صدارتی نظام: ایک ممکنہ انتخاب؟ —– عبدالحسیب حیدر

0

2002 کے الیکشن کے بعد سے یہ چوتھی منتخب اسمبلی ہے، اس سے قبل تین منتخب اسمبلیوں نے اپنی مقررہ معیاد پوری کی۔ ان تین منتخب اسمبلیوں نے تین مختلف پارٹیوں کے 7 مختلف وزرائے اعظم کا انتخاب کیا۔ ہر وزیر اعظم کی حکومت پہ تلوار لٹکتی رہی، ہر حکومت کو کچھ ایسے عناصر کا سامنا کرنا پڑا جس نے اسکی کارکردگی کو بری طرح متاثر کیا۔ ایک چیف جسٹس نے چار سال تک ایک منتخب حکومت کی واٹ لگائی رکھی انکے ہر منصوبے اور انتظامی فیصلے پہ سوموٹو ایکشن لے کر انکو مفلوج کیا۔ یہاں تک ایک وزیر اعظم کو بھی فارغ کیا، جبکہ ملٹری اسٹبلشمنٹ کیطرف سے بھی ٹف ٹائم ملتا رہا۔ اب اس چوتھی منتخب اسمبلی کو بھی ایسے عناصر کا سامنا ہے جسکی وجہ سے انکی کارکردگی مفلوج ہوئی پڑی ہے۔

ایسے میں سیاسی مخالفت سے بالاتر ہر کر دیکھنا چاہئیے کہ اسکا حل کیا ہو؟ کیا نئے انتخابات اسکا حل ہے؟  اگر کوئی اور حکومت وجود میں آتی ہے تو عمران خان آرام سے بیٹھ جائیں گے اور اگر عمران خان آتے ہیں تو کیا باقی آرام سے تسلیم کرکے بیٹھ جائیں گے؟

قومی اسمبلی مچھلی منڈی بن چکی ہے۔ ملٹری اسٹبلشمنٹ اور بیوروکریسی خود کو نظام سے بالاتر سمجھنے لگے ہیں۔ عدالتیں حکومت کے فیصلوں کو ردی کی ٹوکری میں پھینک رہی ہیں۔ دو دو سیٹیں رکھنے والی جماعتیں حکومت گرانے و بنانے کے فیصلے کر رہی ہیں۔ جس کا جی چاہتا ہے وہ اٹھ کر جمہوریت کے نام پہ کوئی بھی سڑک بند کر کے جمہور کی اذیت میں اضافہ کر دیتا ہے۔ کیا یہ وہ جمہوریت ہے جسے چلتا رہنا چاہئیے؟ کیا اس نظام کے بطن سے کسی خیر کا ظہور ممکن ہے؟ کیا ایسی مفلوج حکومتیں جمہور کو کچھ ڈلیور کرنے کی پوزیشن میں ہوتی ہیں؟ کیا ایسے نظام سے جمہوریت مظبوط ہوگی؟ کیا یہ نظام جمہوریت میں نقب زنی کے دائمی مسئلے پہ قابو پا سکے گا؟

ان سوالوں کا واحد جواب ہے: “ہرگز نہیں”۔ تو پھر یہاں ایک سوال کا جنم ہوتا ہے کہ اسکا حل یا متبادل کیا ہے؟ ہمارے یہاں طویل مارشل لاؤں کے بعد “مارشل لا” کو ایک حل یا متبادل کے طور دیکھا جاتا ہے، مارشل لاء کی خوبیاں و خامیاں بیان کی جاتی ہیں  حالانکہ دیکھنا یہ چاہئیے کہ “مارشل لا” کی واحد خوبی صدارتی نظام کا ہونا ہے اور خامی فوجی آمریت کا ہونا ہے۔ باقی جتنی بھی خوبیاں و خامیاں ہیں وہ انہی دو مرکزی عناصر کے بطن سے برآمد ہوتی ہیں۔ مطلب صدارتی نظام کو متبادل کے طور دیکھا جائے تو یہ موجودہ صورتحال سے نکلنے کا واحد راستہ ہے باقی ہر راستہ انارکی کیطرف جاتا ہے۔

صدارتی نظام کی خامیاں بھی ہیں، جن میں سرفہرست اختیارات کا نچلی سطح پہ نہ پہنچ پانا ہے لیکن اسکی خوبیاں وہ ہیں جن کی اسوقت شدید ضرورت ہے۔ ایک منتخب صدر طاقتور ہوتا ہے، اسے کسی قسم کی بلیک میلنگ کا سامنا نہیں ہوتا، کوئی ادارہ اسکے کام میں مداخلت نہیں کرسکتا، کوئی عدالت اس سے جواب طلبی نہیں کرسکتی، اسکے احکام میں رخنہ نہیں ڈال سکتی، کوئی چھوٹی یا بڑی جماعت اسکے راستے میں مزاحم نہیں ہوسکتی، تمام انتظامیہ اسکے ہاتھ میں ہوتی ہے اور وہ اپنی مکمل صلاحیتوں کا اظہار کرنے میں آزاد ہوتا ہے۔ وہ صرف اور صرف عوام کو جوابدہ ہوتا ہے جن کے پاس اسے ہر چار یا پانچ سال بعد جانا ہوتا ہے۔

صدارتی انتخاب کی خامیوں کو کنٹرول کرنے کے راستے موجود ہیں، صدارتی نظام کیساتھ طاقتور بلدیاتی نظام ایک بہترین آپشن ہے، یا صوبوں کو موجودہ اختیارات و نظام کے تخت چلانا بھی ایک بہتر آپشن ہے۔

یقینا اس نظام پہ اعتراض کرنے والوں کی تعداد بھی کم نہیں لیکن گر اس پہ ایک مکالمہ شروع ہو تو اسکی خامیوں کو کچھ تبدیلیوں کیساتھ ختم کیا جاسکے گا اور مختلف طبقات کو اس پہ راضی کیا جاسکتا ہے۔ ہم نے پارلیمانی نظام میں دو تہائی اکثریت کا انجام بھی دیکھ لیا ہے اور کمزور ترین جمہوریت کی ہر شکل کو بھی، کیا اب وقت نہیں آگیا کہ کچھ نیا سوچا جائے؟ کچھ ایسا جو دنیا کے مختلف ممالک میں بہتر نتائج دے رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: صدارتی نظام کی بحث: کچھ پہلو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سردار جمیل خان
(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: