یا اللہ یارسول – بے نظیر بے قصور : ایک نعرہ کی تاریخ ——- اظہر عزمی

0

یہ دعائیہ نعرہ پہلی دفعہ کس کے لئے لگایا گیا؟

(ایک اشتہاری کی باتیں)

پاکستانی سیاست نعروں سے بھری ہے۔ پاکستان جیسے ممالک کہ جہاں سیاست شخصیات کے گرد گھومتی ہے۔ اس لئے عموما نعروں میں شخصیات ہی نمایاں ہوتی ہیں۔ ترقی یافتہ ممالک میں خاص طور پر انتخابات کے موقع پر ایک حکمت عملی وضع کرنے کے بعد سلوگنز (نعرے) دیئے جاتے ہیں۔ ہمارے ہاں اب کسی حد تک اس طرف دھیان دیا جا رہا ہے جو کہ خوش آئند بات ہے۔

ہمارے نعروں میں معنویت سے زیادہ عوامیت کا پہلو ہوتا ہے اور اسی لئے اکثر نعرے بہت زیادہ بامعنی نہیں ہوتے ہیں مگر عوامی جذبات کے آئینہ دار ہوتے ہیں۔ پاکستان میں نعروں کی بھی اپنی ایک پوری تاریخ ہے جس کا احاطہ اس مضمون میں ممکن نہیں۔ میں چند ایک چنیدہ چنئدہ نعروں کے بعد نفس مضمون پر آجاوں گا جو کہ اس مضمون کی سرخی سے آشکار ہے۔

نعرے کبھی کبھی خود ہی بن جاتے ہیں، زبان زد عام ہو جاتے ہیں۔ عوامیت کسی بھی نعرے کا حسن ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ہمارے عوام کے دل کو چھو جاتے ہیں، دلوں کو گرما جاتے ہیں۔ کبھی نظم کا کوئی مصرعہ نعرہ بن جاتا ہے تو کبھی روانی میں کسی کے منہ سے نکلی کوئی بات۔ حبیب جالب کے کتنے مصرعے نعروں کے قالب میں ڈھل چکے ہیں جیسے:

ایسے دستور کو صبح بے نور
میں نہیں جانتا میں نہیں مانتا

لاڑکانے چلو ورنہ تھانے چلو

گرتی ہوئی دیواروں کو ایک دھکا اور دو

ڈرتے ہیں بندوقوں والے ایک نہتی لڑکی سے

دلچسپ بات یہ ہے کہ جس طبقہ کے خلاف انہوں نے لکھا آج وہی اشعار اور نعرے ان کی مائیک توڑ تقریروں کا لازمی جزو ہیں۔

جس طرح فلم میں کبھی گانے ہی کامیابی کا سبب بن جاتے ہیں۔ اسی طرح پاکستانی سیاست میں نعرے گانوں کی سی حیثیت رکھتے ہیں۔ بڑے بڑے لیڈر ایک اچھے نعرے کو ترستے ہیں۔ بڑی کوششیں ہوتی ہیں جیسے کہ میاں نواز شریف کو اپنی پوری زندگی میں عوامی مقبولیت کا صرف ایک نعرہ مل سکا:

قدم بڑھاو! نواز شریف ہم تمھارے ساتھ ہیں

جس پر میاں صاحب نے ایک بار ازراہ تفنن کہا تھا کہ میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو کوئی بھی نہیں تھا۔ اس نعرے کا مخالفین کی طرف سے جوابی نعرہ بھی آیا۔ رقم لگاو! نواز شریف ہم تمھارے ساتھ ہیں۔ خیر سیاست میں یہ چھیڑ چھاڑ کوئی نئی نہیں۔

1970 میں پیپلز پارٹی نے جماعت اسلامی کے انتخابی نشان ترازو پر اس نعرے میں بھپتی کسی تھی:

تھک گئی گردن کٹ گیا بازو، ہائے ترازو ہائے ترازو

جس پر جماعت اسلامی نے جوابی وار کرتے ہوئے کہا تھا:

لاو ترازو تول کے دیکھو، ساڈا پلہ بھاری ہے۔

1965 کے انتخابات میں جب مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح کا انتخابی نشان لا لٹین اور ایوب خان کا پھول تھا تو ان دنوں دیواروں پر یہ لکھا دیکھا گیا:

ایک شمع جلی جل جانے کو ، ایک پھول کھلا مر جانے کو

ایوب خان کے لئے یہ نعرے لگایا گیا۔

ملت کا محبوب، ایوب ایوب —– صدر ہوگا کون ؟ ایوب ایوب

1977 کے انتخابات میں نعرے ذاتیات پر اتر آئے:

گنجے کے سر پر ہم چلے گا —– گنجا سر کے بل چلے گا

خیر اس سے پہلے ایوب خان کی روانگی کے وقت بھی ایک چارلفظی نعرہ بہت مشہور ہوا تھا جس کے آخری دو لفظ ہائے ہائے تھے۔

جنرل ضیا کے لئے مرد مومن، مرد حق کا نعرہ آیا۔ جب جنرل ضیا الحق نے بھٹو صاحب کو فارع کیا تو ان کی تلوار کٹ مونچھوں کو دیکھتے ہوئے یہ نعرہ بھی سنا گیا:

ہل آیا نہ آئی تلوار —– آگئی مونچھوں والی سرکار

جنرل ضیا کی امریکا نواز پا لیسیوں پر یہ نعرہ مقبول ہوا

امریکا کا جو یار ہے۔ ۔ غدار ہے غدار ہے۔

اس کے علاوہ جنرل ضیا الحق کو سرمہ والی سرکار اور بینڈ ماسٹر بھی کہا گیا۔ ان ہی کے زمانے میں ایک ملی نغمہ کو سیاسی کارکنوں نے تبدیل کردیا:

تیرا پاکستان ہے نہ میرا پاکستان ہے —- یہ اس کا پاکستان ہے جو صدر پاکستان ہے

پیپلز پارٹی نے ضیا دور میں اپنی سیاسی بقا کے لئے طویل جد و جہد کی اور نہایت جذباتی نعروں کی فراوانی ہوئی۔ ان میں ایک نے بہت شہرت پائی:

تیرے قاتل زندہ ہیں —- بھٹو ہم شرمندہ ہیں

جب تک بھٹو کے قاتل زندہ رہے تو یہ نعرہ سنائی نہ دیا:

کل بھی بھٹو زندہ تھا —- آج بھی بھٹو زندہ ہے

بھٹو کے قاتل نہ رہے تو پیپلز پارٹی نے آج اور کل میں بھٹو کے زندہ ہونے کا نعرہ لگا دیا۔ سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومتی کارکردگی نے پیپلز پارٹی کی ساکھ کو جو نقصان پہنچایا ہو وہ اپنی جگہ لیکن مخالفین نے بالخصوص سوشل میڈیا پر جس طرح اس نعرے کو بطور طنز استعمال کیا ہے، وہ خود اس نعرے پر سوالیہ نشان بن گیا ہے۔

جنرل ضیا الحق نے انتخابات نہ کرانے کے لئے سو سو بہانے تراشے۔ آئے دن کوئی نہ کوئی شوشہ چھوڑ دیا جاتا اور قوم کو ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا دیا جاتا۔ ایک زمانے میں پہلے “احتساب پھر انتخاب” کی پھلجڑی چھوڑی گئی۔ ان کا نام تو ضیا تھا مگر ان کا دور جمہوریت کا تاریک ترین دور تھا۔ اس دور میں پیپلز پارٹی نے وہ کچھ سہا کہ تپ کر کندن بن گئی مگر افسوس کہ بعد میں یہ کندن صرف اقتدار کی غلام گردشوں میں اقتدار طلبی کے لئے استعمال کیا جاتا رہا اور دام بھی انہوں نے وصولے جو اس وقت شریک سفر نہ تھے اور یوں ذوالفقار علی بھٹو کے تمام نعرے زمیں بوس کر دئیے گئے۔

1988 میں مسلم لیگ نواز نے پہلی بار اعلانیہ صوبائیت کا نعرہ دیا:

جاگ پنجابی جاگ
تیری پگ نوں لگ گئی آگ

1986 میں شریف النفس اور جمہوریت پسند وزیر اعظم محمد خان جونیجو نے جنرل ضیا الحق کی تمام تر چابک دستیوں کے باوجود محترمہ بے نظیر بھٹو کو پاکستان آنے کی اجازت اور کوئی رکاوٹ نہ ڈالنے کی یقین دہانی کرا دی۔ میرا ذاتی خیال ہے کہ جونیجو کا یہ جرات مندانہ فیصلہ پاکستان پیپلز پارٹی کے بڑے بڑے رہنماوں کی قربانیوں سے کہیں زیادہ اہمیت اور دور رس نتائج کا حامل رہا۔ وجہ کچھ بھی ہو پیپلز پارٹی کی سیاست واپسی کی راہ جونیجو کے اس فیصلے سے جڑی ہے۔ جب محترمہ بے نظیر بھٹو نے لاہور میں قدم رکھا تو تاریخ بن گئی۔ شہر لاہور کیا پورا ملک اس نعرے سے گونج اٹھا۔

جب تک سورج چاند رہے گا —- بھٹو تیرا نام رہے گا

جنرل ضیا الحق ایک حادثے میں راہی ملک عدم ہوئے اور یکم دسمبر 1988 کو بے نظیر بھٹو نے وزیر اعظم کے عہدے کا حلف اٹھایا لیکن وہ عہدے پر مقررہ مدت تک فائز نہ رہ سکیں اور صدر غلام اسحق خان کے ایک دستخط سے جاری ہونے والے پروانے نے ان کی حکومت کو برطرف کر دیا اور پھر پاکستان کی تاریخ کا پہلا دعائیہ اور التجائیہ نعرہ سامنے آیا:

یا اللہ یا رسول، بے نظیر بے قصور

میں اب اس نعرے سے آگے جانا نہیں چاھوں گا کیونکہ یہ نعرہ ہی میرے حاصل مضمون ہے۔

یہ نعرہ سب سے پہلے کہاں اور کس کے لئے لگایا گیا؟

جب محترمہ بے نظیر بھٹو کی پہلی حکومت آئی تو محترمہ اپنے آبائی شہر لاڑکانہ ایک تقریب میں شرکت کے لیے گئیں۔ اس وقت سندھ پیپلز اسٹوڈنٹس فیڈریشن دو حصوں میں تقسیم تھی جس میں ایک کی قیادت امیر بخش عمرانی کر رہے تھے۔ تقریب میں ان کے گروپ کو مدعو نہیں کیا گیا۔ اس موقع پر امیر بخش عمرانی گروپ کے اسٹوڈنٹس اسٹیج پر چڑھ دوڑے اور انہوں نے یہ نعرہ لگایا:

یا اللہ یا رسول، عمرانی بے قصور

کسی کو کیا پتہ تھا کہ جب محترمہ بے نظیر بھٹو کی پہلی حکومت نہ رہے گی تو یہ پاکستانی کی سیاسی تاریخ کا پہلا نعرہ ہوگا جس میں خدا اور رسول (ص) سے فریاد، التجا اور انصاف کی دھائی دی جائے گی۔ محترمہ اسلام آباد سے گھر لوٹیں تو یہ نعرہ اب ایک نام کے رد و بدل سے دلوں میں گھر کرتا چلا گیا

یا اللہ یا رسول، بے نظیر بے قصور

نعرے میں عجیب پکار تھی جو اس سے پہلے کسی نعرے میں نظر آئی نہ محسوس ہوئی۔ پیپلز پارٹی پر ہونے والے تمام مظالم کی ترجمانی اس نعرے میں سمٹ آئی تھی۔

پہلی حکومت کی برطرفی کے بعد محترمہ عوامی رابطہ مہم ہر نکلیں اور اباڑو، رحیم یار خان سے ہوتی ہوئی ملتان پہنچیں جہاں ایک جلسہ میں مشہور شاعر محسن نقوی نے دعا کے نام سے اپنی ایک نظم پڑھی جس کا آخری شعر یہ نعرہ تھا۔

اے عظیم کبریا
سن غریب کی دعا
سازشوں میں گھر گئی
بنت ارض ایشیا
لشکر یزید میں
ایک کنیز کربلا
فیصلے کی منتظر
ایک یتیم، بے خطا
ٹال سب مصیبتیں
ہے دعا تیرے حضور
واسطہ حسین ع کا
توڑ ظلم کا غرور
یا اللہ – یا رسول
بے نظیر بے قصور

اب یہ نعرہ محض بے نظیر بھٹو کا ہی نہیں بلکہ بھٹو خاندان کی سیاست میں قربانیوں کا عکاس ہے۔


مصنف کا تعلق ایڈورٹائزنگ کے شعبہ تخلیق سے ہے ۔ 30 سال پر محیط کیریئر میں متعدد ٹی وی کمرشلز اور جنگلز آپ کے کریڈٹ پر ہیں۔ 90 کی دھائی میں اخبارات میں مختلف موضوعات پر آرٹیکلز لکھے ۔ ٹی وی کے لئے ڈرامہ بھی لکھتے رہے ہیں۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20