علم نفسیات کی کلینک سے آزادی —- فرحان کامرانی

0

علم نفسیات دنیا کے عظیم ترین علوم میں سے ایک ہے مگر اس کی عظمت کی وجہ یہ نہیں کہ یہ عرف عام میں ”سائنسی“ علم ہے۔ سائنس لفظ تو اپنے اندر ایک گورکھ دھندا ہے، اب تو جناب جامعات کے اردو اور فارسی کے شعبہ جات بھی کلیہ سوشل ”سائنس“ کا حصہ ہیں۔ مداری اپنے آپ کو مائنڈ سائنس ایکسپرٹ کہتے ہیں۔ اس لئے یقین رکھیے کہ میں جب علم نفسیات کی عظمت کی بات کر رہا ہوں تو یہ سائنسی عظمت نہیں۔ پھر علم نفسیات کی عظمت کی وجہ یہ بھی نہیں کہ یہ علم میں نے غلطی سے پڑھ لیا ہے یا میں اس کا استادہوں۔ فلسفہ، نفسیات سے زیادہ عظیم علم ہے اور الٰہیات اس سے بھی بڑا علم ہے۔ یعنی علم نفسیات کو عظیم کہنے کی وجہ ذاتی نہیں بلکہ منطق پر مبنی ہے۔ منطق یہ ہے کہ علم کی عظمت اس سے طے ہوتی ہے کہ اس کا موضوع کیا ہے۔ اس اعتبار سے نفسیات کی عظمت کی وجہ یہ ہے کہ یہ علم انسان کی شخصیت، کردار اور رویوں کو جاننے اور ان کی پیش گوئی کا دعوے دار ہے۔

مگر یہ علم جو انسان کو جاننے کی سعی کرتا تھا وہ بدقسمتی سے اپنی ایک عملی صورت یعنی طبی نفسیات(Clinical Psychology) کے ہاتھوں یرغمال بن کر رہ گیا۔ یہ بدقسمتی علم کیمیا اور طبیعات کے ساتھ بھی ہوئی مگر جس شدت سے علم نفسیات کے ساتھ ہوئی ہے ایسا شائد ہی کسی دوسرے علم کے ساتھ ہوا ہو۔

ذرا غور کیجئے کہ نفسیات کا خیال آتے ہی آپ کے ذہن میں کیا آتا ہے؟ نفسیاتی علاج کے ادارے (عرف عام میں پاگل خانے) کلینک، لوگوں کی گفتگو  کا منظر، چہرے پر ایک مسکراہٹ سجا کر سنتا ہوا نفسیاتی معالج؟ اب ہوا کچھ یوں ہے کہ لوگ نفسیات لفظ کو ہی نفسیاتی علاج کے ہم معنی سمجھتے ہیں۔ یوں علم نفسیات طب کا ایک ضمیمہ معلوم ہوتا ہے۔ یہیں سے یہ ابہام جنم لیتا ہے کہ نفسیات کا عالم دراصل کوئی معالج ہوتا ہے اور اس کی کامیابی یا ناکامی کا دار و مدار اس پر ہوتا ہے کہ وہ معالج کیسا ہے۔

ایک سال قبل میں نے ایک مضمون لکھا جو فرائیڈ کی نفسیاتی درسگاہوں سے علمی بے دخلی کے حوالے سے تھا۔ اس مضمون پر رائے دیتے ہوئے میری ہی ایک ہونہار طالبہ نے فرائیڈ پر جو اعتراض اٹھایا وہ اپنی نہاد میں طبی تھا، سوال یہ تھا کہ فرائیڈ نے جن لوگوں کا علاج کیا تو آخر وہ اس میں کتنا کامیاب رہا؟

اس نوع کے سوالات دراصل اسی عمومی ابہام سے پیدا ہوئے ہیں جس کا بیان میں نے اوپر کیا۔ فرائیڈ، یونگ، فرام، ایریکسن، ایڈلر، بیک وغیرہ کی اہمیت کا تعین ان کے علاج کئے ہوئے مریضوں کی گنتی یا علاج کی کامیابی سے نہیں بلکہ اس بات سے ہوتا ہے کہ ان افراد کے پیش کردہ نظریات انسانی نفسیات کی کس قدر گہرائیوں کے عکاس ہیں اور ان میں کتنی سچائی موجود ہے۔ علم نفسیات یقینی طور پر نفسیاتی علاج کی بھی راہیں کھولتا ہے مگر نفسیاتی علاج، علم نفسیات کا ایک پھل ہے نہ کہ علم نفسیات کسی علاج کا ”سائیڈ ایفیکٹ“۔ مگر معاملہ یہ ہے کہ ساری ہی دنیا بدقسمتی سے افادیت پرستی کے کینسر میں مبتلا ہے۔ ایسے میں علم نفسیات کی علمی اور نظریاتی جہت سماج کی نظر میں ہر علم ہی کی طرح ناکارہ ہو جاتی ہے۔ اب خالص علم نہ تو کسی گراف میں ظاہر کیا جا سکتا ہے نہ ہی کسی قسم کی شماریات میں۔ مگر علم کی علمی اور اطلاقی صورتوں کو تو بڑے زوروں سے دکھایا جا سکتا ہے۔ اسی لئے سائنس کی جگہ اب ٹیکنالوجی سب کے سروں پر سوار ہے اور جب بات نفسیات کی آتی ہے تو پھر بات آ کر وہی کلینک (یعنی وہی پاگل خانے) وہی مریضوں کی گنتی اور امراض کی تعداد پر ختم ہوتی ہے۔

پھر فرائیڈ، ایڈلر، یونگ وغیرہ کا تقابل بڑے مزاحیہ طور پر مریضوں کی گنتی سے ہوتا ہے۔ سوال یہ بھی تو ہے کہ علاج کے معانی کیا ہیں؟ یعنی کیا علاج کا مطلب ہے نفسیاتی علامات کا ختم ہو جانا؟ مگر نفسیاتی بیماری تو نفسیاتی علامات سے بہت مختلف شے ہے۔ علامات تو صورتیں بدل سکتی ہیں اور غائب ہو سکتی ہیں مگر الجھاؤ اندر کہیں وجود کے مرکز میں موجود رہتا ہے اور عمل میں ظہور کرتا رہتا ہے۔ مگر موجودہ افادیت پرست اور کوتاہ بین عہد میں اتنی گہرائی میں بھلا کون جائے؟ کاش کوئی مفکر ایسا وارد ہو جو علم نفسیات کو دیکھنے کی اس کلینک والی عینک کو توڑ سکے اور پھر علم نفسیات کا تشخص دوبارہ ایسے علم کے طور پر ابھر سکے جو انسان کے وجود کے مرکز کی خبر دیتا ہے۔ایسی خبر جو کوئی اور علم دیتا نہیں، دے سکتا نہیں۔ کاش!

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20