دن زندگی کے ختم ہوئے اور شام ہوگئی ..۔ خان نشرح (دوسری قسط)

0
 
 رات میں دیر تک بابا کے پیر دباتے دباتے نیند لگ گئی تھی نیند نہ لگے اس لئے ایسا کرتا ہے 
کیا وہ تمہارا سگا باپ ہے 
 
ثمرین نے نفی میں سر ہلادیا…. وہ میرا بابا نہیں ہے…. 
 
چونکہ ایسی بیشمار کہانیاں اب اسکے دل پر بہت زیادہ  اثر نہیں چھوڑتی تھیں اس لئے اس نے تجسس کے بجائے
اس سے کہا تھااا…. بہت تکلیف ہورہی ہے نااا… اس نے اثبات میں سر ہلادیاااا…. ثمرین کو اس نے اپنے دیوان پر لٹادیاااا… اور سر سہلانے لگی اور بچی محبت بھرے لمس کو محسوس کرکے سوگئی….. 
 
زندگی معمول کے مطابق گزرنے لگی تھی اسی طرح بچے ٹیوشن کے لئے آتے اور وہ اپنا فرض ادا کرتی اسکا, اس دنیا اور تھا بھی کون….رشتہ خون گردش کرنے والے خون کا رنگ بدل دے یا فریز ہو کر برف کی طرح جم جائے تک بے حس ہوکر سارے محسوسات کو, زخمی کردیتا ہے…… جب بھی وہ اکثر تنہا ہوتی اپنے انہی برف کی طرح جمے رشتوں کو گھنٹوں سوچا کرتی اور پھر لمبی سانس لے کر سوچتی….. یہ برف کی سرد لہر مجھ. میں بھی تو در  آہی گئی ہے نااااا
ہوتا یہی ہے ہر بندے کی سفاکی,  بے حسی,  سرد مہری,  یا دلیری,  رحم دلی,  یا محبت بانٹنا یہ سبھی رویہ انسان جو کچھ اپنے ماحول سے سیکھتا ہے وہی چیز معاشرے کو لوٹا, رہا ہوتا ہے… بعض لوگ عمر کے بہت ہی اولین حصہ میں ہی زندگی کی تلخیاں اور سفاکیاں دیکھ لیتے ہیں اس لئے انکی حس ختم ہوکر انہیں سخت بنادیتی ہے –
 
ثمرین کے زخموں کی وجہ سے کے تخیل نے ماضی طرف دھکیل دیا… اس کو, وہ دن یاد تھا جب اسکا, شرابی بات اسکی ماں کو, رات میں بے دریغ مارتا تھا… ایسا کتنی ہی مرتبہ ہوا کہ آدھی میں اچانک خًوف اور دہشت سے اسکی آنکھ کھل گئی ماں کی فلک شگاف چیخیں اور باپ کی گالیاں…. وہ خوف سے پلنگ کے نیچے چھپ کر سسکتی رہتی …اسی طرح بیٹھے بیٹھے اسکی آنکھ لگ جاتی نجانے کونسے پہر تک ماں جب چیخ چیخ کر تھک گئی اور باپ مار مار کر….جب صبح جاگتی تو کیا, دیکھتی ہے ماں کے زخم آلود نشان سوکھ گئے اور وہ بے سود فرش پر لاش کی طرح پڑی ہے 
یہی زندگی کا معمول بنتا گیا.. دن اور, رات ایسے ہی گزرتے رہےاسکا, وجہ. یہ کہ اسکا وجود نہ ماں کے نزدیک اھم تھا نہ باپ کے نزدیک ایک دن باپ کی مار سے بچانےکے لئے بیچ میں آئی باپ نے کھلونے کی طرح جیسے وہ کوئی بے حس بے جان گڑیا. ہو اس کو  ایک طرف, پھینک دیا, تھا…. ڈرتے, ڈرتے ماں کو پانی کا گلاس پیش, کیا, تو ماں نے ڈھکیل کر پرے کردیا… 
ایک دن اس نے اپنے والدین کے جھگڑے کو سمجھنے کی کوشش کی تو اندازہ ہوا کہ… گھر میں خرچ کو پیسے نہ ہونے سے لیکر بیٹی کی پیدائش اور باپ کے شراب پینے کی عادت بڑی وجہ تھی 
ایک شام خوفناک شام تھی جب اسکے باپ کی لاش کسی نے انکے گھر لاکر رکھی تھی…. باپ سے اس نے کوئی محبت نہ پائی تھی نہ ہی کبھی اسکے سر پر دشت شفقت ہی باپ نے رکھا تھا… ہاں دو مرتبہ کا لمس ہاتھ ایک مرتبہ نفرت سے دھکیلنے کا اور ایک مرتبہ گرتے ہوئے نفرت سے پکڑنے کا…. اسکے باوجود خونی رشتے عجیب تھے اس سرد لاش پر ماں خاموش سکتے میں تھی اور وہ بلک بلک کر  رورہی تھی باپ کے قاتل کے لئے اسکے عزائم بھی جذباتی تھے کہ مجھ سے میری متاع کیوں چھینی 
وہ چاہتی تھی ماں سے ھمدری ملے ماں اسکو گلے لگا کر یتیمی کا ماتم کر لے یا اسکے غم کو کوئی سمجھے لیکن یہ خواہش دل ہی میں رہی….والد کی موت پر چند رشتے دار جمع ہوئے اور چلے بھی گئے زندگی کی شاہراہ پر, 
وہ اور اسکی ماں اکیلے تھے..اب تک باپ کے ظلم نوحہ تھا جس سے دنیا میں کوئی تو مقصد تھا,  کوئی تو کام تھا کرنے کے لئے لیکن اب تو ختم ہوا…. نہ ماتم تھا نہ ظالم و مظلوم…… اب خوفناک خاموشی تھی جو باپ کی موجودگی کے شور سے بھی کربناک تھی….. ھمدردی دکھانے کے لئے آنے والے باپ کے دوست بھی ماں کو کام اور مزدوری کے آفر کرتے کہ وہ حیا سے تار تار ہوجاتی 
آج تک ماں نے باہر قدم نہیں رکھا تھا, اسلئے خاموش نگاہوں سے بس تکتے رہتی موت کی سی خاموشی ماں کے چہرے پر تنی تھی…. وہ چھوٹی تھی لیکن ماں کے خاموش نگاہ کی بے بسی سمجھتی تھی جو کہنا چاہتی ہو 
اے آسمان والے  روز میرے شور کے ذریعہ پڑنے والے دروں سے میں اتنا تار تار نہیں تھی جتنا بے رحم زمانے کے مردوں نے آکر رحم آفر کرکے ….. لوگوں کی باتوں  نے تو چند ہی دنوں میں میری روح کو تار تار کردیا” 
 
 وہ اپنی ماں سے بات کرنا چاہتی تب بھی اتنی ہی نفرت سے دھکیل, دی جاتی. جیسے وہ اپنی صنف سے ہی شدید نفرت کرتی ہو …. 
کچھ ہی دن گزرے تھے کہ ماموں چلے آئے اور ان دنوں کو اپنے ساتھ لے گئے…. دنیا کی شرمندگی کے لئے تو ماموں لے گئے لیکن ماموں کے گھر میں  ماں اور بیٹی کے لئے زندگی کے  نئے عذابوں کا, دور شروع ہوگیا…..تھا-
 
مصیبتوں کا سلسلہ دراز سے دراز ترہوتا گیا…. انسان جھوجتا ہے لوگ کہتے ہیں کہ پیٹ کے لئے لیکن پیٹ کے ساتھ ساتھ عذابوں کو گلے لگانے کی بڑی وجہ بھی  عزت اور تحفظ کا احساس تھا-
مردوں کی تنہا عورت کو دیکھکر برہنہ کرتی نگاہ اور گندگی کی طرف دعوت نظارہ دیتی ہوئی نگاہ انسان کو عزت بچا کر غلام بن جانے پر مجبور کردیتی ہے….. وہ ابھی چھوٹی تھی لیکن اس دس سال کی عمر نے اسکو زندگی کے پچاس, سالہ تجربہ دے دیا تھا مصیبتوں کو برداشت کرنا جیسے اس کے لئے آسان ہوگیا تھا…… ماموں کے گھر میں وہ اور اسکی ماں کی حیثیت غلاموں سے بدتر رہی ماں تو خادم بن گئی اور وہ اپنے ماموں کے بیٹوں کا ہاتھ کا کھلونہ بن کررہ گئی…. باپ شرابی ہونے اور ماں بے حس ہونے  کے باوجود اللہ نے اس میں فطری طور پر عجیب قسم کی حساسیت رکھی تھی کہ لوگوں کی نگاہ سے حقارت ھمدردی اور جذبہ ترحم کو اور ہوس کو ایک نگاہ میں پہچان لیتی تھی 
 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 
پہلی قسط پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں

About Author

Daanish webdesk.

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: