آر او نہ مانگنے کی للکار کے علی الرغم شریف خاندان کس سے سودے بازی اور سمجھوتے میں کامیاب رہا جس کے زعم میں ٹوئٹ اور اسمبلی کی تقاریر کا ذکر زباں زدِ عام ہے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: